بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
10 hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ مَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ وَلاَ أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْ أَبِي ذَرٍّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"I heard the Messenger of Allah say: 'There is no one on earth, or under the sky, who speaks more truthfully than Abu Dharr
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: زمین نے کسی ایسے شخص کو نہ اٹھایا، اور نہ آسمان اس پر سایہ فگن ہوا جو ابوذر سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْضِي فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنَّ ‏"‏ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقُمْتُ مَعَهُ وَمَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا الصَّبِيَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَرُوحُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ ‏.‏ قَالَ حَسِبْتُهُ قَالَ كَأَنَّهُ شَنَّةٌ ‏.‏ قَالَ فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ‏"‏ الرَّحْمَةُ الَّتِي جَعَلَهَا اللَّهُ فِي بَنِي آدَمَ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ‏"‏ ‏.‏
Usamah bin Zaid said:“The son of one of the daughters of the Messenger of Allah (ﷺ) was dying. She sent for him, asking him to come to her, and he sent word to her, saying: ‘To Allah belongs what He has taken and to Him belongs what He has given. Everything has an appointed time with Him, so be patient and seek reward.’ But she sent for him again, adjuring him to come. So the Messenger of Allah (ﷺ) got up, and I got up with him, as did Mu’adh bin Jabal, Ubayy bin Ka’b and ‘Ubadah bin Samit. When we entered they handed the child to the Messenger of Allah (ﷺ), and his soul was rattling in his chest.” I think he was that it was like a water skin. “The Messenger of Allah (ﷺ) wept, and ‘Ubadah bin Samit said to him: ‘What is this, O Messenger of Allah?’ He said: ‘It is compassion which Allah has created in the son of Adam. Allah only shows mercy to those of His slaves who are compassionate.’”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا: جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے، اور جو دے دیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے، انہیں چاہیئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں لڑکی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ بلا بھیجا، اور قسم دلائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور تشریف لائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی تھے، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی، ( راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا: ) گویا وہ پرانی مشک ہے ( اور اس میں پانی ہل رہا ہے ) : یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ ‏{تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ}‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ إِنَّ رَبَّكَ لَيُسَارِعُ فِي هَوَاكَ ‏.‏
It 'was narrated from Hisham bin 'Urwah, from his father that 'Aishah used to say:"Wouldn't a woman feel too shy to offer herself to the Prophet?" Until Aileh revealed; "You (O Muhammad) can postpone (the turn of) whom you will of them (your wives), and you may receive whom you will.” She said: "Then I said: 'Your Lord is quick to make things easy for you
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کیا عورت اس بات سے نہیں شرماتی کہ وہ اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دے؟! تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» جس کو تو چاہے اپنی عورتوں میں سے اپنے سے جدا کر دے اور جس کو چاہے اپنے پاس رکھے ( سورة الأحزاب: 51 ) تب میں نے کہا: آپ کا رب آپ کی خواہش پر حکم نازل کرنے میں جلدی کرتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ إِنَّ أَبِي اجْتَاحَ مَالِي ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ إِنَّ أَوْلاَدَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:"A man came to the Messenger of Allah (ﷺ), and said: 'My father is taking all my wealth.' He said: 'You and your wealth belong to your father.' And the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your children are among the best of your earnings, so eat from your wealth.’”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میرے والد نے میری دولت ختم کر دی ( اس کے بارے میں فرمائیں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِرِعَاءِ الإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْىَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ النَّحْرِ فَيَرْمُونَهُ فِي أَحَدِهِمَا - قَالَ مَالِكٌ ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ فِي الأَوَّلِ مِنْهُمَا - ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ ‏.‏
It was narrated from Abu Baddah bin ‘Asim that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) granted permission to some camel herders regarding staying (in Mina),* and allowing them to stone the Pillars on the Day of Sacrifice, then to combine the stoning of two days after the sacrifice, so that they could do it on one of the two days.”** Malik said: “I think that he said: ‘On the first of the first of the two days, then they could stone them on the day of departure (from Mina).’”
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو رخصت دی کہ وہ یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو رمی کر لیں، پھر یوم النحر کے بعد کے دو دنوں کی رمی ایک ساتھ جمع کر لیں، خواہ گیارہویں، بارہویں دونوں کی رمی بارہویں کو کریں، یا گیارہویں کو بارہویں کی بھی رمی کر لیں ۱؎۔ مالک بن انس کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: پہلے دن رمی کریں پھر جس دن کوچ کرنے لگیں اس دن کر لیں۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever says: Subhan Allahi wa bi hamdihi (Glory and praise is to Allah) one hundred times, his sins will be forgiven even if they were like the foam of the sea
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سو بار «سبحان الله وبحمده» کہے تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ عَفَازَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَقِيَ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى فَتَذَاكَرُوا السَّاعَةَ فَبَدَءُوا بِإِبْرَاهِيمَ فَسَأَلُوهُ عَنْهَا فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ ثُمَّ سَأَلُوا مُوسَى فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ فَرُدَّ الْحَدِيثُ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَقَالَ قَدْ عُهِدَ إِلَىَّ فِيمَا دُونَ وَجْبَتِهَا فَأَمَّا وَجْبَتُهَا فَلاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ فَذَكَرَ خُرُوجَ الدَّجَّالِ قَالَ فَأَنْزِلُ فَأَقْتُلُهُ فَيَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلاَدِهِمْ فَيَسْتَقْبِلُهُمْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَلاَ يَمُرُّونَ بِمَاءٍ إِلاَّ شَرِبُوهُ وَلاَ بِشَىْءٍ إِلاَّ أَفْسَدُوهُ فَيَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ فَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمْ فَتَنْتُنُ الأَرْضُ مِنْ رِيحِهِمْ فَيَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ فَأَدْعُو اللَّهَ فَيُرْسِلُ السَّمَاءَ بِالْمَاءِ فَيَحْمِلُهُمْ فَيُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّ الأَرْضُ مَدَّ الأَدِيمِ فَعُهِدَ إِلَىَّ مَتَى كَانَ ذَلِكَ كَانَتِ السَّاعَةُ مِنَ النَّاسِ كَالْحَامِلِ الَّتِي لاَ يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَؤُهُمْ بِوِلاَدَتِهَا ‏.‏ قَالَ الْعَوَّامُ وَوُجِدَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ}‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said:"On the night on which the Messenger of Allah (ﷺ) was taken on the Night Journey (Isra'), he met Ibrahim, Musa and 'Eisa, and they discussed the Hour. They started with Ibrahim, and asked him about it, but he did not have any knowledge of it. Then they asked Musa, and he did not have any knowledge of it. Then they asked 'Eisa bin Maryam, and he said: 'I have been assigned to some tasks before it happens.' As for as when it will take place, no one knows that except Allah. Then he mentioned Dajjal and said: 'I will descend and kill him, then the people will return to their own lands and will be confronted with Gog and Magog people, who will: "swoop down from every mound."[21:96] They will not pass by any water but they will drink it, (and they will not pass) by anything but they will spoil it. They (the people) will beseech Allah, and I will pray to Allah to kill them. The earth will be filled with their stench and (the people) will beseech Allah and I will pray to Allah, then the sky will send down rain that will carry them and throw them in the sea. Then the mountains will turn to dust and the earth will be stretched out like a hide. I have been promised that when that happens, the Hour will come upon the people, like a pregnant woman whose family does not know when she will suddenly give birth.'" (One of the narrators) 'Awwam said: "Confirmation of that is found in the Book of Allah, where Allah says: "Until, when Gog and Magog people are let loose (from their barrier), and they swoop down from every mound (21:)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسراء ( معراج ) کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی، تو سب نے آپس میں قیامت کا ذکر کیا، پھر سب نے پہلے ابراہیم علیہ السلام سے قیامت کے متعلق پوچھا، لیکن انہیں قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، تو انہیں بھی قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: قیامت کے آ دھمکنے سے کچھ پہلے ( دنیا میں جانے کا ) مجھ سے وعدہ لیا گیا ہے، لیکن قیامت کے آنے کا صحیح علم صرف اللہ ہی کو ہے ( کہ وہ کب قائم ہو گی ) ، پھر عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے ظہور کا تذکرہ کیا، اور فرمایا: میں ( زمین پر ) اتر کر اسے قتل کروں گا، پھر لوگ اپنے اپنے شہروں ( ملکوں ) کو لوٹ جائیں گے، اتنے میں