بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
14 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي مَرَضِهِ ‏"‏ وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ فَسَكَتَ قُلْنَا أَلاَ نَدْعُو لَكَ عُمَرَ فَسَكَتَ قُلْنَا أَلاَ نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَ عُثْمَانُ فَخَلاَ بِهِ فَجَعَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُكَلِّمُهُ وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ ‏.‏ قَالَ قَيْسٌ فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَهِدَ إِلَىَّ عَهْدًا وَأَنَا صَائِرٌ إِلَيْهِ ‏.‏ وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ قَيْسٌ فَكَانُوا يُرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"When he was ill, the Messenger of Allah said: 'I would like to have some of my Companions with me.' We said: 'O Messenger of Allah! Shall we call Abu Bakr for you?' But he remained silent. We said: 'Shall we call 'Umar for you?' But he remained silent. We said: 'Shall we call 'Uthman for you?' He said: 'Yes.' So 'Uthman came and he spoke to him in private. The Prophet started to speak to him and 'Uthman's expression changed." Qais said: "Abu Sahlah, the freed slave of 'Uthman, narrated to me that on the Day of the House, 'Uthman bin 'Affan said: 'The Messenger of Allah told me what would come to pass and now I am coming to that day.'"In his narration of the Hadith, 'Ali (one of the narrators) said (that he said): "And I am going to bear it with patience." Qais said: "They used to think that that was the Day of the House
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، تو وہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے، اور عثمان رضی اللہ عنہ کا چہرہ بدلتا رہا۔ قیس کہتے ہیں: مجھ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابوسہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں۔ علی بن محمد نے اپنی حدیث میں: «وأنا صابر عليه» کہا ہے، یعنی: میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا اتَّبَعَ جِنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ فَقَالَ هَكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ ‏.‏ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَالَ ‏ "‏ خَالِفُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Ubadah bin Samit said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) followed a funeral, he would not sit down until it had been placed in the niche-grave. A rabbi came to him and said: ‘This is what we do, O Muhammad!’ So the Messenger of Allah (ﷺ) sat down and said: ‘Be different from them.’”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا، اور کہا: اے محمد! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنا شروع کر دیا، اور فرمایا: ان کی مخالفت کرو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“If anyone of you is invited to eat when he is fasting, let him say: ‘I am fasting.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو کھانا کھانے کے لیے بلایا جائے، اور وہ روزے سے ہو، تو کہے کہ میں روزے سے ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ثُمَّ صَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعْدُ فَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ‏.‏ قَالَ حَمَّادٌ فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا قَالَ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا ‏.‏
It was narrated that Anas said:“Safiyyah was given to Dihyah Al-Kalbi (as his share of the war booty), then she was given to the Messenger of Allah after that. He married her, and made her ransom (i.e., freedom from slavery) her dowry.” (Sahih)Hammad said: “Abdul-'Aziz said to Thabit: 'O Abu Muhammad! Did you ask Anas what her bridal-money was?' He said: 'Her bridal-money was her freedom.' ”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پہلے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئیں، تو آپ نے ان سے شادی کی، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا ۱؎۔ حماد کہتے ہیں کہ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا: اے ابومحمد! کیا آپ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( صفیہ ) کا مہر کیا مقرر کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ حَمَّادٍ، أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ غُلاَمَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا فَقَالَ ‏"‏ مَا فَعَلَ الْغُلاَمَانِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بِعْتُ أَحَدَهُمَا قَالَ ‏"‏ رُدَّهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Ali said:"The Messenger of Allah (ﷺ) gave me two slaves who were brothers, and I sold one of them. He said: 'What happened with the two slaves?' I said: 'I sold one of them.' He said: 'Take him back
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام ہبہ کئے جو دونوں سگے بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: دونوں غلام کہاں گئے ؟ میں نے عرض کیا: میں نے ایک کو بیچ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو واپس لے لو ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ وَيَعْمَلُونَ بِالْبِدْعَةِ وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا ‏"‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُهُمْ كَيْفَ أَفْعَلُ قَالَ ‏"‏ تَسْأَلُنِي يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ كَيْفَ تَفْعَلُ لاَ طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud that the Prophet (ﷺ) said:“Among those in charge of you, after I am gone, will be men who extinguish the Sunnah and follow innovation. They will delay the prayer from its proper time.” I said: “O Messenger of Allah, if I live to see them, what should I do?” He said: “You ask me, O Ibn ‘Abd, what you should do? There is no obedience to one who disobeys Allah.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ زمانہ قریب ہے کہ میرے بعد تمہارے معاملات کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آئے گی جو سنت کو مٹائیں گے، بدعت پر عمل پیرا ہوں گے، اور نماز کی وقت پر ادائیگی میں تاخیر کریں گے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں ان کا زمانہ پاؤں تو کیا کروں؟ فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کیا کروں؟ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی بات نہیں مانی جائے گی ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حِجَّةً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Umrah during Ramadan is equivalent to Hajj.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ ( کا ثواب ) حج کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لاَ أُرَاهُمَا إِلاَّ خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الثُّومُ وَهَذَا الْبَصَلُ وَلَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ فَمَنْ كَانَ آكِلَهُمَا لاَ بُدَّ فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا ‏.‏
It was narrated from Ma’dan bin Abu Talhah Al-Ya’muri that ‘Umar bin Khattab stood up one Friday delivering a sermon. He praised and glorified Allah, then he said:“O people, you eat two plants which I do not regard as anything but offensive: This garlic and these onions. At the time of the Messenger of Allah (ﷺ), I would see a man, if the smell (of these vegetables) was found on him, being taken by the hand and led out to Baqi’ (graveyard). Whoever must eat them, let him cook them to death.”
