حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى " .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Patience should come with the first shock
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر تو وہ ہے جو مصیبت کے اول وقت میں ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ اسْتَقْبَلُوا وَادِيًا - أَوْ شِعْبًا - وَاسْتَقْبَلَتِ الأَنْصَارُ وَادِيًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ وَلَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ " .
It was narrated from 'Abdul-Muhaimin bin 'Abbas bin Sahl bin Sa'd from his father, from his grandfather, that:The Messenger of Allah said: "The Ansar are an inner garment and the people are an outer garment. If the people were to head towards one valley or a narrow mountain pass and the Ansar towards another, I would travel to the valley of the Ansar, and were it not for the Hijrah, I would have been a man from among the Ansar
سعد بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار «شعار» ہیں ۱؎، اور لوگ «دثار» ہیں ۲؎، اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں جائیں اور انصار کسی دوسری وادی میں جائیں تو میں انصار کی وادی میں جاؤں گا، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَسْلَمَتْ . فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ . قَالَ فَجَاءَ زَوْجُهَا الأَوَّلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ مَعَهَا وَعَلِمَتْ بِإِسْلاَمِي . قَالَ فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ زَوْجِهَا الآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:a woman came to the Prophet and became Muslim, and a man married her. Then her first husband came and said: "O Messenger of Allah, I became Muslim with her, and she knew that I was Muslim." So the Messenger of Allah took her away from her second husband and returned her to her first husband
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کیا، اور اس سے ایک شخص نے نکاح کر لیا، پھر اس کا پہلا شوہر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اپنی عورت کے ساتھ ہی مسلمان ہوا تھا، اور اس کو میرا مسلمان ہونا معلوم تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دوسرے شوہر سے چھین کر پہلے شوہر کے حوالے کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا أَتَيْتَ عَلَى رَاعٍ فَنَادِهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلاَّ فَاشْرَبْ فِي غَيْرِ أَنْ تُفْسِدَ وَإِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطِ بُسْتَانٍ فَنَادِ صَاحِبَ الْبُسْتَانِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلاَّ فَكُلْ فِي أَنْ لاَ تُفْسِدَ " .
It was narrated from Abu Sa'eed that the Prophet (ﷺ) said:"When you come to a shepherd, call him three times. If he answers (all well and good), otherwise drink (milk from the flock) without taking advantage. And when you come to a garden call the owner of the garden three times. If he answers (all well and good), otherwise eat (from the produce of the garden) without taking advantage
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چرواہے کے پاس آؤ تو تین بار اسے آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق بغیر خراب کئے دودھ دوہ کر پی لو، اور جب تم کسی باغ میں آؤ تو باغ والے کو تین بار آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق پھل توڑ کر کھا لو، البتہ خراب مت کرو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ ظَاهَرْتَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلاَثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ وَاحِدَةً قَالَ " إِنَّهُمْ لَمْ يَشُكُّوا " .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“It was said: ‘O Messenger of Allah, why did you support (by supplicating for) those who shave (their heads) three times and those who cut (their hair) only once?’ He said: ‘Because they did not entertain any doubts.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے شک نہیں کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلَىِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا " .
It was narrated from 'Aishah that :the Prophet (saas) used to say: "Allahum-maj'alni minal-ladhina idha ahsanu istabsharu, wa idha asa'u istaghfaru (O Allah, make me one of those who, if they do good deeds, they rejoice, and if they do bad deeds, they seek forgiveness)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللهم اجعلني من الذين إذا أحسنوا استبشروا وإذا أساءوا استغفروا» اے اللہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو نیک کام کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اور جب برا کام کرتے ہیں تو اس سے استغفار کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ مَالَ مَكْحُولٌ وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمِلْتُ مَعَهُمَا فَحَدَّثَنَا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ قَالَ لِي جُبَيْرٌ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مِخْمَرٍ - وَكَانَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ - فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَسَأَلَهُ عَنِ الْهُدْنَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " سَتُصَالِحُكُمُ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا ثُمَّ تَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصَّلِيبِ الصَّلِيبَ فَيَقُولُ غَلَبَ الصَّلِيبُ . فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ " .
It was narrated that Jubair bin Nufair said:“Jubair said to me: ‘Let’s go to Dhu Mikhmar, who was a man from among the Companions of the Prophet (ﷺ).’ So I went with them and he asked him about the peace treaty (with the Romans). He said: ‘I heard the Prophet (ﷺ) say: “The Romans will enter into a peace treaty with you, then you and they will fight one another as enemies, and you will be victorious; you will collect the spoils of war and be safe. Then you will come back until you stop in a meadow with many hillocks. A man from among the people of the Cross will raise the Cross and will say: ‘The Cross has prevailed.’ Then a man among the Muslims will become angry and will go and break the Cross. Then the Romans will prove treacherous (breaking the treaty) (and will gather) for the fierce battle.”
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا، خالد بن معدان کی طرف مڑے، اور میں بھی ان کے ساتھ مڑا، خالد نے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے بیان کیا کہ جبیر نے مجھ سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ ذی مخمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، چنانچہ میں ان دونوں کے ہمراہ چلا، ان سے صلح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: عنقریب ہی روم والے تم سے ایک پر امن صلح کریں گے، اور تمہارے ساتھ مل کر دشمن سے لڑیں گے، پھر تم فتح حاصل کرو گے، اور بہت سا مال غنیمت ہاتھ آئے گا، اور تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنگ سے لوٹو گے یہاں تک کہ تم ایک تروتازہ اور سرسبز مقام پر جہاں ٹیلے وغیرہ ہوں گے، اترو گے، وہاں صلیب والوں یعنی رومیوں میں سے ایک شخص صلیب بلند کرے گا، اور کہے گا: صلیب غالب آ گئی، مسلمانوں میں سے ایک شخص غصے میں آئے گا، اور اس کے پاس جا کر صلیب توڑ دے گا، اس وقت رومی عہد توڑ دیں گے، اور سب جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَجَلُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ أَوْثَبَتْهُ إِلَيْهَا الْحَاجَةُ فَإِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَثَرِهِ قَبَضَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ فَتَقُولُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَبِّ هَذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِي " .
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud that the Prophet (ﷺ) said:“If the appointed time of death of anyone of you is in a certain land, some need will cause him to go there, then when he reaches the furthest point that it is decreed he will reach, Allah takes (his soul). And on the Day of Resurrection the earth will say: ‘My Lord, this is what You entrusted to me.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی موت کسی زمین میں لکھی ہوتی ہے تو ضرورت اس کو وہاں لے جاتی ہے، جب وہ اپنے آخری نقش قدم کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کر لیتا ہے، زمین قیامت کے دن کہے گی: اے رب! یہ تیری امانت ہے جو تو نے میرے سپرد کی تھی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الْقَزْوِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ الأَسَدِيِّ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عُثْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ .
It was narrated from 'Uthman that:The Messenger of Allah performed ablution and ran his fingers through his beard
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنی داڑھی میں خلال کیا
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ فِي الصَّلاَةِ .
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade a man to cover his mouth during the prayer.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے