بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
0
13 hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ رَأْسُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى ‏"‏ ‏.‏ فَوَثَبْتُ فَأَخَذْتُ بِضَبْعَىْ عُثْمَانَ ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ هَذَا قَالَ ‏"‏ هَذَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ka'b bin 'Ujrah said:"The Messenger of Allah mentioned a Fitnah (tribulation) that had drawn nigh. Then a man passed by with his head covered. The Messenger of Allah said: 'On that day, this man will be following right guidance.' I leapt up and took hold of 'Uthman's arms, then I turned to face the Messenger of Allah and said: 'This man?' He said: 'This man
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہو گا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہو گا ، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رخ کر کے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہی ہیں ( جو ہدایت پر ہوں گے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِجِنَازَةٍ فَقَامَ وَقَالَ ‏ "‏ قُومُوا فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“A funeral has passed by the Prophet (ﷺ) and he stood up and said: ‘Stand up out of recognition of the enormity of death.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کھڑے ہو جاؤ! اس لیے کہ موت کی ایک گھبراہٹ اور دہشت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَهْلٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ امْرَأَةٍ، يُقَالُ لَهَا لَيْلَى عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ، قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا فَكَانَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ صَائِمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ الطَّعَامُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Umm ‘Umarah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) came to us and we brought food for him. Some of those who were with him were fasting, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If food is eaten in the presence of one who is fasting, the angels send blessing upon him.’”
ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا، آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ روزے سے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار کے سامنے جب کھانا کھایا جائے ( اور وہ صبر کرے ) تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَكْحُولٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ بَاعَ عَيْبًا لَمْ يُبَيِّنْهُ لَمْ يَزَلْ فِي مَقْتٍ مِنَ اللَّهِ وَلَمْ تَزَلِ الْمَلاَئِكَةُ تَلْعَنُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Wathilah bin Asqa' said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever sells defective goods without pointing it out, he will remain subject to the wrath of Allah, and the angels will continue to curse him
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی عیب دار چیز بیچے اور اس کے عیب کو بیان نہ کرے، تو وہ برابر اللہ تعالیٰ کے غضب میں رہے گا، اور فرشتے اس پر برابر لعنت کرتے رہیں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ عَلْقَمَةَ بْنَ مُجَزِّزٍ عَلَى بَعْثٍ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى رَأْسِ غَزَاتِهِ أَوْ كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ اسْتَأْذَنَتْهُ طَائِفَةٌ مِنَ الْجَيْشِ فَأَذِنَ لَهُمْ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيَّ فَكُنْتُ فِيمَنْ غَزَا مَعَهُ فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِيَصْطَلُوا أَوْ لِيَصْنَعُوا عَلَيْهَا صَنِيعًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ - وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ - أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمُ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ فَمَا أَنَا بِآمِرِكُمْ بِشَىْءٍ إِلاَّ صَنَعْتُمُوهُ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكُمْ إِلاَّ تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ ‏.‏ فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ قَالَ أَمْسِكُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا كُنْتُ أَمْزَحُ مَعَكُمْ ‏.‏ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلاَ تُطِيعُوهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) sent ‘Alqamah bin Mujazziz at the head of a detachment, and I was among them. When he reached the battle site, or when he was partway there, a group of the army asked permission to take a different route, and he gave them permission, and appointed ‘Abdullah bin Hudhafah bin Qais As-Sahmi as their leader, and I was one of those who fought alongside with him. When we were partway there, the people lit a fire to warm themselves and cook some food. ‘Abdullah, who was a man who liked to joke, said:“Do I not have the right that you should listen to me and obey?” They said: “Yes.” He said: “And if I command you to do something, will you not do it?” They said: “Of course.” He said: “Then I command you to jump into this fire.” Some people got up and got ready to jump, and when he saw that they were about to jump, he said: “Restrain yourselves, for I was joking with you.” When we came to Al-Madinah, they mentioned that to the Prophet (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever among you commands you to do something that involves disobedience to Allah, do not obey him.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن مجزر رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجا، میں بھی اس لشکر میں تھا، جب وہ لشکر کے آخری پڑاؤ پر پہنچے یا درمیان راستے ہی میں تھے تو لشکر کی ایک جماعت نے ( آگے جانے کی ) اجازت مانگی، علقمہ رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی، اور عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کر دیا، میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کے ساتھ غزوہ کیا، ابھی وہ راستہ ہی میں تھے کہ ان لوگوں نے تاپنے یا کچھ پکانے کے لیے آگ جلائی، تو عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ ( جن کے مزاج میں خوش طبعی پائی جاتی تھی ) نے کہا: کیا تم پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں؟ کہا: میں کسی کام کے کرنے کا تمہیں حکم دوں تو تم حکم بجا لاؤ گے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، کہا: میں لازمی حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں چھلانگ لگا دو، کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کودنے کے لیے کمر کس لی، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ گمان ہوا کہ واقعی یہ تو کود ہی جائیں گے، تو بولے: ٹھہرو، میں تم سے یونہی مذاق کر رہا تھا ۱؎۔ جب ہم لوگ واپس مدینہ آئے، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا ماجرا سنایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکام میں جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی بات نہ ما نو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الزَّعَافِرِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ هَرِمِ بْنِ خَنْبَشٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حِجَّةً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Harim bin Khanbash that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘ ‘Umrah during Ramadan is equivalent to Hajj (i.e., in reward).’”
