حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سَرَقَةٌ مِنْ حَرِيرٍ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَدَاوَلُونَهَا بَيْنَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا " . فَقَالُوا لَهُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا " .
It was narrated that Bara' bin 'Azib said:"The Messenger of Allah was given a gift of a length of silk fabric. The people started passing it around to one another. The Messenger of Allah said: 'Are you admiring this?' They said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'By the One in Whose Hand is my soul! The handkerchief of Sa'd bin Mu'adh in Paradise is better than this
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا تحفہ میں پیش کیا گیا، لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ تمہارے لیے تعجب انگیز ہے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں بہتر ہوں گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ لَمَّا تُوُفِّيَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِبْرَاهِيمُ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ الْمُعَزِّي - إِمَّا أَبُو بَكْرٍ وَإِمَّا عُمَرُ - أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ عَظَّمَ اللَّهَ حَقَّهُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلاَ نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ لَوْلاَ أَنَّهُ وَعْدٌ صَادِقٌ وَمَوْعُودٌ جَامِعٌ وَأَنَّ الآخِرَ تَابِعٌ لِلأَوَّلِ لَوَجَدْنَا عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَفْضَلَ مِمَّا وَجَدْنَا وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ " .
It was narrated that Asma’ bint Yazid said:“When Ibrahim, the son of the Messenger of Allah (ﷺ), died, the Messenger of Allah (ﷺ) wept. The one who was consoling him, either Abu Bakr or ‘Umar, said to him: ‘You are indeed the best of those who glorify Allah with what is due to him.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The eye weeps and the heart grieves, but we do not say anything that angers the Lord. Were it not that death is something that inevitably comes to all, and that the latter will surely join the former, then we would have been more than we are, verily we grieve for you.’”
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، آپ سے تعزیت کرنے والے نے ( وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما ) کہا: آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا، تو اے ابراہیم! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ فَقَالَ أَنَسٌ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ فَقَالَتِ ابْنَتُهُ مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا . فَقَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ .
Thabit said:“We were sitting with Anas bin Mahk, and a daughter of his was with him. Anas said: 'A woman came to the Prophet and offered herself to him. She said: " O Messenger of Allah, do you have any need of me?"' His daughter said: 'How little modesty she had!' He said: 'She was better than you, because she wanted (to marry) the Messenger of Allah, and she offered herself to him
ثابت کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے، ان کے پاس ان کی ایک بیٹی تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور خود کو آپ پر پیش کیا اور بولی: کیا آپ کو میری حاجت ہے؟ یہ سن کر انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولی: اس کو کتنی کم حیاء ہے! اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تجھ سے بہتر ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں رغبت کی، اس لیے خود کو آپ پر پیش کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلاَ يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلاَّ مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لاَ يَعْلَمُ . فَقَالَ " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " .
It was narrated that 'Aishah said:'Hind came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, Abu Sufyan is a stingy man and he does not give me enough for me and my child, except for what I take from his wealth without him realizing.' He said: Take what is sufficient for you and your child, on a reasonable basis
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہیں، مجھے اتنا نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو سوائے اس کے جو میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں ( اس کے بارے میں فرمائیں؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مناسب انداز سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَلَبَّيْنَا عَنِ الصِّبْيَانِ وَرَمَيْنَا عَنْهُمْ .
It was narrated that Jabir said:“We performed Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ), and there were women and children with us. We recited Talbiyah on behalf of the children and stoned the Pillars on their behalf.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے تھے، ہم نے بچوں کی طرف سے لبیک پکارا، اور ان کی طرف سے رمی کی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عَلَيْكَ بِسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَإِنَّهَا - يَعْنِي - يَحْطُطْنَ الْخَطَايَا كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا " .
