بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
6 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِ عَظْمِ الْحَىِّ فِي الإِثْمِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet (ﷺ) said:“Breaking the bones of the deceased is, in sin, like breaking his bones when he is alive.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردہ کی ہڈی کے توڑنے کا گناہ زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ عَنْ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ شَيْئًا قَدَّمَهُ ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ أَيْسَرَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ شَيْئًا قَدَّمَهُ ثُمَّ يَنْظُرُ أَمَامَهُ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Adi bin Hatim said:"The Messenger of Allah said: 'There is no one among you but his Lord will speak to him without any intermediary between them. He will look to his right and will not see anything but that which he sent forth. He will look to his left and will not see anything but that which he sent forth. Then he will look in front of him and will be faced with the Fire. So whoever among you can protect himself from fire, even by means of half a date, let him do so
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) بغیر کسی ترجمان کے ہم کلام ہو گا ۱؎، بندہ اپنی دائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو اپنے آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر بائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر اپنے آگے دیکھے گا تو جہنم اس کے سامنے ہو گی پس جو جہنم سے بچ سکتا ہو چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کو اللہ کی راہ میں دے کر تو اس کو ضرور ایسا کرنا چاہیئے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمْ يُرَخِّصِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لأَحَدٍ يَبِيتُ بِمَكَّةَ إِلاَّ لِلْعَبَّاسِ مِنْ أَجْلِ السِّقَايَةِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Prophet (ﷺ) did not allow anyone to stay overnight in Makkah apart from ‘Abbas, for the purpose of supplying water to the pilgrims.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( منیٰ کے دنوں میں ) کسی کو مکہ میں رات گزارنے کی اجازت نہیں دی سوائے عباس کے، کیونکہ حاجیوں کو پانی پلانے کا کام ان کے سپرد تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ يَجِيءُ النَّبِيُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلاَنِ وَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الثَّلاَثَةُ وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ فَيَقُولُ نَعَمْ ‏.‏ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ هَلَ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ لاَ ‏.‏ فَيُقَالُ مَنْ شَهِدَ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ‏.‏ فَتُدْعَى أُمَّةُ مُحَمَّدٍ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغَ هَذَا فَيَقُولُونَ نَعَمْ ‏.‏ فَيَقُولُ وَمَا عِلْمُكُمْ بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا بِذَلِكَ أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا فَصَدَّقْنَاهُ ‏.‏ قَالَ فَذَلِكُمْ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا}‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A Prophet will come accompanied by two men, and a Prophet will come accompanied by three, and (some will come) with more or less than that. It will be said to him: ‘Did you convey the message to your people?’ And he will say: ‘Yes.’ Then his people will be called and it will be said: ‘Did he convey the message to you?’ They will say: ‘No.’ Then it will be said: ‘Who will bear witness for you?’ He will say: ‘Muhammad and his nation.’ So the nation of Muhammad will be called and it will be said: ‘Did this man convey the message?’ They will say: ‘Yes.’ He will say: ‘How did you know that?’ They will say: ‘Our Prophet told us that the Messengers had conveyed the message, and we believed him.’ This is what Allah says: “Thus We have made you, a just (and the best) nation, that you be witnesses over mankind and the Messenger (Muhammad (ﷺ)) be a witness over you.’” [2:]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ دو ہی آدمی ہوں گے، اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ تین آدمی ہوں گے، اور کسی نبی کے ساتھ زیادہ لوگ ہوں گے، کسی کے ساتھ کم، اس نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں پھر اس کی قوم بلائی جائے گی اور پوچھا جائے گا: کیا اس نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں نبی سے پوچھا جائے گا: تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہے گا: محمد اور ان کی امت، پھر محمد کی امت بلائی جائے گی اور کہا جائے گا: کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گی: جی ہاں اس سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ جواب دے گی کہ ہمارے نبی نے ہم کو یہ بتایا کہ رسولوں نے پیغام پہنچا دیا ہے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی اللہ تعالیٰ کے قول: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا» اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم گواہ رہو لوگوں پر اور رسول گواہ رہیں تمہارے اوپر ( سورة البقرة: 143 ) کا مطلب ہے ۔
قَالَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:The Messenger of Allah said: 'Woe to the heels because of Hell-fire
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایڑیوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، يَقُولُ كَانَ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلَىَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِينَ أَمَّرَنِي عَلَى الطَّائِفِ قَالَ لِي ‏ "‏ يَا عُثْمَانُ تَجَاوَزْ فِي الصَّلاَةِ وَاقْدِرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالصَّغِيرَ وَالسَّقِيمَ وَالْبَعِيدَ وَذَا الْحَاجَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Mutarrif bin ‘Abdullah bin Shikhkhir said:“I heard ‘Uthman bin Abul-‘As say: “The last thing that the Prophet (ﷺ) enjoined on me when he appointed me governor of Ta’if was that he said: “O ‘Uthman! Be tolerable in prayer and estimate the people based upon the weakest among them, for among them are the elderly, the young, the sick, those who live far from the mosque, and those who have pressing needs.”
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو طائف کا امیر بنایا، تو آپ نے میرے لیے آخری نصیحت یہ فرمائی: عثمان! نماز ہلکی پڑھنا، اور لوگوں ( عام نمازیوں ) کو اس شخص کے برابر سمجھنا جو ان میں سب سے زیادہ کمزور ہو، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے، بچے، بیمار، دور سے آئے ہوئے اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