بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
36 hadith
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، فِي بَيْتِهِ أَنَا سَأَلْتُهُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ثُمَّ مَرَّ فِي الْحَدِيثِ قَالَ أَوْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الأَمْرُ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ubaidullah bin Abu Rafi from his father, that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "I do not want to find anyone of you reclining on his pillow, and when bad news comes to him of something that I have commanded or forbidden, he says, 'I do not know, whatever we find in the Book of Allah, we will follow
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے ہو، اور اس کے پاس جن چیزوں کا میں نے حکم دیا ہے، یا جن چیزوں سے منع کیا ہے میں سے کوئی بات پہنچے تو وہ یہ کہے کہ میں نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو چیز پائی اس کی پیروی کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Urge your dying ones to say: “La ilaha illallah.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو ( جو مرنے کے قریب ہوں ) «لا إله إلا الله»کی تلقین کرو ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تَقَدَّمُوا صِيَامَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلاَ بِيَوْمَيْنِ إِلاَّ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَيَصُومُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Do not anticipate Ramadan by fasting one or two days before, except for a man who has a habitual pattern of fasting, in which case let him fast.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ الْعَبَّاسَ، سَأَلَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ ‏.‏
Ali bin Abu Talib narrated that :Abbas asked the Prophet about paying his Sadaqah before it is due, and he granted him permission to do that
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زکاۃ پیشگی ادا کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں اس کی رخصت دی۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللَّهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ إِنْ أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِنْ أَقْسَمَ عَلَيْهَا أَبَرَّتْهُ وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Umamah that:the Prophet used to say: “Nothing is of more benefit to the believer after Taqwa of Allah than a righteous wife whom, if he commands her she obeys him, if he looks at her he is pleased, if he swears an oath concerning her she fulfills it, and when he is away from her she is sincere towards him with regard to herself and his wealth.”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: تقویٰ کے بعد مومن نے جو سب سے اچھی چیز حاصل کی وہ ایسی نیک بیوی ہے کہ اگر شوہر اسے حکم دے تو اسے مانے، اور اگر اس کی جانب دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، اور اگر وہ اس ( کے بھروسے ) پر قسم کھا لے تو اسے سچا کر دکھائے، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو عورت اپنی ذات اور اس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُمَا كَتَبَا إِلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ يَسْأَلاَنِهَا عَنْ أَمْرِهَا، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِمَا إِنَّهَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ فَتَهَيَّأَتْ تَطْلُبُ الْخَيْرَ فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ فَقَالَ قَدْ أَسْرَعْتِ اعْتَدِّي آخِرَ الأَجَلَيْنِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏.‏ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمِمَّ ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخْبَرْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنْ وَجَدْتِ زَوْجًا صَالِحًا فَتَزَوَّجِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Masruq and 'Amr bin 'Utbah wrote to Subai'ah bint Harith, asking about her case.:She wrote to them saying that she gave birth twenty-five days after her husband died. Then she prepared herself, seeking to remarry. Abu Sanabil bin Ba'kak passed by her and said: "You are in a hurry; observe waiting period for the longer period, four months and ten days." "So I went to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, (ﷺ) pray for forgiveness for me.' He said: 'Why is that.” I told him (what had happened). He said: 'If you find a righteous husband then marry him
مسروق اور عمرو بن عتبہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو خط لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ ان کا کیا معاملہ تھا؟ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جواب لکھا کہ ان کے شوہر کی وفات کے پچیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر وہ خیر یعنی شوہر کی تلاش میں متحرک ہوئیں، تو ان کے پاس ابوسنابل بن بعکک گزرے تو انہوں نے کہا کہ تم نے جلدی کر دی، دونوں میعادوں میں سے آخری میعاد چار ماہ دس دن عدت گزارو، یہ سن کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کس لیے ؟ میں نے صورت حال بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی نیک اور دیندار شوہر ملے تو شادی کر لو ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلاً يَسْرِقُ فَقَالَ أَسَرَقْتَ قَالَ لاَ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ ‏.‏ فَقَالَ عِيسَى آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ بَصَرِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"Eisa bin Maryam saw a man stealing and said: 'Did you steal?' He said: 'No, by the One besides Whom there is no other God.' 'Eisa said: 'I believe in Allah, and I do not believe what my eyes see
