حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، . أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Mas'ud that:Abu Bakr and 'Umar gave him the glad tidings that the Messenger of Allah had said: "Whoever would like to recite the Qur'an as fresh as when it was revealed, let him recite it like Ibn Umm 'Abd
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بشارت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص چاہتا ہو کہ قرآن کو بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کے ویسے ہی پڑھے جیسے نازل ہوا ہے تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کی قراءت کے مطابق پڑھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَخَّصَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ .
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) gave permission for visiting the graves
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اعْتَكَفَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا قِطْعَةُ حَصِيرٍ . قَالَ فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that:The Messenger of Allah (ﷺ) observed I’tifak in a Turkish tent, over the door of which was a piece of reed matting. He pushed the mat aside, then he put his head out and spoke to the people
ابوسعیدی خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمہ میں اعتکاف کیا، اس کے دروازے پہ بورئیے کا ایک ٹکڑا لٹکا ہوا تھا، آپ نے اس بورئیے کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اسے ہٹا کر خیمہ کے ایک گوشے کی طرف کر دیا، پھر اپنا سر باہر نکال کر لوگوں سے باتیں کیں۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَأَنَا عِنْدَ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَكَانَ يُسَرِّبُ إِلَىَّ صَوَاحِبَاتِي يُلاَعِبْنَنِي .
It was narrated that 'Aishah said:"I used to play with dolls when I was with the Messenger of Allah, and he used to bring my friends to me to play with me
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی، تو آپ میری سہیلیوں کو میرے پاس کھیلنے کے لیے بھیج دیا کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الرِّبَا سَبْعُونَ حُوبًا أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"There are seventy degrees of usury, the least of which is equivalent to a man having intercourse with his mother
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود ستر گناہوں کے برابر ہے جن میں سے سب سے چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُ عِنْدَهُ الأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ وَتَوَضَّأَ قُلْتُ الصَّلاَةَ . قَالَ " الصَّلاَةُ أَمَامَكَ " . فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ أَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ .
It was narrated that Usamah bin Zaid said:“I departed from ‘Arafat with the Messenger of Allah (ﷺ), and when he reached the mountain path at which the chiefs would dismount, he dismounted and urinated, then performed ablution. I said: ‘(Is it time for) prayer?’ He said: ‘The prayer is still ahead of you.’ When he reached Jam’ (Muzdalifah) he called the Adhan and Iqamah, then he prayed Maghrib. Then no one among the people unloaded (the camels) until he had prayed ‘Isha’.”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات سے لوٹا، جب آپ اس گھاٹی پر آئے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، پھر وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: نماز ( پڑھ لی جائے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ( پڑھی جائے گی ) پھر جب مزدلفہ میں پہنچے تو اذان دی، اقامت کہی، اور مغرب پڑھی، پھر کسی نے اپنا کجاوہ بھی نہیں کھولا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عشاء پڑھی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا قَالَ الْعَبْدُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ . قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدَقَ عَبْدِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنَا وَأَنَا أَكْبَرُ . وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ . قَالَ صَدَقَ عَبْدِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنَا وَحْدِي . وَإِذَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ . قَالَ صَدَقَ عَبْدِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنَا وَلاَ شَرِيكَ لِي . وَإِذَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ . قَالَ صَدَقَ عَبْدِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ . وَإِذَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ . قَالَ صَدَقَ عَبْدِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنَا وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِي " . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ ثُمَّ قَالَ الأَغَرُّ شَيْئًا لَمْ أَفْهَمْهُ . قَالَ فَقُلْتُ لأَبِي جَعْفَرٍ مَا قَالَ فَقَالَ مَنْ رُزِقَهُنَّ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ .
It was narrated from Abu Hurairah and Abu Saeed bore witness that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"If a person says: 'La ilaha illallahu wa Allahu Akbar (None has the right to be worshipped but Allah and Allah is the Most Great),'Allah says: 'My slave has spoken the truth; there is none worthy of worship except I, and I am the Most Great.' If a person says: La ilaha Illallah wahdahu (There is none worthy of worship except Allah alone), Allah says: 'My slave has spoken the truth; there is none worthy of worship except I, alone.' If he says, La ilaha illallahu la sharikalahu (There is none worthy of worship except Allah with no partner or associate),' Allah says: 'My slave has spoken the truth; there is none worthy of worship except I, with no partner or associate.' If he says: 'La illah illallah, lahul mulku wa lahul hamdu (There is none worthy of worship except Allah, all dominion is His and all praise is to Him),' Allah says: 'My slave has spoken the truth; there is none of worthy of worship except I, all dominion Mine and all praise is due to Me.' If he says: ' La illaha illallah, la hawla wa la quwwata illa billah (There is none worthy of worship and there is no power and no strength except with Allah),' Allah says: 'My slave has spoken then truth; there is none worthy of worship except I, and tehre is no power and no strength except with Me.' One of the narrators Abu Ishaq said: "Then Agharr (another narrator) said something that I did not understand. I said to Abu Jafar: 'What did he say?' He said: 'Whoever is blessed with (the ability to say) them (these words) at the time of death, the Fire will not touch him
اغر ابومسلم سے روایت ہے اور انہوں نے شہادت دی کہ ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ «لا إله إلا الله والله أكبر» یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله وحده» یعنی صرف تنہا اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، میں ہی اکیلا معبود برحق ہوں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله لا شريك له»کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک اور ساجھی نہیں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله له الملك وله الحمد» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اسی کی بادشاہت اور ہر قسم کی تعریف ہے، کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، بادشاہت اور تعریف ( یعنی ملک اور حمد ) میرے ہی لیے ہے، اور جب بندہ «لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور اس کے علاوہ کسی میں کوئی طاقت و قوت نہیں، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میرے علاوہ کسی میں کوئی قوت و طاقت نہیں ۱؎۔ ابواسحاق کہتے ہیں: پھر اغر نے ایک بات کہی جسے میں نہ سمجھ سکا، میں نے ابوجعفر سے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مرتے وقت ان کلمات کے کہنے کی توفیق بخشی تو اسے جہنم کی آگ نہ چھوئے گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثَلاَثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ .
It was narrated from 'Ali that:The Messenger of Allah performed ablution and he rinsed his mouth three times, and sniffed water up into his nose three times from one handful
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ایک ہی چلو سے تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ وَيَتَنَادَى أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ فَيُخْسَفُ بِهِمْ فَلاَ يَبْقَى مِنْهُمْ إِلاَّ الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ " . فَلَمَّا جَاءَ جَيْشُ الْحَجَّاجِ ظَنَنَّا أَنَّهُمْ هُمْ فَقَالَ رَجُلٌ أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ وَ أَنَّ حَفْصَةَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
Hafsah narrated that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:“An invading army will come towards this House until, when they are in Bayda’, the middle of them will be swallowed up by the earth, and the first of them will call out to the last of them, and they will be swallowed up, until there is no one left of them except a fugitive who will tell them of what happened to them.” When the army of Hajjaj came, we thought that they were (the ones mentioned in this Hadith). A man said: “I bear witness that you did not attribute a lie to Hafsah and that Hafsah did not attribute a lie to the Prophet (ﷺ).”
عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ایک لشکر اس بیت اللہ کا قصد کرے گا تاکہ اہل مکہ سے لڑائی کرے، لیکن جب وہ لشکر مقام بیداء میں پہنچے گا تو اس کے درمیانی حصہ کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، اور دھنستے وقت جو لوگ آگے ہوں گے وہ پیچھے والوں کو آواز دیں گے لیکن آواز دیتے دیتے سب دھنس جائیں گے، ایک قاصد کے علاوہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا جو لوگوں کو جا کر خبر دے گا ۔ ( عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) جب حجاج ( حجاج بن یوسف ثقفی ) کا لشکر آیا ( اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے مکہ کی طرف بڑھا ) تو ہم سمجھے شاید وہ یہی لشکر ہو گا، ایک شخص نے ( یہ سن کر ) کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا، اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ : وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلاَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ وَكَانَ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَيْهِ، الْعَمَلُ الصَّالِحُ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا .
It was narrated that Umm Salamah said:“By the One Who took his (ﷺ) soul, he did not die until most of his prayers were offered sitting down. And the most beloved of deeds to him was a righteous deed which a person persists in doing, even if it is something small.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ( اللہ ) کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( دنیا سے ) لے گیا! آپ جب فوت ہوئے تو آپ زیادہ نماز ( تہجد ) بیٹھ کر ادا فرماتے تھے۔ اور آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ نیک عمل تھا جس پر بندہ ہمیشگی کرے اگرچہ تھوڑا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ ��ْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدَىْ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " .
It was narrated from Musa bin Talhah that his father said:“We used to perform prayer while the beasts were passing in front of us. That was mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: ‘If something like the hand of a saddle* is placed in front of anyone of you, it will not matter whoever passes in front of him.” * It is the piece of wood on the camel saddle which is held on to (to climb onto the camel)
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمہارے آگے ہو تو جو کوئی آگے سے گزرے نمازی کو کچھ بھی نقصان نہ ہو گا ۔