بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
10 hadith
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّمَا كَانَتْ يَهُودِيَّةٌ مَاتَتْ. فَسَمِعَهُمُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبْكُونَ عَلَيْهَا قَالَ: ‏ "‏ فَإِنَّ أَهْلَهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا تُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“A Jewish woman had died, and the Prophet (ﷺ) heard the weeping for her. He said: ‘Her family is weeping for her, and she is being punished in her grave.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت کا انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا، تو فرمایا: اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أَحَبَّ الأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَ الأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِعَدِيٍّ أَسَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ إِيَّاىَ حَدَّثَ ‏.‏
It was narrated that Bara' bin 'Azib said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever loves the Ansar, Allah will love him, and whoever hates the Ansar, Allah will hate him.' " (One of the narrators) Shu'bah said: "I said to 'Adi: 'Did you hear that from Bara' bin 'Azib?' He said: 'It was to me that he narrated it
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے انصار سے محبت کی اس سے اللہ نے محبت کی، اور جس شخص نے انصار سے دشمنی کی اس سے اللہ نے دشمنی کی ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے عدی سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث خود براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: مجھ ہی سے تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ‏"‏ ‏.‏
Shurahbil bin Muslim said:"I heard Abu Um Amah Al-Bahili say: 'I heard the Messenger of Allah say: "The child is for the bed and the fornicator gets nothing
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بچہ صاحب فراش کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ، أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ كُنْتُ وَأَنَا غُلاَمٌ، أَرْمِي نَخْلَنَا - أَوْ قَالَ نَخْلَ الأَنْصَارِ - فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏"‏ يَا غُلاَمُ - وَقَالَ ابْنُ كَاسِبٍ فَقَالَ يَا بُنَىَّ - لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ آكُلُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَرْمِي النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Rafi' bin 'Amr Al-Ghifari said:"When I was a boy, I used to throw stones at our date-palm trees"[1] - or he said: "the date-palm trees of the Ansar." I was brought to the Prophet (ﷺ) and he said: 'O boy' - (one of the narrators) Ibn Kasib said: He said: 'O my son - why are you throwing stones at the date-palm trees?' I said: 'So I can eat.' He said: 'Do not throw stones at the date-palm trees. Eat from what falls to the ground from them.' Then he patted me on the head and said: 'O Allah give him enough to eat.'”
رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! ( ابن کاسب کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: میرے بیٹے! ) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو ؟، رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ( کھجور ) کھاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اسے آسودہ کر دے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ الدِّمَشْقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ وَالْمُقَصِّرِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“May Allah have mercy on those who shave (their heads).” They said: “And those who cut (their hair), O Messenger of Allah!” He said: “May Allah have mercy on those who shave (their heads).” They said: “And those who cut (their hair), O Messenger of Allah!” He said: “May Allah have mercy on those who shave (their heads).” They said: “And those who cut (their hair), O Messenger of Allah!” He said: “And those who cut (their hair).”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بال کٹوانے والوں پر بھی ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ لَزِمَ الاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that :the Messenger of Allah said: "Whoever persists in asking for forgiveness, Allah will grant him relief from every worry, and a way out from every hardship, and will grant him provision from (sources) he could never imagine
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ يَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِيِّ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي سُلْطَانَهُ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Harith bin Jaz' Az-Zabidi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"People will come from the east, paving the way for Mahdi," meaning, for his rule
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ مشرق ( پورب ) کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ الْمَلاَئِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا قَالُوا ‏:‏ اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ اخْرُجِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلاَ يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ ‏:‏ مَنْ هَذَا فَيَقُولُونَ ‏:‏ فُلاَنٌ ‏.‏ فَيُقَالُ ‏:‏ مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ادْخُلِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ ‏.‏ فَلاَ يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ قَالَ اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ اخْرُجِي ذَمِيمَةً وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ ‏.‏ وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ ‏.‏ فَلاَ يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَلاَ يُفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ ‏:‏ مَنْ هَذَا فَيُقَالُ ‏:‏ فُلاَنٌ ‏.‏ فَيُقَالُ ‏:‏ لاَ مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهَا لاَ تُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَيُرْسَلُ بِهَا مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ ‏"‏ ‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Angels come to the dying person, and if the man was righteous, they say: ‘Come out, O good soul that was in a good body, come out praiseworthy and receive glad tidings of mercy and fragrance and a Lord Who is not angry.’ And this is repeated until it comes out, then it is taken up to heaven, and it is opened for it, and it is asked: ‘Who is this?’ They say: ‘So-and-so.’ It is said: ‘Welcome to the good soul that was in a good body. Enter praiseworthy and receive the glad tidings of mercy and fragrance and a Lord Who is not angry.’ And this is repeated until it is brought to the heaven above which is Allah. But if the man was evil, they say: ‘Come out O evil soul that was in an evil body. Come out blameworthy, and receive the tidings of boiling water and the discharge of dirty wounds,’ and other torments of similar kind, all together. And this is repeated until it comes out, then it is taken up to heaven and it is not opened for it. And it is asked: ‘Who is this?’ It is said: ‘So-and-so.’ And it is said: ‘No welcome to the evil soul that was in an evil body. Go back blameworthy, for the gates of heaven will not be opened to you.’ So it is sent back down from heaven, then it goes to the grave.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرنے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں، اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتے ہیں: نکل اے پاک جان! جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، نکل، تو لائق تعریف ہے، اور خوش ہو جا، اللہ کی رحمت و ریحان ( خوشبو ) سے اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناراض نہیں ہے، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل پڑتی ہے، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا کر لے جایا جاتا ہے، اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ یہ فلاں ہے، کہا جاتا ہے: خوش آمدید! پاک جان جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، تو داخل ہو جا، تو نیک ہے اور خوش ہو جا اللہ کی رحمت و ریحان ( خوشبو ) سے، اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناخوش نہیں، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ روح اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے جس کے اوپر اللہ عزوجل ہے، اور جب کوئی برا شخص ہوتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: نکل اے ناپاک نفس، جو ایک ناپاک بدن میں تھی، نکل تو بری حالت میں ہے، خوش ہو جا گرم پانی اور پیپ سے، اور اس جیسی دوسری چیزوں سے، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل جاتی ہے، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا کر لے جایا جاتا ہے، لیکن اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا، پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ جواب ملتا ہے: یہ فلاں ہے، کہا جاتا ہے: ناپاک روح کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، جو کہ ناپاک بدن میں تھی، لوٹ جا اپنی بری حالت میں، تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، اس کو آسمان سے چھوڑ دیا جاتا ہے پھر وہ قبر میں آ جاتی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ حَسَّانِ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حَسَّانِ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ ‏.‏
It was narrated that 'Ammar bin Yasir said:"I saw the Messenger of Allah running his fingers through his beard
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَإِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ تُفَقِّعْ أَصَابِعَكَ وَأَنْتَ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Ali that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Do not crack your fingers during the prayer.”
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز میں اپنی انگلیاں نہ چٹخاؤ ۔