بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
35 hadith
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا حَمِيمٌ لَهَا يَخْنُقُهُ الْمَوْتُ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَا بِهَا قَالَ لَهَا ‏ "‏ لاَ تَبْتَئِسِي عَلَى حَمِيمِكِ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ حَسَنَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon her and there was a close relative of hers who was in the throes of death. When the Prophet (ﷺ) saw how upset she was, he said:“Do not grieve for your relative, for that is part of his Hasanat (merits).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے، وہاں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک رشتہ دار کا موت سے دم گھٹ رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا: تم اپنے رشتہ دار پر غم زدہ نہ ہو، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ: قُلْنَا: اثْنَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَتْ ثَمَانٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَالشَّهْرُ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَأَمْسَكَ وَاحِدَةً ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘How much of the month has passed?” We said: “Twenty-two (days), and there are eight left.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The month is like that, and the month is like that, (and the month is like that), three times, and he withheld one finger the last time.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ میں کتنے دن گزرے ہیں؟ ہم نے عرض کیا: بائیس دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہے، اور تیسری بار ایک انگلی بند کر لی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ جَاءَنَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ ‏.‏ فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ مُلَمْلَمَةٍ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا فَأَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا فَأَخَذَهَا وَقَالَ أَىُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي وَأَىُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي إِذَا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ أَخَذْتُ خِيَارَ إِبِلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ‏.‏
It was narrated that:Suwaid bin Ghafalah said: ”The Zakah collector of the Prophet came to us, and I took him by the hand and read in his order: 'Do not gather separate herds and do not separate herd for fear of Sadaqah'. A man brought him a huge, fat she-camel, but he refused to accept it. So he brought him another of lower quality and he accepted it. He said: 'What land would shelter me, if I came to the Messenger of Allah having taken the nest of a Muslim man's camels?' ”
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل صدقہ ( زکاۃ وصول کرنے والا ) آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، اور اس کے میثاق ( عہد نامہ ) میں پڑھا کہ الگ الگ مالوں کو یکجا نہ کیا جائے، اور نہ مشترک مال کو زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ کیا جائے، ایک شخص ان کے پاس ایک بھاری اور موٹی سی اونٹنی لے کر آیا، عامل زکاۃ نے اس کو لینے سے انکار کر دیا، آخر وہ دوسری اونٹنی اس سے کم درجہ کی لایا، تو عامل نے اس کو لے لیا، اور کہا کہ کون سی زمین مجھے جگہ دے گی، اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا؟ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسلمان کا بہترین مال لے کے جاؤں گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ انْكِحُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:the Messenger of Allah said: “Marry, for I will boast of your great numbers.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْخَلاَّدِ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، أَنْبَأَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ وَأَهْدَاهُ وَأَتْقَاهُ ‏.‏
Abdullah bin Mas'ud said:"When I tell you of a Hadith from the Messenger of Alllah (ﷺ), then think of the Messenger of Allah (ﷺ) as being the best, the utmost rightly guided and the one with the utmost Taqwa (piety, righteousness)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہی ( خیال و گمان ) رکھو کہ آپ کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"My maternal aunt was divorced, and she wanted to collect the harvest from her date-palm trees. A man rebuked her for going out to the trees. She went to the Prophet (ﷺ), who said: 'No, go and collect the harvest from your trees, for perhaps you will give some in charity or do a good deed with it
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق دے دی گئی، پھر انہوں نے اپنی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا، تو ایک شخص نے انہیں گھر سے نکل کر باغ جانے پر ڈانٹا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم اپنی کھجوریں توڑو، ممکن ہے تم صدقہ کرو یا کوئی کار خیر انجام دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Adi bin Hatim that :the Messenger of Allah (ﷺ), said: "Whoever swears an oath then sees that something else is better than it, let him do that which is better and offer expiation for what he swore about
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے قسم کھائی، اور اس کے خلاف کرنے کو بہتر سمجھا تو جو بہتر ہو اس کو کرے، اور اپنی قسم کا کفارہ دیدے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الْمَكِّيُّ، عَنْ فَرُّوخَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ وَالإِفْلاَسِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Umar bin Khattab said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever hoards food (and keeps it from) the Muslims, Allah will afflict him with leprosy and bankruptcy