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ پر ایمان لایا، اور میں نے اپنی آنکھ کو جھٹلا دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي أُحَيْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلاَّ رَاعِيَ غَنَمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَأَنَا كُنْتُ أَرْعَاهَا لأَهْلِ مَكَّةَ بِالْقَرَارِيطِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُوَيْدٌ يَعْنِي كُلُّ شَاةٍ بِقِيرَاطٍ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Allah has not sent any Prophet but he was a shepherd." His Companions said to him: "Even you, O Messenger of Allah?" He said: "Even me I used to tend the sheep of the people of Makkah for a few Qirats." (Sahih)(One of the narrators) Suwaid said: " Meaning one Qirat for every sheep
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جتنے بھی نبی بھیجے ہیں، سب نے بکریاں چرائی ہیں ، اس پر آپ کے صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے بھی؟ فرمایا: میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ۱؎۔ سوید کہتے ہیں کہ ہر بکری پر ایک قیراط ملتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ - أَوْ يُعِينُ عَلَى ظُلْمٍ - لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever takes the wrongdoer's side in a dispute or supports wrongdoing, he will remain subject to the wrath of Allah until he gives it up.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ ( اس سے ) باز آ جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الرَّجُلُ أَحَقُّ بِهِبَتِهِ مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A man has more right to his gift so long as he has not gotten something in return for it.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کرنے والا اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کا زیادہ حقدار ہے جب تک اس کا عوض نہ پائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي لَهُ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِدِينَارٍ وَشَاةٍ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْبَرَكَةِ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، لِمَازَةَ بْنِ زَبَّارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ، قَالَ قَدِمَ جَلَبٌ فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دِينَارًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated from 'Urwah Al-Bariqi that :the Prophet (ﷺ) gave him a Dinar to buy him a sheep, and he bought two sheep for him, then he sold one of them for a Dinar, and bought a Dinar and a sheep to the Prophet (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) prayed for blessing for him
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو اس سے انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچ دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دینار اور ایک بکری لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی، راوی کہتے ہیں: ( اس دعا کی برکت سے ) ان ( عروۃ ) کا حال یہ ہو گیا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں نفع کماتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَى لَوْنَكَ مُنْكَفِئًا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ الْخَمْصُ ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقَ الأَنْصَارِيُّ إِلَى رَحْلِهِ فَلَمْ يَجِدْ فِي رَحْلِهِ شَيْئًا فَخَرَجَ يَطْلُبُ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودِيٍّ يَسْقِي نَخْلاً فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ لِلْيَهُودِيِّ أَسْقِي نَخْلَكَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ ‏.‏ وَاشْتَرَطَ الأَنْصَارِيُّ أَنْ لاَ يَأْخُذَ خَدِرَةً وَلاَ تَارِزَةً وَلاَ حَشَفَةً وَلاَ يَأْخُذَ إِلاَّ جَلْدَةً ‏.‏ فَاسْتَقَى بِنَحْوٍ مِنْ صَاعَيْنِ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“A man from among the Ansar Came and said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), why do I see that your color has changed?' He said: 'Hunger.' So the Ansari went to his dwelling, but he did not find anything in his dwelling, so he went out looking, and he found a Jew watering his date-palm trees. The Ansari stipulated that he would not take any dates that were black (rotten), hard and dried out or inferior, and he would only take good quality dates. He earned nearly two Sa's (of dates), and he brought it to the Prophet (ﷺ).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ میں آپ کا رنگ بدلا ہوا پاتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوک سے ، یہ سن کر انصاری اپنے گھر گئے، وہاں انہیں کچھ نہ ملا، پھر کوئی کام ڈھونڈنے نکلے، تو دیکھا کہ ایک یہودی اپنے کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا ہے، انصاری نے یہودی سے کہا: میں تمہارے درختوں کو سینچ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، سینچ دو، کہا: ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور لوں گا، اور انصاری نے یہ شرط بھی لگا لی کہ کالی، سوکھی اور خراب کھجوریں نہیں لوں گا، صرف اچھی ہی لوں گا، اس طرح انہوں نے دو صاع کے قریب کھجوریں حاصل کیں، اور انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَاصِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Samurah bin Jundub that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever becomes the master of a Mahram relative (with whom marriage is not lawful), he becomes free.”
