بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
11 hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ أَبِي الْجَحَّافِ، - وَكَانَ مَرْضِيًّا - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever loves Hasan and Husain, loves me; and whoever hates them, hates me
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے حسن و حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) cursed women who visit graves.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ فَكَانَتْ تَرَى الْحُمْرَةَ وَالصُّفْرَةَ فَرُبَّمَا وَضَعَتْ تَحْتَهَا الطَّسْتَ ‏.‏
‘Aishah said:“One of the wives of the Messenger of Allah (ﷺ) observed I’tikaf with him, and she used to see red and yellow discharge, and sometime she would put a basin beneath her.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا، تو وہ سرخی اور زردی دیکھتی تھیں، تو کبھی اپنے نیچے طشت رکھ لیتی تھیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that:the Prophet cursed the woman who does hair extensions and the one who has that done, and the woman who does tattoos and the one who has that done
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو جوڑنے اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ رُكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَا أَحَدٌ أَكْثَرَ مِنَ الرِّبَا إِلاَّ كَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهِ إِلَى قِلَّةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Mas'ud that the Prophet (ﷺ) said:"There is no one who deals in usury a great deal (to increase his wealth) but he will end up with little (i.e., his wealth will be decreased)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھی سود سے مال بڑھایا، اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کا مال گھٹ جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ رَبَاحٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لَهُ غَدَاةَ جَمْعٍ ‏"‏ يَا بِلاَلُ أَسْكِتِ النَّاسَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ أَنْصِتِ النَّاسَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ هَذَا فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ ادْفَعُوا بِاسْمِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Bilal bin Rabah that the Prophet (ﷺ) said to him, on the morning of Jama’:“O Bilal, calm the people down,” or “make them be quiet.” Then he said: “Allah has been very gracious to you in this Jam’ of yours. He has forgiven the wrongdoers among you because of the righteous among you, and He has given the righteous among you whatever they ask. Move on in the Name of Allah.”
بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا: بلال! لوگوں کو خاموش کرو ، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا، اب اللہ کا نام لے کر لوٹ چلو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ فِي دُبُرِ صَلاَةِ الْغَدَاةِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ - كَانَ كَعَتَاقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Saeed that :the Prophet(ﷺ) said: "Whoever says, following the morning prayer: La ilaha illallahu wahdahu la sahrikalau, lahul mulku wa lahul hamdu, bi yadihil khair, wa huwa ala kulli shay'in qadir (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion, all praise is to Him, in His Hand is all goodness, and He is Able to do all things), it will be as if he freed slave from among the sons of Isma'il
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز صبح ( فجر ) کے بعد «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير» کہے تو اسے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا فَذَلِكَ حِينَ لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘The Hour will not begin until the sun rises from the west (i.e. the place of its setting). When it rises, the people will see it, and everyone on (earth) will believe, but that will be at a time when faith will not benefit anyone who did not believe before.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکلے گا، جب سورج کو پچھم سے نکلتے دیکھیں گے تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایسا وقت ہو گا کہ اس وقت جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتے تھے، ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، وَدَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever performs ablution, let him clean his nose, and whoever uses pebbles to clean himself after defecating, let him use an odd number
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کرے تو اچھی طرح ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑے، اور جب استنجاء کرے تو طاق ڈھیلے استعمال کرے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قُلْنَا ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا كُنَّا نَفْعَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏:‏ ‏ "‏ مَنْ أَحْسَنَ فِي الإِسْلاَمِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنْ أَسَاءَ أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah said:“We said: ‘O Messenger of Allah, will we be taken to task for what we did in the Ignorance period?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever does good in Islam (i.e., after becoming a Muslim) he will not be taken to task for what he did in the Ignorance period, but whoever does evil (i.e., after entering Islam) he will be taken to task for both the former and the latter.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم سے ان گناہوں کا بھی مواخذہ کیا جائے گا، جو ہم نے ( زمانہ ) جاہلیت میں کئے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہد اسلام میں نیک کام کئے ( دل سے اسلام لے آیا ) اس سے جاہلیت کے کاموں پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا، اور جس نے اسلام لا کر بھی برے کام کئے، ( کفر پر قائم رہا ہے ) تو اس سے اول و آخر دونوں برے اعمال پر مواخذہ کیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ يَسْأَلُهُ مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَالَهُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَىْ أَخِيهِ وَهُوَ يُصَلِّي كَانَ لأَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ - قَالَ لاَ أَدْرِي أَرْبَعِينَ عَامًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا - خَيْرٌ لَهُ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Busr bin Sa’eed that Zaid bin Khalid sent word to Abu Juhaim Al-Ansari asking him:“What did you hear from the Prophet (ﷺ) about a man when he is performing prayer?” He said: “I heard the Prophet (ﷺ) saying: ‘If anyone of you knew (how great is the sin involved) when he passed in front of his brother who is performing prayer, then waiting for forty’,” (one of the narrators) said: “I do not know if he meant forty years, forty months, or forty days, ‘would be better for him than that.”
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ابوجہیم انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کیا سنا ہے، جو نمازی کے آگے سے گزرے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت میں گزرنے میں کیا گناہ ہے، تو اس کے لیے چالیس … تک ٹھہرے رہنا آگے سے گزرنے سے بہتر ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال، چالیس مہینے یا چالیس دن فرمایا ۱؎۔