حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الإِيَادِيِّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ قَالَ " عَلِيٌّ مِنْهُمْ " . يَقُولُ ذَلِكَ ثَلاَثًا " وَأَبُو ذَرٍّ وَسَلْمَانُ وَالْمِقْدَادُ " .
Ibn Buraidah narrated that his father said:"The Messenger of Allah said: 'Allah has commanded me to love four people, and He told me that He also loves them.' He was asked: 'O Messenger of Allah, who are they?' He said: ''Ali is one of them,' and he said that three times, 'and Abu Dharr, Salman and Miqdad
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھے چار افراد سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت رکھتا ہے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی انہیں لوگوں میں سے ہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا ) ، اور ابوذر، سلمان اور مقداد ہیں ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " النِّيَاحَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَإِنَّ النَّائِحَةَ إِذَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتُبْ قَطَعَ اللَّهُ لَهَا ثِيَابًا مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعًا مِنْ لَهَبِ النَّارِ " .
It was narrated from Abu Malik Ash’ari that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Wailing is one of the affairs of the Days of Ignorance, and if the woman who wails dies without having repented, Allah will cut a garment of pitch (tar) for her and a shirt of flaming fire.’”
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نوحہ ( ماتم ) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ ( ماتم ) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول ( ڈامر ) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ، مِخْمَرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لاَ شُؤْمَ وَقَدْ يَكُونُ الْيُمْنُ فِي ثَلاَثَةٍ فِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ " .
It was narrated from Hakim bin Mu'awiyah that his paternal uncle Mikhmar bin Mu'awiyah said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Do not believe in omens, and good fortune is only to be found in three things: A woman, a horse and a house
مخمر بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نحوست کوئی چیز نہیں، تین چیزوں میں برکت ہوتی ہے: عورت، گھوڑا اور گھر میں ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا وَقَالَ " إِذَا جَاءَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ قَضَيْنَاكَ " . فَلَمَّا قَدِمَتْ قَالَ " يَا أَبَا رَافِعٍ اقْضِ هَذَا الرَّجُلَ بَكْرَهُ " . فَلَمْ أَجِدْ إِلاَّ رَبَاعِيًا فَصَاعِدًا فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " أَعْطِهِ فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " .
It was narrated from Abu Rafi' that:the Prophet (ﷺ) asked a man to give as a loan a young camel and said: “When the camels of the Sadaqah come, we will pay you back.” When the camels came, he said: " O Abu Rafi', pay this man back for his Young camel." But all I could find was a seven-year-old camel or that which is better. I told the Prophet (ﷺ) and he said: "Give it to him, for the best of People are those who are best in repaying
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے ایک جوان اونٹ کی بیع سلم کی یعنی اسے قرض کے طور پر لیا، اور فرمایا: جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو ہم تمہارا اونٹ کا قرض ادا کر دیں گے ، چنانچہ جب صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابورافع! اس کے اونٹ کا قرض ادا کر دو ، ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ڈھونڈا تو مجھے ویسا اونٹ نہیں ملا، سوائے ایک ایسے اونٹ کے جس نے اپنے سامنے کے چاروں دانت گرا رکھے تھے، جو اس کے اونٹ سے بہتر تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو دے دو کیونکہ لوگوں میں بہتر وہ ہے جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ وَاسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ وَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ مِنْ هَاهُنَا وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ .
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Yazid said:“When ‘Abdullah bin Mas’ud stoned ‘Aqabah Pillar, he went to the bottom of the valley and turned to face the Ka’bah, with the Pillar on his right hand side. Then he threw seven pebbles, saying the Takbir with each one. Then he said: ‘From here, by the One besides Whom there is none worthy of worship, did the one throw, to whom Surat Al-Baqarah was revealed.’”
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے نچلے حصے میں گئے، کعبہ کی طرف رخ کیا، اور جمرہ عقبہ کو اپنے دائیں ابرو پر کیا، پھر سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے جاتے تھے پھر کہا: قسم اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، یہیں سے اس ذات نے کنکری ماری ہے جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ . إِلاَّ كَانَ الَّذِي أَعْطَاهُ أَفْضَلَ مِمَّا أَخَذَ " .
