بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
10 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that:The Messenger of Allah said: The most merciful of my Ummah towards my Ummah is Abu Bakr; the one who adheres most sternly to the religion of Allah is 'Umar; the most sincere of them in shyness and modesty is 'Uthman; the best judge is 'Ali bin Abu Talib; the best in reciting the Book of Allah is Ubayy bin Ka'b; the most knowledgeable of what is lawful and unlawful is Mu'adh bin Jabal; and the most knowledgeable of the rules of inheritance (Fara'id) is Zaid bin Thabit. And every nation has a trustworthy guardian, and the trustworthy guardian of this Ummah is Abu 'Ubaidah bin Jarrah
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں، اللہ کے دین میں سب سے زیادہ سخت اور مضبوط عمر ہیں، حیاء میں سب سے زیادہ حیاء والے عثمان ہیں، سب سے بہتر قاضی علی بن ابی طالب ہیں، سب سے بہتر قاری ابی بن کعب ہیں، سب سے زیادہ حلال و حرام کے جاننے والے معاذ بن جبل ہیں، اور سب سے زیادہ فرائض ( میراث تقسیم ) کے جاننے والے زید بن ثابت ہیں، سنو! ہر امت کا ایک امین ہوا کرتا ہے، اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ، يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي، بُرْدَةَ قَالاَ: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ فَأَفَاقَ فَقَالَ لَهَا: أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ: ‏ "‏ أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ ‏"‏ ‏.‏
‘Abdur-Rahman bin Yazid and Abu Burdah said:“When Abu Musa fell sick, his wife Umm ‘Abdullah started to wail loudly. He woke up and said to her: ‘Do you not know that I am innocent of those whom the Messenger of Allah (ﷺ) declared innocence of?’ And he told her that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I am innocent of those who shave their heads, raise their voices and tear their garments (at times of calamity).’”
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا: کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلاَ آذَنُ لَهُمْ ثُمَّ لاَ آذَنُ لَهُمْ ثُمَّ لاَ آذَنُ لَهُمْ إِلاَّ أَنْ يُرِيدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Mishwar bin Makhramah said:"I heard the Messenger of Allah when he was on the pulpit, say: 'Banu Hisham bin Mughirah asked me for permission to marry their daughter to 'Ali bin Abu Talib, but I will not give them permission, and I will not give them permission, and I will not give them permission, unless 'Ali bin Abu Talib wants to divorce my daughter and marry their daughter, for she is a part of me, and what bothers her bothers me, and what upsets her upsets me
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ فرماتے سنا کہ ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کر دیں تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، سوائے اس کے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہیں، اس لیے کہ وہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، جو بات اس کو بری لگتی ہے وہ مجھ کو بھی بری لگتی ہے، اور جس بات سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَوْلاَدَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The best of your provision is what you earn, and your children are part of what you earn
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے کھانوں میں سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو تمہارے ہاتھ کی کمائی کا ہو، اور تمہاری اولاد بھی تمہاری ایک قسم کی کمائی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ لاَ ضَرْبَ وَلاَ طَرْدَ وَلاَ إِلَيْكَ إِلَيْكَ ‏.‏
It was narrated that Qudamah bin ‘Abdullah Al-‘Amiri said:“I saw the Prophet (ﷺ) stone the Pillar, on the Day of Sacrifice, from atop a reddish-brown camel of his, without beating anyone, driving them off or telling them to go away.”
قدامہ بن عبداللہ عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یوم النحر کو جمرہ کو اپنی سرخ اور سفید اونٹنی پر سوار ہو کر کنکریاں ماریں، اس وقت آپ نہ کسی کو مارتے، اور نہ ہٹاتے تھے، اور نہ یہی کہتے تھے کہ ہٹو! ہٹو!۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى، زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ أَتَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ فَإِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ وَبَدَّنْتُ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ كَبِّرِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ وَسَبِّحِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ فَرَسٍ مُلْجَمٍ مُسْرَجٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَخَيْرٌ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ وَخَيْرٌ مِنْ مِائَةِ رَقَبَةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Umm Hani' said:"I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, tell me of a (good) deed, for I have become old and weak and overweight.' He said: 'Proclaim the greatness of Allah (say Allahu Akbar) one hundred times, praise Allah (say Al-Hamdu Lillah) one hundred times, and glorify Allah (say Subhan-Allah) one hundred times. (That is) better than one hundred horses bridled and saddled for the sake of Allah, better than one hundred sacrificial camels, and better than (freeing) one hundred slaves
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی عمل بتلائیے، میں بوڑھی اور ضعیف ہو گئی ہوں، میرا بدن بھاری ہو گیا ہے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو بار «اللہ اکبر»، سو بار «الحمدللہ»، سو بار «سبحان اللہ»کہو، یہ ان سو گھوڑوں سے بہتر ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں مع زین و لگام کے کس دیئے جائیں، اور سو جانور قربان کرنے، اور سو غلام آزاد کرنے سے بہتر ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ تُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ فَيَخْرُجُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ}‏ فَيَعُمُّونَ الأَرْضَ وَيَنْحَازُ مِنْهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى تَصِيرَ بَقِيَّةُ الْمُسْلِمِينَ فِي مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ حَتَّى أَنَّهُمْ لَيَمُرُّونَ بِالنَّهَرِ فَيَشْرَبُونَهُ حَتَّى مَا يَذَرُونَ فِيهِ شَيْئًا فَيَمُرُّ آخِرُهُمْ عَلَى أَثَرِهِمْ فَيَقُولُ قَائِلُهُمْ لَقَدْ كَانَ بِهَذَا الْمَكَانِ مَرَّةً مَاءٌ وَيَظْهَرُونَ عَلَى الأَرْضِ فَيَقُولُ قَائِلُهُمْ هَؤُلاَءِ أَهْلُ الأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ وَلَنُنَازِلَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَهُزُّ حَرْبَتَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ مُخَضَّبَةً بِالدَّمِ فَيَقُولُونَ قَدْ قَتَلْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ ‏.‏ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ دَوَابَّ كَنَغَفِ الْجَرَادِ فَتَأْخُذُ بِأَعْنَاقِهِمْ فَيَمُوتُونَ مَوْتَ الْجَرَادِ يَرْكَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَيُصْبِحُ الْمُسْلِمُونَ لاَ يَسْمَعُونَ لَهُمْ حِسًّا فَيَقُولُونَ مَنْ رَجُلٌ يَشْرِي نَفْسَهُ وَيَنْظُرُ مَا فَعَلُوا فَيَنْزِلُ مِنْهُمْ رَجُلٌ قَدْ وَطَّنَ نَفْسَهُ عَلَى أَنْ يَقْتُلُوهُ فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى فَيُنَادِيهِمْ أَلاَ أَبْشِرُوا فَقَدْ هَلَكَ عَدُوُّكُمْ ‏.‏ فَيَخْرُجُ النَّاسُ وَيُخْلُونَ سَبِيلَ مَوَاشِيهِمْ فَمَا يَكُونُ لَهُمْ رَعْىٌ إِلاَّ لُحُومُهُمْ فَتَشْكَرُ عَلَيْهَا كَأَحْسَنِ مَا شَكِرَتْ مِنْ نَبَاتٍ أَصَابَتْهُ قَطُّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Gog and Magog people will be set free and they will emerge as Allah says: "swoop(ing) down from every mound."[21:96] They will spread throughout the earth, and the Muslims will flee from them until the remainder of the Muslims are in their cities and fortresses, taking their flocks with them. They will pass by a river and drink from it, until they leave nothing behind, and the last of them will follow in their footsteps and one of them will say: 'There was once water in this place.' They will prevail over the earth, then their leader will say: 'These are the people of the earth, and we have finished them off. Now let us fight the people of heaven!' Then one of them will throw his spear towards the sky, and it will come back down smeared with blood. And they will say: 'We have killed the people of heaven.' While they are like that, Allah will send a worm like the worm that is found in the noses of sheep, which will penetrate their necks and they will die like locusts, one on top of another. In the morning the Muslims will not hear any sound from them, and they will say: 'Who will sell his soul for the sake of Allah and see what they are doing?' A man will go down, having prepared himself to be killed by them, and he will find them dead, so he will call out to them: 'Be of good cheer, for your enemy is dead!' Then the people will come out and let their flocks loose, but they will not have anything to graze on except their flesh, and they will become very fat as if they were grazing on the best vegetation they ever found
