حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُهُ الْحَقُّ عُمَرُ وَأَوَّلُ مَنْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَأَوَّلُ مَنْ يَأْخُذُ بِيَدِهِ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ " .
It was narrted that Ubayy bin Ka'b said:"The Messenger of Allah said: 'The first person with whom Allah will shake hands will be 'Umar, (and he is) the first person to be greeted with the Salam, and the first person who will be taken by the hand and admitted into Paradise
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق تعالیٰ سب سے پہلے قیامت کے دن عمر سے مصافحہ کریں گے، اور سب سے پہلے انہیں سے سلام کریں گے، اور سب سے پہلے ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کریں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . فَصَففنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ .
It was narrated from Mujammi’ bin Jariyah Al-Ansari that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Your brother Najashi has died, so stand and pray for him.” So we formed two rows behind him
مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ( دینی ) بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، تم لوگ کھڑے ہو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں لگائیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنَا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتُكَ عَامَ الأَوَّلِ . قَالَ " فَمَا لِي أَرَى جِسْمَكَ نَاحِلاً " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكَلْتُ طَعَامًا بِالنَّهَارِ مَا أَكَلْتُهُ إِلاَّ بِاللَّيْلِ . قَالَ " مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَقْوَى . قَالَ " صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَيَوْمًا بَعْدَهُ . قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى . قَالَ " صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَيَوْمَيْنِ بَعْدَهُ " . قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى . قَالَ " صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَثَلاَثَةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ وَصُمْ أَشْهُرَ الْحُرُمِ " .
It was narrated from Abu Mujibah Al-Bahili that his father or, his paternal uncle, said:“I came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Prophet of Allah, I am the man who came to you last year.’ He said: ‘Why do I see your body so thin (and weak)?’ He said: ‘O Messenger of Allah! I do not eat during the day; I only eat at night.’ He said: ‘Who commanded you to punish yourself?’ I said: ‘O Messenger of Allah! I am strong enough.’ He said: ‘Fast the month of patience* and one day after it.’ I said: ‘I am strong enough (to do more).’ He said: ‘Fast the month of patience and two days after it.’ I said: ‘I am strong enough (to do more).’ He said: ‘Fast the month of patience and three days after it, and fast the sacred months.’”
ابومجیبہ باہلی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! میں وہی شخص ہوں جو آپ کے پاس پچھلے سال آیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میں تم کو دبلا دیکھتا ہوں ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں دن کو کھانا نہیں کھایا کرتا ہوں صرف رات کو کھاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے حکم دیا کہ اپنی جان کو عذاب دو ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طاقتور ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کے مہینے ۱؎ کے روزے رکھو، اور ہر ماہ ایک روزہ رکھا کرو میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کے مہینے کے روزے رکھو، اور ہر ماہ میں دو روزے رکھا کرو میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کے مہینہ میں روزے رکھو، اور ہر ماہ میں تین روزے اور رکھو، اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھو ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَتَانِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَىَّ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ " . فَقُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ " تَرِبَتْ يَدَاكِ أَوْ يَمِينُكِ " .
It was narrated that 'Aishah said:“My paternal uncle through breastfeeding, Aflah bin Abu Qu'ais, came and asked permission to visit me, after the ruling on veiling had been enjoined, and I refused to let him in, until the Prophet came in and said: 'He is your paternal uncle; let him in.' I said: 'But it is the woman who breastfed me; the man did not breastfeed me.' He said: 'May your hands be rubbed with dust', or: 'May your right hand be rubbed with dust!”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قیس میرے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حجاب ( پردے ) کا حکم اتر چکا تھا، میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، اور فرمایا: یہ تمہارے چچا ہیں ان کو اجازت دو ، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں! ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دونوں ہاتھ یا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ بَاعَ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا مِثْلَىْ لَبَنِهَا - أَوْ قَالَ مِثْلَ لَبَنِهَا - قَمْحًا " .
Abdullah bin 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever buys a Muhaffalah, (1) he has the choice (of annulling the deal) for three days. If he returns it, then he must also give wheat equal to twice, the amount of its milk, or equal to the amount of its milk
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اگر کوئی «محفَلہ» ( «مصّراۃ» ) کو بیچے تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر وہ اسے واپس کر دے تو اس کے دودھ کے دوگنا یا برابر گیہوں اس کو دے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ وَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ وَأُدَاوِي الْجَرْحَى وَأَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى .
It was narrated that Umm ‘Atiyyah Al-Ansariyyah said:“I fought alongside the Messenger of Allah (ﷺ) in seven campaigns, looking after their goods, making food for them, tending the wounded and looking after the sick.”
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی تھی، مردوں کی غیر موجودگی میں ان کے ڈیروں میں رہتی، ان کے لیے کھانا بناتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور بیماروں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَاصَّةً .
It was narrated that Abu Dharr said:“Tamattu’ in Hajj was for the Companions of Muhammad (ﷺ) specifically.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حج تمتع اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: ‘Allahumma inni a’udhu bika minal-ju’, fa innahu bi’sad- daji’, wa a’udhu bika minal-khiyanah, fa innaha bi’satil-bitanah (O Allah, I seek refuge with You from hunger, for it is a bad companion, and I seek refuge with You from treachery, for it is a bad thing to hide in one’s heart).’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کہ وہ بدترین ساتھی ہے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کہ وہ بری خفیہ خصلت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ " .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no ‘Adwa, no omen, no Hamah and no Safar.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات ۱؎ اور بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے، اسی طرح الو اور ماہ صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي - تَعْنِي الدَّاخِلَ - بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَتَكَهُ فَجَعَلْتُ مِنْهُ مَنْبُوذَتَيْنِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُتَّكِئًا عَلَى إِحْدَاهُمَا .
