بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
12 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لأَحَدٍ غَيْرِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ ‏ "‏ ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Ali said:"I never saw the Messenger of Allah mention his parents together for anyone except Sa'd bin Malik. He said to him on the Day of Uhud: 'Shoot, Sa'd! May my father and mother be sacrificed for you
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سعد! تم تیر چلاؤ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَعْلَمَ قَبْرَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ بِصَخْرَةٍ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) marked the grave of ‘Uthman bin Maz’un with a rock
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کو ایک پتھر سے نشان زد کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي الْوَتْرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said:“We observed I’tikaf with the Messenger of Allah (ﷺ) during the middle ten days of Ramadan. He said: ‘I have been shown Lailatul-Qadr, then I was caused to forget it, so seek it in the last ten night, on the odd-numbered nights.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے شب قدر خواب میں دکھائی گئی لیکن پھر مجھ سے بھلا دی گئی، لہٰذا تم اسے رمضان کے آخری عشرہ ( دہے ) کی طاق راتوں میں ڈھونڈھو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ سُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ فِي شَىْءٍ ‏.‏ فَقَالَتْ صَفِيَّةُ يَا عَائِشَةُ هَلْ لَكِ أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِّي وَلَكِ يَوْمِي قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ ثُمَّ قَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ إِلَيْكِ عَنِّي إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ‏.‏ فَأَخْبَرَتْهُ بِالأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا ‏.‏
It was narrated from 'Aishah:that the Messenger of Allah became angry with Safiyyah bint Huyai for something, and Safiyyah said: "O 'Aishah, can you make the Messenger of Allah be pleased with me, and I will give you my day?" She said: "Yes." So she took a headcover of hers that was dyed with saffron and sprinkled it with water so that its fragrance would become stronger, then she sat beside the Messenger of Allah. The Prophet said: "O 'Aishah, go away, because it is not your day!" She said: "That is the Grace of Allah which He bestows on whom He pleases." Then she told him about that matter and he was pleased with her
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا پر کسی وجہ سے ناراض ہو گئے، تو صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عائشہ! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کر سکتی ہو، اور میں اپنی باری تم کو ہبہ کر دوں گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، چنانچہ انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا، اور اس پہ پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو پھوٹے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ مجھ سے دور ہو جاؤ، آج تمہاری باری نہیں ہے ، تو انہوں نے کہا: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور پورا قصہ بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہو گئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْمُزَابَنَةِ ‏.‏ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ تَمْرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَتْ نَخْلاً بِتَمْرٍ كَيْلاً وَإِنْ كَانَتْ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلاً وَإِنْ كَانَتْ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ ‏.‏
It was narrated that 'Abduilah bin 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the Muzabanah. The Muzdbanah means when a man sells the dates of his grove when they are still on the tree, for a measure of dty dates;[2] or, if it is grapes, he sells them when they are still on the vine, for a measure of raisins; or if it is a crop, he sells it for food, estimating the amount (of the crop in the field). He forbade all of these things
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کی کھجور کو جو درختوں پر ہو خشک کھجور کے بدلے ناپ کر بیچے، یا انگور کو جو بیل پر ہو کشمش کے بدلے ناپ کر بیچے، اور اگر کھیتی ہو تو کھیت میں کھڑی فصل سوکھے ہوئے اناج کے بدلے ناپ کر بیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سے منع کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَلِّمَانِهِ فِيمَا قَسَمَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ فَقَالاَ قَسَمْتَ لإِخْوَانِنَا بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَقَرَابَتُنَا وَاحِدَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا أَرَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ شَيْئًا وَاحِدًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Sa’eed bin Musayyab that Jubair bin Mut’im told him that he and ‘Uthman bin ‘Affan came to the Messenger of Allah (ﷺ) to speak to him about the way in which the one fifth from Khaibar had been distributed to Banu Hashim and Banu Muttalib. They said:“You have distributed it to our brothers Banu Hashim and Banu Muttalib, but we are related to you (to Banu Hashim) in the same way (as Banu Muttalib).” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Rather I think that Banu Hashim and Banu Muttalib are the same.”
