حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ مثله عند إبن قدامة. غير أنه يقول في حق زيد (وَأَعْلَمُهُمْ بِالْفَرَائِضِ)
Another chain with similar wording (as no. 154) but he said that:Zaid was: "The most knowledgeable of them concerning the rules of inheritance
ابوقلابہ سے ابن قدامہ کے نزدیک اسی کے مثل مروی ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حق میں: «أفرضهم» کے بجائے«أعلمهم بالفرائض» ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى عُمَرُ امْرَأَةً فَصَاحَ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " دَعْهَا يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ " . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَزْرَقِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) was attending a funeral. ‘Umar saw a woman and shouted at her, but the Prophet (ﷺ) said, “Leave her alone, O ‘Umar, for the eye weeps and the heart is afflicted, and the bereavement is recent.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو ( روتے ) دیکھا تو اس پر چلائے، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے، جان مصیبت میں ہے، اور ( صدمہ کا ) زمانہ قریب ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ، فَاطِمَةُ أَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لاَ تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ . قَالَ الْمِسْوَرُ فَقَامَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي قَدْ أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَفْتِنُوهَا وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا " . قَالَ فَنَزَلَ عَلِيٌّ عَنِ الْخِطْبَةِ .
Ali bin Husain said that Miswar bin Makhramah told him that:'Ali bin Abu Talib proposed to the daughter of Abu Jahl, when he was married to Fatimah the daughter of the Prophet. When Fatimah heard of that she went to the Prophet, and said: "Your people are saying that you do not feel angry for your daughters. This 'Ali is going to marry the daughter of Abu Jahl." Miswar said: "The Prophet stood up, and I heard him when he bore witness (i.e., said the Shahadah), then he said: 'I married my daughter (Zainab) to Abul-As bin Rabi', and he spoke to me and was speaking the truth. Fatimah bint Muhammad is a part of me, and I hate to see her faced with troubles. By Allah, the daughter of the Messenger of Allah and the daughter of the enemy of Allah will never be joined together in marriage to one man." He said: So, 'Ali abandoned the marriage proposal
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغام دیا جب کہ ان کے عقد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر سنی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: آپ کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں آتا، اب علی رضی اللہ عنہ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ مسور کہتے ہیں: یہ خبر سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر پر ) کھڑے ہوئے، جس وقت آپ نے خطبہ پڑھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: امابعد، میں نے اپنی بیٹی زینب کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے کیا، انہوں نے جو بات کہی تھی اس کو سچ کر دکھایا ۱؎ میری بیٹی فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، اور مجھے ناپسند ہے کہ تم لوگ اسے فتنے میں ڈالو، قسم اللہ کی، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی دونوں ایک شخص کے نکاح میں کبھی اکٹھی نہ ہوں گی، یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ شادی کے پیغام سے باز آ گئے ۲؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالاً وَوَلَدًا وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي فَقَالَ " أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ " .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that a man said:"O Messenger of Allah, I have wealth and a son, and my father wants to take all my wealth." He said: "You and your wealth belong to your father
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال اور اولاد دونوں ہیں، اور میرے والد میرا مال ختم کرنا چاہتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے والد کے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا .
It was narrated from Abu Baddah bin ‘Asim, from his father, that the Prophet (ﷺ) granted permission for some shepherds to stone one day and to not stone (the next) day
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ ایک دن رمی کریں، اور ایک دن کی رمی چھوڑ دیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ، حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " أَرْبَعٌ أَفْضَلُ الْكَلاَمِ لاَ يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ " .