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، پھر وہ باہر آئیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:«وهم من كل حدب ينسلون» یہ لوگ ہر اونچی زمین سے دوڑتے آئیں گے ( سورة الأنبياء: 96 ) پھر ساری زمین میں پھیل جائیں گے، اور مسلمان ان سے علاحدہ رہیں گے، یہاں تک کہ جو مسلمان باقی رہیں گے وہ اپنے شہروں اور قلعوں میں اپنے مویشیوں کو لے کر پناہ گزیں ہو جائیں گے، یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج نہر سے گزریں گے، اس کا سارا پانی پی کر ختم کر دیں گے، اس میں کچھ بھی نہ چھوڑیں گے، جب ان کے پیچھے آنے والوں کا وہاں پر گزر ہو گا تو ان میں کا کوئی یہ کہے گا کہ کسی زمانہ میں یہاں پانی تھا، اور وہ زمین پر غالب آ جائیں گے، تو ان میں سے کوئی یہ کہے گا: ان اہل زمین سے تو ہم فارغ ہو گئے، اب ہم آسمان والوں سے لڑیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک اپنا نیزہ آسمان کی طرف پھینکے گا، وہ خون میں رنگا ہوا لوٹ کر گرے گا، پس وہ کہیں گے: ہم نے آسمان والوں کو بھی قتل کر دیا، خیر یہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ چند جانور بھیجے گا، جو ٹڈی کے کیڑوں کی طرح ہوں گے، جو ان کی گردنوں میں گھس جائیں گے، یہ سب کے سب ٹڈیوں کی طرح مر جائیں گے، ان میں سے ایک پر ایک پڑا ہو گا، اور جب مسلمان اس دن صبح کو اٹھیں گے، اور ان کی آہٹ نہیں سنیں گے تو کہیں گے: کوئی ایسا ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کے انہیں دیکھ کر آئے کہ یاجوج ماجوج کیا ہوئے؟ چنانچہ مسلمانوں میں سے ایک شخص ( قلعہ سے ) ان کا حال جاننے کے لیے نیچے اترے گا، اور دل میں خیال کرے گا کہ وہ مجھ کو ضرور مار ڈالیں گے، خیر وہ انہیں مردہ پائے گا، تو مسلمانوں کو پکار کر کہے گا: سنو! خوش ہو جاؤ! تمہارا دشمن ہلاک ہو گیا، یہ سن کر لوگ نکلیں گے اور اپنے جانور چرنے کے لیے آزاد چھوڑیں گے، اور ان کے گوشت کے سوا کوئی چیز انہیں کھانے کے لیے نہ ملے گی، اس وجہ سے ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہوں گے، جس طرح کبھی گھاس کھا کر موٹے ہوئے تھے ۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَعْنَبٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحَوَارِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً فَقَالَ ‏"‏ هَذَا وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ وُضُوءٌ مَنْ لَمْ يَتَوَضَّأْهُ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلاَةً ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَذَا وُضُوءٌ مَنْ تَوَضَّأَهُ أَعْطَاهُ اللَّهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الأَجْرِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا فَقَالَ ‏"‏ هَذَا وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْمُرْسَلِينَ مِنْ قَبْلِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ubayy bin Ka'b that:The Messenger of Allah called for water and performed ablution once. He said: "This is the minimum requirement of ablution' or he said: 'The ablution of one who, if he does not perform this ablution, Allah will not accept his prayer." Then he performed ablution washing each part twice, and he said: 'This is the ablution of one who, if he performs it, Allah will give him two shares of reward." Then he performed ablution washing each part three times, and said: 'This is my ablution and the ablution of the Messengers who were sent before me
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا، اور ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا، اور فرمایا: یہ وضو کے صحیح ہونے کی لازمی مقدار ہے ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: یہ اس کا وضو ہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی کی کوئی بھی نماز قبول نہیں فرماتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا، اور فرمایا: یہ وضو اس درجہ کا ہے کہ جو ایسا وضو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوہرا اجر دے گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور فرمایا: یہ میرا وضو ہے، اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کا وضو ہے ۔
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Prophet (ﷺ) said:“Allah accepts the repentance of His slave so long as the death rattle has not yet reached his throat.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ ( عزوجل ) اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے جب تک اس کی جان حلق میں نہ آ جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah:“The Prophet (ﷺ) used to pray at night, and I was laying between him and the prayer direction, as a (body for a) funeral horizontally.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح آڑے لیٹی ہوتی تھی