بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
13 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ ‏ "‏ أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ‏"‏ ‏.‏
Sa'd bin Abu Waqqas narrated from his father that:The Prophet said to 'Ali: "Would it not please you to be to me as Harun was to Musa?
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میری طرف سے ایسے ہی رہو جیسے ہارون موسیٰ کی طرف سے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ. كَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ ‏.‏
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach them, when they went out to the graveyard, to say: As-salamu ‘alaykum ahlad-diyar minal-mu’minina wal- muslimin, wa inna insha’ Allah bikum lahiqun, nas’alul-laha lana wa lakumul-‘afiyah (Peace be upon you, O inhabitants of the abodes, believers and Muslims, and we will join you soon if Allah wills. We ask Allah for well-being for us and for you).’”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہیں: «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون نسأل الله لنا ولكم العافية» اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلام ہو، ہم تم سے ان شاءاللہ ملنے والے ہیں، اور ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدَانَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي مُجَاهِدٍ الطَّائِيِّ، - وَكَانَ ثِقَةً - عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ، - وَكَانَ ثِقَةً - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ الإِمَامُ الْعَادِلُ وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ دُونَ الْغَمَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ بِعِزَّتِي لأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:There are three whose supplications are not turned back: A just ruler, and a fasting person until he breaks his fast. And, the supplication of one who has been wronged is raised by Allah up to the clouds on the Day of Resurrection, and the gates of heaven are opened for it, and Allah says, ‘By My Might I will help you (against the wrongdoer) even if it is after a while.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: ایک تو عادل امام کی، دوسرے روزہ دار کی یہاں تک کہ روزہ کھولے، تیسرے مظلوم کی، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میری عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ كَانَ عَاهِرًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah said : "If a slave gets married without his master's permission, he is a fornicator
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو وہ زانی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ، صَاحِبُ الْكَرَابِيسِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ أَلاَ نُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ بَلَى ‏.‏ فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا فَإِذَا فِيهِ ‏ "‏ هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أَمَةً لاَ دَاءَ وَلاَ غَائِلَةَ وَلاَ خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdul-Majid bin Wahb said:"Adda' bin Khalid bin Hawdhah said to me: 'Shall I not read to you a letter that the Messenger of Allah (ﷺ), wrote to me?' I said: 'Yes.' So he took out a letter. In it was: 'This is what 'Adda' bin Khalid bin Hawdhah bought [from] Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ) He bought from him a slave' or 'a female slave, having no ailments, nor being a runaway, not having any malicious behavior. Sold by a Muslim to a Muslim
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو وہ تحریر پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ ضرور سنائیں، تو انہوں نے ایک تحریر نکالی، میں نے جو دیکھا تو اس میں لکھا تھا: یہ وہ ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا، عداء نے آپ سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی، اس میں نہ تو کوئی بیماری ہے، نہ وہ چوری کا مال ہے، اور نہ وہ مال حرام ہے، مسلمان سے مسلمان کی بیع ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الأَمِينُ، - أَمَّا هُوَ إِلَىَّ فَحَبِيبٌ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ - عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَعَلاَمَ نُبَايِعُكَ فَقَالَ ‏"‏ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا - وَأَسَرَّ كَلِمَةً خُفْيَةً - وَلاَ تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ فَلاَ يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ ‏.‏
‘Awf bin Malik Al-Ashja’i said:“We were with the Prophet (ﷺ) – seven or eight or nine of us – and he said: ‘Will you not give pledge to the Messenger of Allah?’ So we stretched forth our hands and someone said: ‘O Messenger of Allah, we have already given you our pledge. On what basis shall we give this pledge?’ He said: ‘(On the basis that) you will worship Allah and not associate anything with Him, you will establish the five daily prayers, you will listen and obey’ – then he spoke some words under his breath – ‘and you will not ask the people for anything.’ He said: ‘I saw some of that group. If he dropped his whip he would not ask anyone to pick it up for him.’”
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم سات یا آٹھ یا نو آدمی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے ؟ ہم نے بیعت کے لیے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے ( بیعت کرنے کے بعد ) ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت تو کر چکے لیکن یہ کس بات پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کرو، حکم سنو اور مانو ، پھر ایک بات چپکے سے فرمائی: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو ، راوی کا بیان ہے کہ ( اس بات کا ان لوگوں پر اتنا اثر ہوا کہ ) میں نے ان میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا بھی گر جاتا تو کسی سے یہ نہ کہتا کہ کوڑا اٹھا کر مجھے دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلاَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) did not perform any ‘Umrah except in Dhul-Qa’dah.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے عمرے کیے ہیں، ماہ ذی قعدہ ہی میں کیے ہیں۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نِمْرَانَ الْحَجْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَفَرًا، أَتَوُا النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَوَجَدَ مِنْهُمْ رِيحَ الْكُرَّاثِ فَقَالَ ‏ "‏ أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإِنْسَانُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir that a group of people came to the Prophet (ﷺ) and he noticed the smell of leeks coming from them. He said:“Did I not forbid you to eat these vegetables? For the angels are offended by that which offends people.”
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو ان کی جانب سے گندنے کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا: کیا میں نے تمہیں اس پودے کو کھانے سے نہیں روکا تھا؟ یقیناً فرشتوں کے لیے وہ چیزیں باعث اذیت ہوتی ہیں، جو انسان کے لیے باعث اذیت ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَنَهَانَا فَأَمَرَنَا أَنْ نُطْفِئَ سِرَاجَنَا ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah(ﷺ) commanded us (to do some things) and forbade us (to do some things), and he commanded us to extinguish our lamps
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بہت سی باتوں کا حکم دیا، اور بہت سی باتوں سے منع فرمایا: ( ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ) آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ( سوتے وقت ) چراغ بجھا دیا کریں۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"Men and women used to perform ablution from a single vessel during the time of the Messenger of Allah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مرد و عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ہی برتن سے وضو کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I and the Hour have been sent like these two,” and he held up his two fingers together
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت دونوں اس طرح بھیجے گئے ہیں ، آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَىَّ أَنْ تَوَاضَعُوا وَلاَ يَبْغِي بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah has revealed to me that you should be humble towards one another and should not wrong one another.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع اختیار کرو، اور تم ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ صَلَّى بِنَا عَلِيٌّ يَوْمَ الْجَمَلِ صَلاَةً ذَكَّرَنَا صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَسِينَاهَا وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ تَرَكْنَاهَا فَسَلَّمَ عَلَى يَمِينِهِ وَعَلَى شِمَالِهِ ‏.‏
It was narrated that Abu Musa said:“Ali led us in prayer on the day of (the battle of) the Camel, in a way that reminded us of the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). Either we had forgotten it or we had abandoned it. He said the Salam to his right and to his left.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں جنگ جمل کے دن ایسی نماز پڑھائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی یاد تازہ ہو گئی، جسے یا تو ہم بھول چکے تھے یا چھوڑ چکے تھے، تو انہوں نے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا ۲؎۔