بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
13 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا الْعَلاَءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، وَأَخُو، رَسُولِهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ، لاَ يَقُولُهَا بَعْدِي إِلاَّ كَذَّابٌ صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ لِسَبْعِ سِنِينَ ‏.‏
It was narrated that 'Abbad bin 'Abdullah said:"'Ali said: 'I am the slave of Allah and the brother of His Messenger. I am the greatest teller of the truth (Siddiq Akbar), and no one will say this after me except a liar. I prayed seven years before the people
عباد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَاسْتُقْبِلَ اسْتِقْبَالاً وَاسْتُلَّ اسْتِلاَلاً ‏.‏
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) was brought into his grave from the direction of the Qiblah, and he was placed in his grave gently
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف سے ( قبر میں ) اتارا گیا، اور کھینچ لیا گیا، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Whoever dies owing the fasts of a month, one poor person should be fed on his behalf for each day.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر جائے، اور اس پہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلاَلٌ ‏.‏ قَالَ وَكَانَتْ خَالَتِي وَخَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
Maimunah bint Harith narrated:that the Messenger of Allah married her when he was Halal (not in Ihram). (Sahih).He (one of the narrators-Yazid) said: "And she was my maternal aunt and the maternal aunt of Idn 'Abbas also
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور آپ اس وقت حلال تھے۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میمونہ رضی اللہ عنہا میری بھی خالہ تھیں، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَرْزُقُنَا تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ فَنَسْتَبْدِلُ بِهِ تَمْرًا هُوَ أَطْيَبُ مِنْهُ وَنَزِيدُ فِي السِّعْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ يَصْلُحُ صَاعُ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ وَلاَ دِرْهَمٌ بِدِرْهَمَيْنِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا إِلاَّ وَزْنًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa’eed said:“The Prophet used to give us dates from the collection (mixed) [1] dates, and we would exchange them for dates that were better, and we add to the price. [2] The Messenger of Allah said: ‘It is not right to give one Sa of dates for two Sa, nor one Dirham for two Dirham. A Dirham for a Dirham and a Dinar for a Dinar is allowed: the only difference between them is in weight (i.e., the weight must be equal.)’” Sahih
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مختلف قسم کی مخلوط کھجوریں کھانے کو دیتے تھے، تو ہم انہیں عمدہ کھجور سے بدل لیتے تھے، اور اپنی کھجور بدلہ میں زیادہ دیتے تھے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور سے اور ایک درہم کو دو درہم سے بیچنا درست نہیں، درہم کو درہم سے، اور دینار کو دینار سے، برابر برابر وزن کر کے بیچو، ان میں کمی بیشی جائز نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A banner will be set up for every traitor on the Day of Resurrection, and it will be said: ‘This is the treachery of so-and- so.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دغا بازی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أُمَيَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ غُفِرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever begins the Talbiyah for ‘Umrah from Baitul-Maqdis, will be forgiven.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا اس کو بخش دیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى وَجْهِهِ ‏.‏
It was narrated from Salim that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade a man from eating while lying down on his face.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah(ﷺ) forbade two to converse (privately) to the exclusion of a third
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ اگر تین آدمی موجود ہوں تو تیسرے کو اکیلا چھوڑ کر دو آدمی باہم سرگوشی کریں
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، - هُوَ مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ - أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، - وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ - حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Mughirah bin Abu Burdah, who was from the tribe of Banu 'Abdud-Dar, said that:He heard Abu Hurairah say: "A man came to the Messenger of Allah and said: "O Messenger of Allah, we travel by sea and carry a small amount of water with us. If we use it for ablution, we will become thirsty. Can we perform ablution with seawater?' The Messenger of Allah said: 'Its water is a means of purification, ad its dead meat is permissible. (i.e. the fish found dead in the sea)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں، اگر ہم اس پانی سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی بذات خود پاک ہے، اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اس کا مردار حلال ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لاَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ ‏ "‏ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ وَيَبْقَى النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“Shall I not tell you a Hadith that I heard from the Messenger of Allah (ﷺ), which no one will tell you after me? I heard it from him (saying): ‘Among the portents of the Hour are that knowledge will be taken away and ignorance will prevail, illegal sex will become widespread and wine will be drunk, and men will disappear and women will be left, until there is one man in charge of fifty women.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تم سے وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اور میرے بعد تم سے وہ حدیث کوئی بیان کرنے والا نہیں ہو گا، میں نے اسے آپ ہی سے سنا ہے کہ قیامت کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، زنا عام ہو جائے گا، شراب پی جانے لگے گی، مرد کم ہو جائیں گے، عورتیں زیادہ ہوں گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا «قيم» ( سر پرست و کفیل ) ایک مرد ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Samurah bin Jundab that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Being honorable is wealth and noble character is piety.’
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عالیٰ نسبی ( اچھے حسب و نسب والا ہونا ) مال ہے، اور کرم ( جود و سخا اور فیاضی ) تقویٰ ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ نُسَلِّمَ عَلَى أَئِمَّتِنَا وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ
It was narrated that Samurah bin Jundab said:“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to greet our Imam with Salam, and to greet one another with Salam.”
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کو اور باہم ایک دوسرے کو سلام کریں۔