ہرم بن خنبش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ ( کا ثواب ) حج کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَرْحَبِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي الْيَعْفُورِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى مَائِدَتِهِ فَأَوْسَعَ لَهُ عَنْ صَدْرِ الْمَجْلِسِ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ فَلَقِمَ لُقْمَةً ثُمَّ ثَنَّى بِأُخْرَى ثُمَّ قَالَ إِنِّي لأَجِدُ طَعْمَ دَسَمٍ مَا هُوَ بِدَسَمِ اللَّحْمِ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي خَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ أَطْلُبُ السَّمِينَ لأَشْتَرِيَهُ فَوَجَدْتُهُ غَالِيًا فَاشْتَرَيْتُ بِدِرْهَمٍ مِنَ الْمَهْزُولِ وَحَمَلْتُ عَلَيْهِ بِدِرْهَمٍ سَمْنًا فَأَرَدْتُ أَنْ يَتَرَدَّدَ عِيَالِي عَظْمًا عَظْمًا ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ مَا اجْتَمَعَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَطُّ إِلاَّ أَكَلَ أَحَدَهُمَا وَتَصَدَّقَ بِالآخَرِ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ خُذْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَنْ يَجْتَمِعَا عِنْدِي إِلاَّ فَعَلْتُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَا كُنْتُ لأَفْعَلَ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said that ‘Umar entered upon him when he was eating, and he made room for him in the middle of the gathering. He said:Bismillah, then he took a morsel and ate it, then a second. Then he said: “I notice some fat in the food but it is not the fat of the meat.” ‘Abdullah said: “O Commander of the Believers! I went out to the marketplace looking for some fatty meat (bones with plenty of meat on them) to buy, but it was expensive, so I bought some lean meat (bones with not much meat on them) for a Dirham, and added a Dirham’s worth of ghee. I wanted my family to go through it bone by bone.” ‘Umar said: “The Messenger of Allah (ﷺ) never had these two things together; he would eat one and give the other in charity.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور وہ اس وقت دستر خوان پر تھے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے مجلس کے درمیان میں جگہ بنائی، عمر رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ کہا، پھر کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا، اور ایک لقمہ لیا، پھر دوسرا لقمہ لیا، پھر کہا: مجھے اس میں چکنائی کا ذائقہ مل رہا ہے، اور یہ چکنائی گوشت کی چربی نہیں ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں فربہ گوشت کی تلاش میں بازار نکلا تاکہ اسے خریدوں، لیکن میں نے اسے مہنگا پایا تو ایک درہم میں دبلا گوشت خرید لیا، اور ایک درہم کا گھی خرید کر اس میں ملا دیا، اس سے میرا مقصد یہ تھا کہ ایک ایک ہڈی میرے تمام گھر والوں کے حصے میں آ جائے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ دونوں چیزیں بیک وقت اکٹھا ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کھا لی، اور دوسری صدقہ کر دی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! اب تو اسے کھا لیجئیے پھر جب کبھی میرے پاس یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوں گی میں بھی ایسا ہی کروں گا، عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں اسے کھانے والا نہیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَنْسِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْمِصْرِيَّيْنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ يَزَالُ يُصِيبُكَ كُلَّ عَامٍ وَجَعٌ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ الَّتِي أَكَلْتَ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ مَا أَصَابَنِي شَىْءٌ مِنْهَا إِلاَّ وَهُوَ مَكْتُوبٌ عَلَىَّ وَآدَمُ فِي طِينَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that Umm Salamah said:“O Messenger of Allah, every year you are still suffering pain because of the poisoned meat that you ate.” He said: “Nothing that happens to me, but it was decreed for me when Adam was still at the stage of being clay.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری کی وجہ سے جو آپ نے کھائی تھی، تکلیف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی وجہ سے کچھ بھی ہوا وہ میرے مقدر میں اسی وقت لکھ دیا گیا تھا جب آدم مٹی کے پتلے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلاً يَتْبَعُ حَمَامًا فَقَالَ ‏ "‏ شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah(ﷺ) saw a man chasing a pigeon and said: 'A devil chasing a devil
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کبوتر کے پیچھے لگا ہوا دیکھ کر فرمایا: شیطان شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ، مَيْمُونَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that his maternal aunt Maimunah said:"The Messager of Allah and I used to take bath from a single vessel
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتٌ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الأَمِينُ وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There will come to the people years of treachery, when the liar will be regarded as honest, and the honest man will be regarded as a liar; the traitor will be regarded as faithful, and the faithful man will be regarded as a traitor; and the Ruwaibidah will decide matters.’ It was said: ‘Who are the Ruwaibidah?’ He said: ‘Vile and base men who control the affairs of the people.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں «رويبضة» بات کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: «رويبضة» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ الْحَسَدُ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ وَالصَّلاَةُ نُورُ الْمُؤْمِنِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Envy consumes good deeds just as fire consumes wood, and charity extinguishes bad deeds just as water extinguishes fire. Prayer is the light of the believer and fasting is a shield against the Fire.”
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو، اور صدقہ و خیرات گناہوں کو اسی طرح بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو، نماز مومن کا نور ہے اور روزہ آگ سے ڈھال ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلاَةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ فَيَدْعُو بِهَا وَالْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهَا ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) used to sit during prayer, putting his hands on his knees and raising his right finger which was next to his thumb, supplicating with it, and with his left hand (spread out) on his knee
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے متصل انگلی کو اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے، اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پہ پھیلا کر رکھتے۔