حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ قُرَيْظَةَ " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ " . فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا . فَقَالَ " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ " . قَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا . ثَلاَثًا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah said on the Day of Quraizah: 'Who will bring us news of the people?' Zubair said: 'I will.' The Prophet said: 'Who will bring us news of the people?' Zubair said: 'I will,' three times. Every Prophet has a Hawari (sincere supporter or disciple) and my Hawari is Zubair
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم ( یعنی یہود بنی قریظہ ) کی خبر لائے؟، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟ ، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری ( خاص مددگار ) ہوتے ہیں، اور میرے حواری ( خاص مددگار ) زبیر ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الأَعْلَى، يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا " .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The niche-grave is for us and the ditch-grave is for others.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر ( لحد ) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ " .
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said:“A woman came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, my mother has died and she owed a fast. Should I fast on her behalf?’ He said: ‘Yes.’”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور اس پر روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْمُحْرِمُ لاَ يَنْكِحُ وَلاَ يُنْكِحُ وَلاَ يَخْطُبُ " .
It was narrated from Aban bin 'Uthman bin 'Affan' that his father said:"The Messenger of Allah said: 'The one in lhram should not get married, nor arrange a marriage for anyone else, nor Propose marriage
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم نہ تو اپنا نکاح کرے، اور نہ دوسرے کا نکاح کرائے، اور نہ ہی شادی کا پیغام دے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرِّبْعِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَأْمُرُ، بِالصَّرْفِ - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ - وَيُحَدَّثُ ذَلِكَ عَنْهُ ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ فَلَقِيتُهُ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجَعْتَ . قَالَ نَعَمْ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ رَأْيًا مِنِّي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّرْفِ .
It was narrated that Abu Jawza' said:"I heard him meaning Ibn 'Abbas allowing exchange (of Dirhams for Dirham etc., if extra was given) and that was narrated from him. Then I heard that he has taken back this opinion. I met him in Makkah and said: 'I heard that you had taken back (your opinion).' He said: 'Yes. That was just my own opinion, but Abu Sa'eed narrated from the Messenger of Allah (ﷺ) that he forbade exchange (of like items if extra is given)
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیع صرف کے جواز کا حکم دیتے سنا، اور لوگ ان سے یہ حدیث روایت کرتے تھے، پھر مجھے یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا ہے، تو میں ان سے مکہ میں ملا، اور میں نے کہا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس سے رجوع کر لیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، وہ میری رائے تھی، اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع صرف سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ، تَقُولُ جِئْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نِسْوَةٍ نُبَايِعُهُ فَقَالَ لَنَا " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ إِنِّي لاَ أُصَافِحُ النِّسَاءَ " .
Muhammad bin Munkadir said that he heard Umaimah bint Ruqaiqah say:“I came to the Prophet (ﷺ) with some other women, to offer our pledge to him. He said to us: ‘(I accept your pledge) with regard to what you are able to do. But I do not shake hands with women.’”
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے آئی، تو آپ نے ہم سے فرمایا: ( امام کی بات سنو اور مانو ) جہاں تک تمہارے اندر طاقت و قوت ہو، میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّافِعِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَرْبَعَ عُمَرٍ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ مِنْ قَابِلٍ وَالثَّالِثَةَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) performed ‘Umrah four times: The ‘Umrah of Hudaibiyah, the ‘Umrah to make up for (the one not completed previously), the third from Ji’ranah and the fourth that he did with his Hajj.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے: عمرہ حدیبیہ، عمرہ قضاء جو دوسرے سال کیا، تیسرا عمرہ جعرانہ سے، اور چوتھا جو حج کے ساتھ کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ أَنْ تُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِشَىْءٍ أَوْ فَلْيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا " .
It was narrated from Abu Musa that the Prophet(ﷺ) said:"When anyone of you passes through our masjid or our marketplace carrying arrows, let him hold them by their heads, lest he hurt any Muslims
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد یا بازار میں سے ہو کر گزرے، اور اس کے ساتھ تیر ہو تو اس کی پیکان اپنی ہتھیلی سے پکڑے رہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو اس کی نوک لگ جائے، ( اور وہ زخمی ہو ) ، یا چاہیئے کہ وہ تیر کی پیکان اپنی مٹھی میں دبائے رہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - هُوَ ابْنُ مِقْسَمٍ - عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُئِلَ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِسِنْجَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - هُوَ ابْنُ مِقْسَمٍ - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
It was narrated from Jabir that:The Prophet was asked about seawater, and he said: "Its water is a means of purification, and its dead meat is permissible." (Hasan) Another chain with similar wording
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَفِيضَ الْمَالُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " . قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْقَتْلُ الْقَتْلُ الْقَتْلُ " . ثَلاَثًا .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Hour will not begin until wealth becomes abundant and tribulations appear, and Harj increases.” They said: “What is Harj, O Messenger of Allah?” He said: “Killing, killing, killing,” three times
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک مال کی خوب فراوانی نہ ہو جائے، اور فتنہ عام نہ ہو جائے «هرج» کثرت سے ہونے لگے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «هرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: قتل، قتل، قتل ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالنَّبَا أَوِ النَّبَاوَةِ - قَالَ وَالنَّبَاوَةُ مِنَ الطَّائِفِ - قَالَ " يُوشِكُ أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " . قَالُوا بِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ وَالثَّنَاءِ السَّيِّئِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ " .
It was narrated from Abu Bakr bin Abu Zuhair Ath-Thaqafi, that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us in Nabawah” or Banawah – he (one of the narrators) said: “Nabawah is near Ta’if” – “And said: ‘Soon you will be able to tell the people of Paradise from the people of Hell.’ They said: ‘How O Messenger of Allah?’ He said: ‘By praise and condemnation. You are Allah’s witnesses over one another.’”
ابوزہیر ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نباوہ یا بناوہ ( طائف کے قریب ایک مقام ہے ) میں خطبہ دیا، اور فرمایا: تم جلد ہی جنت والوں کو جہنم والوں سے تمیز کر لو گے ، لوگوں نے سوال کیا: کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی تعریف اور بری تعریف کرنے سے تم ایک دوسرے کے اوپر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلاَّ مِقْدَارَ مَا يَقُولُ " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " .
It was narrated that ‘Aishah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) said the Salam, he would sit only for as long as it took to say: ‘Allahumma Antas-Salam wa minkas-salam. Tabarakta ya Dhal-jalali wal- ikram. (O Allah, You are As-Salam, From You is all peace, blessed are You O Possessor of majesty and honour).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو ( اپنے مصلے پر قبلہ رو ) اس قدر بیٹھتے جتنے میں یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور تیری جانب سے سلامتی ہے، اے بزرگی و برتری والے! تو بابرکت ہے ۱؎۔