Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، : أَنَّ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - سُئِلَتْ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ : كَانَ يُصَلِّي صَلاَةَ الْعِشَاءِ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ وَيَنَامُ وَطَهُورُهُ مُغَطًّى عِنْدَ رَأْسِهِ، وَسِوَاكُهُ مَوْضُوعٌ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ سَاعَتَهُ الَّتِي يَبْعَثُهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى مُصَلاَّهُ فَيُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ، وَلاَ يَقْعُدُ فِي شَىْءٍ مِنْهَا حَتَّى يَقْعُدَ فِي الثَّامِنَةِ، وَلاَ يُسَلِّمُ، وَيَقْرَأُ فِي التَّاسِعَةِ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَدْعُو بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ، وَيَسْأَلُهُ وَيَرْغَبُ إِلَيْهِ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً شَدِيدَةً، يَكَادُ يُوقِظُ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنْ شِدَّةِ تَسْلِيمِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ بِأُمِّ الْكِتَابِ، وَيَرْكَعُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ الثَّانِيَةَ فَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَدْعُو مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَنْصَرِفُ، فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَّنَ فَنَقَصَ مِنَ التِّسْعِ ثِنْتَيْنِ، فَجَعَلَهَا إِلَى السِّتِّ وَالسَّبْعِ وَرَكْعَتَيْهِ وَهُوَ قَاعِدٌ حَتَّى قُبِضَ عَلَى ذَلِكَ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Zurarah ibn Awfa said that Aisha was asked about the midnight prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). She said: He used to offer his night prayer in congregation and then return to his family (in his house) and pray four rak'ahs. Then he would go to his bed and sleep, but the water for his ablution was placed covered near his head and his tooth-stick was also kept there until Allah awakened him at night. He then used the tooth-stick, performed ablution perfectly then came to the place of prayer and would pray eight rak'ahs, in which he would recite Surah al-Fatihah, and a surah from the Qur'an as Allah willed. He would not sit during any of them but sit after the eighth rak'ah, and would not utter the salutation, but recite (the Qur'an) during the ninth rak'ah. Then he would sit and supplicate as long as Allah willed, and beg Him and devote his attention to Him; He would utter the salutation once in such a loud voice that the inmates of the house were almost awakened by his loud salutation. He would then recite Surah al-Fatihah while sitting, bow while sitting, and then recite the Qur'an during the second rak'ah, and would bow and prostrate while sitting. He would supplicate Allah as long as He willed, then utter the salutation and turn away. This amount of prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) continued till he put a weight. During that period he retrenched two rak'ahs from nine and began to pray six and seven rak'ahs standing and two rak'ahs sitting. This continued till he died
زرارہ بن اوفی سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز ( تہجد ) کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جماعت کے ساتھ پڑھتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے اور چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر جاتے اور سو جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے آپ کے وضو کا پانی ڈھکا رکھا ہوتا اور مسواک رکھی ہوتی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا آپ کو اٹھا دیتا تو آپ ( اٹھ کر ) مسواک کرتے اور پوری طرح سے وضو کرتے، پھر اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، ان میں سے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ قرآن کی کوئی سورۃ اور جو اللہ کو منظور ہوتا پڑھتے اور کسی رکعت کے بعد نہیں بیٹھتے یہاں تک کہ جب آٹھویں رکعت ہو جاتی تو قعدہ کرتے اور سلام نہیں پھیرتے بلکہ نویں رکعت پڑھتے پھر قعدہ کرتے، اور اللہ جو دعا آپ سے کروانا چاہتا، کرتے اور اس سے سوال کرتے اور اس کی طرف متوجہ ہوتے اور ایک سلام پھیرتے اس قدر بلند آواز سے کہ قریب ہوتا کہ گھر کے لوگ جاگ جائیں، پھر بیٹھ کر سورۃ فاتحہ کی قرآت کرتے اور رکوع بھی بیٹھ کر کرتے، پھر دوسری رکعت پڑھتے اور بیٹھے بیٹھے رکوع اور سجدہ کرتے، پھر اللہ جتنی دعا آپ سے کروانا چاہتا کرتے پھر سلام پھیرتے اور نماز سے فارغ ہو جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کا معمول یہی رہا، یہاں تک کہ آپ موٹے ہو گئے تو آپ نے نو میں سے دو رکعتیں کم کر دیں اور اسے چھ اور سات رکعتیں کر لیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، وفات تک آپ کا یہی معمول رہا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " .
