حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذْنُكَ عَلَىَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ " .
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said to me: 'The sign that you have been permitted to come in is that you raise the curtain and that you hear me speaking quietly, until I forbid you.' (i.e. unless I forbid you)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُذَكِّرُ الآخِرَةَ " .
It was narrated from Ibn Mas’ud that the Messenger of Allah (ﷺ) said, “I used to forbid you to visit the graves, but now visit them, for they will draw your attention away from this world and remind you of the Hereafter.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روک دیا تھا، تو اب ان کی زیارت کرو، اس لیے کہ یہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے، اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كُنْتُ لأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلاَّ وَأَنَا مَارَّةٌ . قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لاَ يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلاَّ لِحَاجَةٍ إِذَا كَانُوا مُعْتَكِفِينَ .
It was narrated that ‘Aishah said:“I used to enter the house to relieve myself, and there was a sick person there, and I only inquired after him as I was passing through.” She said: “And the Messenger of Allah (ﷺ) would not enter the house except to relieve himself, then they were observing I’tikaf.”
عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں ( اعتکاف کی حالت میں ) گھر میں ضرورت ( قضائے حاجت ) کے لیے جاتی تھی، اور اس میں کوئی بیمار ہوتا تو میں اس کی بیمار پرسی چلتے چلتے کر لیتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ضرورت ہی کے تحت گھر میں جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَهُمْ فِيهِنَّ ثُمَّ قَالَ " إِلاَمَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الأَمَةِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ " .
It was narrated that 'Abduleh bin Zam'ah said:'The Prophet delivered a sermon then he made mention of women, and exhorted (the men) concerning them. Then he said: 'How long will one of you whip his wife like a slave, then lie with her at the end of the day?
عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر عورتوں کا ذکر کیا، اور مردوں کو ان کے سلسلے میں نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: کوئی شخص اپنی عورت کو لونڈی کی طرح کب تک مارے گا؟ ہو سکتا ہے اسی دن شام میں اسے اپنی بیوی سے صحبت کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ أَبُو حَفْصٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الرِّبَا ثَلاَثَةٌ وَسَبْعُونَ بَابًا " .
It was narrated from 'Abdullah that the Prophet (ﷺ) said:"There are seventy-three degrees of usury
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود کے تہتر دروازے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْمُزْدَلِفَةِ .
It was narrated from ‘Abdullah bin Yazid Al-Khatmi that he heard Abu Ayyub Al-Ansari say:“I prayed Maghrib and ‘Isha’ with the Messenger of Allah (ﷺ) during the Farewell Pilgrimage, at Muzdalifah.”
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء مزدلفہ میں پڑھی۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ، سُعْدَى الْمُرِّيَّةِ قَالَتْ مَرَّ عُمَرُ بِطَلْحَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ مَا لَكَ مُكْتَئِبًا أَسَاءَتْكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ قَالَ لاَ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لاَ يَقُولُهَا أَحَدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلاَّ كَانَتْ نُورًا لِصَحِيفَتِهِ وَإِنَّ جَسَدَهُ وَرُوحَهُ لَيَجِدَانِ لَهَا رَوْحًا عِنْدَ الْمَوْتِ " . فَلَمْ أَسْأَلْهُ حَتَّى تُوُفِّيَ . قَالَ أَنَا أَعْلَمُهَا هِيَ الَّتِي أَرَادَ عَمَّهُ عَلَيْهَا وَلَوْ عَلِمَ أَنَّ شَيْئًا أَنْجَى لَهُ مِنْهَا لأَمَرَهُ .
