بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
5
19 hadith
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ‏:‏ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا كَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ‏.‏
The above tradition has also been transmitted by Yahya b. Sa'id to the same effect. The version adds the words:"He uttered the salutation so loudly that we could hear it
اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے: آپ اپنا سلام ہمیں سناتے جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طُلَيْقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو ‏ "‏ رَبِّ أَعِنِّي وَلاَ تُعِنْ عَلَىَّ وَانْصُرْنِي وَلاَ تَنْصُرْ عَلَىَّ وَامْكُرْ لِي وَلاَ تَمْكُرْ عَلَىَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَاىَ إِلَىَّ وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَىَّ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا لَكَ ذَاكِرًا لَكَ رَاهِبًا لَكَ مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوْ مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) used to supplicate Allah: "My Lord, help me and do not give help against me; grant me victory, and do not grant victory over me; plan on my behalf and do not plan against me; guide me, and made my right guidance easy for me; grant me victory over those who act wrongfully towards me; O Allah, make me grateful to Thee, mindful of Thee, full of fear towards Thee, devoted to Thy obedience, humble before Thee, or penitent. My Lord, accept my repentance, wash away my sin, answer my supplication, clearly establish my evidence, guide my heart, make true my tongue and draw out malice in my breast
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامكر لي ولا تمكر علي، واهدني ويسر هداي إلي، وانصرني على من بغى علي، اللهم اجعلني لك شاكرا لك، ذاكرا لك، راهبا لك، مطواعا إليك مخبتا أو منيبا، رب تقبل توبتي، واغسل حوبتي، وأجب دعوتي، وثبت حجتي، واهد قلبي، وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي» اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو، مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے، اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے، اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر، جو مجھ پر زیادتی کرے، اے اللہ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گڑگڑانے والا، یا دل لگانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے ۔
Narrated by AbuRafi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ رَجُلاً عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَقَالَ لأَبِي رَافِعٍ اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ‏ "‏ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لاَ تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuRafi': The Prophet (ﷺ) sent a man of the Banu Makhzum to collect sadaqah. He said to AbuRafi': Accompany me so that you may get some of it. He said: (I cannot take it) until I go to the Prophet (ﷺ) and ask him. Then he went to him and asked him. He said: The sadaqah is not lawful for us, and the client of a people is treated as one of them
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، اس نے ابورافع سے کہا : میرے ساتھ چلو اس میں سے کچھ تمہیں بھی مل جائے گا ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھ لوں ، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قوم کا غلام انہیں ۱؎ میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں “ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ‏.‏
Al Fadl bin Abbas said The Apostle of Allaah(ﷺ) uttered talbiyah till he threw pebbles at Jamrat Al ‘Aqbah
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی ۱؎۔
Narrated by Qays ibn Sa'd
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَقُلْتُ رَسُولُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَفْعَلُوا لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ لأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنَ الْحَقِّ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Qays ibn Sa'd: I went to al-Hirah and saw them (the people) prostrating themselves before a satrap of theirs, so I said: The Messenger of Allah (ﷺ) has most right to have prostration made before him. When I came to the Prophet (ﷺ), I said: I went to al-Hirah and saw them prostrating themselves before a satrap of theirs, but you have most right, Messenger of Allah, to have (people) prostrating themselves before you. He said: Tell me , if you were to pass my grave, would you prostrate yourself before it? I said: No. He then said: Do not do so. If I were to command anyone to make prostration before another I would command women to prostrate themselves before their husbands, because of the special right over them given to husbands by Allah
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حیرہ آیا، تو دیکھا کہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں سجدہ کیا جائے، میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے کہا کہ میں حیرہ شہر آیا تو میں نے وہاں لوگوں کو اپنے سردار کے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ کیا اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو گے، تو اسے بھی سجدہ کرو گے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرنا، اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس وجہ سے کہ شوہروں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے ۔
Narrated by Zayd ibn Arqam
