بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
6 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اجْتَمَعْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمْ تُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ: ‏"‏ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَكَتْ فَاطِمَةُ. ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا. فَضَحِكَتْ أَيْضًا فَقُلْتُ لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا حِينَ بَكَتْ: أَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِحَدِيثٍ دُونَنَا ثُمَّ تَبْكِينَ؟ وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ ‏.‏ فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم - ‏.‏ حَتَّى إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ. فَقَالَتْ: إِنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُنِي أَنَّ جِبْرَائِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً وَأَنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ ‏"‏ وَلاَ أُرَانِي إِلاَّ قَدْ حَضَرَ أَجَلِي وَأَنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ ‏"‏ ‏.‏ فَبَكَيْتُ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي فَقَالَ: ‏"‏ أَلاَ تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ - أَوْ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ - ‏"‏ ‏.‏ فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“The wives of the Prophet (ﷺ) gathered together and not one of them lagged behind. Fatimah came, and her gait was like that of the Messenger of Allah (ﷺ). He said, ‘Welcome to my daughter.’ Then he made her sit to his left, and he whispered something to her, and she smiled. I said to her: ‘What made you weep?’ She said: ‘I will not disclose the secret of the Messenger of Allah (ﷺ).’ I said: ‘I never saw joy so close to grief as I saw today.’ When she wept I said: ‘Did the Messenger of Allah (ﷺ) tell you some special words that were not for us, then you wept?’ And I asked her about what he had said. She said: ‘I will not disclose the secret of the Messenger of Allah (ﷺ).’ After he died I asked her what he had said, and she said: ‘He told me that Jibra’il used to review the Qur’an with him once each year, but he had reviewed it with him twice that year, (and he said:) “I do not think but that my time is near. You will be the first of my family to join me, and what a good predecessor I am for you.” So I wept. Then he whispered to me and said: “Will you not be pleased to be the leader of the women of this Ummah?” So I smiled.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہی، اتنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کی طرح تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بیٹی! خوش آمدید پھر انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا، اور چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر چپکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیوں روئیں؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتی، میں نے کہا: آج جیسی خوشی جو غم سے قریب تر ہو میں نے کبھی نہیں دیکھی، جب فاطمہ روئیں تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خاص بات تم سے فرمائی ہے، جو ہم سے نہیں کہی کہ تم رو رہی ہو، اور میں نے پوچھا: آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد میں نے ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ جبرائیل مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن کا دور کراتے تھے اب کی سال دو بار دور کرایا، تو میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے، اور تم میرے رشتہ داروں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی، اور میں تمہارے لیے کیا ہی اچھا پیش رو ہوں یہ سن کر میں روئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے مجھ سے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی، یہ سن کر میں ہنسی ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ بِيَدِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Your Lord wrote for Himself with His Own Hand before He created the creation: "My mercy precedes My wrath
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ذمہ لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The people were going in all directions, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘No one should depart until the last thing he does is (Tawaf around) the House.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ ہر طرف کو جا رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّكُمْ وَفَّيْتُمْ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘You complete seventy nations, of which you are the best and dearest to Allah.’”
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہیں لے کر ستر امتیں پوری ہوئیں، اور تم ان میں سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ، وَعُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَةُ بْنُ الأَحْنَفِ، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الأَشْعَرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَشُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، كُلُّ هَؤُلاَءِ سَمِعُوا مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ أَتِمُّوا الْوُضُوءَ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Khalid bin Walid, Yazid bin Abu Sufyan, Shurahbil bin Hasanah and 'Amr bin 'As that:They all heard the Messenger of Allah say: 'Complete the ablution. Woe to the heels because of Hell-fire
خالد بن ولید، یزید بن ابوسفیان، شرحبیل بن حسنہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا وضو مکمل کیا کرو، ایڑیوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنِّي لأَقُومُ فِي الصَّلاَةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin Abu Qatadah that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I get up to perform prayer and I intend to make it long, but then I hear an infant crying, so I make it short, because I do not like to cause distress to his mother.’”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس کو لمبی کروں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اس ڈر سے نماز ہلکی کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں پریشان نہ ہو جائے ۔