بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
12 hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ، - وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَنَالَ مِنْهُ فَغَضِبَ سَعْدٌ وَقَالَ تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏"‏ مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Sa`d bin Waqqas said:"Mu`awiyah came on one of his pilgrimages and Sa`d entered upon him. They mentioned `Ali, and Mu`awiyah criticized him. Sa`d became angry and said: 'Are you saying this of a man of whom I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "If I am a person's close friend, `Ali is also his close friend." And I heard him say: "You are to me like Harun was to Musa, except that there will be no Prophet after me." And I heard him say: "I will give the banner today to a man who loves Allah and His Messenger
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس کا مولیٰ میں ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ بھی سنا: تم ( یعنی علی ) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ حَضَرْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ‏.‏ فَلَمَّا أُخِذَ فِي تَسْوِيَةِ اللَّبِنِ عَلَى اللَّحْدِ قَالَ اللَّهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ جَافِ الأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا وَصَعِّدْ رُوحَهَا وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا ‏.‏ قُلْتُ يَا ابْنَ عُمَرَ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمْ قُلْتَهُ بِرَأْيِكَ قَالَ إِنِّي إِذًا لَقَادِرٌ عَلَى الْقَوْلِ بَلْ شَىْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏
(It was narrated that Sa’eed bin Musayyab said:“I was present with Ibn ‘Umar at a funeral. When the body was placed in the niche-grave) he said, ‘Bismillah wa fi sabil-illah wa ‘ala millati rasul-illah’ (In the Name of Allah, for the sake of Allah and according to the religion of the Messenger of Allah). When he started to place bricks in the niche-grave he said: ‘Allahumma ajirha min ash-shaitani wa min ‘adhabil-qabr. Allahumma Jafil-arda ‘an janbaiha, wa sa’id ruhaha, wa laqqiha minka ridwana (O Allah, protect him from Satan and from the torment of the grave; O Allah, keep the earth away from his two sides and take his soul up and grant him pleasure from Yourself).’ I said: ‘O Ibn ‘Umar, is this something that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ) or is it your own words?’ He said: ‘I could have said something like that, but this is something that I heard from the Messenger of Allah (ﷺ).’”
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک جنازے میں آیا، جب انہوں نے اسے قبر میں رکھا تو کہا: «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» اور جب قبر پر اینٹیں برابر کرنے لگے تو کہا: «اللهم أجرها من الشيطان ومن عذاب القبر اللهم جاف الأرض عن جنبيها وصعد روحها ولقها منك رضوانا» اے اللہ! تو اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے بچا، اے اللہ! زمین کو اس کی پسلیوں سے کشادہ رکھ، اور اس کی روح کو اوپر چڑھا لے، اور اپنی رضا مندی اس کو نصیب فرما میں نے کہا: اے ابن عمر! یہ دعا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، یا اپنی طرف سے پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر ایسا ہو تو مجھے اختیار ہو گا، جو چاہوں کہوں ( حالانکہ ایسا نہیں ہے ) بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، وَالْحَكَمِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“A woman came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, my sister has died and she owed a fast of two consecutive months.’ He said: ‘Do you not think that if your sister owed a debt, you would pay it off for her?’ She said: ‘Of course.’ He said: ‘The right of Allah is greater.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بہن کا انتقال ہو گیا، اور اس پہ مسلسل دو ماہ کے روزے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ اگر تمہاری بہن پہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں ؟ اس نے کہا: ہاں، ضرور ادا کرتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا زیادہ اہم ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَكَحَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet got married while he was a Muhrim (in Ihram)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ الدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَمَا إِنِّي لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي تَقُولُ فِي الصَّرْفِ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمْ شَىْءٌ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ مَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلاَ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"I heard Abu Saeed Al-Khudri say: 'A Dirham for a Dirham and a Dinar for a Dinar.' So I said: 'I heard Ibn 'Abbas say something other than that.' He said: 'But I met Ibn 'Abbas and said: "Tell me about what you say concerning exchange is it something that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ) or something that You found in the Book of Allah?" He said: "I did not find it in the Book of Allah, and I did not hear it from the Messenger of Allah; rather Usamah bin Zaid told me that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Usury is only in credit
