بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
6 hadith
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا وَوُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever dies from a sickness dies as a martyr. He is protected from the torment of the grave and he is granted provision from Paradise morning and evening.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی ۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَذْكُرُ فِي النَّجْوَى قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏"‏ يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ ثُمَّ يُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ فَيَقُولُ هَلْ تَعْرِفُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَعْرِفُ ‏.‏ حَتَّى إِذَا بَلَغَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ قَالَ إِنِّي سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ يُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ أَوْ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ‏.‏ قَالَ وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الأَشْهَادِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ خَالِدٌ فِي ‏"‏ الأَشْهَادِ ‏"‏ ‏.‏ شَىْءٌ مِنِ انْقِطَاعٍ ‏.‏ ‏{هَؤُلاَءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلاَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ}‏ ‏.‏
It was narrated that Safwan bin Muhriz Al-Mazini said:"We were with 'Abdullah bin 'Umar when he was circumambulating the House; a man came up to him and said: 'O Ibn 'Umar, what did you hear the Messenger of Allah say about the Najwa?' He said: 'I heard the Messenger of Allah say: 'On the Day of Resurrection, the believer will be brought close to his Lord until He will cover him with His screen, then He will make him confess his sins. He will ask him: "Do you confess?" He will say: "O Lord, I confess." This will continue as long as Allah wills, then He will say: "I concealed them for you in the world, and I forgive you for them today." Then he will be given the scroll of his good deeds, or his record, in his right hand. But as for the disbeliever or the hypocrite, (his sins) will be announced before the witnesses.' " (One of the narrators) Khalid said: "At: 'before the witnesses' there is something missing." "These are the ones who lied against their Lord!' No doubt! The curse of Allah is on the wrongdoers
صفوان بن محرز مازنی کہتے ہیں: اس اثناء میں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھے، اور وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے، اچانک ایک شخص سامنے آیا، اور اس نے کہا: ابن عمر! آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «نجویٰ» ( یعنی اللہ کا اپنے بندے سے قیامت کے دن سرگوشی کرنے ) کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مومن اپنے رب سے قیامت کے دن قریب کیا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا، ( تاکہ اس سرگوشی سے دوسرے باخبر نہ ہو سکیں ) ، پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا، اور فرمائے گا: کیا تم ( اس گناہ کو ) جانتے ہو؟ وہ بندہ کہے گا: اے رب! میں جانتا ہوں، یہاں تک کہ جب مومن اپنے جملہ گناہوں کا اقرار کر لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں ان گناہوں کی پردہ پوشی کی اور آج میں ان کو بخشتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے اس کی نیکیوں کا صحیفہ یا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہے کافر و منافق تو ان کو حاضرین کے سامنے پکارا جائے گا ( راوی خالد کہتے ہیں کہ «الأشهاد» میں کچھ انقطاع ہے ) : یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا، سن لو! اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر ( سورۃ ہود: ۱۸ ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَىَّ وَهُوَ حَزِينٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي وَأَنْتَ قَرِيرُ الْعَيْنِ وَرَجَعْتَ وَأَنْتَ حَزِينٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) went out delighted, then he came back to me sad. I said: ‘O Messenger of Allah, (why did) you go out happy and come back sad?’ He said: ‘I entered the Ka’bah, and I wish that I had not done that, because I am afraid that I may have caused difficulty for my nation after I am gone.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے، آپ بہت خوش اور ہشاش بشاش تھے، پھر میرے پاس واپس آئے تو آپ غمگین تھے، یہ دیکھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے، ابھی میرے پاس سے آپ نکلے تو آپ بہت خوش تھے، اور واپس آئے ہیں تو غمگین ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبہ کے اندر گیا، پھر میرے جی میں آیا کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا، میں ڈرتا ہوں کہ اپنے بعد میں اپنی امت کو مشقت میں نہ ڈال دوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ سِيمَاءُ أُمَّتِي لَيْسَ لأَحَدٍ غَيْرِهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“You will come to me with radiant faces, hands and feet from the traces of ablution. This is the characteristic sign of my nation which does not belong to anyone else.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پاس آؤ گے اس حال میں کہ وضو کی وجہ سے تمہارے ہاتھ پاؤں اور پیشانیاں روشن ہوں گی، یہ میری امت کا نشان ہو گا، اور کسی امت کا یہ نشان نہ ہو گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ حَرَّكَ خَاتَمَهُ ‏.‏
Ubaidullah bin Abu Rafi' narrated from his father that:Whenever the Messenger of Allah performed ablution, he moved his ring
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو اپنی انگوٹھی ہلاتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُوجِزُ وَيُتِمُّ الصَّلاَةَ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to make his prayer brief but perfect.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختصر اور کامل نماز پڑھتے تھے ۱؎۔