بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
5
19 hadith
Narrated by Sa'd bin Hisham
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ ‏:‏ طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لأَبِيعَ عَقَارًا كَانَ لِي بِهَا، فَأَشْتَرِيَ بِهِ السِّلاَحَ وَأَغْزُوَ، فَلَقِيتُ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا ‏:‏ قَدْ أَرَادَ نَفَرٌ مِنَّا سِتَّةٌ أَنْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏:‏ أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأْتِ عَائِشَةَ رضى الله عنها ‏.‏ فَأَتَيْتُهَا فَاسْتَتْبَعْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ فَأَبَى فَنَاشَدْتُهُ فَانْطَلَقَ مَعِي، فَاسْتَأْذَنَّا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ ‏:‏ مَنْ هَذَا قَالَ ‏:‏ حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ ‏:‏ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الَّذِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ قُلْتُ ‏:‏ نَعَمْ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرًا ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ‏:‏ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ الْقُرْآنَ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ‏:‏ حَدِّثِينِي عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ قَالَتْ ‏:‏ أَلَسْتَ تَقْرَأُ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ‏}‏ قَالَ قُلْتُ ‏:‏ بَلَى ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ فَإِنَّ أَوَّلَ هَذِهِ السُّورَةِ نَزَلَتْ، فَقَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَحُبِسَ خَاتِمَتُهَا فِي السَّمَاءِ اثْنَىْ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ نَزَلَ آخِرُهَا فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ‏:‏ حَدِّثِينِي عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ كَانَ يُوتِرُ بِثَمَانِ رَكَعَاتٍ لاَ يَجْلِسُ إِلاَّ فِي الثَّامِنَةِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَةً أُخْرَى، لاَ يَجْلِسُ إِلاَّ فِي الثَّامِنَةِ وَالتَّاسِعَةِ، وَلاَ يُسَلِّمُ إِلاَّ فِي التَّاسِعَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَىَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ لَمْ يَجْلِسْ إِلاَّ فِي السَّادِسَةِ وَالسَّابِعَةِ، وَلَمْ يُسَلِّمْ إِلاَّ فِي السَّابِعَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ هِيَ تِسْعُ رَكَعَاتٍ يَا بُنَىَّ، وَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً يُتِمُّهَا إِلَى الصَّبَاحِ، وَلَمْ يَقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ قَطُّ، وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا يُتِمُّهُ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً دَاوَمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ مِنَ اللَّيْلِ بِنَوْمٍ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً ‏.‏ قَالَ ‏:‏ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏:‏ هَذَا وَاللَّهِ هُوَ الْحَدِيثُ، وَلَوْ كُنْتُ أُكَلِّمُهَا لأَتَيْتُهَا حَتَّى أُشَافِهَهَا بِهِ مُشَافَهَةً ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ‏:‏ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لاَ تُكَلِّمُهَا مَا حَدَّثْتُكَ ‏.‏
Narrated Sa'd bin Hisham: I divorced my wife. I then came to Medina to sell my land that was there so that I could buy arms and fight in battle. I met a group of the Companions of the Prophet (ﷺ). They said: Six persons of us intended to do so (i.e. divorce their wives and purchase weapons), but the Prophet (ﷺ) prohibited them. He said: For you in the Messenger of Allah there is an excellent model. I then came to Ibn 'Abbas and asked him about the witr observed by the Prophet (ﷺ). He said: I point to you a person who is most familiar with the witr observed by the Messenger of Allah (ﷺ). Go to 'Aishah. While going to her I asked Hakim b. Aflah to accompany me. He refused, but I adjured him. He, therefore, went along with me. We sought permission to enter upon 'Aishah. She said: Who is this ? He said: Hakim b. Aflah. She asked: Who is with you ? He replied: Sa'd b. Hisham. She said: Hisham son of 'Amir who was killed in the Battle of Uhud. I said: Yes. She said: What a good man 'Amir was! I said: Mother of faithful, tell me about the character of the Messenger of Allah (ﷺ). She asked: Do you not recite the Quran ? The character of Messenger of Allah (ﷺ) was the Qur'an. I asked: Tell me about his vigil and prayer at night. She replied: Do you not recite: "O thou folded in garments" (73:1). I said: Why not ? When the opening of this Surah was revealed, the Companions stood praying (most of the night) until their fett swelled, and the concluding verses were not revealed for twelve months from heaven. At last the concluding verses were revealed and the prayer at night became voluntary after it was obligatory. I said: Tell me about the witr of the Prophet (ﷺ). She replied: He used to pray eight rak'ahs, sitting only during the eighth of them. Then he would stand up and pray