It was narrated that Abu Darda' said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'You should recite Subhan-Allah, wal-Hamdu-Lillah, wa la ilahah illallah, wa Allahu Akbar (Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the Most Great), for it sheds sins like the tree sheds its leaves
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنے کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ یہ کلمے گناہوں کو ایسے جھاڑ دیتے ہیں جیسے درخت اپنے ( پرانے ) پتے جھاڑ دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذْ أَقْبَلَ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ وَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ قَالَ فَقُلْتُ مَا نَزَالُ نَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا نَكْرَهُهُ . فَقَالَ " إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ اخْتَارَ اللَّهُ لَنَا الآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي سَيَلْقَوْنَ بَعْدِي بَلاَءً وَتَشْرِيدًا وَتَطْرِيدًا حَتَّى يَأْتِيَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَهُمْ رَايَاتٌ سُودٌ فَيَسْأَلُونَ الْخَيْرَ فَلاَ يُعْطَوْنَهُ فَيُقَاتِلُونَ فَيُنْصَرُونَ فَيُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا فَلاَ يَقْبَلُونَهُ حَتَّى يَدْفَعُوهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا كَمَا مَلَؤُوهَا جَوْرًا فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَأْتِهِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ " .
It was narrated that 'Abdullah said:"While we were with the Messenger of Allah (ﷺ), some youngsters from Banu Hashim came along. When the Prophet (ﷺ) saw them, his eyes filled with tears and his color changed. I said: 'We still see something in your face that we do not like (to see).' He said: 'We are members of a Household for whom Allah has chosen the Hereafter over this world. The people of my Household will face calamity, expulsion and exile after I am gone, until some people will come from the east carrying black banners. They will ask for something good but will not be given it. Then they will fight and will be victorious, then they will be given what they wanted, but they will not accept it and will give leadership to a man from my family. Then they will fill it with justice just as it was filled with injustice. Whoever among you lives to see that, let him go to them even if he has to crawl over snow
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں بنی ہاشم کے چند نوجوان آئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں، اور آپ کا رنگ بدل گیا، میں نے عرض کیا: ہم آپ کے چہرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور دیکھتے ہیں جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے ( یعنی آپ کے رنج سے ہمیشہ صدمہ ہوتا ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اس گھرانے والے ہیں جن کے لیے اللہ نے دنیا کے مقابلے آخرت پسند کی ہے، میرے بعد بہت جلد ہی میرے اہل بیت مصیبت، سختی، اخراج اور جلا وطنی میں مبتلا ہوں گے، یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے، جن کے ساتھ سیاہ جھنڈے ہوں گے، وہ خیر ( خزانہ ) طلب کریں گے، لوگ انہیں نہ دیں گے تو وہ لوگوں سے جنگ کریں گے، اور ( اللہ کی طرف سے ) ان کی مدد ہو گی، پھر وہ جو مانگتے تھے وہ انہیں دیا جائے گا، ( یعنی لوگ ان کی حکومت پر راضی ہو جائیں گے اور خزانہ سونپ دیں گے ) ، یہ لوگ اس وقت اپنے لیے حکومت قبول نہ کریں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو یہ خزانہ اور حکومت سونپ دیں گے، وہ شخص زمین کو اس طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اسے ظلم سے بھر دیا تھا، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس زمانہ کو پائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ( لشکر میں ) شریک ہو، اگرچہ اسے گھٹنوں کے بل برف پر کیوں نہ چلنا پڑے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّافِعِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ كُرَيْبًا، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنَّةٍ وُضُوءًا يُقَلِّلُهُ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ .
It was narrated that 'Amr heard Kuraib saying:"I heard Ibn 'Abbas say: 'I stayed overnight with my maternal aunt Maimunah, and the Prophet got up and performed ablution from an old water skin, and he did a brief ablution. Then I got up and did the same as he had done
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، اور آپ نے ایک پرانے مشکیزے سے بہت ہی ہلکا وضو کیا، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎۔
قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ : " دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلاَ هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلاَ هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : لِئَلاَّ يَتَّكِلَ رَجُلٌ وَلاَ يَيْأَسَ رَجُلٌ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A woman entered Hell because of a cat which she tied up and did not feed, or let it loose to eat of the vermin of the earth, until it died.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت اس بلی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی جس کو اس نے باندھ رکھا تھا، وہ نہ اس کو کھانا دیتی تھی، اور نہ چھوڑتی ہی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ زہری کہتے ہیں: ( ان دونوں حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ ) کوئی آدمی نہ اپنے عمل پر بھروسہ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمِقْدَامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُتَحَدِّثِ وَالنَّائِمِ .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade performing prayer behind one who is engaged in conversation or one who is sleeping.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات چیت کرنے والے، اور سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