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ درہم کو درہم سے، اور دینار کو دینار سے برابر برابر بیچنا چاہیئے، تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کچھ اور کہتے سنا ہے، ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جا کر ملا، اور میں نے ان سے کہا: آپ بیع صرف کے متعلق جو کہتے ہیں مجھے بتائیے، کیا آپ نے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کتاب اللہ ( قرآن ) میں اس سلسلہ میں آپ کو کوئی چیز ملی ہے؟ اس پر وہ بولے: نہ تو میں نے اس کو کتاب اللہ ( قرآن ) میں پایا ہے، اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے سنا ہے، البتہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سود صرف ادھار میں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلاَ إِنَّهُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“For every traitor a banner will be set up on the Day of Resurrection, commensurate with his treachery.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے اس کی دغا بازی کے بقدر ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أُمَيَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ كَانَتْ لَهُ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَخَرَجْتُ - أَىْ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ - بِعُمْرَةٍ ‏.‏
It was narrated from Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ), that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever begins the Talbiyah for ‘Umrah from Baitul-Maqdis, that will be an expiation for all his previous sins.” She said: “So I went out.” Meaning, from Baitul-Maqdis for ‘Umrah
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا یہ اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ ہو گا ، تو میں بیت المقدس سے عمرہ کے لیے نکلی۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفَيْانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ مَرَّ رَجُلٌ بِسِهَامٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
Jabir bin 'Abdullah said:"A man passed through the masjid with some arrows, and the Messenger of Allah(ﷺ) said: 'Hold them by their heads!' He said: 'Yes(ok)
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا: کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص مسجد میں تیر لے کر گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی پیکان ( نوک و پھل ) تھام لو ، انہوں نے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، قَالَ كُنْتُ أَصِيدُ وَكَانَتْ لِي قِرْبَةٌ أَجْعَلُ فِيهَا مَاءً وَإِنِّي تَوَضَّأْتُ بِمَاءِ الْبَحْرِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn Firasi said:"I was fishing and I had a vessel with me in which I kept water, and I used seawater for ablution. I mentioned that to the Messenger of Allah and he said: 'Its water is a means of purification, and its dead meat is permissible
ابن الفراسی کہتے ہیں کہ میں شکار کیا کرتا تھا، میرے پاس ایک مشک تھی، جس میں میں پانی رکھتا تھا، اور میں نے سمندر کے پانی سے وضو کر لیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے، اور پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ تِسْعَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Hour will not begin until the Euphrates uncovers a mountain of gold and people fight over it, and out of every ten, nine will be killed.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہو جائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہو جائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ إِنِّي لأَعْرِفُ كَلِمَةً - وَقَالَ عُثْمَانُ آيَةً - لَوْ أَخَذَ النَّاسُ كُلُّهُمْ بِهَا لَكَفَتْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَّةُ آيَةٍ قَالَ ‏"‏ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Dharr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I know a word – (one of the narrators) ‘Uthman said: “a Verse” – which if all the people followed it, it would suffice them.” They said: “O Messenger of Allah, which Verse?” He said: “And whosoever fears Allah, He will make a way out for him.” [65:]
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں، ( راوی عثمان بن ابی شیبہ نے کلمہ کی جگہ آیت کہا ) اگر تمام لوگ اس کو اختیار کر لیں تو وہ ان کے لیے کافی ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! کون سی آیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نجات کا راستہ نکال دے گا ( سورۃ الطلاق: ۲ – ۳ ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي حَىٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ يَؤُمُّ عَبْدٌ فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Thawban said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘No person should lead others in prayer, then supplicate only for himself and not for them. If he does that, he has betrayed them.’”
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص امامت کرے وہ مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کو خاص نہ کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی ۔