It was narrated from Anas that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah does not bestow a blessing upon any slave and he says: 'Al-hamdu Lillah (praise is to Allah),' except that what he gives (the praise) is better than what he received (the blessing)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے، اور وہ «الحمدللہ» کہتا ہے تو اس نے جو دیا وہ اس چیز سے افضل ہے جو اس نے لیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَاتَ يَوْمٍ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَكَانَ لاَ يَصْعَدُ عَلَيْهِ قَبْلَ ذَلِكَ إِلاَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ فَمِنْ بَيْنِ قَائِمٍ وَجَالِسٍ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنِ اقْعُدُوا " فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا قُمْتُ مَقَامِي هَذَا لأَمْرٍ يَنْفَعُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلاَ لِرَهْبَةٍ وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي خَبَرًا مَنَعَنِي الْقَيْلُولَةَ مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّةِ الْعَيْنِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَنْشُرَ عَلَيْكُمْ فَرَحَ نَبِيِّكُمْ أَلاَ إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لَتَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَخْبَرَنِي أَنَّ الرِّيحَ أَلْجَأَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ لاَ يَعْرِفُونَهَا فَقَعَدُوا فِي قَوَارِبِ السَّفِينَةِ فَخَرَجُوا فِيهَا فَإِذَا هُمْ بِشَىْءٍ أَهْدَبَ أَسْوَدَ قَالُوا لَهُ مَا أَنْتَ قَالَ أَنَا الْجَسَّاسَةُ . قَالُوا أَخْبِرِينَا . قَالَتْ مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ شَيْئًا وَلاَ سَائِلَتِكُمْ وَلَكِنْ هَذَا الدَّيْرُ قَدْ رَمَقْتُمُوهُ فَأْتُوهُ فَإِنَّ فِيهِ رَجُلاً بِالأَشْوَاقِ إِلَى أَنْ تُخْبِرُوهُ وَيُخْبِرَكُمْ فَأَتَوْهُ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَإِذَا هُمْ بِشَيْخٍ مُوثَقٍ شَدِيدِ الْوَثَاقِ يُظْهِرُ الْحُزْنَ شَدِيدِ التَّشَكِّي فَقَالَ لَهُمْ مِنْ أَيْنَ قَالُوا مِنَ الشَّامِ . قَالَ مَا فَعَلَتِ الْعَرَبُ قَالُوا نَحْنُ قَوْمٌ مِنَ الْعَرَبِ عَمَّ تَسْأَلُ قَالَ مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي خَرَجَ فِيكُمْ قَالُوا خَيْرًا نَاوَى قَوْمًا فَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَأَمْرُهُمُ الْيَوْمَ جَمِيعٌ إِلَهُهُمْ وَاحِدٌ وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ قَالَ مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ قَالُوا خَيْرًا يَسْقُونَ مِنْهَا زُرُوعَهُمْ وَيَسْتَقُونَ مِنْهَا لِسَقْيِهِمْ قَالَ فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عَمَّانَ وَبَيْسَانَ قَالُوا يُطْعِمُ ثَمَرَهُ كُلَّ عَامٍ . قَالَ فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ قَالُوا تَدَفَّقُ جَنَبَاتُهَا مِنْ كَثْرَةِ الْمَاءِ . قَالَ فَزَفَرَ ثَلاَثَ زَفَرَاتٍ ثُمَّ قَالَ لَوِ انْفَلَتُّ مِنْ وَثَاقِي هَذَا لَمْ أَدَعْ أَرْضًا إِلاَّ وَطِئْتُهَا بِرِجْلَىَّ هَاتَيْنِ إِلاَّ طَيْبَةَ لَيْسَ لِي عَلَيْهَا سَبِيلٌ " . قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِلَى هَذَا يَنْتَهِي فَرَحِي هَذِهِ طَيْبَةُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا فِيهَا طَرِيقٌ ضَيِّقٌ وَلاَ وَاسِعٌ وَلاَ سَهْلٌ وَلاَ جَبَلٌ إِلاَّ وَعَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated that Fatimah bint Qais said:"The Messenger of Allah (ﷺ) prayed one day, and ascended the pulpit, and he never used to ascend it, before that, except on Fridays. The people were alarmed by that, and some were standing and some were sitting. He gestured to them with his hand, telling them to sit. (Then he said:) 'By Allah, I am not standing here for something that will benefit you, an exhortation or warning. Rather Tamim Dari has come to me and told me something that prevented me from taking a rest because of the joy and delight (I felt), and I wanted to spread that joy among you. A cousin of Tamim Dari told me that the wind drove them to an island that they did not know, so they sat in the rowing boats of the ship and set out. There they saw something black, with long eyelashes. They said to it: "What are you?" It said: "I am Jassasah," They said: "Tell us." It said: "I will not tell you anything or ask you anything. Rather there is this monastery that you have looked at. Go to it, for there is a man there who is longing to hear your news and tell you news." So they went there and entered upon him, and they saw an old man firmly shackled, with a sorrowful appearance and complaining a great deal. He said to them: "Where have you come from?" They said: "From Sham." He said: "How are the Arabs faring?" They said: "We are from among the Arabs. What do you want to ask about?" He said: "What has this man done who has appeared among you?" They said: "(He has done) well. He made enemies of some people, but Allah supported him against them and now they have become