Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ، لاَ يَجْلِسُ فِي شَىْءٍ مِنَ الْخَمْسِ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الآخِرَةِ فَيُسَلِّمَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ، نَحْوَهُ .
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray thirteen rak'ahs during the night, observing a witr out of that with five, he did not sit during the five except the last and then gave the salutation. Abu Dawud said: Ibn Numair reported it from Hisham recently
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو میں تیرہ رکعتیں پڑھتے اور انہیں پانچ رکعتوں سے طاق بنا دیتے، ان پانچ رکعتوں میں سوائے قعدہ اخیرہ کے کوئی قعدہ نہیں ہوتا پھر سلام پھیر دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ نَتَصَدَّقُ بِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا ذَرٍّ أَلاَ أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تُدْرِكُ بِهِنَّ مَنْ سَبَقَكَ وَلاَ يَلْحَقُكَ مَنْ خَلْفَكَ إِلاَّ مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ " . قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " تُكَبِّرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتَحْمَدُهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتُسَبِّحُهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتَخْتِمُهَا بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
Narrated AbuHurayrah: AbuDharr said: Prophet of Allah. The wealthy people have all the rewards; they pray as we pray; they fast as we fast; and they have surplus wealth which they give in charity; but we have no wealth which we may give in charity. The Messenger of Allah (ﷺ) said: AbuDharr, should I not teach you phrases by which you acquire the rank of those who excel you? No one can acquire your rank except one who acts like you. He said: Why not, Messenger of Allah? He said: Exalt Allah (say: Allah is Most Great) after each prayer thirty-three times; and praise Him (say: Praise be to Allah) thirty-three times; and glorify Him (say: Glory be to Allah) thirty-three times, and end it by saying, "There is no god but Allah alone, there is no partner, to Him belongs the Kingdom, to Him praise is due and He has power over everything". His sins will be forgiven, even if they are like the foam of the sea
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مال والے تو ثواب لے گئے، وہ نماز پڑھتے ہیں، جس طرح ہم پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں، البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے، جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو، جو تم پر ( ثواب میں ) بازی لے گئے ہیں، اور جو ( ثواب میں ) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہو سکتے، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے ، انہوں نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نماز کے بعد ( ۳۳ ) بار «الله اكبر» ( ۳۳ ) بار «الحمد الله» ( ۳۳ ) بار «سبحان الله» کہا کرو، اور آخر میں «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» پڑھا کرو جو ایسا کرے گا ) اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا، مِنَ الأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ " مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدًا مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ " .
Abu Said al-Khudri said :Some of the Ansar begged from the Messenger of Allah (May peace be upon him) and he gave them something. They later begged from him again and he gave them something so that what he had was exhausted. He then said :What I have I shall never store away from you but Allah will strengthen the abstinence of him who abstains, will give a satisfaction to him who wants to be satisfied, and will strengthen the endurance of him who shows endurance. No one has been given a more ample gift than endurance
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دیا، یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا، ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جو بھی مال ہو گا میں اسے تم سے بچا کے رکھ نہ چھوڑوں گا، لیکن جو سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے، جو بے نیازی چاہتا ہے اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے، جو صبر کی توفیق طلب کرتا ہے اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے، اور اللہ نے صبر سے زیادہ وسعت والی کوئی نعمت کسی کو نہیں دی ہے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ " . وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
‘Abd Allah bin Abbas said Al Fadl bin Abbas was riding the Camel behind the Apostle of Allaah(ﷺ). A woman of the tribe of Khath’am came seeking his (the Prophet’s) decision (about a problem relating to Hajj). Al Fadl began to look at her and she too began to look at him. The Apostle of Allaah(ﷺ) would turn the face of Fadl to the other side. She said Apostle of Allaah(ﷺ) Allaah’s commandment that His servants should perform Hajj has come when my father is an old man and is unable to sit firmly on a Camel. May I perform Hajj on his behalf? He said yes, That was at the Farewell Pilgrimage
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پاس فتویٰ پوچھنے آئی تو فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ فضل کو دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا منہ اس عورت کی طرف سے دوسری طرف پھیرنے لگے ۱؎، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر ( عائد کردہ ) فریضہ حج نے میرے والد کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں، اونٹ پر نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی جانب سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، اور یہ واقعہ حجۃ الوداع میں پیش آیا۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ " اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلاَ تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلاَ أَمْلِكُ " . يَعْنِي الْقَلْبَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) used to divide his time equally and said: O Allah, this is my division concerning what I control, so do not blame me concerning what You control and I do not. Abu Dawud said: By it meant the heart
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں کی ) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے، رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے ( یعنی دل کا میلان ) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتَلاَعِنَيْنِ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ " .
Narrated AbuHurayrah: AbuHurayrah heard the Messenger of Allah (ﷺ) say when the verse about invoking curses came down: Any woman who brings to her family one who does not belong to it has nothing to do with Allah (i.e. expects no mercy from Allah), and Allah will not bring her into His Paradise. Allah, the Exalted, will veil Himself from any man who disowns his child when he looks at him, and disgrace him in the presence of all creatures, first and last
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کر دیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہو گا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ۱؎ ۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِذَا مَرِضَ الرَّجُلُ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ مَاتَ وَلَمْ يَصُمْ أُطْعِمَ عَنْهُ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ قَضَى عَنْهُ وَلِيُّهُ .
Narrated Ibn 'Abbas:If a man falls ill during Ramadan and he dies, while he could not keep the fast, food will be provided (for the poor men) on his behalf ; there is no atonement (for his fasts) due from him. If there is some vow which he could not fulfill, his heir must atone on his behalf
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب آدمی رمضان میں بیمار ہو جائے پھر مر جائے اور روزے نہ رکھ سکے تو اس کی جانب سے کھانا کھلایا جائے گا اور اس پر قضاء نہیں ہو گی اور اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا ولی اس کی جانب سے پورا کرے گا۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَغْلَةٌ فَرَكِبَهَا . فَقَالَ عَلِيٌّ لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ فَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ " .
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Messenger of Allah (ﷺ) was present with a she-mule which he rode, so Ali said: If we made asses cover mares we would have animals of this type. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Only those who do not know do that
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوئے، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم ان گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کرائیں تو اسی طرح کے خچر پیدا ہوں گے ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو ( شریعت کے احکام سے ) واقف نہیں ہیں ۱؎ ۔
Narrated by Abdullah ibn AbuBakr
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ آدَمَ - حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَبَعْضِ، وَلَدِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالُوا بَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ تَحَصَّنُوا فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحْقِنَ دِمَاءَهُمْ وَيُسَيِّرَهُمْ فَفَعَلَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ أَهْلُ فَدَكَ فَنَزَلُوا عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً لأَنَّهُ لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهَا بِخَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ .
Narrated Abdullah ibn AbuBakr: Abdullah ibn AbuBakr and some children of Muhammad ibn Maslamah said: There remained some people of Khaybar and they confined themselves to the fortresses. They asked the Messenger of Allah (ﷺ) to protect their lives and let them go. He did so. The people of Fadak heard this; they also adopted a similar way. (Fadak) was, therefore, exclusively reserved for the Messenger of Allah (ﷺ), for it was not captured by the expedition of cavalry and camelry
ابن شہاب زہری، عبداللہ بن ابوبکر اور محمد بن مسلمہ کے بعض لڑکوں سے روایت ہے یہ لوگ کہتے ہیں ( جب خیبر فتح ہو گیا ) خیبر کے کچھ لوگ رہ گئے وہ قلعہ بند ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کا خون نہ بہایا جائے اور انہیں یہاں سے نکل کر چلے جانے دیا جائے، آپ نے ان کی درخواست قبول کر لی ) یہ خبر فدک والوں نے بھی سنی، تو وہاں کے لوگ بھی اس جیسی شرط پر اترے تو فدک ( اللہ کی جانب سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ( عطیہ ) قرار پایا، اس لیے کہ اس پر اونٹ اور گھوڑے نہیں دوڑائے گئے ۱؎۔
Narrated by Thawban
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِدَابَّةٍ وَهُوَ مَعَ الْجَنَازَةِ فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي فَلَمْ أَكُنْ لأَرْكَبَ وَهُمْ يَمْشُونَ فَلَمَّا ذَهَبُوا رَكِبْتُ " .