Aishah said:When the Prophet (ﷺ) uttered taslim, he used to say: "O Allah, You are As-Salam, and from you is As-Salam. You are blessed, O One of Magnificence and Generosity
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو فرماتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ۱؎ اے اللہ تو ہی سلام ہے، تیری ہی طرف سے سلام ہے، تو بڑی برکت والا ہے، اے جلال اور بزرگی والے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے، لوگوں نے کہا ہے: انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ۲؎۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ تَمْرَةً فَقَالَ " لَوْلاَ أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لأَكَلْتُهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ هَكَذَا .
Anas said:Messenger of Allah (May peace be upon him) found a date and said: Were it not that I fear it may be part of the sadaqah, I would eat it
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور ( پڑی ) پائی تو فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہو تاکہ یہ صدقے کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُلَبِّي الْمُعْتَمِرُ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَهَمَّامٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: A person who performs umrah should shout talbiyah till he touches the Black Stone. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by 'Abd al-Malik b. Abi Sulaiman and Hammam from 'Ata on the authority of Ibn 'Abbas as his own statement (i.e. the tradition was not attributed to the Prophet)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرہ کرنے والا حجر اسود کا استلام کرنے تک لبیک پکارے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان اور ہمام نے عطاء سے، عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
Narrated by Mu'awiyah al-Qushayri
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو قَزَعَةَ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ قَالَ " أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ - أَوِ اكْتَسَبْتَ - وَلاَ تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلاَ تُقَبِّحْ وَلاَ تَهْجُرْ إِلاَّ فِي الْبَيْتِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ " وَلاَ تُقَبِّحْ " . أَنْ تَقُولَ قَبَّحَكِ اللَّهُ .
Narrated Mu'awiyah al-Qushayri: Mu'awiyah asked: Messenger of Allah, what is the right of the wife of one of us over him? He replied: That you should give her food when you eat, clothe her when you clothe yourself, do not strike her on the face, do not revile her or separate yourself from her except in the house. Abu Dawud said: The meaning of "do not revile her" is, as you say: "May Allah revile you
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اوپر ہماری بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور گھر کے علاوہ اس سے جدائی ۱؎ اختیار نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «ولا تقبح» کا مطلب یہ ہے کہ تم اسے «قبحك الله» نہ کہو۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، عَنِ الْخَلِيلِ، أَوِ ابْنِ الْخَلِيلِ قَالَ أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ مِنْ ثَلاَثٍ نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرِ الْيَمَنَ وَلاَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ قَوْلَهُ طِيبَا بِالْوَلَدِ .
Khalil or Ibn Khalil said “A woman was brought to Ali bin Abi Talib(may Allaah be pleased with him). She bore a child from intercourse of three persons. The narrator transmitted the rest of the tradition similar to the previous one. But in this version he did not mention “Yemen” and the Prophet (ﷺ) and his words “give the child willingly.”
خلیل یا ابن خلیل کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا مقدمہ لایا گیا جس نے تین آدمیوں سے صحبت کے بعد ایک لڑکا جنا تھا، آگے اسی طرح کی روایت ہے اس میں نہ تو انہوں نے یمن کا ذکر کیا ہے، نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور نہ ( علی رضی اللہ عنہ کے ) اس قول کا کہ خوشی سے تم دونوں لڑکے کو اسے ( تیسرے کو ) دے دو۔
Narrated by Abu al-Darda
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ أَوْ كَفَّهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ مَا فِينَا صَائِمٌ إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ .
Narrated Abu al-Darda:We went out along with the Messenger of Allah (ﷺ) for some battle in intense heat, so much so that one of us placed his hand on his head, or placed his palm on his head, due to intense heat, No one of us fasted except the Messenger of Allah (ﷺ) and 'Abd Allah b. Rawahah
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی غزوے میں نکلے، گرمی اس قدر شدید تھی کہ شدت کی وجہ سے ہم میں سے ہر شخص اپنا ہاتھ یا اپنی ہتھیلی اپنے سر پر رکھ لیتا، اس موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔
Narrated by Abbad ibn Abdullah ibn az-Zubayr
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ - حَدَّثَنِي أَبِي الَّذِي، أَرْضَعَنِي وَهُوَ أَحَدُ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ - وَكَانَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ غَزَاةِ مُؤْتَةَ - قَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرٍ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ فَعَقَرَهَا ثُمَّ قَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ .
Narrated Abbad ibn Abdullah ibn az-Zubayr: My foster-father said to me - he was one of Banu Murrah ibn Awf, and he was present in that battle, the battle of Mu'tah: By Allah, as if I am seeing Ja'far who jumped from his reddish horse and hamstrung it; he then fought with the people until he was killed. Abu Dawud said: The tradition is not strong
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میرے رضاعی والد نے جو بنی مرہ بن عوف میں سے تھے مجھ سے بیان کیا کہ وہ غزوہ موتہ کے غازیوں میں سے تھے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا کہ میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے سرخ گھوڑے سے کود پڑے اور اس کی کونچ کاٹ دی ۱؎، پھر دشمنوں سے لڑے یہاں تک کہ قتل کر دیئے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ سَرَّحَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَأَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْخَيْلِ وَقَالَ " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ اهْتِفْ بِالأَنْصَارِ " . قَالَ اسْلُكُوا هَذَا الطَّرِيقَ فَلاَ يُشْرِفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ أَنَمْتُمُوهُ . فَنَادَى مُنَادٍ لاَ قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ دَخَلَ دَارًا فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلاَحَ فَهُوَ آمِنٌ " . وَعَمَدَ صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ فَدَخَلُوا الْكَعْبَةَ فَغَصَّ بِهِمْ وَطَافَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ ثُمَّ أَخَذَ بِجَنْبَتَىِ الْبَابِ فَخَرَجُوا فَبَايَعُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الإِسْلاَمِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سَأَلَهُ رَجُلٌ قَالَ مَكَّةَ عَنْوَةً هِيَ قَالَ أَيْشٍ يَضُرُّكَ مَا كَانَتْ قَالَ فَصُلْحٌ قَالَ لاَ .
Abu Hurairah said “When the Prophet (ﷺ) entered Makkah he left Al Zubair bin Al Awwam, Abu ‘Ubaidah bin Al Jarrah and Khalid bin Al Walid on the horses and he said “Abu Hurairah call the helpers.” He said”Go this way. Whoever appears before you kill him”. A man called “the Quraish will be no more after today.” The Apostle of Allaah(ﷺ) said “he who entered house is safe, he who throws the weapon is safe. The chiefs of the Quraish intended (to have a resort in the Ka’bah), they entered the Ka’bah and it was full of them. The Prophet (ﷺ) took rounds of Ka’bah and prayed behind the station. He then held the sides of the gate (of the Ka’bah). They (the people) came out and took the oath of allegiance (at the hands) of the Prophet (ﷺ) on Islam. Abu Dawud said “I heard Ahmad bin Hanbal (say) when he was asked by a man “Was Makkah captured by force?” He said “What harms you whatever it was? He said “Then by peace?” He said, No
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے زبیر بن عوام، ابوعبیدہ ابن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو گھوڑوں پر سوار رہنے دیا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم انصار کو پکار کر کہہ دو کہ اس راہ سے جائیں، اور تمہارے سامنے جو بھی آئے اسے ( موت کی نیند ) سلا دیں ، اتنے میں ایک منادی نے آواز دی: آج کے دن کے بعد قریش نہیں رہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گھر میں رہے اس کو امن ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو امن ہے ، قریش کے سردار خانہ کعبہ کے اندر چلے گئے تو خانہ کعبہ ان سے بھر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی پھر خانہ کعبہ کے دروازے کے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر ( کھڑے ہوئے ) تو خانہ کعبہ کے اندر سے لوگ نکلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ کسی شخص نے احمد بن حنبل سے پوچھا: کیا مکہ طاقت سے فتح ہوا ہے؟ تو احمد بن حنبل نے کہا: اگر ایسا ہوا ہو تو تمہیں اس سے کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: تو کیا صلح ( معاہدہ ) کے ذریعہ ہوا ہے؟ کہا: نہیں۔
Narrated by Jabir ibn Samurah
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ مَرِضَ رَجُلٌ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ جَارُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ إِنَّهُ قَدْ مَاتَ . قَالَ " وَمَا يُدْرِيكَ " . قَالَ أَنَا رَأَيْتُهُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ " . قَالَ فَرَجَعَ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ مَاتَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ " . فَرَجَعَ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبِرْهُ . فَقَالَ الرَّجُلُ اللَّهُمَّ الْعَنْهُ . قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ فَرَآهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ مَعَهُ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَقَالَ " مَا يُدْرِيكَ " . قَالَ رَأَيْتُهُ يَنْحَرُ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ مَعَهُ . قَالَ " أَنْتَ رَأَيْتَهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " إِذًا لاَ أُصَلِّي عَلَيْهِ " .
