حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عَمَّارٌ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلاَّ اخْتَارَ الأَرْشَدَ مِنْهُمَا " .
It was narrated that 'Aishah said:'The Messenger of Allah said: ''Ammar- no two things were shown to him but he chose the better of the two
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمار پر جب بھی دو کام پیش کئے گئے تو انہوں نے ان میں سے بہترین کام کا انتخاب کیا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَالَ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ بِحِمْصَ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنِ النَّوْحِ .
Jarir, the freed slave of Mu’awiyah, said:“Mu’awiyah delivered a sermon in Hims, and in his sermon he mentioned that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade wailing.”
معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام حریز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حمص میں خطبہ دیا تو اپنے خطبہ میں یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ ( چلّا کر رونے ) سے منع فرمایا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، - أَظُنُّهُ - عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَهَا أَنْ تُدْخِلَ عَلَى رَجُلٍ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا .
It was narrated from 'Aishah that:the Messenger of Allah told her to take a woman to her husband before he had given her anything (i.e. bridal-money). (Da' if)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ شوہر کے پاس اس کی بیوی کو بھیج دیں اس سے پہلے کہ شوہر نے اس کو کوئی چیز دی ہو۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النَّجْرَانِيِّ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أُسْلِمُ فِي نَخْلٍ قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ قَالَ لاَ . قُلْتُ لِمَ قَالَ إِنَّ رَجُلاً أَسْلَمَ فِي حَدِيقَةِ نَخْلٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ النَّخْلُ فَلَمْ يُطْلِعِ النَّخْلُ شَيْئًا ذَلِكَ الْعَامَ فَقَالَ الْمُشْتَرِي هُوَ لِي حَتَّى يُطْلِعَ . وَقَالَ الْبَائِعُ إِنَّمَا بِعْتُكَ النَّخْلَ هَذِهِ السَّنَةَ . فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لِلْبَائِعِ " أَخَذَ مِنْ نَخْلِكَ شَيْئًا " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ وَلاَ تُسْلِمُوا فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ " .
It was narrated that Najrani said:"I said to 'Abdullah bin 'Umar: 'Can I pay in advance for a date palm before it bears fruit?' He said: 'No.' I said: 'Why not?' He said: 'A man paid in advance for a grove of trees during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), before they had produced any fruit, and they did not bear anything that year. The purchaser said: 'They belong to me until they produce but the seller said: 'I only sold the trees to you for this year! They referred their dispute to the Messenger of Allah who said to the seller: 'Did he take anything from your date palms?' He said: 'No.' He said: 'Then why do you regard his wealth as lawful for You? Give back what you took from him, and do not take payment in advance for date palms until their usefulness appears
نجرانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا میں کسی درخت کے کھجور کی ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کروں؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: کیوں؟ کہا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کھجور کے ایک باغ کے پھلوں میں ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کی، لیکن اس سال کھجور کے درخت میں پھل آیا ہی نہیں، تو خریدار نے کہا: یہ درخت میرے رہیں گے جب تک ان میں کھجور نہ پھلے، اور بیچنے والے نے کہا: میں نے تو صرف اسی سال کا کھجور تیرے ہاتھ بیچا تھا، چنانچہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معاملہ لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے کہا: کیا اس نے تمہارے کھجور کے درختوں سے کچھ پھل لیے ؟ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرو گے، جو تم نے اس سے لیا ہے، اسے واپس کرو اور آئندہ کھجور کے درختوں میں بیع سلم اس وقت تک نہ کرو جب تک اس کے پھل استعمال کے لائق نہ ہو جائیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ " الْقُطْ لِي حَصًى " . فَلَقَطْتُ لَهُ سَبْعَ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَجَعَلَ يَنْفُضُهُنَّ فِي كَفِّهِ وَيَقُولُ " أَمْثَالَ هَؤُلاَءِ فَارْمُوا " . ثُمَّ قَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ " .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“On the morning of ‘Aqabah, when he was atop his she-camel, the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Pick up some pebbles for me.’ So I picked up seven pebbles for him, suitable for Khadhf.* He began to toss them in his hand, saying: ‘Throw something like these.’ Then he said: ‘O people, beware of exaggeration in religious matters for those who came before you were doomed because of exaggeration in religious matters.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی صبح کو فرمایا، اس وقت آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے: میرے لیے کنکریاں چن کر لاؤ ، چنانچہ میں نے آپ کے لیے سات کنکریاں چنیں، وہ کنکریاں ایسی تھیں جو دونوں انگلیوں کے بیچ آ جائیں، آپ انہیں اپنی ہتھیلی میں ہلاتے تھے اور فرماتے تھے: انہیں جیسی کنکریاں مارو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! دین میں غلو سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں اسی غلو نے ہلاک کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَقُولُ " الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ " .
It was narratd from Abu Hurairah that :the Prophet (ﷺ) used to say: "Al-hamdu lillahi 'ala kulli hal. Rabbi a'udhu bika min hali ahlin-nar (Praise is to Allah in all circumstances, O Allah, I seek refuge with You from the situation of the people of Hell)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے: «الحمد لله على كل حال رب أعوذ بك من حال أهل النار» ہر حال میں اللہ کا شکر ہے میرے رب! میں جہنمیوں کے حال سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ - وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ أَشَدَّ سُؤَالاً مِنِّي - فَقَالَ لِي " مَا تَسْأَلُ عَنْهُ " . قُلْتُ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ قَالَ " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " .
It was narrated that Mughirah bin Shu'bah said:"No one asked the Prophet (ﷺ) about Dajjal more than I did." (One of the narrators) Ibn Numair said (in his version): "(No one asked) more difficult questions than I did." - "He said to me: 'What are you asking about him?' I said: 'They say he will have food and drink with him.' He said: 'He is too insignificant before Allah for that
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنے سوالات میں نے کئے ہیں، اتنے کسی اور نے نہیں کئے، ( ابن نمیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں «أشد سؤالا مني» یعنی مجھ سے زیادہ سوال اور کسی نے نہیں کئے ، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر وہ اس سے بھی زیادہ آسان ہے ۱؎۔)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا وَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was narrated that Ibn 'Umar:Performed ablution washing each part three times, and he attributed that to the Prophet
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْهُ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Allah rejoiced more over the repentance of anyone of you, then you rejoice over your lost animal when you find it.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ تم اپنی گمشدہ چیز پانے سے خوش ہوتے ہو ۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " يَقْطَعُ الصَّلاَةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“The prayer is severed by a woman, a dog and a donkey.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے ۔