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک بن جائے تو وہ آزاد ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ادْفَعُوا الْحُدُودَ مَا وَجَدْتُمْ لَهُ مَدْفَعًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Ward off the legal punishments as much as you can.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم حدود کو دفع کرو، جہاں تک دفع کرنے کی گنجائش پاؤ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَتِيلُ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلُ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ أَرْبَعُونَ مِنْهَا خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلاَدُهَا ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated from Abdullah bin 'Amr that the Prophet (ﷺ) said:“Killing by mistake that resembles intentionally, is killing with a whip or stick, for which the blood money is one hundred camels, of which forty should be pregnant she-camels in middle of their pregnancies, with their young in their wombs.” Another chain reports a similar hadith
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمداً و قصداً قتل کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل کیا جانے والا وہ ہے جو کوڑے یا ڈنڈے سے مر جائے، اس میں سو اونٹ دیت ( خون بہا ) کے ہیں جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ بَزَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي كَفِّهِ ثُمَّ وَضَعَ أَصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ وَقَالَ ‏ "‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّى تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ فَإِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هَذِهِ - وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ - قُلْتَ أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Busr bin Jahhash Al-Quraishi that :the Prophet (ﷺ) spat in his palm then pointed to it with his index finger and said: “Allah (SWT) says: 'Do you think you can escape from My punishment, O son of Adam, when I have created you from something like this? When your soul reaches here' - and (the Prophet (ﷺ)) pointed to his throat - 'You say: I give charity.' But it is too late for charity?”
بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تم مجھے کس طرح عاجز کرتے ہو، حالانکہ میں نے تمہیں اسی جیسی چیز ( منی ) سے پیدا کیا ہے پھر جب تمہاری سانس یہاں پہنچ جاتی ہے، آپ نے اپنے حلق کی جانب اشارہ فرمایا تو کہتا ہے کہ میں صدقہ کرتا ہوں، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا ؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“People of two different religions do not inherit from one another.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو مذہب والے ( جیسے کافر اور مسلمان ) ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ رِجَالاً مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلاَ سَلَكْتُمْ طَرِيقًا إِلاَّ شَرِكُوكُمْ فِي الأَجْرِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَاجَهْ أَوْ كَمَا قَالَ كَتَبْتُهُ لَفْظًا ‏.‏
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“in Al-Madinah there are men who, every time you crossed a valley or travelled a road, they shared with you in the reward. They were kept behind by (legitimate) excuses.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم جس وادی سے بھی گزرے، یا جس راہ پر چلے ثواب میں ہر جگہ وہ تمہارے شریک رہے، انہیں عذر نے روک رکھا تھا ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ایسا ہی کچھ احمد بن سنان نے کہا میں نے اسے لفظ بلفظ لکھ لیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَسِيدٍ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ قَالَ ‏ "‏ اسْتَقِيمُوا وَنِعِمَّا أَنْ تَسْتَقِيمُوا وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ الصَّلاَةُ وَلاَ يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلاَّ مُؤْمِنٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Umamah said, in a marfu' Hadith:"Adhere to righteousness and it is a blessing if you are able to do so. Know that the best of your deeds is prayer and that no one maintains his ablution except a believer
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم استقامت پر قائم رہو، اور کیا ہی بہتر ہے، اگر تم اس پر قائم رہ سکو، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْعُمْرَةِ فَأَذِنَ لَهُ وَقَالَ ‏ "‏ يَا أُخَىَّ أَشْرِكْنَا فِي شَىْءٍ مِنْ دُعَائِكَ وَلاَ تَنْسَنَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar (from ‘Umar) that he asked the Prophet (ﷺ) for permission to perform ‘Umrah, and he gave him permission and said to him:“O younger brother, give us a share of your supplication, and do not forget us.”