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو مسلمانوں کے کھانے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے جذام ( کوڑھ ) یا افلاس ( فقر ) میں مبتلا کر دے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ، - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ أَبُو يُونُسَ الْقَوِيُّ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلاَ أَمَةٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلاَّ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ ‏"‏ ‏.‏
Muhammad bin Yahya, who is Abu Yunus Al-Qawi, said:I heard Abu Salamah say: I heard Abu Hurairah say: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'No man or woman swears a false oath beside this pulpit, even if it is for a fresh twig, but he will be doomed to Hell.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہو جاتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، عَنِ ابْنِ حُذَيْفَةَ، - هُوَ عِمْرَانُ - عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، مَيْمُونَةَ قَالَ كَانَتْ تَدَّانُ دَيْنًا فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَهْلِهَا لاَ تَفْعَلِي وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا قَالَتْ بَلَى إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيِّي وَخَلِيلِي صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلاَّ أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that :the Mother of the Believers Maimunah used to take out loans frequently, and some of her family said: “Do not that,” and they denounced her for that. She said: “No. I heard my Prophet (ﷺ) and my close friend say: ‘There is no Muslim who takes out a loan and Allah(SWT) knows that he intends to pay it back, but Allah(SWT) will pay it back for him in this world.'”
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں تو ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان سے کہا: آپ ایسا نہ کریں، اور ان کے ایسا کرنے کو اس نے ناپسند کیا، تو وہ بولیں: کیوں ایسا نہ کریں، میں نے اپنے نبی اور خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو قرض لیتا ہو اور اللہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے مگر اللہ اس کو دنیا ہی میں اس سے ادا کرا دے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا وَلاَ يُؤَاجِرْهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us and said: 'Whoever has land, let him cultivate it or allow someone else to cultivate it, and not rent it out.' ”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں خود کھیتی کرے، یا کسی کو کھیتی کے لیے دیدے، لیکن کرائے پر نہ دے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ، عُمَيْرٍ - وَهُوَ مَوْلَى ابْنِ مَسْعُودٍ - أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ لَهُ يَا عُمَيْرُ إِنِّي أُعْتِقُكَ عِتْقًا هَنِيئًا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلاَمًا وَلَمْ يُسَمِّ مَالَهُ فَالْمَالُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخْبِرْنِي مَا مَالُكَ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِجَدِّي فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated from Ishaq bin Ibrahim, from his grandfather 'Umair, who was the freed slave of Ibn Mas'ud, that `Abdullah said to him:“O Umair, I have set you free in a good way. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Any man who frees a slave and does not say anything about his (the slave's) wealth, it belongs to him (the slave).' So tell me, how much wealth do you have?” Another chain reports a similar hadith
عمیر مولی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: عمیر! میں نے تمہیں خوشی خوشی آزاد کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص ایک غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا تذکرہ نہ کرے، تو وہ مال غلام کا ہو گا ، مجھے بتاؤ تمہارے پاس کیا مال ہے؟۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ أُتِيَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ بِرَجُلٍ غَشَى جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ فَقَالَ لاَ أَقْضِي فِيهَا إِلاَّ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جَلَدْتُهُ مِائَةً وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَذِنَتْ لَهُ رَجَمْتُهُ ‏.‏
It was narrated that Habib bin Salim said:“A man who had intercourse with the slave woman of his wife was brought to Nu`man bin Bashir. He said: 'I will pass no other judgement than that of the Messenger of Allah (ﷺ) He said: 'If (his wife) had made her lawful for him, then I will give him one hundred lashes, but if she has not given permission, I will stone him.' ”
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی تھی، تو نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، پھر کہا: اگر اس کی عورت نے اسے اس لونڈی کے ساتھ صحبت کرنے کی اجازت دی ہے تو میں اس شخص کو سو کوڑے لگاؤں گا، اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو میں اسے رجم کروں گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالدِّيَةِ عَلَى الْعَاقِلَةِ ‏.‏
It was narrated that Mughirah bin Shu'bah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the blood money must be paid by the 'Aqilah.”
