حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ " .
It was narrated that Musa bin Talhah said:We were with Mu'awiyah and he said: "I heard the Messenger of Allah say: 'Talhah is one of those who fulfilled their covenant
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ الأَدْرَعِ السُّلَمِيِّ، قَالَ جِئْتُ لَيْلَةً أَحْرُسُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَإِذَا رَجُلٌ قِرَاءَتُهُ عَالِيَةٌ فَخَرَجَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُرَاءٍ . قَالَ فَمَاتَ بِالْمَدِينَةِ فَفَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ فَحَمَلُوا نَعْشَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " ارْفُقُوا بِهِ رَفَقَ اللَّهُ بِهِ إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . قَالَ وَحَفَرَ حُفْرَتَهُ فَقَالَ " أَوْسِعُوا لَهُ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ حَزِنْتَ عَلَيْهِ . فَقَالَ " أَجَلْ إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
It was narrated that Adra’ As-Sulami said:“I came one night to guard the Prophet (ﷺ), and there was a man reciting loudly. The Prophet (ﷺ) came out and I said: ‘O Messenger of Allah, this man is showing off.’ Then he died in Al-Madinah, and they finished preparing him, then they carried his dead body. The Prophet (ﷺ) said: ‘Be gentle with him, may Allah be gentle with him, for he loved Allah and His Messenger.’ Then his grave was dug and he (the Prophet (ﷺ)) said: ‘Make it spacious for him, and may Allah make it spacious for him.’ Some of his Companions said: ‘O Messenger of Allah, you are grieving for him.’ He said: ‘Yes indeed, for he loved Allah and His Messenger.’”
ادرع سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات آیا، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہ داری کیا کرتا تھا، ایک شخص بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو ریاکار معلوم ہوتا ہے، پھر اس کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، جب لوگ اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے، تو لوگوں نے اس کی لاش اٹھائی تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ نرمی کرو ، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی کرے، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا، ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کی قبر کھودی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قبر کشادہ کرو، اللہ اس پر کشادگی کرے ، یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کی وفات پر آپ کو غم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأُمَوِيِّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ " الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“A grateful eater is equal to a patient fasting person.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا صبر کرنے والے روزہ دار کے ہم رتبہ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ ثُمَّ يَقُولُ " اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلاَ تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلاَ أَمْلِكُ " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah used to divide his time equally among his wives, then he would say 'O Allah, this is what I am doing with regard to that which is within my control, so do not hold me accountable for that which is under Your control and is beyond my control
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان باری مقرر کرتے، اور باری میں انصاف کرتے، پھر فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میرا کام ہے جس کا میں مالک ہوں، لہٰذا تو مجھے اس معاملہ ( محبت کے معاملہ ) میں ملامت نہ کر جس کا تو مالک ہے، اور میں مالک نہیں ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالُوا أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ كَسْرِ سِكَّةِ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةِ بَيْنَهُمْ إِلاَّ مِنْ بَأْسٍ " .
It was narrated from 'Alqamah bin 'Abdullah that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade breaking the coins of the Muslims that are in circulation among them, without any necessary reason.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر ضرورت مسلمانوں کے رائج سکہ کو توڑنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَأَبُو عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade traveling with the Qur’an to the land of the enemy, lest the enemy gets hold of it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت اس خطرے کے پیش نظر فرمائی کہ کہیں اسے دشمن پا نہ لیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ وَمِنَّا مَنْ يُهِلُّ فَلَمْ يَعِبْ هَذَا عَلَى هَذَا وَلاَ هَذَا عَلَى هَذَا - وَرُبَّمَا قَالَ هَؤُلاَءِ عَلَى هَؤُلاَءِ وَلاَ هَؤُلاَءِ عَلَى هَؤُلاَءِ .
It was narrated that Anas said:“We went in the morning on this day with the Messenger of Allah (ﷺ) from Mina to ‘Arafat. Some of us recited the Takbir (Allahu Akbar) and some of us recited the Tahlil (La ilaha illallah), and neither criticized the other.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا: نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا، اور نہ ان لوگوں نے ان پر
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ تَعَاهَدَهَا صَاحِبُهَا بِعُقُلِهَا أَمْسَكَهَا عَلَيْهِ وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ " .
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"The likeness of the Quran is that of a hobbled camel. If its owner ties its rope, he will keep it, but if he loosens its rope it will go away
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جب تک مالک اسے باندھ کر دیکھ بھال کرتا رہے گا تب تک وہ قبضہ میں رکھے گا، اور جب اس کی رسی کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلاَ يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
Sa'eed bin Musayyab and Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman narrated that :Abu Hurairah used to say: "The Messenger of Allah said: 'When anyone of you wakes up from sleep, he should not put his hand into the vessel until he has poured water on it two or three times, for none of you knows where his hand spent the night
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص رات کو سو کر بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، جب تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پہ پانی نہ بہا لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ قَالَ " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ " الْقَتْلُ " .
It was narrated from Abu Hurairah in a Marfu’ report (meaning, attributed to the Prophet (ﷺ)):“Time will pass quickly, knowledge will decrease, miserliness will be cast into people’s hearts, tribulations will appear and there will be much Harj.” They said: “O Messenger of Allah, what is Harj?” He said: “Killing.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ ایک دوسرے سے قریب ہو جائے گا، ۱؎ علم گھٹ جائے گا، ( لوگوں کے دلوں میں ) بخیلی ڈال دی جائے گی، فتنے ظاہر ہوں گے، اور «هرج» زیادہ ہو گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «هرج» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْمَلُ الْعَمَلَ فَيُطَّلَعُ عَلَيْهِ فَيُعْجِبُنِي قَالَ : " لَكَ أَجْرَانِ : أَجْرُ السِّرِّ وَأَجْرُ الْعَلاَنِيَةِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:“A man said: ‘O Messenger of Allah, I do a good deed, then others find out about it and that pleases me.’ He said: ‘You will have two rewards, the reward for doing it in secret and the reward for doing it openly (so that others may follow your example).’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں کوئی عمل کرتا ہوں، لوگوں کو اس کی خبر ہوتی ہے، تو وہ میری تعریف کرتے ہیں، تو مجھے اچھا لگتا ہے، ( اس کے بارے میں فرمائیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے دو اجر ہیں: پوشیدہ عمل کرنے کا اجر اور اعلانیہ کرنے کا اجر ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَّنَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ جَانِبَيْهِ جَمِيعًا .
It was narrated from Qabisah bin Hulb that his father said:“The Prophet (ﷺ) led us (in prayer), and he used to depart from both sides. (i.e. from either side).”
ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے مڑتے تھے ۱؎۔