یاجوج و ماجوج ان کے سامنے آئیں گے، اور ہر بلندی سے وہ چڑھ دوڑیں گے، وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے، اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے، اسے تباہ و برباد کر دیں گے، پھر لوگ اللہ سے دعا کرنے کی درخواست کریں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا کہ انہیں مار ڈالے ( چنانچہ وہ سب مر جائیں گے ) ان کی لاشوں کی بو سے تمام زمین بدبودار ہو جائے گی، لوگ پھر مجھ سے دعا کے لیے کہیں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کروں گا، تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جو ان کی لاشیں اٹھا کر سمندر میں بہا لے جائے گی، اس کے بعد پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئیے جائیں گے، اور زمین چمڑے کی طرح کھینچ کر دراز کر دی جائے گی، پھر مجھے بتایا گیا ہے کہ جب یہ باتیں ظاہر ہوں تو قیامت لوگوں سے ایسی قریب ہو گی جس طرح حاملہ عورت کے حمل کا زمانہ پورا ہو گیا ہو، اور وہ اس انتظار میں ہو کہ کب ولادت کا وقت آئے گا، اور اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہ ہو۔ عوام ( عوام بن حوشب ) کہتے ہیں کہ اس واقعہ کی تصدیق اللہ کی کتاب میں موجود ہے: «حتى إذا فتحت يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون» یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، تو پھر وہ ہر ایک ٹیلے پر سے چڑھ دوڑیں گے ( سورة الأنبياء: 96 ) ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي، يَعْلَى عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ فَأَرَاهُ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ هَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى أَوْ ظَلَمَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib from his father, from his grandfather, that:A Bedouin came to the Prophet and asked him about ablution. He showed him how to perform it washing each part of the body three times. Then he said: 'This is the ablution, and whoever does more than this, has done evil, transgressed the limits and wronged himself
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، اور آپ سے وضو کے سلسلے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کر کے اسے دکھایا، پھر فرمایا: یہی ( مکمل ) وضو ہے، لہٰذا جس نے اس سے زیادہ کیا اس نے برا کیا، یا حد سے تجاوز کیا، یا ظلم کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ‏:‏ أَلاَ أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ ‏:‏ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ فَقَالَ ‏:‏ إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَىَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ أَحَدًا ‏.‏ قَالَ ‏:‏ فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ فَقَالَ لِلأَرْضِ ‏:‏ أَدِّي مَا أَخَذْتِ ‏.‏ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ فَقَالَ لَهُ ‏:‏ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ ‏:‏ خَشْيَتُكَ - أَوْ مَخَافَتُكَ - يَا رَبِّ ‏.‏ فَغَفَرَ لَهُ لِذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A man went to extremes in committing sins. When death came to him, he left instructions to his sons, saying: ‘When I die, burn me, then grind me into powder, then scatter me in the wind and in the sea, for by Allah, if my Lord has power over me, He will subject me to a punishment that He has never subjected anyone to.’ So they did that to him, then (Allah) said to the earth: ‘Return what you have taken,’ and there he was, standing. He said to him: ‘What made you do what you have done?’ He said: ‘Fear of You, O Lord.’ So He forgave him because of that (fear).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے اپنے اوپر بہت زیادتی کی تھی، ( یعنی گناہوں کا ارتکاب کیا تھا ) جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا ڈالنا، پھر مجھے پیس کر سمندر کی ہوا میں اڑا دینا، اللہ کی قسم! اگر میرا رب میرے اوپر قادر ہو گا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو کسی کو نہ دیا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے زمین سے کہا کہ جو تو نے لیا ہے اسے حاضر کر، اتنے میں وہ کھڑا ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: تجھے اس کام پر کس نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر اور خوف نے اے رب! تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اسی وجہ سے معاف کر دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي وَأَنَا بِحِذَائِهِ وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ ‏.‏
Maimunah, the wife of the Prophet (ﷺ), said:“The Prophet (ﷺ) used to perform prayer when I was opposite to him, and his garment would sometimes touch me when he prostrated.”
عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی، اور بسا اوقات جب آپ سجدہ فرماتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے چھو جاتا۔