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: دیت عاقلہ ( قاتل اور اس کے خاندان والوں ) کے ذمہ ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حِجَّةِ الْوَدَاعِ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ‏"‏ ‏.‏
Shurahbil bin Muslim Al-Khawlani narrated from Abu Umamah Al-Bahili that the heard :the Messenger of Allah (ﷺ) say in his sermon, during the year of the Farewell pilgrimage: “Allah (SWT) has given each person who has rights his rights, and there is no bequest for in heir.”
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ حجۃ الوداع کے سال اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے ( میت کے ترکہ میں ) ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الزُّرَقِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ رَجُلاً، رَمَى رَجُلاً بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ إِلاَّ خَالٌ فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَى عُمَرَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لاَ مَوْلَى لَهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لاَ وَارِثَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif that a man shot an arrow at another man and killed him, and he had no heir except a maternal uncle. Abu ‘Ubaidah bin Jarrah wrote to ‘Umar about that, and ‘Umar wrote back to him saying that the Prophet (ﷺ) said:“Allah and His Messenger are the guardians of the one who has no guardian, and the maternal uncle is the heir of one who has no other heir.”
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو تیر مارا، جس سے وہ مر گیا، اور اس کا ماموں کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں تھا تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو سارا قصہ لکھ بھیجا، جس کے جواب میں عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی مولیٰ نہیں اس کا مولیٰ اللہ اور اس کے رسول ہیں، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث اس کا ماموں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ ‏ "‏ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said to a man:“I advise you to fear Allah and to say the Takbir (Allahu Akbar) in every high place.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے، اور ہر اونچی زمین پر اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي مَقْعَدِي هَذَا تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ وَلاَ تَغْتَرُّوا ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ ‏.‏
Humran the freed slave of 'Uthman bin 'Affan said:"I saw 'Uthman bin 'Affan sitting in Maqa'id. He called for water and he performed ablution, the he said: 'I saw the Messenger of Allah sitting in this place where I am sitting, performing ablution as I have done. Then he said: "Whoever performs ablution as I have done, his previous sins will be forgiven." And the Messenger of Allah said: "And do not be conceited (due to this great virtue)." (Sahih) Another chain with similar wording
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مسجد کے قریب چبوترے پہ بیٹھا ہوا دیکھا، انہوں نے وضو کا پانی منگایا، اور وضو کیا، پھر کہنے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسی بیٹھنے کی جگہ پر دیکھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس بشارت سے دھوکے میں نہ آ جانا ( کہ نیک اعمال چھوڑ دو ) ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ إِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ فَارْجِعْ مَعَهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“A Bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘I have enlisted for such and such a military campaign and my wife is going for Hajj.’ He said: ‘Go back with her.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں جانے کے لیے درج کر لیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جاؤ اس کے ساتھ حج کرو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَعْطَاهُ غَنَمًا فَقَسَمَهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ ضَحِّ بِهِ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani that the Messenger of Allah (ﷺ) gave him some sheep, and he distributed them among his Companions to be sacrificed. There remained an ‘Atud.* He mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said:“You sacrifice it yourself.”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں عنایت کیں، تو انہوں نے ان کو اپنے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیا، ایک بکری کا بچہ بچ رہا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قربانی تم کر لو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَتَى رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَأَخَذَ الشَّفْرَةَ لِيَذْبَحَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) came to a man from among the Ansar who had picked up a knife to slaughter an animal for the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said to him:“Avoid those that are lactating.” (i.e. those from which milk is received)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی ضیافت کے لیے جانور ذبح کرنے کے واسطے چھری سنبھالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: دودھ والی سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ الْحُوتُ وَالْجَرَادُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Two kinds of dead meat have been permitted to us: fish and locusts.