It was narrated that ‘Aishah said:“I covered a small room closet of mine, meaning, from the inside, with a curtain on which there were images. When the Prophet (ﷺ) came, he tore it down, so I made two pillows from it, and I saw the Prophet (ﷺ) reclining on one of them.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے روشن دان پر پردہ ڈالا یعنی اندر سے، پردے میں تصویریں تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو آپ نے اسے پھاڑ ڈالا، میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي جَفْنَةٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِيَغْتَسِلَ أَوْ يَتَوَضَّأَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا . فَقَالَ " الْمَاءُ لاَ يُجْنِبُ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"One of the wives of the Prophet took a bath from a large vessel, then the Prophet came and had a bath or ablution, and she said: 'O Messenger of Allah, I was sexually impure.' He said: 'Water does not become impure
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی نے لگن سے غسل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور اس بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو کرنا چاہا تو وہ بولیں: اے اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
It was narrated from Sad bin Abu Waqas that the Prophet(ﷺ) said:"If a man were to fill his stomach completely with pus until it destroyed him, that would be better for him than filling (his mind) with poetry
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پیٹ کا بیماری کے سبب پیپ ( مواد ) سے بھر جانا زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَحْصُوا لِي كُلَّ مَنْ تَلَفَّظَ بِالإِسْلاَمِ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّمِائَةِ إِلَى السَّبْعِمِائَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا " . قَالَ فَابْتُلِينَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا مَا يُصَلِّي إِلاَّ سِرًّا .
It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Count for me all those who have uttered (the word of) Islam.” We said: “O Messenger of Allah, do you fear for us when we number between six and seven hundred?” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “You do not know, perhaps you will be tested.”
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی تعداد شمار کر کے مجھے بتاؤ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہم پر ( اب بھی دشمن کی طرف سے ) خطرہ محسوس کرتے ہیں، جب کہ اب ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہیں جانتے شاید کہ تم آزمائے جاؤ ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو واقعی ہم آزمائے گئے، یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی نماز بھی پڑھتا تو چھپ کر پڑھتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الأَنْصَارِيِّ، - وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ لِيَوْمٍ لاَ رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمَلَهُ لِلَّهِ فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ " .
It was narrated from Abu Sa’d bin Abu Fadalah Al-Ansari, who was one of the Companions, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When Allah assembles the first and the last on the Day of Resurrection, a day concerning which there is no doubt, a caller will cry out: ‘Whoever used to associate anyone else in an action that he did for Allah, let him seek his reward from someone other than Allah, for Allah is so self-sufficient that He has no need of any associate.’”
سعد بن ابی فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بے نیاز ہے ۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ بَيَانٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَحْسِنُوا الصَّلاَةَ عَلَيْهِ فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ لَعَلَّ ذَلِكَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ . قَالَ فَقَالُوا لَهُ فَعَلِّمْنَا . قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلاَتَكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ إِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ بِهِ الأَوَّلُونَ وَالآخِرُونَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
Aswad bin Yazid narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said:“When you send peace and blessings upon the Messenger of Allah (ﷺ), then do it well, for you do not know, that may be shown to him.” They said to him: “Teach us.” He said: “Say: ‘Allahumma aj’al salataka wa rahmataka wa barakatika ‘ala sayyidil-mursalin wa imamil-muttaqin wa khatamin- nabiyyin, Muhammad ‘abdika wa Rasulika imamil-khayri (wa qa’idil- khair), wa Rasulir-Rahmah. Allahummab’athhu maqaman mahmudan yaghbituhu bihil-awwaluna wal-akhirun. Allahumma salli ‘ala Muhammadin wa ‘ala ali Muhammadin kama sallayta ‘ala Ibrahim wa ‘ala ali Ibrahim; Allahumma barik ‘ala Muhammadin wa ‘ala ali Muhammadin kama barakta ‘ala Ibrahim wa ‘ala ali Ibrahim, innaka Hamidum Majid (O Allah, send Your grace, honour, mercy and blessings upon the leader of the Messengers, the imam of the pious and the seal of the Prophets, Muhammad, Your slave and Messenger, the Imam of the good (and the leader) of the good, and the Messenger of mercy. O Allah, raise him to a station of praise and glory that will be the envy of the first and the last. O Allah, send Your grace, honour and mercy upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent Your grace, honour and mercy upon Ibrahim, You are indeed Praiseworthy, Most Glorious. O Allah, send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon Ibrahim and the family of Ibrahim, You are Praiseworthy, Most Glorious).’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود ( صلاۃ ) بھیجو تو اچھی طرح بھیجو، تمہیں معلوم نہیں شاید وہ درود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان سے عرض کیا: پھر تو آپ ہمیں درود سکھا دیجئیے، انہوں نے کہا: کہو: «اللهم اجعل صلاتك ورحمتك وبركاتك على سيد المرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيين محمد عبدك ورسولك إمام الخير وقائد الخير ورسول الرحمة اللهم ابعثه مقاما محمودا يغبطه به الأولون والآخرون اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! اپنی عنایتیں، رحمتیں اور برکتیں رسولوں کے سردار، متقیوں کے امام خاتم النبیین محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل فرما، جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں، خیر کے امام و قائد اور رسول رحمت ہیں، اے اللہ! ان کو مقام محمود پر فائز فرما، جس پہ اولین و آخرین رشک کریں گے، اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) اور آل ابراہیم پہ اپنی رحمت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) اور آل ابراہیم پہ نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے ۱؎۔