one, with one God and one religion." He said: "What happened to the spring of Zughar?" They said: "It is good; we irrigate out crops from it and drink from it." He said: "What happened to the date-palms between 'Amman and Baisan?" They said: "They bear fruit every year." He said: "What happened to the Lake of Tiberias?" They said: "It overflows because of the abundance of water." He gave three deep sighs, then he said: "If I were to free myself from these chains, I would not leave any land without entering it on these two feet of mine, except for Taibah, for I have no way to enter it." The Prophet (ﷺ) said: 'My joy is so great. This (Al-Madinah) is Taibah, and by the One in Whose Hand is my soul, there is no narrow or broad road in it, or any plain or mountain, but there is an angel (standing) over it with his sword unsheathed, until the Day of Resurrection
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، اور منبر پر تشریف لے گئے، اور اس سے پہلے جمعہ کے علاوہ آپ منبر پر تشریف نہ لے جاتے تھے، لوگوں کو اس سے پریشانی ہوئی، کچھ لوگ آپ کے سامنے کھڑے تھے کچھ بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں منبر پر اس لیے نہیں چڑھا ہوں کہ کوئی ایسی بات کہوں جو تمہیں کسی رغبت یا دہشت والے کام کا فائدہ دے، بلکہ بات یہ ہے کہ میرے پاس تمیم داری آئے، اور انہوں نے مجھے ایک خبر سنائی ( جس سے مجھے اتنی مسرت ہوئی کہ خوشی کی وجہ سے میں قیلولہ نہ کر سکا، میں نے چاہا کہ تمہارے نبی کی خوشی کو تم پر بھی ظاہر کر دوں ) ، سنو! تمیم داری کے ایک چچا زاد بھائی نے مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا کہ ( ایک سمندری سفر میں ) ہوا ان کو ایک جزیرے کی طرف لے گئی جس کو وہ پہچانتے نہ تھے، یہ لوگ چھوٹی چھوٹی کشتیوں پر سوار ہو کر اس جزیرے میں گئے، انہیں وہاں ایک کالے رنگ کی چیز نظر آئی، جس کے جسم پر کثرت سے بال تھے، انہوں نے اس سے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں جساسہ ( دجال کی جاسوس ) ہوں، ان لوگوں نے کہا: تو ہمیں کچھ بتا، اس نے کہا: ( نہ میں تمہیں کچھ بتاؤں گی، نہ کچھ تم سے پوچھوں گی ) ، لیکن تم اس دیر ( راہبوں کے مسکن ) میں جسے تم دیکھ رہے ہو جاؤ، وہاں ایک شخص ہے جو اس بات کا خواہشمند ہے کہ تم اسے خبر بتاؤ اور وہ تمہیں بتائے، کہا: ٹھیک ہے، یہ سن کر وہ لوگ اس کے پاس آئے، اس گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں ایک بوڑھا شخص زنجیروں میں سخت جکڑا ہوا ( رنج و غم کا اظہار کر رہا ہے، اور اپنا دکھ درد سنانے کے لیے بے چین ہے ) تو اس نے ان لوگوں سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: شام سے، اس نے پوچھا: عرب کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ہم عرب لوگ ہیں، تم کس کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے پوچھا: اس شخص کا کیا حال ہے ( یعنی محمد کا ) جو تم لوگوں میں ظاہر ہوا؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اس نے قوم سے دشمنی کی، پھر اللہ نے اسے ان پر غلبہ عطا کیا، تو آج ان میں اجتماعیت ہے، ان کا معبود ایک ہے، ان کا دین ایک ہے، پھر اس نے پوچھا: زغر ( شام میں ایک گاؤں ) کے چشمے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، لوگ اس سے اپنے کھیتوں کو پانی دیتے ہیں، اور پینے کے لیے بھی اس میں سے پانی لیتے ہیں، پھر اس نے پوچھا: ( عمان اور بیسان ( ملک شام کے دو شہر کے درمیان ) کھجور کے درختوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ہر سال وہ اپنا پھل کھلا رہے ہیں، اس نے پوچھا: طبریہ کے نالے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: اس کے دونوں کناروں پر پانی خوب زور و شور سے بہ رہا ہے، یہ سن کر اس شخص نے تین آہیں بھریں ) پھر کہا: اگر میں اس قید سے چھوٹا تو میں اپنے پاؤں سے چل کر زمین کے چپہ چپہ کا گشت لگاؤں گا، کوئی گوشہ مجھ سے باقی نہ رہے گا سوائے طیبہ ( مدینہ ) کے، وہاں میرے جانے کی کوئی سبیل نہ ہو گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سن کر مجھے بےحد خوشی ہوئی، طیبہ یہی شہر ( مدینہ ) ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مدینہ کے ہر تنگ و کشادہ اور نیچے اونچے راستوں پر ننگی تلوار لیے ایک فرشتہ متعین ہے جو قیامت تک پہرہ دیتا رہے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا .
It was narrated from 'Aishah and Abu Hurairah that:The Prophet did ablution washing each part three times
ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ : " لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمُ السَّمَاءَ ثُمَّ تُبْتُمْ لَتَابَ عَلَيْكُمْ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“If you were to commit sin until your sins reach the heaven, then you were to repent, your repentance would be accepted.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ کرو یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تم توبہ کرو تو ( اللہ تعالیٰ ) ضرور تمہاری توبہ قبول کرے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " يَقْطَعُ الصَّلاَةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ " .
It was narrated from ‘Abdullah bin Mughaffal that the Prophet (ﷺ) said:“The prayer is severed by a woman, a dog and a donkey.”
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے ۔