Narrated Jabir ibn Samurah: A man fell ill and a cry was raised (for his death). So his neighbour came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said to him: He has died. He asked: Who told you? He said: I have seen him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: He has not died. He then returned. A cry was again raised (for his death). He came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: He has died. The Prophet (ﷺ) said: He has not died. He then returned. A cry was again raised over him. His wife said: Go to the Messenger of Allah (ﷺ) and inform him. The man said: O Allah, curse him. He said: The man then went and saw that he had killed himself with an arrowhead. So he went to the Prophet (ﷺ) and informed him that he had died. He asked: Who told you? He replied: I myself saw that he had killed himself with arrowheads. He asked: Have you seen him? He replied: Yes. He then said: Then I shall not pray over him
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص بیمار ہوا پھر اس کی موت کی خبر پھیلی تو اس کا پڑوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ ، وہ بولا: میں اسے دیکھ کر آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نہیں مرا ہے ، وہ پھر لوٹ گیا، پھر اس کے مرنے کی خبر پھیلی، پھر وہی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: وہ مر گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نہیں مرا ہے ، تو وہ پھر لوٹ گیا، اس کے بعد پھر اس کے مرنے کی خبر مشہور ہوئی، تو اس کی بیوی نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور اس کے مرنے کی آپ کو خبر دو، اس نے کہا: اللہ کی لعنت ہو اس پر۔ پھر وہ شخص مریض کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس نے تیر کے پیکان سے اپنا گلا کاٹ ڈالا ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس نے آپ کو بتایا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیسے پتا لگا؟ ، اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے اس نے تیر کی پیکان سے اپنا گلا کاٹ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے خود دیکھا ہے؟ ، اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میں اس کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھوں گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، بَاعَ مِنَ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَقِيقًا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَالْكَلاَمُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ .
Al-Qasim b. 'Abd al-Rahman reported on the authority of his father:Ibn Mas'ud sold slaves to al-Ash'ath b. Qais. He then narrated the rest of the tradition to the same effect with some variation of words
قاسم بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ایک غلام اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بیچا، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث الفاظ کی کچھ کمی و بیشی کے ساتھ بیان کی۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ عَتِيقٍ فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ يُخْرِجُ السُّوسَ مِنْهُ .
Narrated Anas ibn Malik: When the Prophet (ﷺ) was brought some old dates, he began to examine them and remove the worms from them
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ پرانے کھجور لائے گئے تو آپ اس میں سے چن چن کر کیڑے ( سرسریاں ) نکالنے لگے۔
Narrated by Dihyah ibn Khalifah al-Kalbi
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَبَاطِيَّ فَأَعْطَانِي مِنْهَا قُبْطِيَّةً فَقَالَ " اصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وَأَعْطِ الآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ " . فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ " وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لاَ يَصِفُهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ .
Narrated Dihyah ibn Khalifah al-Kalbi: The Messenger of Allah (ﷺ) was brought some pieces of fine Egyptian linen and he gave me one and said: Divide it into two; cut one of the pieces into a shirt and give the other to your wife for veil. Then when he turned away, he said: And order your wife to wear a garment below it and not show her figure. Abu Dawud said: Yahya b. Ayyub transmitted it and said: 'Abbas b. 'Ubaid Allah b. 'Abbas
دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سفید اور باریک مصری کپڑے لائے گئے تو ان میں سے آپ نے مجھے بھی ایک باریک کپڑا دیا، اور فرمایا: اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو ان میں ایک کا کرتہ بنا لو اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنا لے پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہو اس کے نیچے ایک اور کپڑا کر لے تاکہ اس کا بدن ظاہر نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَهُودِيٍّ قَدْ حُمِّمَ وَجْهُهُ وَهُوَ يُطَافُ بِهِ فَنَاشَدَهُمْ مَا حَدُّ الزَّانِي فِي كِتَابِهِمْ قَالَ فَأَحَالُوهُ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَنَشَدَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا حَدُّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ " . فَقَالَ الرَّجْمُ وَلَكِنْ ظَهَرَ الزِّنَا فِي أَشْرَافِنَا فَكَرِهْنَا أَنْ يُتْرَكَ الشَّرِيفُ وَيُقَامَ عَلَى مَنْ دُونَهُ فَوَضَعْنَا هَذَا عَنَّا . فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا مَا أَمَاتُوا مِنْ كِتَابِكَ " .