another rak'ahs. He would sit only after the eighth and the ninth rak'ahs. He would utter salutation only after the ninth rak'ah. He would then pray two rak'ahs sitting and that made eleven rak'ahs, O my son. But when he grew old and became fleshy he observed a witr of seven, sitting only in sixth and seventh rak'ahs, and would utter salutation only after the seventh rak'ah. He would then pray two rak'ahs sitting, and that made nine rak'ahs, O my son. The Messenger of Allah (ﷺ) would not pray through a whole night, or recite the whole Qur'an in a night or fast a complete month except in Ramadan. When he offered prayer, he would do that regularly. When he was overtaken by sleep at night, he would pray twelve rak'ahs. The narrator said: I came to Ibn 'Abbas and narrated all this to him. By Allah, this is really a tradition. Has I been on speaking terms with her, I would have come to her and heard it from her mouth. I said: If I knew that you were not on speaking terms with her, I would have never narrated it to you
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر میں مدینہ آیا تاکہ اپنی ایک زمین بیچ دوں اور اس سے ہتھیار خرید لوں اور جہاد کروں، تو میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ سے ہوئی، ان لوگوں نے کہا: ہم میں سے چھ افراد نے ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ، تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک ایسی ذات کی جانب تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والی ہے، تم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ۔ چنانچہ میں ان کے پاس چلا اور حکیم بن افلح سے بھی ساتھ چلنے کو کہا، انہوں نے انکار کیا تو میں نے ان کو قسم دلائی، چنانچہ وہ میرے ساتھ ہو لیے ( پھر ہم دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے ) ، ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہوں نے پوچھا: کون ہو؟ کہا: حکیم بن افلح، انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: سعد بن ہشام، پوچھا: عامر کے بیٹے ہشام جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، وہ کہنے لگیں: عامر کیا ہی اچھے آدمی تھے، میں نے عرض کیا: ام المؤمنین مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا حال بیان کیجئے، انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا، میں نے عرض کیا: آپ کی رات کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں کچھ بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورۃ «يا أيها المزمل» نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا: جب اس سورۃ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کے پیروں میں ورم آ گیا اور سورۃ کی آخری آیات آسمان میں بارہ ماہ تک رکی رہیں پھر نازل ہوئیں تو رات کی نماز نفل ہو گئی جب کہ وہ پہلے فرض تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور آٹھویں رکعت کے بعد پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھتے، اس طرح آپ آٹھویں اور نویں رکعت ہی میں بیٹھتے اور آپ نویں رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے اس کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، اس طرح یہ کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، میرے بیٹے! پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رسیدہ ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعتوں سے وتر کرنے لگے، اب صرف چھٹی اور ساتویں رکعت کے بعد بیٹھتے اور ساتویں میں سلام پھیرتے پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اس طرح یہ کل نو رکعتیں ہوتیں، میرے بیٹے! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی رات کو ( لگاتار ) صبح تک قیام ۱؎ نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی ایک رات میں قرآن ختم کیا، اور نہ ہی رمضان کے علاوہ کبھی مہینہ بھر مکمل روزے رکھے، اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز پڑھتے تو اس پر مداومت فرماتے، اور جب رات کو آنکھوں میں نیند غالب آ جاتی تو دن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں ابن عباس کے پاس آیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حدیث یہی ہے، اگر میں ان سے بات کرتا تو میں ان کے پاس جا کر خود ان کے ہی منہ سے بالمشافہہ یہ حدیث سنتا، میں نے ان سے کہا: اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ آپ ان سے بات نہیں کرتے ہیں تو میں آپ سے یہ حدیث بیان ہی نہیں کرتا۔
Narrated by Zayd ibn Arqam
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، - وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَقَالَ سُلَيْمَانُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلاَتِهِ ‏"‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَىْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَىْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَىْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَىْءٍ اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبِ اللَّهُ أَكْبَرُ الأَكْبَرُ اللَّهُمَّ نُورَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ‏"‏ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ الأَكْبَرُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ اللَّهُ أَكْبَرُ الأَكْبَرُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Zayd