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ إِنَّ ثَلاَثَةَ نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَوْا عَلِيًّا يَخْتَصِمُونَ إِلَيْهِ فِي وَلَدٍ وَقَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَقَالَ لاِثْنَيْنِ مِنْهُمَا طِيبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا ‏.‏ فَغَلَيَا ثُمَّ قَالَ لاِثْنَيْنِ طِيبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا ‏.‏ فَغَلَبَا ثُمَّ قَالَ لاِثْنَيْنِ طِيبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا ‏.‏ فَغَلَبَا فَقَالَ أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ فَمَنْ قُرِعَ فَلَهُ الْوَلَدُ وَعَلَيْهِ لِصَاحِبَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ ‏.‏ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَجَعَلَهُ لِمَنْ قُرِعَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَضْرَاسُهُ أَوْ نَوَاجِذُهُ ‏.‏
Narrated Zayd ibn Arqam: I was sitting with the Prophet (ﷺ). A man came from the Yemen, and said: Three men from the people of the Yemen came to Ali, quarrelling about a child, asking him to give a decision. They had had sexual intercourse with a woman during a single state of purity. He said to two of them: Give this child to this man (the third person) with pleasure. But they (refused and) cried loudly. Again he said to two of them: Give the child to the man (the third person) willingly. But they (refused and) cried loudly. He then said: You are quarrelsome partners. I shall cast lots among you; he who receives the lot, will acquire the child, and he shall pay two-thirds of the blood-money to both his companions. He then cast lots among them, and gave the child to the one who received the lot. The Messenger of Allah (ﷺ) laughed so much that his canine or molar teeth appeared
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں یمن کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اہل یمن میں سے تین آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے آئے، ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر ( پاکی ) میں جماع کیا تھا، تو علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے دو سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے یہ لڑکا اسے ( تیسرے کو ) دے دو، یہ سن کر وہ دونوں بھڑک گئے، پھر دو سے یہی بات کہی، وہ بھی بھڑک اٹھے، پھر دو سے اسی طرح گفتگو کی لیکن وہ بھی بھڑک اٹھے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: تم تو باہم ضد کرنے والے ساجھی دار ہو لہٰذا میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرتا ہوں، جس کے نام کا قرعہ نکلے گا، لڑکا اسی کو ملے گا اور وہ اپنے ساتھیوں کو ایک ایک تہائی دیت ادا کرے گا ، آپ نے قرعہ ڈالا اور جس کا نام نکلا اس کو لڑکا دے دیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں یا کچلیاں نظر آنے لگیں۔
Narrated by Jabir b. 'Abd Allah
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يُظَلَّلُ عَلَيْهِ وَالزِّحَامُ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir b. 'Abd Allah :The Prophet (ﷺ) saw a man who had been put in the shade and saw a crowd of people around him (in the course of a journey). He said: Fasting while on journey is not part of righteousness
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
Anas reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Keep to travelling by night, for the earth is traversed (more easily) by night
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصہ میں سفر کرنے کو لازم پکڑو، کیونکہ زمین رات کو لپیٹ دی جاتی ہے ۱؎ ۔
Narrated by Abdullah Ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَهْلِهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ الظَّهْرَانِ قَالَ الْعَبَّاسُ قُلْتُ وَاللَّهِ لَئِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ عَنْوَةً قَبْلَ أَنْ يَأْتُوهُ فَيَسْتَأْمِنُوهُ إِنَّهُ لَهَلاَكُ قُرَيْشٍ فَجَلَسْتُ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَعَلِّي أَجِدُ ذَا حَاجَةٍ يَأْتِي أَهْلَ مَكَّةَ فَيُخْبِرُهُمْ بِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَخْرُجُوا إِلَيْهِ فَيَسْتَأْمِنُوهُ فَإِنِّي لأَسِيرُ إِذْ سَمِعْتُ كَلاَمَ أَبِي سُفْيَانَ وَبُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَنْظَلَةَ فَعَرَفَ صَوْتِي فَقَالَ أَبُو الْفَضْلِ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ مَا لَكَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قُلْتُ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ ‏.‏ قَالَ فَمَا الْحِيلَةُ قَالَ فَرَكِبَ خَلْفِي وَرَجَعَ صَاحِبُهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَوْتُ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَسْلَمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ هَذَا الْفَخْرَ فَاجْعَلْ لَهُ شَيْئًا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَيْهِ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ إِلَى دُورِهِمْ وَإِلَى الْمَسْجِدِ ‏.‏
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the Prophet (ﷺ) alighted at Marr az-Zahran, al-Abbas said: I thought, I swear by Allah, if the Messenger of Allah (ﷺ) enters Mecca with the army by force before the Quraysh come to him and seek protection from him, it will be their total ruin. So I rode on the mule of the Messenger of Allah (ﷺ) and thought, Perhaps I may find a man coming for his needs who will to the people of Mecca and inform them of the position of the Messenger of Allah (ﷺ), so that they may come to him and seek protection from him. While I was on my way, I heard AbuSufyan and Budayl ibn Warqa' speaking. I said: O AbuHanzalah! He recognized my voice and said: AbulFadl? I replied: Yes. He said: who is with you, may my parents be a sacrifice for you? I said: Here are the Messenger of Allah (ﷺ) and his people (with him). He asked: Which is the way out? He said: He rode behind me, and his companion returned. When the morning came, I brought him to the Messenger of Allah (ﷺ) and he embraced Islam. I said: Messenger of Allah, AbuSufyan is a man who likes this pride, do something for him. He said: Yes, he who enters the house of AbuSufyan is safe; he who closes the door upon him is safe; and he who enters the mosque is safe. The people scattered to their houses and in the mosque
