حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَقِيَ عُثْمَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ " يَا عُثْمَانُ هَذَا جِبْرِيلُ أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَكَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِمِثْلِ صَدَاقِ رُقَيَّةَ عَلَى مِثْلِ صُحْبَتِهَا " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet met 'Uthman at the door of the mosque and said: "O 'Uthman! Jibril has told me that Allah married you to Umm Kulthum for a dowry like that of Ruqayyah, provided that you treat her as you treated Ruqayyah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے دروازے پر ملے، اور فرمایا: عثمان! یہ جبرائیل ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شادی ام کلثوم سے رقیہ کے مہر مثل پر کر دی ہے، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے ( رقیہ کو ) رکھتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ح: وَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ " .
It was narrated from ‘Amir bin Rabi’ah that the Prophet (ﷺ) said:“When you see a funeral (procession) stand up for it until it has passed by or it is placed on the ground.”
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ " أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ " .
It was narrated that ‘Abdullah bin Zubair said:“The Messenger of Allah (ﷺ) broke his fast with Sa’d bin Mu’adh and said: ‘Aftara ‘indakumus-saimun, wa akala ta’amakumul-abrar, wa sallat ‘alaikumul- mala’ikah (May fasting people break their fast with you, may the righteous eat your food, and may the angels send blessing upon you).”
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا: تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا، اور تمہارا کھانا، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ " .
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir:that the Prophet said: “The conditions most deserving to be fulfilled are those by means of which the private parts become permissible for you.”
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ پوری کی جانے کی مستحق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ وَلاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ إِلاَّ بَيَّنَهُ لَهُ " .
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The Muslim is the brother of another Muslim, and it is not permissible for a Muslim to sell his brother goods in which there is a defect, without pointing that out to him
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الرَّبَذَةِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَإِذَا عَبْدٌ يَؤُمُّهُمْ فَقِيلَ هَذَا أَبُو ذَرٍّ . فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ أَوْصَانِي خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ .
It was narrated from Abu Dharr that he reached Rabadhah when the Iqamah for the prayer had already been given, and there was a slave leading them in prayer. It was said:“This is Abu Dharr,” so he (the slave) started to move back. But Abu Dharr said: “My close friend (i.e., the Prophet (ﷺ)) told me to listen and obey, even if (the leader was) an Ethiopian slave with amputated limbs.”
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مقام ربذہ میں پہنچے تو نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکی تھی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غلام لوگوں کی امامت کر رہا ہے، اس سے کہا گیا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں، یہ سن کر وہ پیچھے ہٹنے لگا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل ( جگری دوست ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی کہ امام گرچہ اعضاء کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو میں اس کی بات سنوں اور مانوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَيَانٍ، وَجَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَنْبَشٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حِجَّةً " .
It was narrated from Wahb bin Khanbash that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“ ‘Umrah during Ramadan is equivalent to Hajj (i.e. in reward).”
وہب بن خنبش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ، ( ثواب میں ) حج کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، حَدَّثَنَا سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلاً، أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لَوْ دَعَوْنَا النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَكَلَ مَعَنَا . فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَىِ الْبَابِ فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَرَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ الْحَقْ فَقُلْ لَهُ مَا رَجَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَنْ أَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا " .
Safinah, Abu ‘Abdur-Rahman, narrated that a man visited ‘Ali bin Abu Talib and he made some food for him.* Fatimah said:“Why don’t we invite the Prophet (ﷺ) to eat with us?” So they invited him and he came. He put his hand on the doorpost of the house and saw a thin curtain in the corner of the house, so he went back. Fatimah said to ‘Ali: “Go and catch up with him, and ask him: ‘What made you go back, O Messenger of Allah?” He said: “I do not enter a well-decorated house.”
سفینہ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ضیافت کی اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے، چنانچہ لوگوں نے آپ کو بھی مدعو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کے دونوں بازو پر رکھے، تو آپ کی نظر گھر کے ایک گوشے میں ایک باریک منقش پردے پر پڑی، آپ لوٹ آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جائیے اور پوچھئے: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس آ گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے لیے مناسب نہیں کہ میں ایسے گھر میں قدم رکھوں جس میں آرائش و تزئیین کی گئی ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَحَرَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ حَتَّى كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَلاَ يَفْعَلُهُ . قَالَتْ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ " يَا عَائِشَةُ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ جَاءَنِي رَجُلاَنِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلِي فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلِي أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلِي لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ . قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ . قَالَ فِي أَىِّ شَىْءٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ . قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ " . قَالَتْ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ " وَاللَّهِ يَا عَائِشَةُ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ " . قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أَحْرَقْتَهُ قَالَ " لاَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا " . فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ .
