بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
11 hadith
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لِلْحَسَنِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet said to Hasan: "O Allah, I love him, so love him and love those who love him." He said: "And he hugged him to his chest
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر، اور اس سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرے ۱؎۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو بِشْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، ح: وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ح: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، وَقَبِيصَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Hassan bin Thabit that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) cursed women who visit graves.”
حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَزُورُهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً مِنَ الْعِشَاءِ ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْلِبُهَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ الَّذِي كَانَ عِنْدَ مَسْكَنِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَّ بِهِمَا رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ ‏"‏ ‏.‏ قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Safiyyah bint Huyai, the wife of the Prophet (ﷺ), that she came to visit the Messenger of Allah (ﷺ) when he was in I’tikaf during the last ten days of the month of Ramadan. She spoke with him for a while during the evening, then she stood up to go back. The Messenger of Allah (ﷺ) got up to take her home. When she reached the door of the mosque that was by the home of Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ), two men from among the Ansar passed by them. They greeted the Messenger of Allah (ﷺ) with peace, then went away. The Messenger of Allah (ﷺ) said:“Take it easy, she is Safiyyah bint Huyai.” They said: “Glorious is Allah, O Messenger of Allah!” And they were very upset by that (i.e., that he thought they may have some doubts). The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The Satan flows through the son of Adam like blood, and I was afraid that he might cast some doubt into your hearts.”
ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئیں، اور آپ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد کے اندر معتکف تھے، عشاء کے وقت کچھ دیر آپ سے باتیں کیں، پھر اٹھیں اور گھر جانے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ انہیں پہنچانے کے لیے اٹھے، جب وہ مسجد کے دروازہ پہ پہنچیں جہاں پہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ تھی تو قبیلہ انصار کے دو آدمی گزرے، ان دونوں نے آپ کو سلام کیا، پھر چل پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! اور یہ بات ان دونوں پہ گراں گزری، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دل میں کوئی غلط بات نہ ڈال دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ الطَّحَّانُ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ ضِفْتُ عُمَرَ لَيْلَةً فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى امْرَأَتِهِ يَضْرِبُهَا فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ لِي يَا أَشْعَثُ احْفَظْ عَنِّي شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَ يَضْرِبُ امْرَأَتَهُ وَلاَ تَنَمْ إِلاَّ عَلَى وِتْرٍ ‏"‏ ‏.‏ وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated that Ash'ath bin Qais said:"I was a guest (at the home) of 'Umar one night, and in the middle of the night he went and hit his wife, and I separated them. When he went to bed he said to me: 'O Ash'ath, learn from me something that I heard from the Messenger of Allah" A man should not be asked why he beats his wife, and do not go to sleep until you have prayed the Witr."' And I forgot the third thing
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات عمر رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا، جب آدھی رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو مارنے لگے، تو میں ان دونوں کے بیچ حائل ہو گیا، جب وہ اپنے بستر پہ جانے لگے تو مجھ سے کہا: اشعث! وہ بات جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تم اسے یاد کر لو: شوہر اپنی بیوی کو مارے تو قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال نہیں کیا جائے گا، اور وتر پڑھے بغیر نہ سوؤ اور تیسری چیز آپ نے کیا کہی میں بھول گیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لاَ يَبْقَى مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلاَّ أَكَلَ الرِّبَا فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There will come a time when there will be no one left who does not consume usury (interest), and whoever does not consume it will nevertheless be affected by it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی ایسا نہ بچے گا جس نے سود نہ کھایا ہو، جو نہیں کھائے گا اسے بھی اس کا غبار لگ جائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، قَالَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ جَابِرٌ أَفَاضَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ ‏.‏ وَقَالَ ‏ "‏ لِتَأْخُذْ أُمَّتِي نُسُكَهَا فَإِنِّي لاَ أَدْرِي لَعَلِّي لاَ أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا ‏"‏ ‏.‏
Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) departed during the Farewell Pilgrimage in a tranquil manner, and he urged them to be tranquil. He told them to throw small pebbles. He hastened through Muhassir Valley, and said: ‘Let my nation learn its rites (of Hajj), for I do not know, perhaps I will not meet them again after this year.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں مزدلفہ سے اطمینان کے ساتھ لوٹے، اور لوگوں کو بھی اطمینان کے ساتھ چلنے کا حکم دیا، اور حکم دیا کہ وہ ایسی کنکریاں ماریں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آ سکیں، اور وادی محسر، میں آپ نے سواری کو تیز چلایا اور فرمایا: میری امت کے لوگ حج کے احکام سیکھ لیں، کیونکہ مجھے نہیں معلوم شاید اس سال کے بعد میں ان سے نہ مل سکوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، أَخْبَرَنِي سُمَىٌّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ قَالَ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ كَانَ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكُنَّ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ سَائِرَ يَوْمِهِ إِلَى اللَّيْلِ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا أَتَى بِهِ إِلاَّ مَنْ قَالَ أَكْثَرَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah(ﷺ) said: "Whoever says one hundered times each day: La ilaha illahu wahdahu la sharikalahu, wa lahul-mulku wa lahul hamduwa huwa ala kulli shayin qadeer (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion, all praise is to Him, and He is able to do all things), it will be equivalent to him freeing ten slaves, and one hundered merits will be recorded for him, and one hundered bad deeds will be erased from (his record), and it will be a protection for him against Satan all day until night comes. No one can do anything better then him except one who says more
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو بار «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی و شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہت اور تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، کہا تو اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور اس کی سو برائیاں مٹائی جاتی ہیں، اور وہ پورے دن رات تک شیطان سے بچا رہتا ہے، اور کسی کا عمل اس کے عمل سے افضل نہ ہو گا مگر جو کوئی اسی کلمہ کو سو بار سے زیادہ کہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو زُنَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ذَهَبَ بِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى مَوْضِعٍ بِالْبَادِيَةِ قَرِيبٍ مِنْ مَكَّةَ فَإِذَا أَرْضٌ يَابِسَةٌ حَوْلَهَا رَمْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ ‏"‏ ‏.‏ فَإِذَا فِتْرٌ فِي شِبْرٍ ‏.‏ قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ فَحَجَجْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بِسِنِينَ فَأَرَانَا عَصًا لَهُ فَإِذَا هُوَ بِعَصَاىَ هَذِهِ كَذَا وَكَذَا ‏.‏
‘Abdullah bin Buraidah narrated that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) took me to a place in the desert, near Makkah, where there was arid land surrounded by sand. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Beast will emerge from this spot – span by a span. (i.e, the size of that spot).’”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مکہ کے قریب ایک جگہ صحراء میں لے گئے، تو وہ ایک خشک زمین تھی جس کے اردگرد ریت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور ( «دابۃ الارض» ) یہاں سے نکلے گا، میں نے وہ جگہ دیکھی، وہ ایک بالشت میں سے انگشت شہادت اور انگوٹھے کے درمیان کی دوری کے برابر تھی ۔ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کئی سال کے بعد حج کیا تو بریدہ رضی اللہ عنہ ( یعنی میرے والد ) نے ہمیں «دابۃ الارض» کا عصا دکھایا جو میرے عصا کے بقدر لمبا اور موٹا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ قَارِظِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ الْمُرِّيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:'Sniff up water into the nostrils thoroughly, two or three times
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بار یا تین بار اچھی طرح ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑو ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ‏:‏ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي عَلَى صَخْرَةٍ فَأَتَى نَاحِيَةَ مَكَّةَ فَمَكَثَ مَلِيًّا ثُمَّ انْصَرَفَ فَوَجَدَ الرَّجُلَ يُصَلِّي عَلَى حَالِهِ فَقَامَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثًا ‏:‏ ‏"‏ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) passed by a man who was praying on a rock, and he went towards Makkah and stayed a while, then he left and found the man still praying as he had been. He stood up and clasped his hands, then said: “O people, you should observe moderation,” three times, “for Allah does not get tired (of giving reward) but you get tired.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان پر نماز پڑھ رہا تھا، آپ مکہ کے ایک جانب گئے، اور کچھ دیر ٹھہرے، پھر واپس آئے، تو اس شخص کو اسی حالت میں نماز پڑھتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنے دونوں ہاتھوں کو ملایا، پھر فرمایا: لوگو! تم میانہ روی اختیار کرو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے ( ثواب دینے سے ) یہاں تک کہ تم خود ہی ( عمل کرنے سے ) اکتا جاؤ ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَرْسَلُونِي إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمُرُورِ، بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي فَأَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ فَلاَ أَدْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً أَوْ شَهْرًا أَوْ صَبَاحًا أَوْ سَاعَةً ‏.‏
Busr bin Sa’eed said:“They sent me to Zaid bin Khalid to ask him about passing in front of one who is performing prayer. He told me that the Prophet (ﷺ) said: ‘Waiting for forty is better than passing in front of one who is performing prayer.’” (One of the narrators) Sufyan said: "I do not know if he meant forty years, months, days, or hours
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے ( نمازی ) کے آگے سے گزرنے کے متعلق سوال کروں، انہوں نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: چالیس … تک ٹھہرے رہنا نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے ۔ سفیان بن عیینہ ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس دن یا چالیس گھنٹہ کہا۔