بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
5
19 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏:‏ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا ‏.‏
This tradition has also been transmitted by Sa'id through a different chain of narrators to the same effect. Ibn Bashshar narrated the tradition like that of Yahya b. Sa'id. His version has:He uttered the salutation in a way that we could hear it
اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث روایت کی ہے ابن بشار نے یحییٰ بن سعید کی طرح حدیث نقل کی مگر اس میں «ويسلم تسليمة يسمعنا» کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ ‏"‏ وَيَسِّرِ الْهُدَى إِلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ ‏"‏ هُدَاىَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعَ سُفْيَانُ مِنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالُوا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا ‏.‏
The aforesaid tradition has also been transmitted by 'Amr b. Murrah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:"And make right guidance easy for me." The narrator did not say: "my right guidance". Abu Dawud said: Sufyan heard eighteen traditions from 'Amr b. Murrah
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت سنی ہے، اس میں «يسر هداي إلي» کے بجائے«يسر الهدى إلي» ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ الْعَائِرَةِ فَمَا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلاَّ مَخَافَةُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً ‏.‏
Anas said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) came upon a date on the road; he would not take it for fear of being a part of the sadaqah
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی پڑی ہوئی کھجور پر ہوتا تو آپ کو اس کے لے لینے سے سوائے اس اندیشے کے کوئی چیز مانع نہ ہوتی کہ کہیں وہ صدقے کی نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ ‏.‏
‘Abd Allah bin Umar said We proceeded along with the Apostle of Allaah(ﷺ) from Mina to ‘Arafat, some of us were uttering talbiyah and the others were shouting “Allaah is most great.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلے ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ «الله أكبر» کہہ رہے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ فَلَمْ تَأْتِهِ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا لَعَنَتْهَا الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying “When a man calls his wife to come to his bed and she refuses and does not come to him and he spends the night angry, the angels curse her till the morning.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کرے اور اس کے پاس نہ آئے جس کی وجہ سے شوہر رات بھر ناراض رہے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں ۔
Narrated by Zayd ibn Arqam
حَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - بِثَلاَثَةٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ قَالاَ لاَ ‏.‏ حَتَّى سَأَلَهُمْ جَمِيعًا فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ قَالاَ لاَ ‏.‏ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي صَارَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَىِ الدِّيَةِ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ‏.‏
Narrated Zayd ibn Arqam: Three persons were brought to Ali (Allah be pleased with him) when he was in the Yemen. They and sexual intercourse with a woman during a single state of purity. He asked two of them: Do you acknowledge this child for this (man)? They replied: No. He then put this (question) to all of them. Whenever he asked two of them, they replied in the negative. He, therefore, cast a lot among them, and attributed the child to the one who received the lot. He imposed two-third of the blood-money (i.e. the price of the mother) on him. This was then mentioned to the Prophet (ﷺ) and he laughed so much that his molar teeth appeared
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں تین آدمی ( ایک لڑکے کے لیے جھگڑا لے کر ) آئے جنہوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو آپ نے ان میں سے دو سے پوچھا: کیا تم دونوں یہ لڑکا اسے ( تیسرے کو ) دے سکتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس طرح آپ نے سب سے دریافت کیا، اور سب نے نفی میں جواب دیا، چنانچہ ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اور جس کا نام نکلا اسی کو لڑکا دے دیا، نیز اس کے ذمہ ( دونوں ساتھیوں کے لیے ) دو تہائی دیت مقرر فرمائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ آیا تو آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلاَلٍ الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، - رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ إِخْوَةِ بَنِي قُشَيْرٍ - قَالَ أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْتَهَيْتُ - أَوْ قَالَ فَانْطَلَقْتُ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ ‏"‏ اجْلِسْ فَأَصِبْ مِنْ طَعَامِنَا هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّلاَةِ وَعَنِ الصِّيَامِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ شَطْرَ الصَّلاَةِ أَوْ نِصْفَ الصَّلاَةِ وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ أَوِ الْحُبْلَى ‏"‏ ‏.