حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ " اثْبُتْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ " . وَعَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدٌ وَابْنُ عَوْفٍ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ .
It was narrated that Sa'eed bin Zaid:'I bear witness that I heard the Messenger of Allah say: 'Stand firm, O (mountain of) Hira', for there is no one upon you but a Prophet, a Siddiq or a martyr.' " Then he listed them as follows: "The Messenger of Allah, Abu Bakr, 'Umar, 'Uthman, 'Ali, Talhah, Zubair, Sa'd, Ibn 'Awf and Sa'eed bin Zaid
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ٹھہر، اے حرا! ۱؎ ( وہ لرزنے لگا تھا ) تیرے اوپر سوائے نبی، صدیق اور شہید کے کوئی اور نہیں ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام گنوائے: ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن زید رضی اللہ عنہم۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ تُحْرِقُهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ " .
It was narrated from Abu Hurairah said:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If one of you were to sit on a live coal that burns him, that would be better for him than if he were to sit on a grave.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا آگ کے شعلہ پر جو اسے جلا دے بیٹھنا اس کے لیے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَكَانَ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَأَمَرَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ فَأَمَرَتْ عَائِشَةُ بِخِبَاءٍ فَضُرِبَ لَهَا وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ بِخِبَاءٍ فَضُرِبَ لَهَا فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهُمَا أَمَرَتْ بِخِبَاءٍ فَضُرِبَ لَهَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " آلْبِرَّ تُرِدْنَ " . فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ .
It was narrated that ‘Aishah said:“When the Prophet (ﷺ) wanted to start I’tikaf, he would pray the Subh, then he would enter the place where he wanted to observe I’tikaf. He wanted to spend the last ten days of Ramadan in I’tikaf, so he ordered that a tent be set up for him.” Then ‘Aishah ordered that a tent be set up for her, and Hafash ordered that a tent be set up for her. When Zainab saw their two tents, she also ordered that a tent be set up for her. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw that, he said: “It is righteousness that you seek?” Then he did not observe I’tikaf during Ramadan, and he observed I’tikaf during ten days of Shawwal
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو نماز فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا گیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے ( بھی ) ایک خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کا خیمہ دیکھا تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا: کیا ثواب کے لیے تم سب نے ایسا کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رمضان میں اعتکاف نہیں کیا بلکہ شوال کے مہینہ میں دس دن کا اعتکاف کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that:the Messenger of Allah said: "The best of you are those who are best to their womenfolk
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہوں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً .
It was narrated from Samurah bin Jundub that :the Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling animals for animals on credit
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمُرَ الدِّيلِيَّ، قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الْحَجُّ قَالَ " الْحَجُّ عَرَفَةُ فَمَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ لَيْلَةَ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ " . ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي بِهِنَّ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمُرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِعَرَفَةَ فَجَاءَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى مَا أُرَى لِلثَّوْرِيِّ حَدِيثًا أَشْرَفَ مِنْهُ .
Sufyan bin Bukair bin ‘Ata’ said:“I heard ‘Abdur-Rahman bin Ya’mur Dili say: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was standing at ‘Arafat, and some people from Najd came to him and said: “O Messenger of Allah, what is Hajj?” He said: “Hajj is ‘Arafah. Whoever comes before Fajr prayer on the night of Jam’, he has completed his Hajj. The days at Mina are three. ‘But whosoever hastens to leave in two days, there is no sin on him and whosoever stays on, there is no sin on him.’” [2:203] Then he seated a man behind him on his mount and he started calling out these words.’” Another chain reports a similar hadith
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَرْضَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ " . قَالُوا وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " ذِكْرُ اللَّهِ " . وَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مَا عَمِلَ امْرُؤٌ بِعَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ .
It was narrated from Abu Darda that the Prophet(ﷺ) said:"Shall I not tell you of the best of your deeds, the most pleasing to your Sovereign, those that raise you most in status, that are better than your gold and silver, or meeting you enemy (in battle) and you strike their necks and they strike your necks?" They said: " WHat is that, O Messenger of Allah?" He said: "Remembering Allah(Dhikr)
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل ہو، اور تمہارے مالک کو سب سے زیادہ محبوب ہو، اور تمہارے درجات کو بلند کرتا ہو، اور تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے اور دشمن سے ایسی جنگ کرنے سے کہ تم ان کی گردنیں مارو، اور وہ تمہاری گردنیں ماریں بہتر ہو؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سا عمل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ اللہ کا ذکر ہے ۔ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے والا انسان کا کوئی عمل ذکر الٰہی سے بڑھ کر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لاَ وُضُوءَ لَهُ وَلاَ وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَلاَ صَلاَةَ لِمَنْ لاَ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلاَ صَلاَةَ لِمَنْ لاَ يُحِبُّ الأَنْصَارَ " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْسُ بْنُ مَرْحُومٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
It was narrated by 'Abdul-Muhaimin bin 'Abbas bin Sahl bin Sa'd As-Sa'idi, from his father, from his grandfather, that:The Prophet said: "There is no prayer for one who does not have ablution, and there is no ablution for one who does not mention the Name of Allah (before it). There is no prayer for one who does not send blessing, (Salat) upon the Prophet, and there is no prayer for one who does not love the Ansar." (Da'if) Another chain with similar wording
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں، جس کا وضو نہیں، اور اس شخص کا وضو نہیں جو وضو کے وقت «بسم اللہ» نہ پڑھے، اور اس شخص کی نماز نہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود نہ بھیجے، اور اس شخص کی نماز نہیں جو انصار سے محبت نہ کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ " .
It was narrated from ‘Abdullah that the Prophet (ﷺ) said:“Just before the Hour comes there will be transformations, the earth collapsing, and Qadhf. (i.e. the throwing of stones perhaps as a means of punishment – maybe it refers to landslides).”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے مسخ، ( صورتوں کی تبدیلی ہونا ) زمین کا دھنسنا، اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہو گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، : مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ : " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ فِي اثْنَتَيْنِ : فِي حُبِّ الْحَيَاةِ وَكَثْرَةِ الْمَالِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The heart of an old man is young in the love of two things: Love of life and much wealth.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی زیادتی کی محبت میں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ خَرَجْتُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ فَقَالَ أَبِي مَنْ هَذَا قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ . قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصَابَتْنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ أَسَافِلَ نِعَالِنَا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
It was narrated that Abu Malih said:“I went out on a rainy night (for congregational prayer), and when I came back I asked for the door to be opened. My father said: ‘Who is this?’ I said: ‘Abu Malih.’ He said: ‘We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at Hudaybiyah and it rained a little, such that the soles of our sandals did not get wet. The announcer of the Messenger of Allah (ﷺ) called out: ‘Perform your prayer at your camps.’”
ابوملیح کہتے ہیں کہ میں بارش والی رات میں ( گھر سے ) نکلا، جب واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوایا، میرے والد ( اسامہ بن عمیر ھذلی رضی اللہ عنہ ) نے اندر سے پوچھا: کون؟ میں نے جواب دیا: ابوالملیح، انہوں نے کہا: ہم نے دیکھا کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اور بارش ہونے لگی اور ہمارے جوتوں کے تلے بھی نہ بھیگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: «صلوا في رحالكم» اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو ۱؎۔