بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
13 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلاَ يُؤَدِّي عَنِّي إِلاَّ عَلِيٌّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Hubshi bin Junadah said:"I heard the Messenger of Allah say: ''Ali is part of me and I am part of him, and no one will represent me except 'Ali
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ سَلَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سَعْدًا وَرَشَّ عَلَى قَبْرِهِ مَاءً ‏.‏
It was narrated that Abu Rafi’ said:“The Messenger of Allah (ﷺ) placed Sa’d gently in his grave and sprinkled water on it.”
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو ان کی قبر کے پائتانے سے سر کی طرف سے قبر میں اتارا، اور ان کی قبر پہ پانی چھڑکا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوَابُ بْنُ عُتْبَةَ الْمَهْرِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ لاَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ وَكَانَ لاَ يَأْكُلُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَرْجِعَ ‏.‏
It was narrated from Ibn Buraidah from his father, that:The Messenger of Allah (ﷺ) would not go out on the Day of Fitr until he had eaten, and he would not eat on the Day of Nahr (the day of sacrifice) until he came back
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ ( عید گاہ سے ) واپس نہ آ جاتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ ثَلاَثًا ثُمَّ حَرَّمَهَا وَاللَّهِ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا تَمَتَّعَ وَهُوَ مُحْصَنٌ إِلاَّ رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ إِلاَّ أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَرْبَعَةٍ يَشْهَدُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَحَلَّهَا بَعْدَ إِذْ حَرَّمَهَا ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"When 'Umar bin Khattab was appointed caliph, he addressed the people and said: 'The Messenger of Allah permitted temporary marriage for us three times, then he forbade it. By Allah, If I hear of any married person entering a temporary marriage, I will stone him to death, unless he can bring me four witnesses who will testify that the Messenger of Allah, allowed it after he forbade it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو تین بار متعہ کی اجازت دی پھر اسے حرام قرار دیا، قسم ہے اللہ کی اگر میں کسی کے بارے میں جانوں گا کہ وہ شادی شدہ ہوتے ہوئے متعہ کرتا ہے تو میں اسے پتھروں سے رجم کر دوں گا، مگر یہ کہ وہ چار گواہ لائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دینے کے بعد حلال کیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:'(Sell) silver for silver, gold for gold, barley for barley, wheat for wheat, like for like
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی کو چاندی سے، اور سونے کو سونے سے، اور جو کو جو سے اور گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمْ أَنْبِيَاؤُهُمْ كُلَّمَا ذَهَبَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَأَنَّهُ لَيْسَ كَائِنٌ بَعْدِي نَبِيٌّ فِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَمَا يَكُونُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ تَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَكَيْفَ نَصْنَعُ قَالَ ‏"‏ أَوْفُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ أَدُّوا الَّذِي عَلَيْكُمْ فَسَيَسْأَلُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِ الَّذِي عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The affairs of the Children of Israel were administered by their Prophets. Every time a Prophet left, he was followed by another, but there will be no Prophet among you after I am gone.” They said: “What will happen, O Messenger of Allah?” He said: “There will be caliphs and there will be many of them.” They said: “What should we do?” He said: “Fulfill your pledge to the first one, then the one who comes after him, and do the duties required of you, for Allah will question them about the duties upon them.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی حکومت ان کے انبیاء چلایا کرتے تھے، ایک نبی چلا جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا، لیکن میرے بعد تم میں کوئی نبی ہونے والا نہیں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلیفہ ہوں گے اور بہت ہوں گے ، لوگوں نے کہا: پھر کیسے کریں گے؟ فرمایا: پہلے کی بیعت پوری کرو، پھر اس کے بعد والے کی، اور اپنا حق ادا کرو، اللہ تعالیٰ ان سے ان کے حق کے بارے میں سوال کرے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ نُوَافِي هِلاَلَ ذِي الْحِجَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ فَلَوْلاَ أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ‏.‏ قَالَتْ فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏"‏ دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْىٌ وَلاَ صَدَقَةٌ وَلاَ صَوْمٌ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on the Farewell Pilgrimage, close to the time of the crescent of Dhul-Hijjah. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever among you wants to begin the Talbiyah for ‘Umrah, let him do so. If it were not for the fact that I have brought a sacrificial animal with me, I would have began the Talbiyah for ‘Umrah.’” She said: “Some of the people began the Talbiyah for ‘Umrah, and some began the Talbiyah for Hajj. I was one of those who began the Talbiyah for ‘Umrah.” She said: “We set out until we reached Makkah, then the Day of ‘Arafah came while I was in menses, but I did not exit Ihram for ‘Umrah I complained about that to the Prophet (ﷺ) and he said: ‘Leave your ‘Umrah, undo your hair and comb it, and begin the Talbiyah for Hajj.’” She said: “So I did that, then on the night of Hasbah (i.e., the twelfth night of Dhul-Hijjah), when Allah had enables us to complete our Hajj, he sent ‘Abdur-Rahman bin Abu Bakr with me. He seated me behind him and went out to Tan’im, then I began the Talbiyah for ‘Umrah and Allah enabled us to complete our Hajj and ‘Umrah, and there was no sacrificial animal, charity nor fasting.