معدان بن أبی طلحہ یعمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: لوگو! تم دو ایسے پودے کھاتے ہو جو میرے نزدیک خبیث ہیں: ایک لہسن، دوسرا پیاز، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دیکھا کہ جس شخص کے منہ سے ان کی بو آتی اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع تک لے جا کر چھوڑا جاتا، تو جس کو لہسن، پیاز کھانا ہی ہو وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ لَمَّا اسْتَعْمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى الطَّائِفِ جَعَلَ يَعْرِضُ لِي شَىْءٌ فِي صَلاَتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَحَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏"‏ ابْنُ أَبِي الْعَاصِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا جَاءَ بِكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَرَضَ لِي شَىْءٌ فِي صَلاَتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ الشَّيْطَانُ ادْنُهْ ‏"‏ ‏.‏ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَجَلَسْتُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَىَّ ‏.‏ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ وَتَفَلَ فِي فَمِي وَقَالَ ‏"‏ اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ الْحَقْ بِعَمَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ عُثْمَانُ فَلَعَمْرِي مَا أَحْسِبُهُ خَالَطَنِي بَعْدُ ‏.‏
It was narrated that ‘Uthman bin Abul-‘As said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) appointed me as governor of Ta’if, I began to get confused during my prayer, until I no longer knew what I was doing. When I noticed that, I travelled to the Messenger of Allah (ﷺ), and he said: ‘The son of Abul-‘As?’ I said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘What brings you here?’ He said: ‘O Messenger of Allah, I get confused during my prayer, until I do not know what I am doing.’ He said: ‘That is Satan. Come here.’ So I came close to him, and sat upon the front part of my feet then he struck my chest with his hand and put some spittle in my mouth and said: ‘Get out, O enemy of Allah!’ He did that three times, then he said: ‘Get on with your work.’” ‘Uthman said: “Indeed, I never felt confused (during my prayer) after that.”
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: کیا ابن ابی العاص ہو ؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: تم یہاں کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آؤ، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور ( شیطان کو مخاطب کر کے ) فرمایا: «اخرج عدو الله» اللہ کے دشمن! نکل جا ؟ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: اپنے کام پر جاؤ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet(ﷺ) said:"Do not leave fire in your houses when you go to sleep
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں ( جلتی ہوئی ) آگ مت چھوڑو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَزْوَاجُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah and his wives used to take a bath from a single vessel
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، - يَعْنِي مَوْلَى مُسَافِعٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَتُنْتَقَوُنَّ كَمَا يُنْتَقَى التَّمْرُ مِنْ أَغْفَالِهِ فَلْيَذْهَبَنَّ خِيَارُكُمْ وَلَيَبْقَيَنَّ شِرَارُكُمْ فَمُوتُوا إِنِ اسْتَطَعْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“You will be picked over just as (good) dates are selected (separated) from its bad ones. So the best of you will be taken and the worst of you will be left, so die if you can.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے چن لیے جاؤ گے جیسے عمدہ کھجوریں ردی کھجوروں میں سے چنی جاتی ہیں، تمہارے نیک لوگ گزر جائیں گے، اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم بھی مر جانا ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَسْرَعُ الْخَيْرِ ثَوَابًا الْبِرُّ وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَأَسْرَعُ الشَّرِّ عُقُوبَةً الْبَغْىُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah, the Mother of the Believers, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The most quickly rewarded of good deeds are kindness and upholding the ties of kinship, and the most quickly punished evil deeds are injustice and severing the ties of kinship.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے جلدی جن نیکیوں کا ثواب ملتا ہے وہ نیکی اور صلہ رحمی ہے، اور سب سے جلدی جن برائیوں پر عذاب آتا ہے وہ بغاوت و سرکشی اور قطع رحمی ہیں ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ ‏.‏
It was narrated from ‘Amir bin Sa’d, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say the Salam to his right and to his left
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے۔