Narrated Thawban: An animal was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) while he was going with a funeral. He refused to ride on it. When the funeral was away, the animal was brought to him and he rode on it. He was asked about it. He said: The angels were on their feet. I was not to ride while they were walking. When they went away, I rode
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا ( پیدل ہی گئے ) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ خَيْبَرَ فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا كَانُوا وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: When Allah bestowed Khaybar on His Prophet (ﷺ) as fay' (as a result of conquest without fighting), the Messenger of Allah (ﷺ) allowed (them) to remain there as they were before, and apportioned it between him and them. He then sent Abdullah ibn Rawahah who assessed (the amount of dates) upon them
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ نے اپنے رسول کو خیبر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دیا جیسے وہ پہلے تھے اور خیبر کی زمین کو ( آدھے آدھے کے اصول پر ) انہیں بٹائی پر دے دیا اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ( تخمینہ لگا کر تقسیم کے لیے ) بھیجا تو انہوں نے جا کر اندازہ کیا ( اور اسی اندازے کا نصف ان سے لے لیا ) ۔
Narrated by Amr b. Suh'aib
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ وَلاَ شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ وَلاَ رِبْحُ مَا لَمْ تَضْمَنْ وَلاَ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " .
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather 'Abd Allah b. 'Amr reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The proviso of a loan combined with a sale is not allowable, nor two conditions relating to one transaction, nor profit arising from something which is not in one's charge, nor selling what is not in your possession
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ۱؎ اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں ۲؎ اور نہ اس چیز کا نفع لینا درست ہے، جس کا وہ ابھی ضامن نہ ہوا ہو، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہیں ۳؎ ( کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہو سکتا ہے ) ۔
Narrated by Hudhayfah ibn al-Yaman
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَظُنُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَفَلَ تِجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَفْلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا " . ثَلاَثًا .
Narrated Hudhayfah ibn al-Yaman: Zirr ibn Hubaysh said: Hudhayfah traced, I think, to the Messenger of Allah (ﷺ) the saying: He who spits in the direction of the qiblah will come on the Day of Resurrection in the state that his saliva will be between his eyes; and he who eats from this noxious vegetable should not come near our mosque, saying it three times
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قبلہ کی جانب تھوکا تو اس کا تھوک قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوا آئے گا، اور جس نے ان گندی سبزیوں کو کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، بِمَعْنَاهُ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Aishah through a different chain of narrators to the same effect
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی مفہوم کی ( حدیث ) مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، زَنَى بِامْرَأَةٍ فَلَمْ يَعْلَمْ بِإِحْصَانِهِ فَجُلِدَ ثُمَّ عَلِمَ بِإِحْصَانِهِ فَرُجِمَ .
Jabir said:A man committed fornication with a woman. It was not known that he was married. So he was flogged. It was then known that he was married, so he was stoned to death
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا لیکن یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے کوڑے لگائے گئے، پھر معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کر دیا گیا۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ وَرِثَ مِيرَاثًا يَرِثُ عَلَى قَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَرْسَلَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَإِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَجَعَلَهُ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ قَوْلَ عِكْرِمَةَ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: When a mukatab (a slave who has made an agreement to purchase his freedom) gifts blood-money or an inheritance, he can inherit in accordance with the extent to which he has been emancipated. Abu Dawud said: Wuhaib transmitted it from Ayyub, from 'Ikrimah, on the authority of 'Ali, from the Prophet (ﷺ): and Hammad b. Zaid and Isma'il have transmitted it in a mursal form (i.e the link of the Companion being missing) from Ayyub, from 'Ikrimah, from the Prophet (ﷺ). Isma'il b. 'Ulayyah has treated it as a statement of 'Ikrimah
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مکاتب کوئی حد کا کام کرے یا ترکے کا وارث ہو تو جس قدر آزاد ہوا ہے وہ اسی قدر وارث ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہیب نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور حماد بن زید اور اسماعیل نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ { قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا } قَالَ نَرَى أَنَّ الإِسْلاَمَ الْكَلِمَةُ وَالإِيمَانَ الْعَمَلُ .
