حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
‘Aishah said:“I never saw anyone suffer more pain than the Messenger of Allah (ﷺ).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر مرض الموت کی تکلیف اتنی سخت نہیں دیکھی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیکھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الأَنْصَارِيُّ الْحَرَامِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " يَا جَابِرُ أَلاَ أُخْبِرُكَ مَا قَالَ اللَّهُ لأَبِيكَ " . وَقَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ " يَا جَابِرُ مَالِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتُشْهِدَ أَبِي وَتَرَكَ عِيَالاً وَدَيْنًا . قَالَ " أَفَلاَ أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ " . قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلاَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَكَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا . فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَىَّ أُعْطِكَ . قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً . فَقَالَ الرَّبُّ سُبْحَانَهُ إِنَّهُ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لاَ يَرْجِعُونَ . قَالَ يَا رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي . قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} " .
(Talhah bin Khirash said:"I head Jabir bin 'Abdullah say" 'When 'Abdullah bin 'Amr bin )Haram) was killed on the Day of Uhud, the Messenger of Allah met me, and said: "O Jabir, shall I not tell you what Allah has said to your father?" Yahya said in his Hadith: "And he said: 'O Jabir, why do I see you broken-hearted?' I (Jabir) said: 'O Messenger of Allah, my father has been martyred and he has left behind dependents and debts.' He said: 'Shall I not give you the glad tidings of that with which Allah met your father?' I said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'Allah never spoke to anyone except from behind a screen, but He spoke to your father directly, and He said: "O My slave! Ask something from Me and I shall give it to you." He said: "O Lord, bring me back to life so that I may be killed in Your cause a second time." The Lord, Glorified is He, said: "I have already decreed that they will not return to life." He said: "My Lord, then convey (this news) to those whom I have left behind." Allah said: "Think not of those as dead who are killed in the way of Allah, Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام غزوہ احد کے دن قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے اور فرمایا: جابر! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے کیا کہا ہے؟ ، ( اور یحییٰ بن حبیب راوی نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! میں تمہیں کیوں شکستہ دل دیکھتا ہوں؟ ) ، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے گئے، اور اہل و عیال اور قرض چھوڑ گئے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے ملاقات کے وقت کہا؟ ، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی سے بغیر حجاب کے کلام نہیں کیا، لیکن تمہارے والد سے بغیر حجاب کے کلام کیا، اور فرمایا: میرے بندے! مجھ سے آرزو کر میں تجھے عطا کروں گا، اس پر انہوں نے کہا: میرے رب! میری آرزو یہ ہے کہ تو مجھے زندہ کر دے، اور میں تیری راہ میں دوبارہ قتل کیا جاؤں، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: یہ بات تو پہلے ہی ہماری جانب سے لکھی جا چکی ہے کہ لوگ دنیا میں دوبارہ واپس نہیں لوٹائے جائیں گے ۱؎، انہوں نے کہا: میرے رب! ان لوگوں کو جو دنیا میں ہیں میرے احوال کی خبر دیدے ، انہوں نے کہا: اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے تم ان کو مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس روزی پاتے ہیں ( سورة آل عمران: ۱۶۹ ) ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَنْفِرَ الرَّجُلُ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade a man to depart until the last thing he did was (Tawaf around) the House.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کوچ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام خانہ کعبہ کا طواف ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ الأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الأُمَمِ " .
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, that the Prophet (ﷺ) said:“The people of Paradise are one hundred and twenty ranks, eighty from this nation and forty from all other nations.”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اس امت کے لوگوں کی ہوں گی، اور چالیس صفیں اور امتوں میں سے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ نَبِيِّكُمْ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was narrated that Abu Haiyah said:"I saw 'Ali performing ablution and he washed his feet up to the ankles, then he said: 'I wanted to show you how your Prophet purified himself
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا، پھر کہنے لگے: میرا مقصد یہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلا دوں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَلاَ تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا " . قَالَ قُلْنَا وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ " يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ " .
It was narrated that Jabir bin Samurah As-Suwa’i said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Will you not form your rows as the angels form their rows before their Lord?’ We said: ‘How do the angels form their rows before their Lord?’ He said: ‘They complete the first row and they stand close of one another in the line (leaving no gaps between one another).’”
جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں؟ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف باندھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں، اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