بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
10 hadith
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَاسْتَأْذَنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Ali bin Abu Talib said:"I was sitting with the Prophet, and 'Ammar bin Yasir asked permission to enter. The Prophet said: 'Let him in, welcome to the good and the purified
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں آنے کی اجازت دو، «طیب و مطیب» پاک و پاکیزہ شخص کو خوش آمدید ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ فَقَالَ ‏"‏ مَا يُجْلِسُكُنَّ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَ نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَغْسِلْنَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَحْمِلْنَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Ali said:“The Messenger of Allah (ﷺ) went out and saw some women sitting, and he said: ‘What are you sitting here for?’ They said: ‘We are waiting for the funeral.’ He said: ‘Are you going to wash the deceased?’ They said: ‘No.’ He said: ‘Are you going to lower him into the grave?’ They said: ‘No.’ He said: ‘Then go back with a burden of sin and not rewarded.’”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا: تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اسے اٹھاؤ گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ ( اپنے گھروں کو ) واپس جاؤ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ ‏.‏ فَأَىُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي ‏.‏ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Prophet, married me in Shawwal, and he consummated the marriage with me in Shawwal, and which of his wives was more favored to him than I." 'Airhuh used to like marriage to be consummated with her female relatives in Shawwal
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں شادی کی اور شوال ہی میں ملن بھی کیا، پھر کون سی بیوی آپ کے پاس مجھ سے زیادہ نصیب والی تھی، اور عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے یہاں کی عورتوں کو شوال میں ( ان کے شوہروں کے پاس ) بھیجنا پسند کرتی تھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - قَالَ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، - قَالَ امْتَرَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَمِ فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كُنَّا نُسْلِمُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَهْدِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ عِنْدَ قَوْمٍ مَا عِنْدَهُمْ ‏.‏ فَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated that Abu Mujalid said:"Abdullah bin Shaddad and Abu Barzah had a dispute about paying in advance. They sent me to 'Abdullah bin Abu Awfa to ask him about it. He said: 'We used to make payments in advance at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and the time of Abu Bakr and 'Umar, for wheat, barley, raisins and dates, to people who did not yet possess those things.' I asked Ibn Abza, and he said something similar
عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبرزہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بیع سلم کے سلسلہ میں جھگڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں نے جا کر ان سے اس کے سلسلے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں گیہوں، جو، کشمش اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے جن کے پاس اس وقت مال نہ ہوتا، پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، كَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ تَدْفَعَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ دُفْعَةِ النَّاسِ فَأَذِنَ لَهَا ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah that Sawdah bint Zam’ah was a slow- moving woman, so she asked the Messenger of Allah (ﷺ) for permission to depart from Jam’ ahead of the people, and he gave her permission
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ایک بھاری بھر کم عورت تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ سے لوگوں کی روانگی سے پہلے جانے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ رَجُلٌ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ‏.‏ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ مَنْ ذَا الَّذِي قَالَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الرَّجُلُ أَنَا وَمَا أَرَدْتُ إِلاَّ الْخَيْرَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَمَا نَهْنَهَهَا شَىْءٌ دُونَ الْعَرْشِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdul-Jabbar bin Wa'il that :his father said: "I prayed with the Prophet (ﷺ) and a man said: 'Alhamdu lillahi hamdan kathiran tayyiban mubarakan fihi (Praise is to Allah, much, good and blessed praise).' When the Prophet (ﷺ) finished praying, he said: 'Who said that?' The man said: 'It was me, but I did not mean anything but good.' He said: 'The gates of heaven were opened because of it and nothing prevented it from reaching the Throne
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک شخص نے ( «سمع الله لمن حمده» کے بعد ) «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمہ کس نے کہا؟ اس شخص نے عرض کیا: میں نے یہ کلمہ کہا اور اس سے میری نیت خیر کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کلمہ کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور اس کلمے کو عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز نہیں روک سکی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُسْرَى جُفَالُ الشَّعَرِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Hudhaifah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Dajjal (False Christ) is blind in his left eye and has abundant hair. With him will be a Paradise and a Hell, but his Hell is Paradise and his Paradise is Hell
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ کا کانا، اور بہت بالوں والا ہو گا، اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہو گی، لیکن اس کی جہنم جنت اور اس کی جنت جہنم ہو گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، أَنْبَأَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَوَضَّأَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً ‏.‏
It was narrated that 'Umar said:"I saw the Messenger of Allah during the campaign of Tabuk performing ablution, washing each part once
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں دیکھا کہ آپ نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ حُدَيْجٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الأَلْهَانِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ لأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثَوْبَانُ ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لاَ نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لاَ نَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Thawban that the Prophet (ﷺ) said:“I certainly know people of my nation who will come on the Day of Resurrection with good deeds like the mountains of Tihamah, but Allah will make them like scattered dust.” Thawban said: “O Messenger of Allah, describe them to us and tell us more, so that we will not become of them unknowingly.” He said: “They are your brothers and from your race, worshipping at night as you do, but they will be people who, when they are alone, transgress the sacred limits of Allah.”
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو فضا میں اڑتے ہوئے ذرے کی طرح بنا دے گا ، ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے اور کھول کر بیان فرمایئے تاکہ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے ہم ان میں سے نہ ہو جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جان لو کہ وہ تمہارے بھائیوں میں سے ہی ہیں، اور تمہاری قوم میں سے ہیں، وہ بھی راتوں کو اسی طرح عبادت کریں گے، جیسے تم عبادت کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب تنہائی میں ہوں گے تو حرام کاموں کا ارتکاب کریں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، - هُوَ قَاصُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ أَوْ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ بِيَدِهِ فَرَجَعَ فَمَرَّتْ زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا فَمَضَتْ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ هُنَّ أَغْلَبُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Umm Salamah said:“The Prophet (ﷺ) was performing prayer in the house of Umm Salamah, and ‘Abdullah or ‘Umar bin Abu Salamah passed in front of him; he gestured his hand, and he went back. Then Zainab bint Umm Salamah passed in front of him, and he gestured his hand, but she kept going. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his prayer, he said: ‘These (women) are more stubborn.’”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں آپ کے سامنے سے عبداللہ یا عمر بن ابی سلمہ گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ لوٹ گئے، پھر زینب بنت ام سلمہ گزریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا مگر وہ سامنے سے گزرتی چلی گئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: یہ عورتیں نہیں مانتیں ۱؎۔