It was narrated that ‘Aishah said:“A Jew from among the Jews of Bani Zuraiq, whose name was Labid bin A’sam, cast a spell on the Prophet (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) began to imagine that he had done something when he had not. One day, or one night, the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated, and then supplicated again. Then he said: ‘O ‘Aishah, do you know that Allah has instructed me concerning the matter I asked Him about? Two men came to me, and one of them sat at my head and the other at my feet. The one at my head said to the one at my feet, or the one at my feet said to the one at my head "what is ailing this man ?" He said: “He has been affected by a spell.” He said: “Who cast the spell on him?” He said: “Labid bin A’sam.” He said: “With what?” He said: “With a comb and the hairs stuck to it, and the spathe of a male date palm.” He said: “Where is that?” He said: “In the well of Dhu Arwan.” She said: “So the Prophet (ﷺ) went to it, with a group of his Companions, then he came and said: ‘By Allah. O ‘Aishah. It was as if its water was infused with henna and its date palms were like the heads of devils.’” She said: “I said: ‘O Messenger of Allah, why don’t you burn them?’ He said: ‘As for me, Allah has healed me, and I do not like to let evil spread among the people.’ Then he issued orders that the well be filled up with earth.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی زریق کے یہودیوں میں سے لبید بن اعصم نامی ایک یہودی نے جادو کر دیا، تو آپ کو ایسا لگتا کہ آپ کچھ کر رہے ہیں حالانکہ آپ کچھ بھی نہیں کر رہے ہوتے تھے، یہی صورت حال تھی کہ ایک دن یا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی، پھر دعا فرمائی اور پھر دعا فرمائی، پھر کہا: عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتا دی جو میں نے اس سے پوچھی تھی، میرے پاس دو شخص آئے، ایک میرے سرہانے اور دوسرا پائتانے بیٹھ گیا، سرہانے والے نے پائتانے والے سے کہا، یا پائتانے والے نے سرہانے والے سے کہا: اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے، اس نے سوال کیا: کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا: کس چیز میں جادو کیا ہے؟ جواب دیا: کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی کرتے وقت گرتے ہیں، اور نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں، پہلے نے پوچھا: یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا: ذی اروان کے کنوئیں میں ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر تشریف لائے، پھر واپس آئے تو فرمایا: اے عائشہ! اللہ تعالیٰ کی قسم! اس کا پانی مہندی کے پانی کی طرح ( رنگین ) تھا، اور وہاں کے کھجور کے درخت گویا شیطانوں کے سر تھے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اسے جلایا نہیں؟ فرمایا: نہیں، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے تندرست کر دیا ہے، اب میں نے ناپسند کیا کہ میں لوگوں پر اس کے شر کو پھیلاؤں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ سب چیزیں دفن کر دی گئیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah and I would take a bath from a single vessel
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى رَجُلاً وَرَاءَ حَمَامَةٍ فَقَالَ " شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً " .
It was narrated from Uthman bin Affan that the Messenger of Allah(ﷺ) saw a man following a pigeon and said:"A male devil chasing a female devil
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کبوتر کے پیچھے لگا ہوا دیکھ کر فرمایا: شیطان شیطانہ کے پیچھے لگا ہوا ہے ۔
حَدَّثَنَا غِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحْبِيُّ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ، يَقُولُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ رَبِّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ بَلاَءٌ وَفِتْنَةٌ " .
Mu’awiyah said:“I heard the Prophet (ﷺ) say: ‘There is nothing left of this world except trials and tribulations.’”
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا میں فتنوں اور مصیبتوں کے سوا کچھ باقی نہ رہا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ " .
It was narrated from Salim that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is no envy except in two cases. A man to whom Allah has given (knowledge of) the Qur’an, so he recites it night and day, and a man to whom Allah has given wealth, so he spends it night and day.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک و حسد کے لائق صرف دو لوگ ہیں: ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا، تو وہ اسے دن رات پڑھتا ہے، دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، تو وہ اسے دن رات ( نیک کاموں میں ) خرچ کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ حَلَّقَ الإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَرَفَعَ الَّتِي تَلِيهِمَا يَدْعُو بِهَا فِي التَّشَهُّدِ .
It was narrated that Wa’il bin Hujr said:“I saw the Prophet (ﷺ) making a circle with his thumb and middle finger, and raising the one next to it (the index finger), supplicating with it during the Tashah-hud.”
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے انگوٹھے اور بیچ والی انگلی کا حلقہ بنایا، اور ان دونوں سے متصل ( شہادت کی ) انگلی کو اٹھایا، اس سے تشہد میں دعا کر رہے تھے ۱؎۔