Al-Bara’ b. Azib said:The people passed by the Messenger of Allah (ﷺ) with a jew whose face blackened with charcoal and he was being taken around. He adjured them by Allah and asked: What is the prescribed punishment for a fornicator in your Divine book? He (the narrator) said: They referred him to a man of them. The Prophet (ﷺ) adjured him and asked: What is the punishment for a fornication in your Divine Book? He replied: Stoning. But fornication spread among our people of rank, so we disliked that a person of rank should be left alone and the punishment be inflicted on one who is lower in rank than him. So we suspended it for us. The Messenger of Allah (ﷺ) then commanded regarding him and he was stoned to death. He then said: O Allah! I am the first to give life to a command of Thy Book which they had killed
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک یہودی کو لے کر گزرے جس کو ہاتھ منہ کالا کر کے گھمایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ ان کی کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ ان لوگوں نے آپ کو اپنے میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے کے لیے کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ تو اس نے کہا: رجم ہے، لیکن زنا کا جرم ہمارے معزز لوگوں میں عام ہو گیا، تو ہم نے یہ پسند نہیں کیا کہ معزز اور شریف آدمی کو چھوڑ دیا جائے اور جو ایسے نہ ہوں ان پر حد جاری کی جائے، تو ہم نے اس حکم ہی کو اپنے اوپر سے اٹھا لیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کا حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیری کتاب میں سے اس حکم کو زندہ کیا ہے جس پر لوگوں نے عمل چھوڑ دیا تھا ۔
Narrated by Imran ibn Husayn
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ غُلاَمًا، لأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلاَمٍ لأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أُنَاسٌ فُقَرَاءُ . فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا .
Narrated Imran ibn Husayn: A servant of some poor people cut off the ear of the servant of some rich people. His people came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah! we are poor people. So he imposed no compensation on them
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فقیر لوگوں کے ایک غلام نے کچھ مالدار لوگوں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، تو جس غلام نے کان کاٹا تھا اس کے مالکان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! ہم فقیر لوگ ہیں، تو آپ نے ان پر کوئی دیت نہیں ٹھہرائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ، مَوْلَى غُفْرَةَ عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الأَنْصَارِ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسٌ وَمَجُوسُ هَذِهِ الأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ لاَ قَدَرَ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ فَلاَ تَشْهَدُوا جَنَازَتَهُ وَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ فَلاَ تَعُودُوهُمْ وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ وَحَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِالدَّجَّالِ " .
Hudhaifah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Every people have Magians, and the Magians of this community are those who declare that there is no destination by Allah. If any one of them dies, do not attend his funeral, and if any one of them is ill, do not pay a sick visit to him. They are the partisans of the Antichrist (Dajjal), and Allah will surely join them with the Antichrist
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں، اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہیں، ان میں کوئی مر جائے تو تم اس کے جنازے میں شرکت نہ کرو، اور اگر کوئی بیمار پڑے، تو اس کی عیادت نہ کرو، یہ دجال کی جماعت کے لوگ ہیں، اللہ ان کو دجال کے زمانے تک باقی رکھے گا ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَجَالِسُ بِالأَمَانَةِ إِلاَّ ثَلاَثَةَ مَجَالِسَ سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ أَوِ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ " .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: Meetings are confidential except three: those for the purpose of shedding blood unlawfully, or committing fornication, or acquiring property unjustly
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجلسیں امانت داری کے ساتھ ہیں ( یعنی ایک مجلس کی بات دوسری جگہ جا کر بیان نہیں کرنی چاہیئے ) سوائے تین مجلسوں کے، ایک جس میں ناحق خون بہایا جائے، دوسری جس میں بدکاری کی جائے اور تیسری جس میں ناحق کسی کا مال لوٹا جائے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ فَقَالَ أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " . قَالَ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
Ibn ‘Abbas reported :Banu Sa’d b. Bakr sent Qamam b. Tha’labah to the apostle of Allah (May peace be upon him). He came to him and made his camel kneel down near the gate of the mosque. He then tied its leg and entered the mosque. The narrator then reported in a similar way. He then said: Who among you is the son of Abd al-Muttalib? The Messenger of Allah (May peace be upon him) replied: I am the son of Ibn ‘Abd al-Muttalib. He said: O son of ‘Abd al-Muttalib. The narrator then reported the rest of the tradition
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنی سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، وہ آپ کے پاس آئے انہوں نے اپنا اونٹ مسجد کے دروازے پر بٹھایا اور اسے باندھ دیا پھر مسجد میں داخل ہوئے، پھر محمد بن عمرو نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے اس نے کہا: تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالمطلب کا بیٹا میں ہوں ، تو اس نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! اور راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى قَوْمًا وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ فَقَالَ " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ " .
‘Abd Allah b. ‘Amr reported :The Messenger of Allah (ﷺ) saw some people (performing ablution) while their heels were dry. He then said : Woe to the heels because of Hell. Perform the ablution in full
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کو اس حال میں دیکھا کہ وضو کرنے میں ان کی ایڑیاں ( پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے ) خشک تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایڑیوں کو بھگونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی آگ سے تباہی ہے وضو پوری طرح سے کرو ۱؎ ۔