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے دو مردار: مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلاَ يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ قَيْسٍ، يَسْأَلُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ أَرَأَيْتَ حَدِيثَ عَطَاءٍ ‏"‏ لاَ يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا ‏"‏ ‏.‏ عَمَّنْ هُوَ قَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ فَإِنَّهُ حُدِّثْنَاهُ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏ قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ جَابِرٌ عَلَيْنَا وَإِنَّمَا لَقِيَ عَطَاءٌ جَابِرًا فِي سَنَةٍ جَاوَرَ فِيهَا بِمَكَّةَ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) said:“When one of you eats food, let him not wipe his hand until he has licked it or has someone else to lick it.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ نہ پونچھے یہاں تک کہ وہ چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے، سفیان ( ابن عیینہ ) کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن قیس کو عمرو بن دینار سے سوال کرتے سنا کہ عطا کی حدیث: تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ نہ صاف کرے یہاں تک کہ وہ اسے چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے کے بارے میں بتاؤ، وہ کس سے مروی ہے؟ عمرو بن دینار نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمیں یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے، عمرو بن دینار نے کہا: ہم نے یہ حدیث عطاء سے اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یاد کی ہے، اور یہ بات جابر رضی اللہ عنہ کے ہمارے پاس آنے سے پہلے کی ہے جب کہ عطاء کی ملاقات جابر رضی اللہ عنہ سے اس سال ہوئی جب وہ مکہ میں قیام پزیر ہوئے۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثُ الرَّقِّيِّينَ ‏.‏
Mu’awiyah said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Every intoxicant is unlawful for every believer.’”
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر نشہ لانے والی چیز ہر مومن پر حرام ہے ۔ یہ اہل رقہ کی حدیث ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّ ‏ "‏ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
‘Amr bin Huraith said:“I heard Sa’eed bin Zaid bin ‘Amr bin Nufail narrating from the Prophet (ﷺ) that: ‘Truffles are a type of manna that Allah sent down to the Children of Israel, and their water is a healing for eye (diseases).’”
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھمبی «من» میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ أَحْسَنَ مَا زُرْتُمُ اللَّهَ بِهِ فِي قُبُورِكُمْ وَمَسَاجِدِكُمُ الْبَيَاضُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best of that in which you visit Allah in your graves and your mosque is white (garments).”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر لباس جس کو پہن کر تم اپنی قبروں اور مسجدوں میں اللہ کی زیارت کرتے ہو، سفید لباس ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلاَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَ صَاحِبِهِ حَتَّى يُحْرِجَهُ الضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ وَمَا أَنْفَقَ عَلَيْهِ بَعْدَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فَهُوَ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Shuraih Al-Khuza'i that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"Whoever believes in the Last Day, let him honor his guest, and grant him reward for a day and a night. And it is not permissible for him to stay so long that he causes annoyance to his host. Hospitality is for three days, and whatever he spends on him after three days is charity
ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے، اور یہ واجبی مہمان نوازی ایک دن اور ایک رات کی ہے، مہمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے یہاں اتنا ٹھہرے کہ اسے حرج میں ڈال دے، مہمان داری ( ضیافت ) تین دن تک ہے اور تین دن کے بعد میزبان جو اس پر خرچ کرے گا وہ صدقہ ہو گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا أَبُو مَالِكٍ، سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي قَالَ ‏"‏ قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي ‏"‏ ‏.‏ وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ الأَرْبَعَ إِلاَّ الإِبْهَامَ ‏"‏ فَإِنَّ هَؤُلاَءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دِينَكَ وَدُنْيَاكَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Malik, Sa'd Bin Tariq, narrated from his father that :when a man had come to the Messenger of Allah (saas), he heard him say: "O Messenger of Allah, what should I say when I ask of Allah?" He said: "Say: Allahumma-ghfirli warhamni wa 'afini warzuqni (O Allah, forgive me, have mercy on me, keep me safe and sound and grant me provision)," and he held up his four fingers apart from the thumb and said: "These combine your religious and worldly affairs
طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ( اس وقت کہ جب ) ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جب اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو: «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، اور مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما ، اور آپ نے انگوٹھے کے علاوہ چاروں انگلیاں جمع کر کے فرمایا: یہ چاروں کلمات تمہارے لیے دین اور دنیا دونوں کو اکٹھا کر دیں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَأْسِي ضُرِبَ فَرَأَيْتُهُ يَتَدَهْدَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ يَعْمِدُ الشَّيْطَانُ إِلَى أَحَدِكُمْ فَيَتَهَوَّلُ لَهُ ثُمَّ يَغْدُو يُخْبِرُ النَّاسَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘I saw my head was cut off and I saw it rolling away.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Satan goes to one of you and terrifies him, then he tells people of that the next morning.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، اور عرض کیا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری گردن مار دی گئی، اور سر لڑھکتا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو شیطان خواب میں آ کر ڈراتا ہے اور پھر تم اسے صبح کو لوگوں سے بیان بھی کرتے ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الصُّنَابِحِ الأَحْمَسِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَلاَ إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ فَلاَ تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Sunabih Al-Ahmasi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I shall reach the Cistern (Haud) before you, and I will boast of your great numbers before the nations, so do not fight one another after I am gone.’”
صنابح احمسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت ( تعداد ) کی وجہ سے میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم میرے بعد آپس میں ایک دوسرے کو قتل مت کرنا ۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ الْحَارِثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْبَذَاذَةُ مِنَ الإِيمَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْبَذَاذَةُ الْقَشَافَةُ يَعْنِي التَّقَشُّفَ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin Abi Umamah Al-Harithi that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Simplicity is part of faith.’”
ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے ایمان کا ایک حصہ ہے، سادگی بے جا تکلف کے معنی میں ہے، یعنی زیب و زینت و آرائش سے گریز کرنا
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلُهُ وَمَالُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that:The Messenger of Allah said: "The one who misses the 'Asr prayer, it is as if he has been cheated out of his family and wealth
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے، گویا اس کے اہل و عیال اور مال و اسباب سب لٹ گئے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مِنْ، فِي رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ وَشَاهِدُ الصَّلاَةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah himself say: 'The Mu'adh-dhin's sins will be forgiven as far as his voice reaches, and every wet and dry thing will pray for forgiveness for him. For the one who attends the prayer, twenty-five Hasanat (good deeds) will be recorded, and it is will be expiation (for sins committed) between them (the two prayers)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اور ہر خشک و تر اس کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے، اور اذان سن کر نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچیس ( ۲۵ ) نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور دو نمازوں کے درمیان کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلُ قَالَ ‏"‏ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ ‏"‏ أَرْبَعُونَ عَامًا ثُمَّ الأَرْضُ لَكَ مُصَلًّى فَصَلِّ حَيْثُ مَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Dharr Al-Ghifari said:"I said: 'O Messenger of Allah! Which mosque was built first?' He said: 'Al-Masjid Al-Haram (in Makkah).' I said: 'Then which?' He said: 'then Al-Masjid Al-Aqsa (in Jerusalem).' I said: 'How many years between them?' He said: 'Forty years, but the whole earth is a mosque for you, so pray wherever you are when the time for prayer comes
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الحرام ، میں نے پوچھا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مسجد الاقصیٰ ، میں نے پوچھا: ان دونوں کی مدت تعمیر میں کتنا فاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال کا، پھر ساری زمین تمہارے لیے نماز کی جگہ ہے، جہاں پر نماز کا وقت ہو جائے وہیں ادا کر لو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏{الم * تَنْزِيلُ }‏ وَ ‏{هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ}‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“For the Subh prayer on Fridays, the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite ‘Alif-Lam-Mim. The revelation...’ [32:1] and ‘Has there not been over man...’” [76:]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم تنزيل السجدة» ( سورۃ سجدۃ ) ، اور «هل أتى على الإنسان» ( سورۃ الدہر ) پڑھتے تھے ۱؎۔