ibn Arqam: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying (the version of Sulayman has: The Messenger of Allah (ﷺ) used to say) after his prayer:- "O Allah, our Lord and Lord of everything, I bear witness that Thou art the Lord alone Who hast no partner; O Allah, Our Lord and Lord of everything, I bear witness that Muhammad is Thy servant and Thy apostle ; O Allah, our Lord and Lord of everything, I bear witness that all the servants are brethren; O Allah, our Lord and Lord of everything make me sincere to Thee, and my family too at every moment, in this world and in the world hereafter, O Possessor of glory and honour, listen to me and answer. Allah is incomparably great. O Allah, Light of the heavens and of the earth". The narrator Sulaiman b. Dawud said: "Lord of the heavens and of the earth, Allah is incomparably great. Allah is sufficient for me; and the excellent guardian is He; Allah is incomparably great
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا- ( سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے ) : «اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدك لا شريك لك، اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدك ورسولك، اللهم ربنا ورب كل شىء، أن العباد كلهم إخوة، اللهم ربنا ورب كل شىء، اجعلني مخلصا لك وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإكرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض، الله أكبر الأكبر، حسبي الله ونعم الوكيل الله أكبر الأكبر» اے اللہ! ہمارا رب اور ہر چیز کا رب، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور اے ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں، اے جلال، بزرگی اور عزت والے! سن لے اور قبول فرما لے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اے اللہ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے ( سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے ) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ مِنْهَا وَالْمَسْأَلَةَ ‏"‏ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ اخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ ‏"‏ الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُتَعَفِّفَةُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَكْثَرُهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ ‏"‏ الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ وَاحِدٌ عَنْ حَمَّادٍ ‏"‏ الْمُتَعَفِّفَةُ ‏"‏ ‏.‏
Abd Allah b. ‘Umar reported that the Messenger of Allah (May peace be upon him) said when he was on the pulpit speaking of sadaqah and abstention from it and begging :the upper hand is better than the lower one, the upper being the one which bestows and the lower which begs. Abu Dawud said : The version of this tradition narrated by Ayyub from Nafi is disputed. The narrator `Abd al-Warith said in his version : `The upper hand is the one which abstains from begging;” but most of the narrators have narrated from Hammad b. Zaid from Ayyub the words “ The upper hand is the one which bestows.” A narrator from Hammad said in his version “the one which abstains from begging.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ۱؎، عبدالوارث نے کہا: «اليد العليا المتعففة» ( اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے ) ، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں:«اليد العليا المنفقة» نقل کیا ہے ( یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے ) اور ایک راوی نے حماد سے «المتعففة» روایت کی ۲؎۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ التَّلْبِيَةَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ‏ "‏ ذَا الْمَعَارِجِ ‏"‏ ‏.‏ وَنَحْوَهُ مِنَ الْكَلاَمِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَسْمَعُ فَلاَ يَقُولُ لَهُمْ شَيْئًا ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) raised his voice in talbiyah; he then mentioned the wordings of talbiyah like the tradition narrated by Ibn Umar. The people used to add the words dhal-ma'arij (the Possessor of ladders) and similar other words (to talbiyah) while the Prophet (ﷺ) heard them utter these words, but he did not say anything to them
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا، پھر انہوں نے تلبیہ کا اسی طرح ذکر کیا جیسے ابن عمر کی حدیث میں ہے اور کہا: لوگ ( اپنی طرف سے اللہ کی تعریف میں ) «ذا المعارج» اور اس جیسے کلمات بڑھاتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنتے تھے لیکن آپ ان سے کچھ نہیں فرماتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ ‏.‏
A’ishah wife of the Prophet (ﷺ) reported “When the Apostle of Allaah(ﷺ) intended to go on a journey he cast lots amongst his wives and the one who was chosen by lot went on it with him. He divided his time, day and night (equally) for each of his wives except that Saudah daughter of Zam’ah gave her day to A’ishah