It was narrated from Yahya bin Talha that :his mother Su'da Al-Murriyyah said: "Umar bin Khattab passed by Talhah, after the Messenger of Allah(ﷺ) had died, and said: 'Why do you look so sad? Are you upset because your cousin has been appointed leader?' He said: 'No, but I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say: "I know a word which no one says at the time of death but it will be light in his record of deeds, and his body and soul will find comfort in it at the time of death," -but I did not ask him about it before he died.' He ('Umar) said: ' I know what it is. It is what he wanted his uncle (Abu Talib) to say, and if he had known anything that would be more effective in saving him, he would have told him to say it
سعدیٰ مریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گزرے، تو انہوں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تم کو رنجیدہ پاتا ہوں؟ کیا تمہیں اپنے چچا زاد بھائی ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کی خلافت گراں گزری ہے؟، انہوں نے کہا: نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں ایک بات جانتا ہوں اگر کوئی اسے موت کے وقت کہے گا تو وہ اس کے نامہ اعمال کا نور ہو گا، اور موت کے وقت اس کے بدن اور روح دونوں اس سے راحت پائیں گے ، لیکن میں یہ کلمہ آپ سے دریافت نہ کر سکا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کلمہ کو جانتا ہوں، یہ وہی کلمہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ( ابوطالب ) سے مرتے وقت پڑھنے کے لیے کہا تھا، اور اگر آپ کو اس سے بہتر اور باعث نجات کسی کلمہ کا علم ہوتا تو وہی پڑھنے کے لیے فرماتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَأَلَنَا وَضُوءًا فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ .
It was narrated that 'Abdullah bin Zaid Al-Ansari said:"The Messenger of Allah came to us and asked us for water for ablution. I brought water to him and he rinsed his mouth and sniffed water up into his nostrils from one handful
عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے وضو کے لیے پانی مانگا، ہم نے پانی حاضر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْمُرْهِبِيِّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يَغْزُوَ جَيْشٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ - أَوْ بَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ - خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ " . قُلْتُ فَإِنْ كَانَ فِيهِمْ مَنْ يُكْرَهُ قَالَ " يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ " .
It was narrated from Safiyyah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“People will not stop attacking this House until an army attacks, until when they are in Baida’, the first and the last of them will be swallowed by the earth, and the middle of them will not be saved.’” I said: “What if there are those among them who were forced (to join the army)?” He said: “Allah will resurrect them according to what is in the hearts.”
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اللہ کے اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہ آئیں گے حتیٰ کہ ایک لشکر لڑنے کے لیے آئے گا، جب وہ لوگ مقام بیداء یا بیداء کی سر زمین میں پہنچیں گے، تو اول سے لے کر اخیر تک تمام زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے، اور ان کے درمیان والے بھی نہیں بچیں گے ۔ میں نے عرض کیا: اگر ان میں سے کوئی ایسا بھی ہو جسے زبردستی اس لشکر میں شامل کیا گیا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں اپنی اپنی نیت کے موافق اٹھائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ فَدَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ " . قُلْتُ : فُلاَنَةُ . لاَ تَنَامُ - تَذْكُرُ مِنْ صَلاَحِهَا - فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ : " مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لاَ يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا " . قَالَتْ : وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ .
It was narrated that ‘Aishah said:“There was a woman with me, and the Prophet (ﷺ) entered upon me and said: ‘Who is that?’ I said: ‘So-and-so; she does not sleep,’” – she mentioned her excessive praying. “The Prophet (ﷺ) said: ‘Keep quiet. You should do what you are able to, for by Allah, Allah does not get tired (of giving reward) but you get tired.’” She said: “The most beloved of religious deed to him was that in which a person persists.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت ( بیٹھی ہوئی ) تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور پوچھا: یہ کون ہے ؟ میں نے کہا: یہ فلاں عورت ہے، یہ سوتی نہیں ہے ( نماز پڑھتی رہتی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو! تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے کی تمہیں طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو آدمی ہمیشہ پابندی سے کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تُخْرَجُ لَهُ حَرْبَةٌ فِي السَّفَرِ، فَيَنْصِبُهَا فَيُصَلِّي إِلَيْهَا .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“A small spear (Harbah) would be brought out to the Prophet (ﷺ) when he was travelling; he would plant it (in the ground) to perform prayer while facing it.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سفر میں نیزہ لے جایا جاتا اور اسے آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا، آپ اس کی جانب نماز پڑھتے