‏ وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَهُمَا جَمِيعًا أَوْ أَحَدَهُمَا قَالَ فَتَلَهَّفَتْ نَفْسِي أَنْ لاَ أَكُونَ أَكَلْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: A man from Banu Abdullah ibn Ka'b brethren of Banu Qushayr (not Anas ibn Malik, the well-known Companion), said: A contingent from the cavalry of the Messenger of Allah (ﷺ) raided us. I reached (for he said went) to the Messenger of Allah (ﷺ) who was taking his meals. He said: Sit down, and take some from this meal of ours. I said: I am fasting, he said: Sit down, I shall tell you about prayer and fasting. Allah has remitted half the prayer to a traveller, and fasting to the traveller, the woman who is suckling an infant and the woman who is pregnant, I swear by Allah, he mentioned both (i.e. suckling and pregnant women) or one of them. I was grieved for not taking the food of the Messenger of Allah (ﷺ)
انس بن مالک ۱؎ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (جو بنی قشیر کے برادران بنی عبداللہ بن کعب کے ایک فرد ہیں) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑ سوار دستے نے ہم پر حملہ کیا، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، یا یوں کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھو، اور ہمارے کھانے میں سے کچھ کھاؤ ، میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا بیٹھو، میں تمہیں نماز اور روزے کے بارے میں بتاتا ہوں: اللہ نے ( سفر میں ) نماز آدھی کر دی ہے، اور مسافر، دودھ پلانے والی، اور حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے ، قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کا ذکر کیا یا ان دونوں میں سے کسی ایک کا، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے نہ کھا پانے کا افسوس رہا۔
Narrated by Buraydah ibn al-Hasib
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي جَاءَ رَجُلٌ وَمَعَهُ حِمَارٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ ‏.‏ وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ مِنِّي إِلاَّ أَنْ تَجْعَلَهُ لِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ ‏.‏ فَرَكِبَ ‏.‏
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: While the Messenger of Allah (ﷺ) was walking a man who had an ass came to him and said: Messenger of Allah, ride; and the man moved to the back of the animal. The Messenger of Allah (ﷺ) said: No, you have more right to ride in front on your animal than me unless you grant that right to me. He said: I grant it to you. So he mounted
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا اور اس کے ساتھ ایک گدھا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول سوار ہو جائیے اور وہ پیچھے سرک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہو، الا یہ کہ تم مجھے اس اگلے حصہ کا حقدار بنا دو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اس کا حقدار بنا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ - حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ غَنِمُوا يَوْمَ الْفَتْحِ شَيْئًا قَالَ لاَ ‏.‏
Wahb bin Munabbih said “I sked Jabir “Did they get any booty on the day of conquest (of Makkah)? He replied, No
وہب (وہب بن منبہ) کہتے ہیں میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا مسلمانوں کو فتح مکہ کے دن کچھ مال غنیمت ملا تھا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَحْيَى الْمُجَبِّرِ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ - عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَشْىِ مَعَ الْجَنَازَةِ فَقَالَ ‏ "‏ مَا دُونَ الْخَبَبِ إِنْ يَكُنْ خَيْرًا تَعَجَّلْ إِلَيْهِ وَإِنْ يَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَبُعْدًا لأَهْلِ النَّارِ وَالْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلاَ تُتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ هُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَحْيَى الْجَابِرُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا كُوفِيٌّ وَأَبُو مَاجِدَةَ بَصْرِيٌّ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو مَاجِدَةَ هَذَا لاَ يُعْرَفُ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: We asked the Prophet (ﷺ) about walking with the funeral. He replied: Not running (but walking quickly). If he (the dead person) was good, send him to it quickly; if he was otherwise, keep away the people of Hell. The bier should be followed and should not follow. Those who go in front of it are not accompanying it. Abu Dawud said: The narrator Yahya b. 'Abd Allah is weak. He is Yahya al-Jabir Abu Dawud said: This is from Kufah, and Abu Majidah is from Basrah. Abu Dawud said: Abu Majidah is obscure