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو جس کا نام نکلتا اس کو لے کر سفر کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بیوی کے لیے ایک دن رات کی باری بنا رکھی تھی، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے رکھی تھی۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - الْمَعْنَى - وَابْنُ السَّرْحِ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ مُسَدَّدٌ وَابْنُ السَّرْحِ يَوْمًا مَسْرُورًا وَقَالَ عُثْمَانُ يُعْرَفُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَىْ عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ رَأَى زَيْدًا وَأُسَامَةَ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا بِقَطِيفَةٍ وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me. The version of Musaddad and Ibn as-Sarh has: one day looking pleased". The version of Uthman has: "The lines of his forehead were realised." He said: O Aisha, are you not surprised to hear that Mujazziz al-Mudlaji saw that Zayd and Usamah had a rug over them concerning their heads and letting their feet appear. He said: These feet are related. Abu Dawud: Usamah was black and Zaid was white
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ( مسدد اور ابن سرح کی روایت میں ہے ) ایک دن خوش و خرم تشریف لائے ( اور عثمان کی روایت میں ہے آپ کے چہرے پر خوشی کی لکیریں ۱؎ محسوس کی جا رہی تھیں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کیا تو نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو اس حال میں دیکھا کہ وہ دونوں اپنے سر چادر سے ڈھانکے ہوئے تھے اور پیر کھلے ہوئے تھے تو کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسامہ کالے تھے اور زید گورے تھے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَصَامَ بَعْضُنَا وَأَفْطَرَ بَعْضُنَا فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ‏.‏
Narrated Anas :We travelled along with the Prophet (ﷺ) during Ramadan. Some of us were fasting and other broke their fast. Those who fasted did not find fault with those who broke, and those who broke their fast did not find fault with those who fasted
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا تو ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا تو نہ تو روزہ توڑنے والوں نے، روزہ رکھنے والوں پر عیب لگایا، اور نہ روزہ رکھنے والوں نے روزہ توڑنے والوں پر عیب لگایا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَقَّهَا وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ فَإِذَا أَرَدْتُمُ التَّعْرِيسَ فَتَنَكَّبُوا عَنِ الطَّرِيقِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “When you travel in fertile country, give the Camel their due (from the ground), and when you travel in time of drought make them go quickly. When you intend to encamp in the last hours of the night, keep away from the roads.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو ۱؎ اور جب قحط والی زمین میں سفر کرو تو تیز چلو ۲؎، اور جب رات میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ ڈالو ۳؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ لَوْلاَ آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً إِلاَّ قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ ‏.‏
‘Umar said “Had I not considered the last Muslim, I would have any town I conquered divided as the Apostle of Allaah(ﷺ) had divided Khaibar.”
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا ( یعنی ان کی محتاجی کا ) خیال نہ ہوتا تو جو بھی گاؤں و شہر فتح کیا جاتا اسے میں اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ تَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:The Prophet (ﷺ) as saying: Walk quickly with a funeral, for if the dead person was good it is a good condition to which you are sending him on, but it he was otherwise it is an evil of which you are riding yourselves
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ لے جانے میں جلدی کیا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف پہنچانے میں جلدی کرو گے اور اگر نیک نہیں ہے تو تم شر کو جلد اپنی گر دنوں سے اتار پھینکو گے ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Profit follows responsibility
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ۱؎ ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ، إِلاَّ مَطْبُوخًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ شَرِيكُ بْنُ حَنْبَلٍ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: It is forbidden to eat garlic unless it is cooked. Abu Dawud said: The full name of the narrator Sharik is Sharik bin Hanbal
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں لہسن کھانے سے منع فرمایا گیا ہے مگر یہ کہ پکا ہوا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریک ( جن کا ذکر سند میں آیا ہے ) وہ شریک بن حنبل ہیں۔