It was narrated from Samurah bin Jundab that :the Prophet (ﷺ) said: "(There are) four that are the best of words, and it does not matter with which you begin: Subhan-Allah, wal-Hamdu-Lillah, wa la ilaha illallah, wa Allahu Akbar (Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah and Allah is the Most Great)
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار کلمے تمام کلمات سے بہتر ہیں اور جس سے بھی تم شروع کرو تمہیں کوئی نقصان نہیں، وہ یہ ہیں «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» اللہ کی ذات پاک ہے، ہر سم کی حمد و ثناء اللہ ہی کو سزاوار ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور اللہ بہت بڑا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ يَحْفِرُونَ كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمُ ارْجِعُوا فَسَنَحْفِرُهُ غَدًا . فَيُعِيدُهُ اللَّهُ أَشَدَّ مَا كَانَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ وَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ حَفَرُوا حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمُ ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى وَاسْتَثْنَوْا فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ فَيَنْشِفُونَ الْمَاءَ وَيَتَحَصَّنُ النَّاسُ مِنْهُمْ فِي حُصُونِهِمْ فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ عَلَيْهَا الدَّمُ الَّذِي اجْفَظَّ فَيَقُولُونَ قَهَرْنَا أَهْلَ الأَرْضِ وَعَلَوْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ فَيَبْعَثُ اللَّهُ نَغَفًا فِي أَقْفَائِهِمْ فَيَقْتُلُهُمْ بِهَا " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ دَوَابَّ الأَرْضِ لَتَسْمَنُ وَتَشْكَرُ شَكَرًا مِنْ لُحُومِهِمْ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Gog and Magog people dig every day until, when they can almost see the rays of the sun, the one in charge of them says: "Go back and we will dig it tomorrow." Then Allah puts it back, stronger than it was before. (This will continue) until, when their time has come, and Allah wants to send them against the people, they will dig until they can almost see the rays of the sun, then the one who is in charge of them will say: "Go back, and we will dig it tomorrow if Allah wills.' So they will say: "If Allah wills." Then they will come back to it and it will be as they left it. So they will dig and will come out to the people, and they will drink all the water. The people will fortify themselves against them in their fortresses. They will shoot their arrows towards the sky and they will come back with blood on them, and they will say: "We have defeated the people of earth and dominated the people of heaven." Then Allah will send a worm in the napes of their necks and will kill them thereby.'" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "By the One in Whose Hand is my soul, the beasts of the earth will grow fat on their flesh
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاجوج و ماجوج ہر روز ( اپنی دیوار ) کھودتے ہیں یہاں تک کہ جب قریب ہوتا ہے کہ سورج کی روشنی ان کو دکھائی دے تو جو شخص ان کا سردار ہوتا ہے وہ کہتا ہے: اب لوٹ چلو ( باقی ) کل کھودیں گے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ویسی ہی مضبوط کر دیتا ہے جیسی وہ پہلے تھی، یہاں تک کہ جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی، اور اللہ تعالیٰ کو ان کا خروج منظور ہو گا، تو وہ ( عادت کے مطابق ) دیوار کھودیں گے جب کھودتے کھودتے قریب ہو گا کہ سورج کی روشنی دیکھیں تو اس وقت ان کا سردار کہے گا کہ اب لوٹ چلو، ان شاءاللہ کل کھودیں گے، اور ان شاءاللہ کا لفظ کہیں گے، چنانچہ ( اس دن ) وہ لوٹ جائیں گے، اور دیوار اسی حال پر رہے گی، جیسے وہ چھوڑ گئے تھے، پھر وہ صبح آ کر اسے کھودیں گے اور اسے کھود کر باہر نکلیں گے، اور سارا پانی پی کر ختم کر دیں گے، اور لوگ ( اس وقت ) بھاگ کر اپنے قلعوں میں محصور ہو جائیں گے، یہ لوگ ( زمین پر پھیل کر ) آسمان کی جانب اپنے تیر ماریں گے، تو ان کے تیر خون میں لت پت ان کے پاس لوٹیں گے، وہ کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو تو مغلوب کیا، اور آسمان والوں پر بھی غالب ہوئے، پھر اللہ تعالیٰ ان کی گدیوں ( گردنوں ) میں کیڑے پیدا فرمائے گا جو انہیں مار ڈالیں گے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین کے جانور ان کا گوشت اور چربی کھا کر خوب موٹے ہوں گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَىِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ وَلَهَانُ فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ " .
It was narrated that Ubayy bin Ka'b said:"The Messenger of Allah said: 'There is a devil for ablution who is called Walahan, so be on guard against the insinuating thoughts (Waswas) about water
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو میں وسوسہ ڈالنے کے کام کے لیے ایک شیطان ہے جس کو ولہان کہا جاتا ہے، لہٰذا تم پانی کے وسوسوں سے بچو ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، : أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَجَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي هَذِهِ فَقَالَ : " هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي " .
It was narrated from Ibn Mas’ud that a man came to the Prophet (ﷺ) and said that he had kissed a woman, and he started to ask about expiation, but he (the Prophet (ﷺ)) did not say anything to him. Then Allah revealed the Verse:“And perform prayers at the two ends of the day and in some hours of the night. Verily, the good deeds remove the evil deeds. That is a reminder for the mindful.” [11:114] The man said: “O Messenger of Allah, is this (the Verse) just for me?” He said: “It is for whoever acts upon it among my nation.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بتایا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے، وہ اس کا کفارہ پوچھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں کہا تو اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں ( صبح و شام ) میں اور رات کے ایک حصے میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ذکر کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے ( سورۃ ہود: ۱۱۴ ) ، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ( خاص ) میرے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے ۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، قَالَتْ كَانَ فِرَاشُهَا بِحِيَالِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was narrated from Zainab bint Umm Salamah that her mother said that her bed was in front of the place where the Messenger of Allah (ﷺ) prostrated
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا بستر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہ کے بالمقابل ہوتا تھا۔