حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ " .
It was narrated that ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever consoles a person stricken by calamity will have a reward equal to his.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مصیبت زدہ کو تسلی دے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا ( جتنا مصیبت زدہ کو ملے گا ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي - أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي - قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لاَ يَعُودُونَ فِيهِ هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ فَقَالَ وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah said: 'There will be people among my Ummah (nation) after me who will recite the Qur'an, but it will not go any deeper than their throats. They will pass through Islam like an arrow passing through its target, then they will never return to it. They are the most evil of mankind and of all creation.' " 'Abdullah bin Samit said: "I mentioned to Rafi' bin 'Amr, the brother of Hakam bin 'Amr Ghifari and he said: 'I also heard that from the Messenger of Allah
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد میری امت میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کی حلق سے نہ اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے، پھر وہ دین کی طرف واپس لوٹ کر نہ آئیں گے، انسانوں اور حیوانوں میں بدترین لوگ ہیں ۱؎۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر حکم بن عمرو غفاری کے بھائی رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے کہا: میں نے بھی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا إِلاَّ قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لاَ تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ أَوْشَكَ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا " .
It was narrated from Mu'adh bin Jabal that:the Messenger of Allah said: "No woman annoys her husband but his wife among houris (of Paradise) safs: 'Do not annoy him, may Allah destroy you, for he is just a temporary guest with you and soon he will leave you and join us
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حورعین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اللہ تجھے ہلاک کرے، اسے تکلیف نہ دے، وہ تیرے پاس چند روز کا مہمان ہے، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ النَّيْسَابُورِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا زَرْبِيٌّ، إِمَامُ مَسْجِدِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الشَّاةُ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Sheep are among the animals of Paradise
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُئِلَ عَمَّنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ أَوْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ قَالَ " لاَ حَرَجَ " .
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Prophet (ﷺ) was asked about a man who slaughtered his sacrifice before shaving his head, or who shaved his head before slaughtering his sacrifice, and he said:“There is no harm in that.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سر منڈانے سے پہلے قربانی کر لی، یا قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زَيْنَبَ، مَوْلَى حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ، قَالَ مَرَرْتُ بِالنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لِي " يَا حَازِمُ أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ " .
It was narrated that Hazim bin Harmalah said:"I passed by the Prophet (saas) and he said to me: 'O Hazim, say often: "La hawla wa la quwwata illa billah (there is no power and no strength except with Allah)," for it is one of the treasures of Paradise
حازم بن حرملہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ( ایک روز ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے حازم! تم «لا حول ولا قوة إلا بالله» کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلاَءَ " . ثُمَّ قَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الإِسْلاَمِ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ لاَ يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ فَيُصِيبُونَ غَنَائِمَ لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهَا حَتَّى يَقْتَسِمُوا بِالأَتْرِسَةِ وَيَأْتِي آتٍ فَيَقُولُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَرَجَ فِي بِلاَدِكُمْ أَلاَ وَهِيَ كِذْبَةٌ فَالآخِذُ نَادِمٌ وَالتَّارِكُ نَادِمٌ " .
It was narrated from Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Hour will not begin until the closest Muslim outpost will be at Baula’.’ Then he said: ‘O ‘Ali, O ‘Ali, O ‘Ali.’ He (‘Ali) said: ‘May my father and mother be ransomed for you.’ He said: ‘You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by the shieldful. Someone will come and say: “Masih has appeared in your land!” But he will be lying, so the one who takes (some of the spoils) will regret it, and the one who leaves it behind will regret it too.’”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا کبھی حاصل نہ ہوا تھا، یہاں تک کہ وہ ڈھا لیں بھربھر کر تقسیم کریں گے، اور ایک آنے والا آ کر کہے گا: مسیح ( دجال ) تمہارے ملک میں ظاہر ہو گیا ہے، سن لو! یہ خبر جھوٹی ہو گی، تو مال لینے والا بھی شرمندہ ہو گا، اور نہ لینے والا بھی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ : " {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ } قَالَ : نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ يُقَالُ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ فَذَلِكَ قَوْلُهُ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ} " .
It was narrated from Bara’ bin ‘Azib that the Prophet (ﷺ) said:“Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm.” [14:27] This has been revealed concerning the torment of the grave. It will be said to him: ‘Who is your Lord?’ He will say: ‘My Lord is Allah, and my Prophet is Muhammad.’ This is what Allah says: Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world (i.e. they will keep on worshipping Allah Alone and none else), and in the Hereafter (i.e., at the time of questioning in the grave).’” [14:]
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آیت: «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، اس ( مردے ) سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے، اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہی مراد ہے اس آیت: «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول پر ثابت رکھتا ہے دنیوی زندگی میں بھی آخرت میں بھی ( سورة ابراهيم: 72 ) سے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً .
It was narrated from 'Ali that:The Messenger of Allah wiped his head once
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح ایک بار کیا
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَمْرِو بْنِ جَرَادٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اثْنَانِ، فَمَا فَوْقَهُمَا، جَمَاعَةٌ " .
It was narrated that Abu Musa Al-Ash’ari said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Two or more people are a congregation.’”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو یا دو سے زیادہ لوگ جماعت ہیں ۔