حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ وَلَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَىَّ ثَالِثَةٌ وَمَا لِيَ وَلِبِلاَلٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلاَّ مَا وَارَى إِبِطُ بِلاَلٍ " .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah said: 'I have been tortured for the sake of Allah as no one else has, and I have suffered fear for the sake of Allah as no one else has. I have spent three days when Bilal and I had no food that any living being could eat but that which could be concealed in the armpit of Bilal
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں دی گئیں کہ اتنی کسی کو نہ دی گئیں ہوں گی، اور میں اللہ کی راہ میں اس قدر ڈرایا گیا کہ اتنا کوئی نہیں ڈرایا گیا ہو گا، اور مجھ پہ مسلسل تین ایام ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے لیے کوئی چیز کھانے کی نہ تھی جسے کوئی ذی روح کھاتا سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں چھپا ہوا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَانَّةٌ .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade following a funeral that was accompanied by a wailing woman.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی عورت ہو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الشُّؤْمُ فِي ثَلاَثَةٍ فِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَحَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ جَدَّتَهُ، زَيْنَبَ حَدَّثَتْهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَعُدُّ هَؤُلاَءِ الثَّلاَثَةَ وَتَزِيدُ مَعَهُنَّ السَّيْفَ .
It was narrated from Salim, from his father, that:the Messenger of Allah said: "Omens are only to be found in three things: a horse, a woman and a house." (Sahih)(One of the narrators) Az-Zuhri said: " Abu 'Ubaidah bin 'Abdullah bin Zam'ah said that his mother, Zainab, narrated to him, from Umm Salamah, that she used to list these three, and add to them "the sword
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہے: گھوڑے، عورت اور گھر میں ۱؎۔ زہری کہتے ہیں: مجھ سے ابوعبیدہ نے بیان کیا کہ ان کی دادی زینب نے ان سے بیان کیا، اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ان تین چیزوں کو گن کر بتاتی تھیں اور ان کے ساتھ تلوار کا اضافہ کرتی تھیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ، عَنِ السَّائِبِ، قَالَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كُنْتَ شَرِيكِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكٍ كُنْتَ لاَ تُدَارِينِي وَكُنْتَ لاَ تُمَارِينِي .
It was narrated that Sa'ib said to the Prophet (ﷺ):"You were my partner during the Ignorance period and you were the best of partners, you did not contend or dispute
سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمانہ جاہلیت میں آپ میرے شریک تھے، تو آپ بہت بہترین شریک ثابت ہوئے نہ آپ میری مخالفت کرتے تھے نہ جھگڑتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَلَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ .
It was narrated that Ibn ‘Umar stoned ‘Aqabah Pillar, but he did not stay there, and he mentioned that the Prophet (ﷺ) had done likewise
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، اور اس کے پاس رکے نہیں، اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا فَقَالَ " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا الَّذِي تَغْرِسُ " . قُلْتُ غِرَاسًا لِي . قَالَ " أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى غِرَاسٍ خَيْرٍ لَكَ مِنْ هَذَا " . قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يُغْرَسْ لَكَ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (ﷺ) passed by him when he was planting a plant, and said: "O Abu Hurairah, what are you planting?" I said: "A plant for me." He said: "Shall I not tell you of a plant that is better than this?" He said: "Of course, O Messenger of Allah." He said: "Say: 'Subhan-Allah, wal-hamdu-lillah, wa la ilaha illallah, wa Allahu Akbar (Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah and Allah is the Most Great.)' For each one a tree will be planted for you in Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک دن درخت لگا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ابوہریرہ! تم کیا لگا رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں درخت لگا رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر درخت نہ بتاؤں ؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ ضرور بتلائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہا کرو، تو ہر ایک کلمہ کے بدلے تمہارے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جائے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " سَيُوقِدُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ قِسِيِّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَنُشَّابِهِمْ وَأَتْرِسَتِهِمْ سَبْعَ سِنِينَ " .
It was narrated from Nawwas bin Sam'an that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The Muslims will use the bows, arrows and shields of Gog and Magog as firewood, for seven years
نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان یاجوج و ماجوج کے تیر، کمان، اور ڈھال کو سات سال تک جلائیں گے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَتَوَضَّأُ ثَلاَثًا ثَلاَثًا .
It was narrated that Abu Malik Ash'ari said:"The Messenger of Allah used to perform ablution washing each part three times
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعضاء وضو کو تین تین بار دھوتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ : " التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لاَ ذَنْبَ لَهُ " .
It was narrated from Abu ‘Ubadah bin ‘Abdullah, that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The one who repents from sin is like one who did not sin.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى أَبُو الْمُعَلَّى، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ فَذَكَرُوا الْكَلْبَ وَالْحِمَارَ وَالْمَرْأَةَ فَقَالَ مَا تَقُولُونَ فِي الْجَدْىِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُصَلِّي يَوْمًا فَذَهَبَ جَدْىٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَبَادَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْقِبْلَةَ .
It was narrated that Hasan Al-‘Urani said:‘Mention was made in the presence of Ibn ‘Abbas about what severs the prayer. They mentioned a dog, a donkey and a woman. He said: ‘What do you say about kids (young goats)? The Messenger of Allah (ﷺ) was performing prayer one day, when a kid came and wanted to pass in front of him. The Messenger of Allah (ﷺ) preceded it toward the Qiblah. (to tighten the space and prevent it from passing in front of him).’”
حسن عرنی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کتے، گدھے اور عورت کا ذکر کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تم لوگ بکری کے بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، تو بکری کا ایک بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے ۱؎۔