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے اپنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: «خبب» ۱؎ سے کچھ کم، اگر جنازہ نیک ہے تو وہ نیکی سے جلدی جا ملے گا، اور اگر نیک نہیں ہے تو اہل جہنم کا دور ہو جانا ہی بہتر ہے، جنازہ کی پیروی کی جائے گی ( یعنی جنازہ آگے رہے گا اور لوگ اس کے پیچھے رہیں گے ) اسے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا، جو آگے رہے گا وہ جنازہ کے ساتھ نہیں سمجھا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ المجبر ضعیف ہیں اور یہی یحییٰ بن عبداللہ ہیں اور یہی یحییٰ الجابر ہیں، یہ کوفی ہیں اور ابوماجدہ بصریٰ ہیں، نیز ابوماجدہ غیر معروف شخص ہیں۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ اشْتَرَى الأَشْعَثُ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمُسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِ فِي ثَمَنِهِمْ فَقَالَ إِنَّمَا أَخَذْتُهُمْ بِعَشْرَةِ آلاَفٍ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَاخْتَرْ رَجُلاً يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ‏.‏ قَالَ الأَشْعَثُ أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَانِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: Muhammad ibn al-Ash'ath said: Al-Ash'ath bought slaves of booty from Abdullah ibn Mas'ud for twenty thousand (dirhams. Abdullah asked him for payment of their price. He said: I bought them for ten thousand (dirhams). Abdullah said: Appoint a man who may adjudicate between me and you. Al-Ash'ath said: (I appoint) you between me and yourself. Abdullah said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If both parties in a business transaction differ (on the price of an article), and they have witness between them, the statement of the owner of the article will be accepted (as correct) or they may annul the transaction
محمد بن اشعث کہتے ہیں اشعث نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خمس کے غلاموں میں سے چند غلام بیس ہزار میں خریدے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث سے ان کی قیمت منگا بھیجی تو انہوں نے کہا کہ میں نے دس ہزار میں خریدے ہیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی شخص کو چن لو جو ہمارے اور تمہارے درمیان معاملے کا فیصلہ کر دے، اشعث نے کہا: آپ ہی میرے اور اپنے معاملے میں فیصلہ فرما دیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب بائع اور مشتری ( بیچنے اور خریدنے والے ) دونوں کے درمیان ( قیمت میں ) اختلاف ہو جائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو صاحب مال و سامان جو بات کہے وہی مانی جائے گی، یا پھر دونوں بیع کو فسخ کر دیں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَيْتٌ لاَ تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ ‏"‏ ‏.‏
’A’ishah reported the Prophet(ﷺ) as saying:A family which has no dates will be hungry
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ فاقہ سے ہوں گے ۱؎ ۔
Narrated by Umm Salamah, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ وَهْبٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ ‏"‏ لَيَّةً لاَ لَيَّتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ لَيَّةً لاَ لَيَّتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ يَقُولُ لاَ تَعْتَمَّ مِثْلَ الرَّجُلِ لاَ تُكَرِّرْهُ طَاقًا أَوْ طَاقَيْنِ ‏.‏
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) came to visit her when she was veiled, and said: use one fold and not two. Abu Dawud said: "Use one fold and not two" means: "Do not fold it like the turban of a man. Do not double it up manifolds
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ہی پیچ رکھو دو پیچ نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لية لا ليتين» کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح پگڑی نہ باندھو کہ اس کے ایک یا دو پیچ کو دہرا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الزِّنَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ ‏.‏ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَجَعَلَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ ارْفَعْ يَدَكَ ‏.‏ فَرَفَعَهَا فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَقَالُوا صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ ‏.‏ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَا ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ ‏.‏
