حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو بَكْرٍ الْبَكَّائِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مِنْدَلٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ السِّقْطَ لَيُرَاغِمُ رَبَّهُ إِذَا أَدْخَلَ أَبَوَيْهِ النَّارَ . فَيُقَالُ أَيُّهَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّهُ أَدْخِلْ أَبَوَيْكَ الْجَنَّةَ . فَيَجُرُّهُمَا بِسَرَرِهِ حَتَّى يُدْخِلَهُمَا الْجَنَّةَ " .
It was narrated that ‘Ali said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The miscarried fetus will plead with his Lord if his parents are admitted to Hell. It will be said: “O fetus who pleads with your Lord! Admit your parents to Paradise.” So he will drag them out with his umbilical cord until he admits them to Paradise.’”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساقط بچہ اپنے رب سے جھگڑا کرے گا ۱؎، جب وہ اس کے والدین کو جہنم میں ڈالے گا، تو کہا جائے گا: رب سے جھگڑنے والے ساقط بچے! اپنے والدین کو جنت میں داخل کر، وہ ان دونوں کو اپنی ناف سے کھینچے گا یہاں تک کہ جنت میں لے جائے گا ۱؎ ۔ ابوعلی کہتے ہیں: «يُراغم ربه» کے معنی ( «یغاضب» ) یعنی اپنے رب سے جھگڑا کرنے کے ہیں۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، يَقُولُ شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ وَخَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا كِلاَبُ أَهْلِ النَّارِ قَدْ كَانَ هَؤُلاَءِ مُسْلِمِينَ فَصَارُوا كُفَّارًا . قُلْتُ يَا أَبَا أُمَامَةَ هَذَا شَىْءٌ تَقُولُهُ قَالَ بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
Abu Ghalib narrated that Abu Umamah said:"(The Khawarij) are the worst of the slain who are killed under heaven, and the best of the slain are those who were killed by them. Those (Khawarij) are the dogs of Hell. Those people were Muslims but they became disbelievers." I said: "O Abu Umamah, is that your opinion?" He said: "Rather I heard it from the Messenger of Allah
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ خوارج سب سے بدترین مقتول ہیں جو آسمان کے سایہ تلے قتل کیے گئے، اور سب سے بہتر مقتول وہ ہیں جن کو جہنم کے کتوں ( خوارج ) نے قتل کر دیا، یہ خوارج مسلمان تھے، پھر کافر ہو گئے ۱؎۔ ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ یہ بات خود اپنی جانب سے کہہ رہے ہیں؟ تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْمُخَضْرَمَةِ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ " أَتَدْرُونَ أَىُّ يَوْمٍ هَذَا وَأَىُّ شَهْرٍ هَذَا وَأَىُّ بَلَدٍ هَذَا " . قَالُوا هَذَا بَلَدٌ حَرَامٌ وَشَهْرٌ حَرَامٌ وَيَوْمٌ حَرَامٌ . قَالَ " أَلاَ وَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي يَوْمِكُمْ هَذَا أَلاَ وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَأُكَاثِرُ بِكُمُ الأُمَمَ فَلاَ تُسَوِّدُوا وَجْهِي أَلاَ وَإِنِّي مُسْتَنْقِذٌ أُنَاسًا وَمُسْتَنْقَذٌ مِنِّي أُنَاسٌ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي . فَيَقُولُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said, when he was atop his camel with the clipped ears in ‘Arafat: ‘Do you know what day this is, what month this is and what land this is?’ They said: ‘This is a sacred land, a sacred month and a sacred day.’ He said: ‘Your wealth and your blood are sacred to you as this month of yours, in this land of yours, on this day of yours. I will reach the Cistern (Hawd) before you, and I will be proud of your great numbers before the nations, so do not blacken my face (i.e., cause me to be ashamed). I will rescue some people, and some people will be taken away from me. I will say: “O Lord, my companions!” and He will say: “You do not know what innovations they introduced after you were gone.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور اس وقت آپ عرفات میں اپنی کنکٹی اونٹنی پر سوار تھے: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے، اور کون سا مہینہ ہے، اور کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر، حرمت والا مہینہ، اور حرمت والا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! تمہارے مال اور تمہارے خون بھی ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ مہینہ تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس دن میں، سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم مجھے رو سیاہ مت کرنا، سنو! کچھ لوگوں کو میں ( عذاب کے فرشتوں یا جہنم سے ) نجات دلاؤں گا، اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے ( فرشتے مجھ سے چھین کر انہیں جہنم میں لے جائیں گے ) ، میں کہوں گا: یا رب! یہ میرے صحابہ ہیں وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے جو انہوں نے آپ کے بعد بدعتیں ایجاد کی ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ " يَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدِهِ - وَقَبَضَ يَدَهُ فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا - ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْجَبَّارُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ " . قَالَ وَيَتَمَايَلُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَىْءٍ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say on the pulpit: ‘The Compeller (Al-Jabbar) will seize His heavens and His earths in His Hand’ – and he clenched his hand and started to open and close it – ‘Then He will say: “I am the Compeller, I am the King. Where are the tyrants? Where are the arrogant?” And the Messenger of Allah (ﷺ) was leaning to his right and his left, until I could see the pulpit shaking at the bottom, and I thought that it would fall along with the Messenger of Allah (ﷺ).”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: جبار ( اللہ ) آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا، ( آپ نے مٹھی بند کی پھر اس کو بند کرنے اور کھولنے لگے ) پھر فرمائے گا: میں جبار ہوں، میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں دوسرے جبار؟ کہاں ہیں دوسرے متکبر؟ یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھک رہے تھے، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ منبر کچھ نیچے سے ہل رہا تھا، حتیٰ کہ میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر نہ پڑے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا .
It was narrated from Miqdam bin Ma'dikarib that:The Messenger of Allah performed ablution and he wiped his head and his ears, inside and out
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے سر کا اور اپنے کان کے اندرونی و بیرونی حصے کا مسح کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ " تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لاَ يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ " .
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) saw that some of his Companions tended to stand in the rear, so he said:“Come forward and follow me, and let those who are behind you follow your lead. If people continue to lag behind, Allah will put them back.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دیکھا کہ وہ پیچھے کی صفوں میں رہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے آ جاؤ، اور نماز میں تم میری اقتداء کرو، اور تمہارے بعد والے تمہاری اقتداء کریں، کچھ لوگ برابر پیچھے رہا کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو پیچھے کر دیتا ہے ۱؎۔