Narrated by Umm Salamah, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي نَبْهَانُ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْتَجِبَا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَعْمَى لاَ يُبْصِرُنَا وَلاَ يَعْرِفُنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا لأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً أَلاَ تَرَى إِلَى اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ‏"‏ اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: I was with the Messenger of Allah (ﷺ) while Maymunah was with him. Then Ibn Umm Maktum came. This happened when we were ordered to observe veil (purdah). The Prophet (ﷺ) said: Observe veil from him. We asked: Messenger of Allah! is he not blind? He can neither see us nor recognise us. The Prophet (ﷺ) said: Are both of you blind? Do you not see him? AbuDawud said: This was peculiar to the wives of the Prophet (ﷺ). Do you not see that Fatimah daughter of Qays passed her waiting period with Ibn Umm Maktum. The Prophet (ﷺ) said to Fatimah daughter of Qays: Pass your waiting period with Ibn Umm Maktum, for he is a blind man. You can put off your clothes with him
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو ۔
Narrated by Zakariya Abi 'Imran
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ زَكَرِيَّا أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجَمَ امْرَأَةً فَحُفِرَ لَهَا إِلَى الثَّنْدُوَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَفْهَمَنِي رَجُلٌ عَنْ عُثْمَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ الْغَسَّانِيُّ جُهَيْنَةُ وَغَامِدٌ وَبَارِقٌ وَاحِدٌ ‏.‏
Narrated Zakariya Abi 'Imran: I heard an old man who transmitted from Abu Bakrah on this father's authority that the Prophet (ﷺ) had a woman stoned and a pit was dug up to her breasts. Abu Dawud said: A man made me understand it from 'Uthman (b. Abi Shaibah) Abu Dawud said: Al-Ghassani said: Juhainah, Ghamid and Bariq as the same
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کرنا چاہا تو اس کے لیے ایک گڈھا سینے تک کھودا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: غسانی کا کہنا ہے کہ جہینہ، غامد اور بارق تینوں ایک ہی قبیلہ ہے۔
Narrated by Amr b. Suh'aib
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَطَبَّبَ وَلاَ يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَصْرٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا لَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ الْوَلِيدُ لاَ نَدْرِي هُوَ صَحِيحٌ أَمْ لاَ ‏.‏
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah (ﷺ) said: Anyone who practises medicine when he is not known as a practitioner will be held responsible. Abu Dawud said: This has been transmitted by al-Walid alone. We do not know whether it is sound or not
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو طب نہ جانتا ہو اور علاج کرے تو وہ ( مریض کا ) ضامن ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ولید کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا، ہمیں نہیں معلوم یہ صحیح ہے یا نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ خَالِصٌ وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ كَانَ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ‏"‏ ‏.‏
‘Abd Allah b. ‘Amr reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:Four characteristics constitute anyone who possesses them a sheer hypocrite, and anyone who possesses one of them possesses a characteristics of hypocrisy till he abandons it : when he talks he lies, when he makes a promise he violates it, when he makes a covenant he acts treacherously, and when he quarrels, he deviates from the Truth
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار خصلتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، معاہدہ کرے تو اس کو نہ نبھائے، اگر کسی سے جھگڑا کرے تو گالی گلوچ دے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، بِمَعْنَاهُ زَادَ ثُمَّ دَلَكَهُ بِنَعْلِهِ ‏.‏
Abu al-‘Ala’ reported this tradition on the authority of his father to the same effect with a different chain of narrators. This version adds:“He then rubbed it with his shoe
اس سند سے ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن الشخیر نے اپنے والد عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے، اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے جوتے سے مل دیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَضَعَ - وَقَالَ قُتَيْبَةُ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى - رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى - زَادَ قُتَيْبَةُ - وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ ‏.‏
Jabir said:The Messenger of Allah(ﷺ) forbade that a man should lie placing(and according to Qutaibah’s version: “should raise”) one of his legs over the other. Qutaibah’s version adds: When he was lying on his back
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے۔ قتیبہ کی روایت میں«أن يضع» کے بجائے «أن يرفع» کے الفاظ ہیں، اور قتیبہ کی روایت میں یہ بھی زیادہ ہے اور وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہو ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) used to take a bath with a sa' (of water) and perform ablution with a mudd (of water)
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع سے غسل فرماتے اور ایک مد سے وضو کرتے تھے۔