Ibn ‘Umar said:some jews came to the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned to him that a man and a women of their number had committed fornication. The Messenger of Allah (ﷺ) asked them: What do you find in the Torah about stoning? They replied: We disgrace them and they should be flogged. ‘Abd Allah b. Salam said: You lie; it contains (instruction for) stoning. So they brought the Torah and spread it out, and one of them put his hand over the verse of stoning and read what preceded it and what followed it. ‘Abd Allah b. Salam said to him: Lift your hand. When he did so, the verse of stoning was seen to be in it. They then said: He has spoken the truth, Muhammad, the verse of stoning is in it. The Messenger of Allah (ﷺ) then gave command regarding them, and they were stoned to death. ‘Abd Allah b. ‘Umar said: I saw the man leaning on the woman protecting her from the stones
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کر لیا ہے، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم تورات میں زنا کے معاملہ میں کیا حکم پاتے ہو؟ تو ان لوگوں نے کہا: ہم انہیں رسوا کرتے اور کوڑے لگاتے ہیں، تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ جھوٹ کہتے ہو، اس میں تو رجم کا حکم ہے، چنانچہ وہ لوگ تورات لے کر آئے، اور اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ لیا، پھر وہ اس کے پہلے اور بعد کی آیتیں پڑھنے لگا، تو عبداللہ بن سلام نے اس سے کہا: اپنا ہاتھ اٹھاؤ، اس نے اٹھایا تو وہیں آیت رجم ملی، تو وہ کہنے لگے: صحیح ہے اے محمد! اس میں رجم کی آیت موجود ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے رجم کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ دونوں رجم کر دیے گئے۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھک جھک جایا کرتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ مَعْنَاهُ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Khalid with a different chain of narrators to the same effect
اس سند سے بھی خالد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي بِمِنًى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الأُمَّةِ إِنْ مَرِضُوا فَلاَ تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلاَ تَشْهَدُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: The Qadariyyah are the Magians of this community. If they are ill, do not pay a sick visit to them, and if they die, do not attend their funerals
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قدریہ ( منکرین تقدیر ) اس امت ( محمدیہ ) کے مجوس ہیں، اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک مت ہو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَقُلْنَا لَهُ هَذَا الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ أَجَبْتُكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
Anas b. Malik reported :A man entered the mosque on camel and made it kneel down, and then tied his leg with rope. He then asked: Who among you is Muhammad? The Messenger of Allah (May peace be upon him) was sitting leaning upon something among them. We said to him: This white (man) who is leaning. The man said: O son of ‘Abd al-Muttalib. The Prophet (peace be upon him) said; I already responded to you. The man (again) said: O Muhammad. I am asking you. The narrator then narrated the rest of the tradition
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، پھر پوچھا: تم میں محمد کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ان ( لوگوں ) کے بیچ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، ہم نے اس سے کہا: یہ گورے شخص ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، پھر اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی، ( کہو کیا کہنا چاہتے ہو ) ، تو اس شخص نے کہا: محمد! میں آپ سے پوچھتا ہوں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: When a man tells something and then departs, it is a trust
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کوئی بات کرے، پھر ادھر ادھر مڑ مڑ کر دیکھے تو وہ امانت ہے ( اسے افشاء نہیں کرنا چاہیئے ) ۔
Narrated by Abdullah ibn Mughaffal
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، سَمِعَ ابْنَهُ، يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ، إِذَا دَخَلْتُهَا ‏.‏ فَقَالَ أَىْ بُنَىَّ سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطُّهُورِ وَالدُّعَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Mughaffal: Abdullah heard his son praying to Allah: O Allah, I ask Thee a white palace on the right of Paradise when I enter it. He said: O my son, ask Allah for Paradise and seek refuge in Him from Hell-Fire, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: In this community there will be some people who will exceed the limits in purification as well as in supplication
ابونعامہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کہتے سنا: اے اللہ! میں جب جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف کا سفید محل عطا فرما، آپ نے کہا: میرے بیٹے! تم اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے ۱؎۔