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرالظہران میں ( فتح مکہ کے لیے آنے والے مبارک لشکر کے ساتھ ) پڑاؤ کیا، عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بزور مکہ میں داخل ہوئے اور قریش نے آپ کے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حاضر ہو کر امان حاصل نہ کر لی تو قریش تباہ ہو جائیں گے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر سوار ہو کر نکلا، میں نے ( اپنے جی ) میں کہا: شاید کوئی ضرورت مند اپنی ضرورت سے مکہ جاتا ہوا مل جائے ( تو میں اسے بتا دوں ) اور وہ جا کر اہل مکہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبر کر دے ( کہ آپ مع لشکر جرار تمہارے سر پر آ پہنچے ہیں ) تاکہ وہ آپ کے حضور میں پہنچ کر آپ سے امان حاصل کر لیں۔ میں اسی خیال میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک ابوسفیان اور بدیل بن ورقاء کی آواز سنی، میں نے پکار کر کہا: اے ابوحنظلہ ( ابوسفیان کی کنیت ہے ) اس نے میری آواز پہچان لی، اس نے کہا: ابوفضل؟ ( عباس کی کنیت ہے ) میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: کیا بات ہے، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، میں نے کہا: دیکھ! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے ساتھ کے لوگ ہیں ( سوچ لے ) ابوسفیان نے کہا: پھر کیا تدبیر کروں؟ وہ کہتے ہیں: ابوسفیان میرے پیچھے ( خچر پر ) سوار ہوا، اور اس کا ساتھی ( بدیل بن ورقاء ) لوٹ گیا۔ پھر جب صبح ہوئی تو میں ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ( وہ مسلمان ہو گیا ) میں نے کہا: اللہ کے رسول! ابوسفیان فخر کو پسند کرتا ہے، تو آپ اس کے لیے ( اس طرح کی ) کوئی چیز کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ہاں ( ایسی کیا بات ہے، لو کر دیا میں نے ) ، جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کے لیے امن ہے ( وہ قتل نہیں کیا جائے گا ) اور جو اپنے گھر میں دروازہ بند کر کے بیٹھ رہے اس کے لیے امن ہے، اور جو خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے اس کو امن ہے ، یہ سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں میں اور مسجد میں بٹ گئے۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنْ عُيَيْنَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالاَ فِي جَنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَقَالَ فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ بَغْلَتَهُ وَأَهْوَى بِالسَّوْطِ ‏.‏
Uyaynah also reported the aforementioned tradition (No. 3176) through a different chain of transmitters. This version goes:We attended the funeral of AbdurRahman ibn Samurah and he said: He (AbuBakrah) made his mule run quickly and pointed with the flog
اس سند سے بھی عیینہ سے یہی حدیث مروی ہے مگر اس میں خالد بن حارث اور عیسیٰ بن یوسف دونوں نے کہا ہے کہ یہ واقعہ عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ کا ہے نیز اس میں یہ بھی ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ان پر اپنا خچر دوڑایا اور کوڑے سے ( جلدی ) چلنے کا اشارہ کیا۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَجُلاً، ابْتَاعَ غُلاَمًا فَأَقَامَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُقِيمَ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِ اسْتَغَلَّ غُلاَمِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا إِسْنَادٌ لَيْسَ بِذَاكَ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: A man bought a slave, and he remained with him as long as Allah wished him to remain. He then found defect in him. He brought his dispute with him to the Prophet (ﷺ) and he returned him to him. The man said: Messenger of Allah, my slave earned some wages. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Profit follows responsibility. Abu Dawud said: This chain of narrators (of this version) is not reliable
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ غلام جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے پاس رہا، پھر اس نے اس میں کوئی عیب پایا تو اس کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام بائع کو واپس کرا دیا، تو بائع کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام کے ذریعہ کمائی کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خراج ( منافع ) اس شخص کا حق ہے جو ضامن ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ سند ویسی ( قوی ) نہیں ہے ( جیسی سندوں سے کوئی حدیث ثابت ہوتی ہے)
Narrated by Yusuf ibn Abdullah ibn Salam
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ الأَعْوَرِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً وَقَالَ ‏ "‏ هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Yusuf ibn Abdullah ibn Salam: I saw that the Prophet (ﷺ) took a piece of bread of barley and put a date on it and said: This is the condiment of this
یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھا اور فرمایا: یہ اس کا سالن ہے ۔
Narrated by Amr b. Suh'aib
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ فَلاَ يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ صَوَابُهُ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ الْمُزَنِيُّ الصَّيْرَفِيُّ وَهِمَ فِيهِ وَكِيعٌ ‏.‏