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ سے ) اس حال میں نکلے کہ ہم ذی الحجہ کے چاند کا استقبال کرنے والے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ پکارنا چاہے، پکارے، اور اگر میں ہدی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ پکارتا ، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور کچھ ایسے جنہوں نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آئے، اور اتفاق ایسا ہوا کہ عرفہ کا دن آ گیا، اور میں حیض سے تھی، عمرہ سے ابھی حلال نہیں ہوئی تھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، اور اپنا سر کھول لو، اور بالوں میں کنگھا کر لو، اور نئے سرے سے حج کا تلبیہ پکارو ، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب محصب کی رات ( بارہویں ذی الحجہ کی رات ) ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج پورا کرا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا، وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بیٹھا کر تنعیم لے گئے، اور وہاں سے میں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ( اور آ کر اس عمرے کے قضاء کی جو حیض کی وجہ سے چھوٹ گیا تھا ) اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرا دیا، ہم پر نہ «هدي» ( قربانی ) لازم ہوئی، نہ صدقہ دینا پڑا، اور نہ روزے رکھنے پڑے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، حَدَّثَنَا نُقَيْبُ بْنُ حَاجِبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الزُّبَيْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَبِيَدِهِ سَفَرْجَلَةٌ فَقَالَ ‏ "‏ دُونَكَهَا يَا طَلْحَةُ فَإِنَّهَا تُجِمُّ الْفُؤَادَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Talhah said:”I entered upon the Prophet (ﷺ) and in his hand was some quince. He said: ‘Take it, O Talhah, for it soothes the heart.’”
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کے ہاتھ میں بہی ( سفرجل ) ۱؎ تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: طلحہ! اسے لے لو، یہ دل کے لیے راحت بخش ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"When you are three, two should not converse (privately) to the exclusion of their companion, because that makes him sad
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین آدمی ساتھ رہو تو تم میں سے دو آدمی تیسرے کو اکیلا چھوڑ کر باہم کانا پھوسی اور سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ اسے رنج و غم میں مبتلا کر دے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لاِبْنِ مَسْعُودٍ لَيْلَةَ الْجِنِّ ‏"‏ مَعَكَ مَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ إِلاَّ نَبِيذًا فِي سَطِيحَةٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ صُبَّ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ بِهِ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that :On the night of the Jinn the Messenger of Allah said to Ibn Mas'ud: "Do you have water?" He said: "No, only some Nabidh in a large water skin." The Messenger of Allah said: "Good dates and pure water." (i.e. there is no harm from the mixing of the two.) Pour it for me." He said: "So I performed ablution with it
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «لیلۃالجن» میں فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، چھاگل ( مشک ) میں نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے، میرے اوپر ڈالو ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انڈیلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ ‏"‏ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَلَكِنْ سَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّتَهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا كَانَتِ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْغَنَمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ فَتَلاَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏{إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ}‏ الآيَةَ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) came out one day to the people, and a man came to him and said: ‘O Messenger of Allah, when will the Hour be?’ He said: ‘The one who is asked about it does not know more than the one who is asking. But I will tell you of its portents. When the slave woman gives birth to her mistress, that is one of its portents. When the barefoot and naked become leaders of the people, that is one of its portents. When shepherds compete in constructing buildings, that is one of its portents. (The Hour) is one of five (things) which no one knows except Allah.’ Then the Messenger of Allah (ﷺ) recited the words: “Verily, Allah, with Him (alone) is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. (to the end of the Verse).”[31:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز لوگوں کے پاس باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب قائم ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتاتا ہوں، جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے، تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن لوگ لوگوں کے سردار بن جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب بکریاں چرانے والے عالی شان عمارتوں پر فخر کرنے لگ جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں ہے، اور قیامت کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام» اللہ ہی کو معلوم ہے کہ قیامت کب ہو گی، وہی بارش نازل کرتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ( سورة لقما ن: 34 ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ الْمَاضِي بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ وَلاَ وَرَعَ كَالْكَفِّ وَلاَ حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Dharr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no wisdom like reflection, and no honor like good manners.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ہے، اور ( حرام سے ) رک جانے جیسی کوئی پرہیزگاری نہیں ہے، اور اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی عالیٰ نسبی ( حسب و نسب والا ہونا ) نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِذَا سَلَّمَ الإِمَامُ فَرُدُّوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Samurah bin Jundub that the Prophet (ﷺ) said:“When the Imam says the Salam, then respond to him.”
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام سلام پھیرے تو تم اس کے سلام کا جواب دو ۔