حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، قَالَ جَاءَ خَبَّابٌ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ ادْنُ فَمَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْمَجْلِسِ مِنْكَ إِلاَّ عَمَّارٌ . فَجَعَلَ خَبَّابٌ يُرِيهِ آثَارًا بِظَهْرِهِ مِمَّا عَذَّبَهُ الْمُشْرِكُونَ .
It was narrated that Abu Laila Al-Kindi said:"Khabbab came to `Umar and said: 'Come close, for no one deserves this meeting more than you, except `Ammar.' Then Khabbab started to show him the marks on his back where the idolaters had tortured him
ابولیلیٰ کندی کہتے ہیں کہ خباب رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے قریب بیٹھو، تم سے بڑھ کر میرے قریب بیٹھنے کا کوئی مستحق نہیں سوائے عمار رضی اللہ عنہ کے، پھر خباب رضی اللہ عنہ اپنی پیٹھ پر مشرکین کی مار پیٹ کے نشانات ان کو دکھانے لگے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَعَنَ الْخَامِشَةَ وَجْهَهَا وَالشَّاقَّةَ جَيْبَهَا وَالدَّاعِيَةَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ .
It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah (ﷺ) cursed the woman who scratches her face and rends her garment and cries that she is doomed (i.e. because of the death of this person)
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا ( نوحہ میں ) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ قَطُّ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ مِمَّا رَأَيْتُ مِنْ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَهَا وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ . يَعْنِي مِنْ ذَهَبٍ قَالَهُ ابْنُ مَاجَهْ .
It was narrated that 'Aishah said:"I never felt as jealous of any woman as I did of Khadijah, because I saw how the Messenger of Allah remembered her, and his Lord had told him to give her the glad tidings of a house in Paradise made of Qasab
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے جتنی غیرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کی اتنی کسی عورت پر نہیں کی کیونکہ میں دیکھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپ کو حکم دیا کہ انہیں جنت میں موتیوں کے ایک مکان کی بشارت دے دیں، یعنی سونے کے مکان کی، یہ تشریح ابن ماجہ نے کی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " ثَلاَثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ الْبَيْعُ إِلَى أَجَلٍ وَالْمُقَارَضَةُ وَإِخْلاَطُ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ لاَ لِلْبَيْعِ " .
lt was narrated from Salih bin Suhaib that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are three things in which there is blessing: A sale with deferred payment; Muqaradhah (profit sharing); and mixing wheat with barley for one's house, but not for sale
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں برکت ہے: پہلی یہ کہ مقررہ مدت کے وعدے پر بیع کرنے میں، دوسری: مضاربت میں، تیسری: گیہوں اور جو ملانے میں جو کہ گھر کے کھانے کے لیے ہو، نہ کہ بیچنے کے لیے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَمَى الْجَمْرَةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) stoned the Pillar from atop his mount
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الطَّحَّانِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ أَخِيهِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ مِمَّا تَذْكُرُونَ مِنْ جَلاَلِ اللَّهِ التَّسْبِيحَ وَالتَّهْلِيلَ وَالتَّحْمِيدَ يَنْعَطِفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ تُذَكِّرُ بِصَاحِبِهَا أَمَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ لَهُ - أَوْ لاَ يَزَالَ لَهُ - مَنْ يُذَكِّرُ بِهِ " .
It was narrated from Nu'man bin Bashir that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What you mention of glory of Allah, of Tabsih (Subhan-Allah), Tahlil (Allahu-Akbar) and Tahmid (Al-Hamdu lillah), revolves around the Throne, buzzing like bees, reminding of the one who said it. Wouldn't any one of you like to have, or continue to have, something that reminds of him (in the presence of Allah)?
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا جلال جو تم ذکر کرتے ہو وہ تسبیح ( «سبحان الله» ) ، تہلیل، «لا إله إلا الله»، اور تحمید، «الحمد لله» ہے، یہ کلمے عرش کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں، ان میں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آواز ہوتی ہے، اپنے کہنے والے کا ذکر کرتے ہیں ( اللہ کے سامنے ) کیا تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے لیے ایک ایسا شخص ہو جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا برابر ذکر کرتا رہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا وَإِمَامًا عَدْلاً فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"The Hour will not begin until 'Eisa bin Maryam comes down as a just judge and a just ruler. He will break the cross, kill the pigs and abolish the Jizyah, and wealth will become so abundant that no one will accept it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک عیسیٰ بن مریم عادل حاکم اور منصف امام بن کر نازل نہ ہوں، وہ آ کر صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، اور جزیہ کو معاف کر دیں گے، اور مال اس قدر زیادہ ہو گا کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہو گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَاحِدَةً وَاحِدَةً فَقَالَ " هَذَا وُضُوءُ مَنْ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَلاَةً إِلاَّ بِهِ " . ثُمَّ تَوَضَّأَ ثِنْتَيْنِ ثِنْتَيْنِ فَقَالَ " هَذَا وُضُوءُ الْقَدْرِ مِنَ الْوُضُوءِ " . وَتَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا وَقَالَ " هَذَا أَسْبَغُ الْوُضُوءِ وَهُوَ وُضُوئِي وَوُضُوءُ خَلِيلِ اللَّهِ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا ثُمَّ قَالَ عِنْدَ فَرَاغِهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فُتِحَ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ " .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah performed ablution washing each part once. He said: 'This is the ablution of the person from whom Allah will not accept his prayer without it.' Then he performed ablution washing each part twice, and he said: 'This is the ablution that Allah appreciates.' Then he performed ablution washing each part three times, and said: 'This is how ablution is performed properly, and this is my ablution and the ablution of the Close Friend of Allah, Ibrahim. Whoever performs ablution like this, then on completing it says: 'Ashhadu an la ilaha illallah, wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu' (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, and I bear witness that Muhammed is His servant and His Messenger), eight gates of Paradise will be opened to him and he may enter through whichever one he wants
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا، اور فرمایا: یہ اس شخص کا وضو ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بغیر نماز قبول نہیں فرماتا ، پھر دو دو بار دھویا، اور فرمایا: یہ ایک مناسب درجے کا وضو ہے ، اور پھر تین تین بار دھویا، اور فرمایا: یہ سب سے کامل وضو ہے اور یہی میرا اور اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کا وضو ہے، جس شخص نے اس طرح وضو کیا ، پھر وضو سے فراغت کے بعد کہا: «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس سے چاہے داخل ہو ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ " . فَقَالَ لَهُ أَبِي : أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ " . قَالَ : نَعَمْ .
It was narrated that Ibn Ma’qil said:“I entered with my father upon ‘Abdullah, and I heard him say: ‘The messenger of Allah (ﷺ) said: “Regret is repentance.” My father said: ‘Did you hear the Prophet (ﷺ) say: “Regret is repentance?” He said: ‘Yes.’”
عبداللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ندامت ( شرمندگی ) توبہ ہے ، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت توبہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، وَالْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ " . وَقَالَ الْمُنْكَدِرِيُّ فَإِنَّ مَعَهُ الْعُزَّى .
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When anyone of you is performing prayer, he should not let anyone pass in front of him. If he insists then let him fight him, for he has a Qarin (devil-companion) with him.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے کسی کو گزرنے نہ دے، اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ساتھی ( شیطان ) ہے ۔ حسن بن داود منکدری نے کہا کہ اس کے ساتھ عزّی ہے۔