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather reported the Prophet (ﷺ) said: When one of you marries his female servant to his slave or to his employee, he should not look at her private part below the navel and above the knees. Abu Dawud said: The correct name is Sawwad b. Dawud al-Muzani al-Sairafi (and not Dawud b. Sawwad as mentioned in the chain). The narrator waki' misunderstood it
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح سوار بن داود مزنی صیرفی ہے وکیع کو ان کے نام میں وہم ہوا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ وَكَانَ أَفْقَهَهُمَا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَائْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَكَلَّمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا - وَالْعَسِيفُ الأَجِيرُ - فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا الأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا ‏.‏
Abu Hurairah and Zaid b. Khalid al-Juhani said:Two men brought a dispute before the Messenger of Allah (ﷺ). One of them said: Pronounce judgement between us in accordance with Allah’s Book, Messenger of Allah! The other who had more understanding said: Yes, Messenger of Allah! Pronounce judgement between us in accordance with Allah’s Book, and allow me to speak. He (the Prophet) said: Speak, He then said: My son who was a hired servant with this(man) committed fornication with his wife, and when I was told that my son must be stoned to death, I ransomed him with a hundred sheep and a slave girl of mine; but when I asked the learned, they told me that my son should receive a hundred lashes and be banished for a year, and that stoning to death applied only to man’s wife. The apostle of Allah (ﷺ) replied: By him in whose hand my soul is, I shall certainly pronounce judgment between you in accordance with Allah’s Book. Your sheep and your slave girl must be returned to you, and your son shall receive a hundred lashes and be banished for a year. And he commanded Unias al-Aslami go to that man’s wife, and if she confessed, he should stone her to death. She confessed and he stoned her
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے مابین اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ فرما دیجئیے، اور دوسرے نے جو ان دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ فرمائیے، لیکن پہلے مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا: اچھا کہو اس نے کہنا شروع کیا: میرا بیٹا اس کے یہاں «عسیف» یعنی مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، تو میں نے اسے اپنی سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیئے میں دے دی، پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ پوچھا، تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور رجم اس کی بیوی پر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں ضرور بالضرور تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا، رہی تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تو یہ تمہیں واپس ملیں گی اور اس کے بیٹے کو آپ نے سو کوڑے لگوائے، اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا، اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ اس دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں، اور اس سے پوچھیں اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم کر دیں، چنانچہ اس نے اقرار کر لیا، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ مُسَدَّدٌ - خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ - ثُمَّ اتَّفَقَا - فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تُذْكَرُ وَتُدْعَى تَحْتَ قَدَمَىَّ إِلاَّ مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلاَدُهَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: Musaddad's version has: He addressed on the day of Conquest. The agreed version then goes: Beware! Every object of pride of pre-Islamic times, whether it is blood-vengeance or property, mentioned or claimed, has been put under my feet except supply of water to the pilgrims and custody of the House (the Ka'bah). He then said: Beware! The blood-wit for unintentional murder, such as is done with a whip and stick, is one hundred camels, forty of which are pregnant
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا: سنو! جاہلیت کے خون یا مال کی جتنی فضیلتیں بھی تھیں جن کا ذکر کیا جاتا تھا یا جن کے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے قدموں تلے ہیں، سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی دیکھ ریکھ کے پھر فرمایا: سنو! قتل خطا جو کوڑے یا لاٹھی سے ہوا ہو شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں گے ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، - يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ - قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا زَنَى الرَّجُلُ خَرَجَ مِنْهُ الإِيمَانُ كَانَ عَلَيْهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذَا انْقَطَعَ رَجَعَ إِلَيْهِ الإِيمَانُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When a man commits fornication, faith departs from him and there is something like a canvas roof over his head; and when he quits that action, faith returns to him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس کے اوپر لٹکا رہتا ہے، پھر جب زنا سے الگ ہوتا ہے تو دوبارہ ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے ۔
Narrated by Ubadah ibn as-Samit