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور خیبر کے خمس مال میں سے جو حصہ آپ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا اس کے بارے میں گفتگو کرنے لگے، چنانچہ انہوں نے کہا: آپ نے ہمارے بھائی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو تو دے دیا، جب کہ ہماری اور بنی مطلب کی قرابت بنی ہاشم سے یکساں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کو ایک ہی سمجھتا ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِعَرَفَةَ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَا الْمَوْقِفُ وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Ali said:“The Messenger of Allah (ﷺ) stopped at ‘Arafat and said: ‘This is the place of standing, and all of ‘Arafat is a place of standing.’”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا، اور فرمایا: یہ جگہ اور سارا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ أَلاَ أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِيَخْرُجَ فَأَذْكَرْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}‏ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed bin Mu'alla said:"The Messenger of Allah(ﷺ) said to me: 'Shall I not teach you the greatest Surah in the QUran before I leave the masjid?' Then the Propeht(ﷺ) went to leave, so I reminded him, and he said: Al-hamdulillahi Rabbil-Alameen (All the praise is to Allah, the Lord of all that exists). It is the Seven Oft-Recited Verses, and it is the Grand Quran that has been given to me
ابوسعید بن معلّیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں وہ سورت نہ سکھاؤں جو قرآن مجید میں سب سے عظیم سورت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورت«الحمد لله رب العالمين» ہے جو سبع مثانی ہے، اور قرآن عظیم ہے، جو مجھے عطا کیا گیا ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ النَّوْمِ فَأَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلاَ يُدْخِلْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ وَلاَ عَلَى مَا وَضَعَهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of oyu gets up from sleep and wants to perform ablution, he should not put his hand into the vessel he used for ablution until he has washed it, because he does not know where his hand spent the night or where he put it.'" [(One of the narrators) Abu Ishaq said: "What is correct is that it is narrated from Jabir, from Abu Hurairah
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے اٹھے، اور وضو کرنا چاہے تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے، جب تک کہ اسے دھو نہ لے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا، اور اس نے اسے کس چیز پہ رکھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ عَبْدًا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ فَإِذَا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ مَقِيتًا مُمَقَّتًا فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ مَقِيتًا مُمَقَّتًا نُزِعَتْ مِنْهُ الأَمَانَةُ فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الأَمَانَةُ لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ خَائِنًا مُخَوَّنًا فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ خَائِنًا مُخَوَّنًا نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ رَجِيمًا مُلَعَّنًا فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلاَّ رَجِيمًا مُلَعَّنًا نُزِعَتْ مِنْهُ رِبْقَةُ الإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) said:“When Allah wants to destroy a person, He takes away modesty from him, you will only see him with the wrath of Allah upon him, and he will be hated by people. When you only see him with the wrath of Allah upon him, and hated by people, then honesty will be taken away from him, and when honesty is taken away from him, you will only see him as a traitor who is called such by others. When you only see him as a traitor who is called such by others, then mercy will be taken away from him, and when mercy is taken away from him, you will only see him as rejected and accursed, and when you only see him as rejected and accursed, then the bond of Islam will be taken away from him.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے شرم و حیاء کو نکال لیتا ہے، پھر جب حیاء اٹھ جاتی ہے تو اللہ کے قہر میں گرفتار ہو جاتا ہے، اور اس حالت میں اس کے دل سے امانت بھی چھین لی جاتی ہے، اور جب اس کے دل سے امانت چھین لی جاتی ہے تو وہ چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے، اور جب چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے تو اس کے دل سے رحمت چھین لی جاتی ہے، اور جب اس سے رحمت چھین لی جاتی ہے تو تم اسے ملعون و مردود پاؤ گے، اور جب تم ملعون و مردود دیکھو تو سمجھ لو کہ اسلام کا قلادہ اس کی گردن سے نکل چکا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الأَنْمَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏:‏ ‏"‏ مَثَلُ هَذِهِ الأُمَّةِ كَمَثَلِ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ ‏:‏ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً وَعِلْمًا فَهُوَ يَعْمَلُ بِعِلْمِهِ فِي مَالِهِ يُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالاً فَهُوَ يَقُولُ ‏:‏ لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ هَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏:‏ ‏"‏ فَهُمَا فِي الأَجْرِ سَوَاءٌ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ يُنْفِقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ وَرَجُلٌ لَمْ يُؤْتِهِ اللَّهُ عِلْمًا وَلاَ مَالاً فَهُوَ يَقُولُ ‏:‏ لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ مَالِ هَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏:‏ ‏"‏ فَهُمَا فِي الْوِزْرِ سَوَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُفَضَّلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated that Abu Kabshah Al-Anmari said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The likeness of this nation is that of four people: A man to whom Allah gives wealth and knowledge, so he acts according to his knowledge with regard to his wealth, spending it as it should be spent; a man to whom Allah gives knowledge, but he does not give him wealth, so he says: “If I had been given (wealth) like this one, I would have done what (the first man) did.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘They will be equal in reward. And a man to whom Allah gives wealth but does not give knowledge, so he squanders his wealth and spends it in inappropriate ways; and a man to whom Allah gives neither knowledge nor wealth, and he says: “If I had (wealth) like this one, I would do what (the third man) did.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘They are equal in their burden (of sin).’” A similar report (as above) was narrated from Ibn Abu Kabshah, from his father, from the Prophet (ﷺ)
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کی مثال چار لوگوں جیسی ہے: ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال اور علم عطا کیا، تو وہ اپنے علم کے مطابق اپنے مال میں تصرف کرتا ہے، اور اس کو حق کے راستے میں خرچ کرتا ہے، ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا اور مال نہ دیا، تو وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ دونوں اجر میں برابر ہیں، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا لیکن علم نہیں، دیا وہ اپنے مال میں غلط روش اختیار کرتا ہے، ناحق خرچ کرتا ہے، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ نے نہ علم دیا اور نہ مال، تو وہ کہتا ہے: کاش میرے پاس اس آدمی کے جیسا مال ہوتا تو میں اس ( تیسرے ) شخص کی طرح کرتا یعنی ناحق خرچ کرتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فِي الصَّلاَةِ ‏.‏
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said:“I saw the Prophet (ﷺ) departing to his right and to his left when he finished the prayer.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز سے فراغت کے بعد ( کبھی ) دائیں اور ( کبھی ) بائیں جانب سے مڑتے تھے