بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
10 hadith
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، ‏.‏ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ إِذَا قَالُوا وَاعَضُدَاهْ وَاكَاسِيَاهْ ‏.‏ وَانَاصِرَاهْ وَاجَبَلاَهْ وَنَحْوَ هَذَا - يُتَعْتَعُ وَيُقَالُ أَنْتَ كَذَلِكَ أَنْتَ كَذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَسِيدٌ فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ ‏{وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى }‏ ‏.‏ قَالَ وَيْحَكَ أُحَدِّثُكَ أَنَّ أَبَا مُوسَى حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَتَرَى أَنَّ أَبَا مُوسَى كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَوْ تَرَى أَنِّي كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى؟
It was narrated from Asid bin Abu Asid, from Musa bin Abu Musa Ash’ari, from his father that the Prophet (ﷺ) said:“The deceased is punished for the weeping of the living. If they say: ‘O my strength, O he who clothed us, O my help, O my rock,’ and so on, he is rebuked and it is said: ‘Were you really like that? Were you really like that?’” Asid said: "I said: 'Subhan-Allah! Allah says: "And no bearer of burdens shall another's burden (35:18)." He said: "Woe to you, I tell you that Abu Musa narrated to me from the Messenger of Allah (ﷺ), and you think that Abu Musa was telling lies about the Prophet (ﷺ)? Or do you think that I am telling lies about Abu Musa?
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردے کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، جب لوگ کہتے ہیں: «واعضداه واكاسياه. واناصراه واجبلاه» ہائے میرے بازو، ہائے میرے کپڑے پہنانے والے، ہائے میری مدد کرنے والے، ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور اور اس طرح کے دوسرے کلمات، تو اسے ڈانٹ کر کہا جاتا ہے: کیا تو ایسا ہی تھا؟ کیا تو ایسا ہی تھا؟ اسید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے: «ولا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا تو انہوں ( موسیٰ ) نے کہا: تمہارے اوپر افسوس ہے، میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان فرمائی، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے؟ یا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا ہے؟۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمَقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ ‏.‏
It was narrated that Nusair bin Dhu'luq said:"Ibn 'Umar used to say: 'Do not revile the Companions of Muhammed, for the stay of anyone of them for a brief period (with the Prophet) is better than all the good deeds that anyone of you does in his lifetime
نسیر بن ذعلوق کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو، ان کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ایک لمحہ رہنا تمہارے ساری عمر کے عمل سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ‏.‏ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:the Prophet said: "The child is for the bed (i.e., belongs to the husband) and the fornicator gets nothing
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ، - رَجُلاً مِنْ بَنِي غُبَرَ - قَالَ أَصَابَنَا عَامُ مَخْمَصَةٍ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا فَأَخَذْتُ سُنْبُلاً فَفَرَكْتُهُ وَأَكَلْتُهُ وَجَعَلْتُهُ فِي كِسَائِي فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِلرَّجُلِ ‏ "‏ مَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ جَائِعًا أَوْ سَاغِبًا وَلاَ عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلاً ‏"‏ ‏.‏ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَرَدَّ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ وَأَمَرَ لَهُ بِوَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ ‏.‏
It was narrated that Abu Bishr Ja'far bin Abu Jyas said:“I heard 'Abbad bin Shurahbil, a man from Banu Ghubar, say: ‘We suffered a year of famine, and I came to Al-Madinah. I came to one of its gardens and took an ear of corn, I rubbed it, ate some and put the rest in my garment. The owner of the garden came and beat me and took my garment. I came to the Prophet (ﷺ) and told him (what had happened). He said to the man: "You did not feed him when he was hungry and you did not teach him when he was ignorant."' Then the Prophet (ﷺ) told him to give back his garment and ordered that a Wasq or half a Wasq of food be brought to him
ابوبشر جعفر بن أبی ایاس کہتے ہیں میں نے عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جو بنی غبر کے ایک فرد ہیں کو کہتے سنا کہ ایک سال قحط ہوا تو میں مدینہ آیا، وہاں اس کے باغوں میں سے ایک باغ میں گیا، اور اناج کی ایک بالی اٹھا لی، اور مل کر اس میں سے کچھ کھایا، اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ والے سے کہا: تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا، اور نہ تم نے اس کو تعلیم دی جبکہ یہ جاہل تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کپڑے واپس کرنے اور ساتھ ہی ایک وسق یا نصف وسق غلہ دینے کا حکم دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ ‏"‏ وَالْمُقَصِّرِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“O Allah, forgive those who shave (their heads).” They said: “O Messenger of Allah, and those who cut (their hair)?’ He said; “O Allah, forgive those who shave (their heads),” three times. They said: “O Messenger of Allah, and those who cut (their hair)?” He said: “And those who cut (their hair).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، آپ نے یہ تین بار فرمایا: تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بال کتروانے والوں کو بھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ طُوبَى لِمَنْ وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهِ اسْتِغْفَارًا كَثِيرًا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah bin Busr said that :the Prophet (saas) said: "Glad tidings to those who find a lot of seeking forgiveness in the record of their deeds
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مبارکبادی ہے اس شخص کے لیے جو اپنے صحیفہ ( نامہ اعمال ) میں کثرت سے استغفار پائے ۔
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْيَمَامِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ نَحْنُ وَلَدَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَادَةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنَا وَحَمْزَةُ وَعَلِيٌّ وَجَعْفَرٌ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَالْمَهْدِيُّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'We, the sons of 'Abdul-Muttalib, will be leaders of the people of Paradise: Myself, Hamzah. 'Ali, Ja'far, Hasan, Husain and Mahdi
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں، اور اہل جنت کے سردار ہیں، یعنی: میں، حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، ‏:‏ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ عَلَى شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ كَيْفَ تَجِدُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ أَرْجُو اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَخَافُ ذُنُوبِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏:‏ ‏"‏ لاَ يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ إِلاَّ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) entered upon a young man who was dying and said:“How do you feel?” He said: “I have hope in Allah, O Messenger of Allah, but I fear my sins.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “These two things (hope and fear) do not coexist in the heart of a person in a situation like this, but Allah will give him that which he hopes for and keep him safe from that which he fears.”
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس آئے جو مرض الموت میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو ؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت کی امید کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بندے کے دل میں ایسے وقت میں یہ دونوں کیفیتیں جمع ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز دے گا جس کی وہ امید کرتا ہے، اور جس چیز سے ڈرتا ہے، اس سے محفوظ رکھے گا ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ كَفَّارَاتُ الْخَطَايَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَإِعْمَالُ الأَقْدَامِ إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet said: "Sins are expiated by well-performed ablution despite difficulties, increasing the number of steps one takes towards the mosque, (and waiting for the next prayer after prayer)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلطیوں کے کفارے یہ ہیں: اس وقت کامل وضو کرنا جب دل نہ چاہتا ہو، اور مسجدوں کی طرف ( چلنے کے لیے ) پاؤں کام میں لانا اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيُّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ مِنَ الْجَفَاءِ أَنْ يُكْثِرَ الرَّجُلُ مَسْحَ جَبْهَتِهِ، قَبْلَ الْفَرَاغِ مِنْ صَلاَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“It is impolite for a man to wipe his forehead a great deal before he finishes prayer.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بدسلوکی اور بےرخی کی بات ہے کہ آدمی نماز ختم کرنے سے پہلے اپنی پیشانی پر باربار ہاتھ پھیرے ۔