بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
12 hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ طَلْحَةَ، مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ شَهِيدٌ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir that:Talhah passed by the Prophet and he said: "A martyr walking upon the face of the earth
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید ہیں جو روئے زمین پر چل رہے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَلْحَدُ وَآخَرُ يَضْرَحُ. فَقَالُوا: نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا وَنَبْعَثُ إِلَيْهِمَا فَأَيُّهُمَا سَبَقَ تَرَكْنَاهُ ‏.‏ فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ. فَلَحَدُوا لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“When the Prophet (ﷺ) died, there was a man in Al-Madinah who used to make a niche in the grave and another who used to dig graves without a niche. They said: ‘Let us pray Istikharah to our Lord and call for them both, and whichever of them comes first, we will let him do it.’ So they were both sent for, and the one who used to make the niche-grave came first, so they made a niche-grave for the Prophet (ﷺ).”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، تو مدینہ میں قبر بنانے والے دو شخص تھے، ایک بغلی قبر بناتا تھا، اور دوسرا صندوقی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں، اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں ( پھر جو کوئی پہلے آئے گا، ہم اسے کام میں لگائیں گے ) اور جو بعد میں آئے اسے چھوڑ دیں گے، ان دونوں کو بلوایا گیا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ النِّسَاءَ أَنْ يَصُمْنَ إِلاَّ بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa’eed said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade women from fasting without the permission of their husbands.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو منع فرمایا کہ وہ اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر ( نفلی ) روزہ رکھیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ مَعَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah:that the Messenger of Allah said: "Whoever has two wives and favors one of them over the other, he will come on the Day of Resurrection with one of his sides leaning
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل رہے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہو گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّافِعِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِوَرِقٍ فَلْيَصْطَرِفْهَا بِذَهَبٍ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِذَهَبٍ فَلْيَصْطَرِفْهَا بِالْوَرِقِ وَالصَّرْفُ هَاءَ وَهَاءَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Umar bin Muhammad bin 'Ali bin abi Talib, from his father, that his grandfather said:'The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Dinar for Dinar, Dirham for Dirham, with no increase between them. Whoever has need of silver, let him trade gold for it, and whoever has need of gold, let him trade silver for it, and let the transaction be done on the spot
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دینار کو دینار سے، اور درہم کو درہم سے بیچو ان میں کمی بیشی نہ ہو، اور جس کو چاندی کی حاجت ہو تو وہ اس کو سونے سے بھنا لے، اور جس کو سونے کی حاجت ہو اس کو چاندی سے بھنا لے، لیکن یہ نقدا نقد ہو، ایک ہاتھ سے لے دوسرے ہاتھ سے دے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ضَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْخَيْلَ فَكَانَ يُرْسِلُ الَّتِي ضُمِّرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَالَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) made a horse lean, and he would send the horse that he had made lean from Hafya’ to Thaniyyatul-Wada’, and (he would send) the horse that he had not made lean from Thaniyyatul-Wada’ to the mosque of Banu Zuraiq.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کو پھرتیلا بنایا، آپ پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کو مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک اور غیر پھرتیلے گھوڑوں کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑاتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا قَالَ ‏ "‏ لاَ مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:‘I said: ‘O Messenger of Allah, should we not build you a house in Mina?’ He said: ‘No, Mina is just a stopping place for those who get there first.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ أَنَا الَّذِي أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَأَظْمَأْتُ نَهَارَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Buraidah that his father told that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"The Quran will come on the Day of Resurrection, like a pale man, and will say: 'I am the one that kept you awake at night and made you thirsty during the day
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن قرآن ایک تھکے ماندے شخص کی صورت میں آئے گا، اور حافظ قرآن سے کہے گا کہ میں نے ہی تجھے رات کو جگائے رکھا، اور دن کو پیاسا رکھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ الأَزْدِيُّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ صَبَبْتُ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَاءَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ فِي الْوُضُوءِ ‏.‏
It was narrated that Safwan bin 'Assal said:"I poured water for the Prophet on journeys and as a resident, when he performed ablution
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر و حضر میں کئی بار وضو کرایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ يَكُونُ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ ‏"‏ ‏.‏ وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Just before the Hour, there will be days when knowledge will disappear, ignorance will become widespread and there will be much Harj. And Harj means killing.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب کچھ دن ایسے ہوں گے جن میں علم اٹھ جائے گا، جہالت بڑھ جائے گی، اور «هرج» زیادہ ہو گا ، «هرج»: قتل کو کہتے ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي ثُبَيْتٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏:‏ ‏ "‏ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ مَلأَ اللَّهُ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ خَيْرًا وَهُوَ يَسْمَعُ، وَأَهْلُ النَّارِ مَنْ مَلأَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ شَرًّا وَهُوَ يَسْمَعُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The people of Paradise are those whose ears Allah fills with the praise of people when they are listening, and the people of Hell- fire are those whom He fills their ears with condemnation when they are listening.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی اچھی تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو، اور جہنمی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی بری تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو ۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ - وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ قُلْتُ - يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الأَمْوَالِ وَالدُّثُورِ بِالأَجْرِ يَقُولُونَ كَمَا نَقُولُ وَيُنْفِقُونَ وَلاَ نُنْفِقُ ‏.‏ قَالَ لِي ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ أَدْرَكْتُمْ مَنْ قَبْلَكُمْ وَفُتُّمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، تَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ وَتُسَبِّحُونَهُ، وَتُكَبِّرُونَهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَأَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ لاَ أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ أَرْبَعٌ ‏.‏
It was narrated that Abu Dharr said:“It was said to the Prophet (ﷺ) and perhaps (one of the narrators) Sufyan said: I said: O Messenger of Allah! Those who have property and wealth have surpassed us in reward. They say the same as we do, and they spend but we do not spend.’ He said to me: ‘Shall I not tell you something which, if you do it, you will catch up with those who have surpassed you and you will excel over those who come after you? Praise Allah (by saying Al- Hamdu Lillah) after every prayer, and glorify Him (by saying Subhan- Allah) and extol Him (by saying Allahu Akbar), thirty-three, thirty- three, and thirty-four times.’” Sufyan said: “I do not know which of them was to be recited thirty-four times.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یا میں نے کہا: اللہ کے رسول! مال و دولت والے اجر و ثواب میں آگے بڑھ گئے، وہ بھی ذکرو اذکار کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں، اور وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں اور ہم نہیں کر پاتے ہیں، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو تو ان لوگوں ( کے مقام ) کو پا لو گے جو تم سے آگے نکل گئے، بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ جاؤ گے، تم ہر نماز کے بعد «الحمد لله» «سبحان الله» اور «الله أكبر» کہو ( ۳۳ ) بار، ( ۳۳ ) بار اور ( ۳۴ ) بار ۔ سفیان نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ ان تینوں کلموں میں سے کس کو ( ۳۴ ) بار کہا۔