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ - وَهَذَا لَفْظُ يَحْيَى بْنِ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيِّ - قَالُوا حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَتَيْنَا جَابِرًا - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - وَهُوَ فِي مَسْجِدِهِ فَقَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ فَنَظَرَ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَحَتَّهَا بِالْعُرْجُونِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَجْهِهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ فَلاَ يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ ثُمَّ دَلَكَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَرُونِي عَبِيرًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَىِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ ‏.‏
Narrated Ubadah ibn as-Samit: We came to Jabir ibn Abdullah who was sitting in his mosque. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) came to us in this mosque and he had a twig of date-palm of the kind of Ibn Tab. He looked and saw phlegm on the wall towards qiblah. He turned to it and scraped it with the twig. He then said: Who of you likes that Allah turns His face from him? He further said: When any of you stands for praying, Allah faces him. So he should not spit before him, nor on his right side. He should spit on his left side under his left foot. If he is in a hurry (i.e. forced to spit immediately), he should do with his cloth in this manner. He then placed the cloth on his mouth and rubbed it off. He then said: Bring perfume. A young man of the tribe stood and hurried to his house and returned with perfume in his palm. The Messenger of Allah (ﷺ) took it and put it at the end of the twig. He then stained the mark of phlegm with it. Jabir said: This is the reason you use perfume in your mosques
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، وہ اپنی مسجد میں تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب ۱؎ کی ایک ٹہنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو اس کی طرف بڑھے اور اسے ٹہنی سے کھرچا، پھر فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟ ، پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا اپنے سامنے اور اپنے داہنی طرف ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پیر کے نیچے تھوکے اور اگر جلدی میں کوئی چیز ( بلغم ) آ جائے تو اپنے کپڑے سے اس طرح کرے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو اپنے منہ پر رکھا ( اور اس میں تھوکا ) پھر اسے مل دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے «عبير» ۲؎ لا کر دو ، چنانچہ محلے کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور اپنی ہتھیلی میں «خلوق» ۳؎ لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر لکڑی کی نوک میں لگایا اور جہاں بلغم لگا تھا وہاں اسے پوت دیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی وجہ سے تم لوگ اپنی مسجدوں میں «خلوق» لگایا کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَا يَفْعَلاَنِ ذَلِكَ ‏.‏
Sa’id b. al-musayyab said :‘Umar b. al-khattab and ‘Uthman b. ‘Affan used to do that
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما بھی اسے کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ بِإِنَاءٍ يَسَعُ رَطْلَيْنِ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ شَرِيكٍ قَالَ عَنِ ابْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ ‏.‏ قَالَ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى حَدَّثَنِي جَبْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ سَمِعْتُ أَنَسًا إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ رَطْلَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ الصَّاعُ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَهُوَ صَاعُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَهُوَ صَاعُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Anas reported :The Prophet (ﷺ) performed ablution with a vessel which contained two rotls (of water) and took a bath with a sa’ (of water).1 Abu Dawud Said : This tradition has berated on the authority of Anas through a different chain. This version mentions: “He performed ablution with one makkuk. “It makes no mention of two rotls. 2 Abu Dawud said : This tradition has also been narrated by Yahya b. Adam from Sharik. But this chain mentions Ibn Jabr b. ‘Atik instead of ‘ Abd Allah b. Jabr. Abu Dawud Said : This tradition has also been narrated by Sufyan from ‘Abd Allah b. ‘Isa. This chain mentions the name Jabr b. ‘Abd Allah instead of ‘Abd Allah b. Jabr. Abu Dawud Said : I heard Ahmad b. Hanbal say : one sa’ measures five rotls. It was the sa’ of Ibn Abi Dhi’b and also of the Prophet (ﷺ)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے برتن سے وضو کرتے تھے جس میں دو رطل پانی آتا تھا، اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن آدم نے اسے شریک سے روایت کیا ہے مگر اس روایت میں ( عبداللہ بن جبر کے بجائے ) ابن جبر بن عتیک ہے، نیز سفیان نے بھی اسے عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت کیا ہے اس میں «حدثني جبر بن عبد الله‏.‏» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے شعبہ نے بھی روایت کیا ہے، اس میں «حدثني عبد الله بن عبد الله بن جبر سمعت أنسا» ہے، مگر فرق یہ ہے کہ انہوں نے «يتوضأ بإناء يسع رطلين» کے بجائے: «يتوضأ بمكوك» کہا ہے اور «رطلين» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے کہ ایک صاع پانچ رطل کا ہوتا ہے، یہی ابن ابی ذئب کا صاع تھا اور یہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی صاع تھا۔