Explaining the verse, “say ; You have no faith, but you only say :We have submitted our wills to Allah”, Al-Zuhri said : We think that ISLAM is a word, and faith is an action
ابن شہاب زہری آیت کریمہ «قل لم تؤمنوا ولكن قولوا أسلمنا» آپ کہہ دیجئیے تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ مسلمان ہوئے ( سورۃ الحجرات: ۱۴ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں: ہم سمجھتے ہیں کہ ( اس آیت میں ) اسلام سے مراد زبان سے کلمے کی ادائیگی اور ایمان سے مراد عمل ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمًا إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَكَّهَا قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ فَدَعَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِهِ وَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى فَلاَ يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ وَعَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ وَمَالِكٌ وَعُبَيْدُ اللَّهِ وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ نَحْوَ حَمَّادٍ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُوا الزَّعْفَرَانَ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ وَأَثْبَتَ الزَّعْفَرَانَ فِيهِ وَذَكَرَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ الْخَلُوقَ .
Ibn ‘Umar reported:One day while the Messenger of Allah(ﷺ)was giving sermon he suddenly saw phlegm on the wall towards the qiblah(the direction to which Muslims turn in prayer) of the mosque. So he became angry at people. He then scraped it and sent for saffron and stained with it. He then said: When any one of you prays, Allah, the Exalted, faces him: he, therefore, should not spit before him
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو آپ لوگوں پر ناراض ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ کر صاف کیا۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں ابن عمر نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفران منگا کر اس میں رگڑ دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ۱؎، لہٰذا وہ اپنے سامنے نہ تھوکے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسماعیل اور عبدالوارث نے یہ حدیث ایوب سے اور انہوں نے نافع سے روایت کی ہے اور مالک، عبیداللہ اور موسیٰ بن عقبہ نے ( براہ راست ) نافع سے حماد کی طرح روایت کی ہے مگر ان لوگوں نے زعفران کا ذکر نہیں کیا ہے، اور معمر نے اسے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں زعفران کا لفظ موجود ہے، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ کے واسطہ سے اور انہوں نے نافع کے واسطہ سے ( زعفران کے بجائے ) «خلوق» ( ایک قسم کی خوشبو ) کا ذکر کیا ہے۔
Narrated by Amr ibn al-Faghwa' al-Khuza'i
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَاءِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَنِي بِمَالٍ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ يَقْسِمُهُ فِي قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقَالَ " الْتَمِسْ صَاحِبًا " . قَالَ فَجَاءَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ فَقَالَ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا . قَالَ قُلْتُ أَجَلْ . قَالَ فَأَنَا لَكَ صَاحِبٌ . قَالَ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ قَدْ وَجَدْتُ صَاحِبًا . قَالَ فَقَالَ " مَنْ " . قُلْتُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ . قَالَ " إِذَا هَبَطْتَ بِلاَدَ قَوْمِهِ فَاحْذَرْهُ فَإِنَّهُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ أَخُوكَ الْبِكْرِيُّ وَلاَ تَأْمَنْهُ " . فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالأَبْوَاءِ قَالَ إِنِّي أُرِيدُ حَاجَةً إِلَى قَوْمِي بِوَدَّانَ فَتَلْبَثُ لِي قُلْتُ رَاشِدًا فَلَمَّا وَلَّى ذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَشَدَدْتُ عَلَى بَعِيرِي حَتَّى خَرَجْتُ أُوضِعُهُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالأَصَافِرِ إِذَا هُوَ يُعَارِضُنِي فِي رَهْطٍ قَالَ وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُهُ فَلَمَّا رَآنِي قَدْ فُتُّهُ انْصَرَفُوا وَجَاءَنِي فَقَالَ كَانَتْ لِي إِلَى قَوْمِي حَاجَةٌ . قَالَ قُلْتُ أَجَلْ وَمَضَيْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ .
Narrated Amr ibn al-Faghwa' al-Khuza'i: The Messenger of Allah (ﷺ) called me. He intended to send me with some goods to AbuSufyan to distribute among the Quraysh at Mecca after the conquest. He said: Search for a companion. Then Amr ibn Umayyah ad-Damri came to me and said: I have been told that you are intending to make a journey and are seeking a companion. I said: Yes. He said: I am your companion. I then went to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: I have found a companion. He asked: Who is he? I replied: Amr ibn Umayyah ad-Damri. He said: When you come down to the territory of his people, be careful of him, for a maxim says: If one is your real brother, do not feel safe with him. So we proceeded, and when I reached al-Abwa', he said to me: I have some work with my people at Waddan, so stay here till I come back. I said: Do not lose your way. When he turned his back, I recalled the words of the Prophet (ﷺ). So I rode my camel and galloped without stopping. When I reached al-Asafir, he was pursuing me with a group of men. So I galloped and forged ahead of him. When he saw me that I had outstripped him, they returned and he came to me. He said to me: I had some work with my people. I said: Yes. We then went on until we reached Mecca, and I gave the goods to AbuSufyan
عمرو بن فغواء خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا، آپ مجھے کچھ مال دے کر ابوسفیان کے پاس بھیجنا چاہتے تھے، جو آپ فتح مکہ کے بعد قریش میں تقسیم فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: کوئی اور ساتھی تلاش کر لو ، تو میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارا ارادہ نکلنے کا ہے اور تمہیں ایک ساتھی کی تلاش ہے، میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں تمہارا ساتھی بنتا ہوں چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا، مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، آپ نے فرمایا: کون؟ میں نے کہا: عمرو بن امیہ ضمری، آپ نے فرمایا: جب تم اس کی قوم کے ملک میں پہنچو تو اس سے بچ کے رہنا اس لیے کہ کہنے والے نے کہا ہے کہ تمہارا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو اس سے مامون نہ رہو ، چنانچہ ہم نکلے یہاں تک کہ جب ہم ابواء میں پہنچے تو اس نے کہا: میں ودان میں اپنی قوم کے پاس ایک ضرورت کے تحت جانا چاہتا ہوں لہٰذا تم میرے لیے تھوڑی دیر ٹھہرو، میں نے کہا: جاؤ راستہ نہ بھولنا، جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آئی، تو میں نے زور سے اپنے اونٹ کو بھگایا، اور تیزی سے دوڑاتا وہاں سے نکلا، یہاں تک کہ جب مقام اصافر میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ مجھے روکنے آ رہا ہے میں نے اونٹ کو اور تیز کر دیا، اور میں اس سے بہت آگے نکل گیا، جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اسے بہت پیچھے چھوڑ چکا ہوں، تو وہ لوگ لوٹ گئے، اور وہ میرے پاس آیا اور بولا، مجھے اپنی قوم میں ایک کام تھا، میں نے کہا: ٹھیک ہے اور ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم مکہ پہنچ گئے تو میں نے وہ مال ابوسفیان کو دے دیا۔
Narrated by Abd Allaah b. Muhammad
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، - الْمَعْنَى - قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، - قَالَ ابْنُ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ ابْنُ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ اتَّفَقُوا أَخُو الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ - قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَجِيءَ بِطَعَامِهَا فَقَامَ الْقَاسِمُ يُصَلِّي فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلاَ وَهُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ " .
Narrated 'Abd Allaah b. Muhammad:We were in the company of 'Aishah. When her food was brought in, al-Qasim stood up to say his prayer. Thereupon , 'Aishah said : I heard the Messenger of Allaah (sal Allaahu alayhi wa sallam) say: Prayer should not be offered in presence of meals, nor at the moment when one is struggling with two evils (e.g. when one is feeling the call of nature)
عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کا بیان ہے کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، اتنے میں آپ کا کھانا لایا گیا تو قاسم ( قاسم بن محمد ) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، یہ دیکھ کر وہ بولیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کھانا موجود ہو تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس حال میں پڑھی جائے جب دونوں ناپسندیدہ چیزیں ( پاخانہ و پیشاب ) اسے زور سے لگے ہوئے ہوں ۔