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی، اور ان سے فرمایا: اے میرے بھائی! ہمیں بھی دعاؤں میں شریک رکھنا، اور ہمیں نہ بھولنا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَحَرْنَا بِالْحُدَيْبِيَةِ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:“We offered sacrifices at Al- Hudaibiyah with the Prophet (ﷺ), a camel on behalf of seven (people) and a cow on behalf of seven.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں اونٹ کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر کیا، اور گائے کو بھی سات آدمیوں کی طرف سے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ قَوْمًا، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِلَحْمٍ لاَ نَدْرِي ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لاَ قَالَ ‏ "‏ سَمُّوا أَنْتُمْ وَكُلُوا ‏"‏ ‏.‏ وَكَانُوا حَدِيثَ عَهْدٍ بِالْكُفْرِ ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah, the Mother of the Believers, that some people said:“O Messenger of Allah, some people bring us meat, and we do not know whether the Name of Allah has been mentioned over it or not.” He said: “Say: Bismillah and eat.’ They were new in Islam
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت ( بیچنے کے لیے ) لاتے ہیں، اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بسم اللہ کہہ کر کھاؤ اور وہ لوگ ( ابھی ) نو مسلم تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ إِذَا رَمَيْتَ وَخَزَقْتَ فَكُلْ مَا خَزَقْتَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Adi bin Hatim said:“I said: ‘O Messenger of Allah, we are people who shoot (arrows).’ He said: ‘If you shoot and pierce (the game), then eat what you pierced.’”
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تیر انداز لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تیر مارو اور وہ ( شکار کے جسم میں ) گھس جائے، تو جس کے اندر تیر پیوست ہو جائے اسے کھاؤ ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَالَ أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَاةً فَجَثَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى رُكْبَتَيْهِ يَأْكُلُ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا ‏"‏ ‏.‏
‘Abdullah bin Busr said:“I gave the Prophet (ﷺ) a gift of a sheep, and the Messenger of Allah (ﷺ) sat on his knees to eat. A Bedouin said: ‘What is this sitting?’ He said: ‘Allah has made me a humble and generous slave (of Allah) and has not made me arrogant and stubborn.’”
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے کھانے لگے، اس پر ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے کہا: بیٹھنے کا یہ کون سا انداز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مہربان و شفیق بندہ بنایا ہے، ناکہ مغرور اور عناد رکھنے والا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ، بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:Umar heard that Samurah had sold some wine, and he said: “May Allah ruin Samurah! Does he not know that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘May Allah curse the Jews, for animal fat was forbidden to them, so they melted it down and sold it.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو کہا: اللہ تعالیٰ سمرہ کو تباہ کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہود پر اللہ کی لعنت ہو، اس لیے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، تو انہوں نے اسے پگھلایا اور بیچ دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلاَّ السَّامَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Uthman bin ‘Abdul-Malik said:“I heard Salim bin ‘Abdullah narrating from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘You should eat this black seed, for in it there is healing from every disease, except the Sam (death).’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کالے دانے کا استعمال پابندی سے کرو اس لیے کہ اس میں سوائے موت کے ہر مرض کا علاج ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ لِي يَا بُنَىَّ لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ لَحَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ ‏.‏
It was narrated from Abu Burdah that his father said to him:“O my son, if only you could have seen us when we were with the Messenger of Allah (ﷺ), when rain fell on us; you would have thought that we smelled like sheep.”
ابوبردہ اپنے والد ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! کاش تم ہم کو اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم پر آسمان سے بارش ہوتی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ كَانَ لَهُ ثَلاَثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ وَأَطْعَمَهُنَّ وَسَقَاهُنَّ وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَتِهِ - كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Uqbah bin Amir said, I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say:"Whoever has three daughters and is patient towards them, and feeds them, gives them to drink, and clothes them from his wealth; they will be a shield for him from the Fire on the Day of Resurrection
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس کے پاس تین لڑکیاں ہوں، اور وہ ان کے ہونے پر صبر کرے، ان کو اپنی کمائی سے کھلائے پلائے اور پہنائے، تو وہ اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہوں گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ، كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Farwah bin Nawfal said:"I asked 'Aishah about a supplication that the Messenger of Allah (saas) used to say. She said that he used to say: 'Allahumma inni a'udhu bika min sharri ma 'amiltu, wa min sharri ma lam a'mal (O Allah, I seek refuge with You from the evil of that which I have done and the evil of that which I have not done)
فروہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان کاموں کی برائی سے جو میں نے کئے اور ان کاموں کی برائی سے جو میں نے نہیں کئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَمَّارٍ، - هُوَ الدُّهْنِيُّ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ بِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever sees me in a dream has (really) sees me, for Satan cannot imitate me.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، یقیناً اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ أَصَبْنَا غَنَمًا لِلْعَدُوِّ فَانْتَهَبْنَاهَا فَنَصَبْنَا قُدُورَنَا فَمَرَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالْقُدُورِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ النُّهْبَةَ لاَ تَحِلُّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Tha’labah bin Hakam said:“We came across some of the enemy’s sheep and plundered them, and set up our cooking pots. The Prophet (ﷺ) passed by the pots and ordered that they be overturned, then he said: ‘Plunder is not permissible.’”
ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں دشمن کی کچھ بکریاں ملیں تو ہم نے انہیں لوٹ لیا، اور انہیں ذبح کر کے ہانڈیوں میں چڑھا دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان ہانڈیوں کے پاس ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ الٹ دی جائیں، چنانچہ وہ ہانڈیاں الٹ دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ مار حلال نہیں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خُلَيْدٍ، عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ الدِّمَشْقِيُّ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلاَّ ذِكْرَ اللَّهِ وَمَا وَالاَهُ أَوْ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: ‘This world is cursed and what is in it is cursed, except the remembrance of Allah (dhikr) and what is conducive to that, or one who has knowledge or who acquires knowledge.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کی یاد کے، اور اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، یا عالم کے یا متعلم کے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed said:"The Messenger of Allah said: 'Wait for it to cool down before you pray, for intense heat is from the flaring up of the Hell-fire
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّافِعِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقُولُوا مِثْلَ قَوْلِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When the Mu'adh-dhin calls the Adhan, say as he says
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان دے تو تم بھی انہیں کلمات کو دہراؤ ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ سَبْعُ مَوَاطِنَ لاَ تَجُوزُ فِيهَا الصَّلاَةُ ظَاهِرُ بَيْتِ اللَّهِ وَالْمَقْبَرَةُ وَالْمَزْبَلَةُ وَالْمَجْزَرَةُ وَالْحَمَّامُ وَعَطَنُ الإِبِلِ وَمَحَجَّةُ الطَّرِيقِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Umar bin Khattab that:The Messenger of Allah said: "There are seven places where it is not permissible to perform the prayer: The top of the House of Allah; graveyards; garbage dumps; slaughterhouses; bathrooms; the area that camels rest, and the main road
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات مقامات پر نماز جائز نہیں ہے: خانہ کعبہ کی چھت پر، قبرستان، کوڑا خانہ، مذبح، اونٹوں کے باندھے جانے کی جگہوں اور عام راستوں پر ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ وَقَلَّمَا رَأَيْتُ رَجُلاً أَشَدَّ عَلَيْهِ فِي الإِسْلاَمِ حَدَثًا مِنْهُ فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقْرَأُ ‏{بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}‏ فَقَالَ أَىْ بُنَىَّ إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ فَإِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ رَجُلاً مِنْهُمْ يَقُولُهُ فَإِذَا قَرَأْتَ فَقُلِ ‏{الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}‏ ‏.‏
Ibn ‘Abdullah bin Mughaffal narrated from his father and he said:“I have rarely seen a man for whom innovation in Islam was harder to bear than him. He heard me reciting: ‘In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful’ Bismillahir-Rahmanir-Rahim [1:1] and he said: ‘O my son, beware of innovation, for I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ), and with Abu Bakr, and with ‘Umar, and with ‘Uthman, and I never heard any of them saying this. When you (begin to) recite, say: ‘All the praises and thanks are to Allah, the Lord of all that exists.’ (Al-hamdu Lillahi Rabbil-‘Alamin).’” [1:]
ابن عبداللہ بن مغفل اپنے والد عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ایسا آدمی بہت کم دیکھا جس کو اسلام میں نئی بات نکالنا ان سے زیادہ ناگوار ہوتا ہو، انہوں نے مجھے «بسم الله الرحمن الرحيم» ( بآواز ) بلند پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: بیٹے! تم اپنے آپ کو بدعات سے بچاؤ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «بسم الله الرحمن الرحيم» بآواز بلند پڑھتے ہوئے نہیں سنا، لہٰذا جب تم قراءت کرو تو «الحمد لله رب العالمين» سے کرو۔