حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شُفْعَةَ، قَالَ لَقِيَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ السُّلَمِيُّ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلاَّ تَلَقَّوْهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ " .
‘Utbah bin ‘Abd Sulami said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘There is no Muslim, three of whose children die before reaching the age of puberty, but they will meet him at the eight gates of Paradise and whichever one he wants he will enter through it.’”
عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس مسلمان کے تین بچے ( بلوغت سے پہلے ) مر جائیں، تو وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے استقبال کریں گے، جس میں سے چاہے وہ داخل ہو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالْجِعِرَّانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ التِّبْرَ وَالْغَنَائِمَ وَهُوَ فِي حِجْرِ بِلاَلٍ فَقَالَ رَجُلٌ اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ . فَقَالَ " وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ بَعْدِي إِذَا لَمْ أَعْدِلْ " . فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ هَذَا فِي أَصْحَابٍ - أَوْ أُصَيْحَابٍ - لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
It was narrated from Abu Zubair that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah was in Ji'ranah and he was distributing gold nuggets and spoils of war which were in Bilal's lap. A man said: 'Do justice, O Muhammed!' He said: 'Woe to you! Who will do justice after me if I do not do justice?' 'Umar said: 'O Messenger of Allah! Let me strike the neck of this hypocrite!' The Messenger of Allah said: 'This man has some companions who recite the Qur'an but it does not go any deeper than their collarbones. They will pass through Islam like an arrow passing through its target
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں تشریف فرما تھے، اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں سے سونا، چاندی اور اموال غنیمت ( لوگوں میں ) تقسیم فرما رہے تھے، تو ایک شخص نے کہا: اے محمد! عدل و انصاف کیجئیے، آپ نے عدل سے کام نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا برا ہو، اگر میں عدل و انصاف نہ کروں گا تو میرے بعد کون عدل کرے گا؟ ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے اور بھی ساتھی ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں، لیکن وہ ان کی حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ضُحًى وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ .
It was narrated that Jabir said:“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) stoning ‘Aqabah Pillar at forenoon, but after that day, he would do it after the sun had passed its zenith.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت کی، اور اس کے بعد جو رمی کی ( یعنی ۱۱، ۱۲ اور ۱۳ ذی الحجہ ) کو تو وہ زوال ( سورج ڈھلنے ) کے بعد کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ " .
It was narrated from Abu Hurairah conveying it from the Prophet (ﷺ):“The Hour will not begin until you fight people with shoes of hair, and the Hour will not begin until you fight people with small eyes.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ : " إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يُبْعَثُ " .
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Ka’b Al-Ansari that his father used to narrate that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The believer’s soul is a bird that eats from the trees of Paradise, until it will be returned to his body on the Day when he is resurrected.”
کعب رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی روح ایک پرندے کی شکل میں جنت کے درخت میں لٹکتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنے اصلی بدن میں لوٹ جائے گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّتَيْنِ .
It was narrated that Ar-Rubai' bint Mu'awwidh bin 'Afra' said:"The Messenger of Allah performed ablution and wiped his head twice
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے سر کا مسح دوبار کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ .
Shurahbil said:“I heard Jabir bin ‘Abdullah say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) was performing Maghrib, and I came and stood on his left, but he made me stand on his right.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھ رہے تھے میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎۔