Narrated by Aishah, wife of Prophet (ﷺ)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ .
Narrated 'Aishah, wife of Prophet (ﷺ):The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray eleven rak'ahs (at night, observing the witr with one rak'ahs). When he finished it (the prayer), he would lie down on his right side
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی، جب آپ اس سے فارغ ہو جاتے تو داہنی کروٹ لیٹتے۔
Narrated by Yusayrah, mother of Yasir
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ يُسَيْرَةَ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُنَّ أَنْ يُرَاعِينَ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّقْدِيسِ وَالتَّهْلِيلِ وَأَنْ يَعْقِدْنَ بِالأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولاَتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ .
Narrated Yusayrah, mother of Yasir: The Prophet (ﷺ) commanded them (the women emigrants) to be regular (in remembering Allah by saying): "Allah is most great"; "Glory be to the King, the Holy"; "there is no god but Allah"; and that they should count them on fingers, for they (the fingers) will be questioned and asked to speak
یسیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے ( قیامت کے روز ) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ۱؎۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَخْضَرِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُ فَقَالَ " أَمَا فِي بَيْتِكَ شَىْءٌ " . قَالَ بَلَى حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ وَقَعْبٌ نَشْرَبُ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ . قَالَ " ائْتِنِي بِهِمَا " . فَأَتَاهُ بِهِمَا فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ وَقَالَ " مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ " . قَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ . قَالَ " مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ " . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا قَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ . فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ وَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ وَأَعْطَاهُمَا الأَنْصَارِيَّ وَقَالَ " اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ وَاشْتَرِ بِالآخَرِ قَدُومًا فَأْتِنِي بِهِ " . فَأَتَاهُ بِهِ فَشَدَّ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُودًا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ " اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَبِعْ وَلاَ أَرَيَنَّكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا " . فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ فَاشْتَرَى بِبَعْضِهَا ثَوْبًا وَبِبَعْضِهَا طَعَامًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ الْمَسْأَلَةُ نُكْتَةً فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لِثَلاَثَةٍ لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ " .
Narrated Anas ibn Malik: A man of the Ansar came to the Prophet (ﷺ) and begged from him. He (the Prophet) asked: Have you nothing in your house? He replied: Yes, a piece of cloth, a part of which we wear and a part of which we spread (on the ground), and a wooden bowl from which we drink water. He said: Bring them to me. He then brought these articles to him and he (the Prophet) took them in his hands and asked: Who will buy these? A man said: I shall buy them for one dirham. He said twice or thrice: Who will offer more than one dirham? A man said: I shall buy them for two dirhams. He gave these to him and took the two dirhams and, giving them to the Ansari, he said: Buy food with one of them and hand it to your family, and buy an axe and bring it to me. He then brought it to him. The Messenger of Allah (ﷺ) fixed a handle on it with his own hands and said: Go, gather firewood and sell it, and do not let me see you for a fortnight. The man went away and gathered firewood and sold it. When he had earned ten dirhams, he came to him and bought a garment with some of them and food with the others. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: This is better for you than that begging should come as a spot on your face on the Day of Judgment. Begging is right only for three people: one who is in grinding poverty, one who is seriously in debt, or one who is responsible for compensation and finds it difficult to pay
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ ایک انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مانگنے کے لیے آیا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں ہے؟ ، بولا: کیوں نہیں، ایک کمبل ہے جس میں سے ہم کچھ اوڑھتے ہیں اور کچھ بچھا لیتے ہیں اور ایک پیالا ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دونوں میرے پاس لے آؤ ، چنانچہ وہ انہیں آپ کے پاس لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: یہ دونوں کون خریدے گا؟ ، ایک آدمی بولا: انہیں میں ایک درہم میں خرید لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ایک درہم سے زیادہ کون دے رہا ہے؟ ، دو بار یا تین بار، تو ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ دونوں چیزیں دے دیں اور اس سے درہم لے کر انصاری کو دے دئیے اور فرمایا: ان میں سے ایک درہم کا غلہ خرید کر اپنے گھر میں ڈال دو اور ایک درہم کی کلہاڑی لے آؤ ، وہ کلہاڑی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی ٹھونک دی اور فرمایا: جاؤ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو اور پندرہ دن تک میں تمہیں یہاں نہ دیکھوں ، چنانچہ وہ شخص گیا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بیچتا رہا، پھر آیا اور دس درہم کما چکا تھا، اس نے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں کوئی داغ ہو، مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے درست ہے: ایک تو وہ جو نہایت محتاج ہو، خاک میں لوٹتا ہو، دوسرے وہ جس کے سر پر گھبرا دینے والے بھاری قرضے کا بوجھ ہو، تیسرے وہ جس پر خون کی دیت لازم ہو اور وہ دیت ادا نہ کر سکتا ہو اور اس کے لیے وہ سوال کرے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ فَقَالَ " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ الْهَدْىَ " .
Hafsah, wife of the Prophet (ﷺ) said Apostle of Allaah(ﷺ), how is it that the people have put off their ihram and you did not put off your ihram after your ‘Umrah. He said I have matted my hair and garlanded my sacrificial animal, so I shall not put off my ihram till I sacrifice my sacrificial animals
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن آپ نے اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر میں تلبید کی تھی اور ہدی کو قلادہ پہنایا تھا تو میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہدی نحر نہ کر لوں ۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، - الْمَعْنَى - قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الأَنْصَارِ - قَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَقُلْ مِنَ الأَنْصَارِ ثُمَّ اتَّفَقُوا - يُقَالُ لَهُ بَصْرَةُ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَإِذَا هِيَ حُبْلَى فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَالْوَلَدُ عَبْدٌ لَكَ فَإِذَا وَلَدَتْ " . قَالَ الْحَسَنُ " فَاجْلِدْهَا " . وَقَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ " فَاجْلِدُوهَا " . أَوْ قَالَ " فَحُدُّوهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَرْسَلُوهُ كُلُّهُمْ . وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ بَصْرَةَ بْنَ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً وَكُلُّهُمْ قَالَ فِي حَدِيثِهِ جَعَلَ الْوَلَدَ عَبْدًا لَهُ .
A man from the Ansar called Basrah said:I married a virgin woman in her veil. When I entered upon her, I found her pregnant. (I mentioned this to the Prophet). The Prophet (ﷺ) said: She will get the dower, for you made her vagina lawful for you. The child will be your slave. When she has begotten (a child), flog her (according to the version of al-Hasan). The version of Ibn AbusSari has: You people, flog her, or said: inflict hard punishment on him. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Qatadah from Sa'd b. Yazid on the authority of Ibn al-Musayyab in a similar way. This tradition has been narrated by Yahya b. Abi Kathir from Yazid b. Nu'aim from Sa'id b. al-Musayyab, and 'Ata al-Khurasani narrated it from Sa'id b. al-Musayyab ; they all narrated this tradition from the Prophet (ﷺ) omitting the link of the Companion (i.e. a mursal tradition). The version of Yahya b. Abi Kathir has: Basrah b. Aktham married a woman. The agreed version has: He made the child his servant
بصرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک کنواری پردہ نشین عورت سے نکاح کیا، میں اس کے پاس گیا، تو اسے حاملہ پایا تو اس کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض تمہیں مہر ادا کرنا پڑے گا، اور ( پیدا ہونے والا ) بچہ تمہارا غلام ہو گا، اور جب وہ بچہ جن دے – ( حسن کی روایت میں ) تو تو اسے کوڑے لگا ( واحد کے صیغہ کے ساتھ ) اور ابن السری کی روایت میں تو تم اسے کوڑے لگاؤ ( جمع کے صیغہ کے ساتھ ) ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر حد جاری کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ نے سعید بن زید سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے نیز اسے یحییٰ ابن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے سبھی لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور یحییٰ ابن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور سبھی لوگوں کی روایت میں ہے: آپ نے لڑکے کو ان کا غلام بنا دیا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَنِي فَزَارَةَ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي جَاءَتْ بِوَلَدٍ أَسْوَدَ فَقَالَ " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " مَا أَلْوَانُهَا " . قَالَ حُمْرٌ قَالَ " فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ " . قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا . قَالَ " فَأَنَّى تُرَاهُ " . قَالَ عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ . قَالَ " وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " .
Abu Hurairah said A man from Banu Fazarah came to the Prophet (ﷺ) and said “My wife has given birth to a black son”. He said “Have you any camels?” He said “They are red”. He asked “Is there a dusky one among them?” He replied “Some of them are dusky”. He asked “How do you think they have come about?” He replied “This may be a strain to which they reverted”. He said “And this is perhaps a strain to which the child has reverted.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی فزارہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا بچہ جنا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پوچھا: کون سے رنگ کے ہیں؟ جواب دیا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کوئی خاکستری بھی ہے؟ جواب دیا: ہاں، خاکی رنگ کا بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ ، بولا: شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بھی ہو سکتا ہے ( تمہارے لڑکے میں بھی ) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو ۱؎ ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبٌ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكَلْتُ وَشَرِبْتُ نَاسِيًا وَأَنَا صَائِمٌ . فَقَالَ " أَطْعَمَكَ اللَّهُ وَسَقَاكَ " .
Narrated Abu Hurairah:A man came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I ate and drank in forgetfulness when I was fasting. Hie said: Allah had fed you and given you drink
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھول کر کھا پی لیا، اور میں روزے سے تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited to provoke the beasts for fighting
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي سُلَيْمَانَ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَى سِتَّةٍ وَثَلاَثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ فَعَزَلَ نِصْفَهَا لِنَوَائِبِهِ وَمَا يَنْزِلُ بِهِ الْوَطِيحَةَ وَالْكُتَيْبَةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا وَعَزَلَ النِّصْفَ الآخَرَ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الشَّقَّ وَالنَّطَاةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا وَكَانَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا .
Bashir bin Yasar said “When Allaah bestowed Khaibar on His Prophet (ﷺ) as fai’ (spoils), he divided it into thirty six lots. Each lot comprised one hundred portions. He separated its half for his emergent needs and whatever befalls him. Al Watih and Al Kutaibah and Al Salalim and whatever acquired with them. He separated the other half and he divided Al Shaqq and Nata’ and whatever acquired with them. The portion of the Apostle of Allaah(ﷺ) lay in the property acquired with them
بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے خیبر اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے ( ۳۶ چھتیس ) حصے کئے اور ہر حصے میں سو حصے رکھے، تو اس کے نصف حصے اپنی ضرورتوں و کاموں کے لیے رکھا اور اسی میں سے وطیحہ وکتیبہ ۱؎ اور ان سے متعلق جائیداد بھی ہے اور دوسرے نصف حصے کو جس میں شق و نطاۃ ۲؎ ہیں اور ان سے متعلق جائیداد بھی شامل تھی الگ کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ان دونوں گاؤں کے متعلقات میں تھا۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَحْمِلَ إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ . فَقَالَ " إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةً فَقُومُوا " .
Narrated Jabir:We were with the Prophet (ﷺ) when a funeral passed hi and he stood up for it. When we went to carry it, we found that it was a funeral of a Jew. We, therefore said: Messenger of Allah, this is the funeral of a Jew. He said: Death is fearful event, so when you see a funeral, stand up
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اچانک ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر جب ہم اسے اٹھانے کے لیے بڑھے تو معلوم ہوا کہ یہ کسی یہودی کا جنازہ ہے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت ڈرنے کی چیز ہے، لہٰذا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ فَحَزَرَ وَقَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ لَهُ .
The tradition mentioned above has also been narrated by Ja'far b. Burqan through his chain and to the same effect. This version has:He said: He assessed, and after the words of kull safara' wa baida', he said: that is, gold and silver will belong to him
جعفر بن برقان سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں لفظ «فحزر» ہے اور «وكل صفراء وبيضاء» کی تفسیر سونے چاندی سے کی ہے۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَرُزِّيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - قَالَ مُحَمَّدٌ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ - أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ احْجُرْ عَلَى فُلاَنٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ فَقُلْ هَاءَ وَهَاءَ وَلاَ خِلاَبَةَ " . قَالَ أَبُو ثَوْرٍ عَنْ سَعِيدٍ .
Narrated Anas ibn Malik: During the time of the Messenger of Allah (ﷺ) a man used to buy (goods), and he was weak in his intellect. His people came to the Prophet of Allah (ﷺ) and said: Prophet of Allah, stop so-and-so (to make a bargain) for he buys (goods), but he is weak in his intellect. So the Prophet (ﷺ) called on him and forbade him to make a bargain. He said: Prophet of Allah, I cannot keep away myself from business transactions. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: If you cannot give up making a bargain , then say: Take , and give, and there is no attempt to deceive
انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خرید و فروخت کرتا تھا، لیکن اس کی گرہ ( معاملہ کی پختگی میں ) کمی و کمزوری ہوتی تھی تو اس کے گھر والے اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! فلاں ( کے خرید و فروخت ) پر روک لگا دیجئیے، کیونکہ وہ سودا کرتا ہے لیکن اس کی سودا بازی کمزور ہوتی ہے ( جس سے نقصان پہنچتا ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے خرید و فروخت کرنے سے منع فرما دیا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھ سے خرید و فروخت کئے بغیر رہا نہیں جاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اگر تم خرید و فروخت چھوڑ نہیں سکتے تو خرید و فروخت کرتے وقت کہا کرو: نقدا نقدا ہو، لیکن اس میں دھوکا دھڑی نہیں چلے گی ۱؎ ۔ اور ابوثور کی روایت میں ( «أخبرنا سعيد» کے بجائے ) «عن سعيد» ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نِعْمَ الإِدَامُ الْخَلُّ " .
Jabir b. ‘Abd Allah reported the Prophet (ﷺ) as sayings:What a good condiment vinegar is
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے ۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، مَوْهَبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا . قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلاَمًا لَمْ يَحْتَلِمْ .
Narrated Jabir:Umm Salamah asked the Messenger of Allah (ﷺ) permission for getting herself cupped. He commanded Abu Tibah to cup her. The transmitter said: I think he was her foster-brother or a boy not yet of age
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں سینگی لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، جَمِيعًا قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - قَالَ هِشَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ - عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلاَجِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَعْضِ هَذَا الْحَدِيثِ .
A part of tradition has also been transmitted by al-Lajlaj from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators
اس سند سے بھی الجلاج سے یہی روایت مرفوعاً آئی ہے اس میں اس حدیث کا کچھ حصہ ہے۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو لَمْ يَذْكُرَا أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ .
Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) gave judgment that a male or a female slave, or a horse or a mule should be paid for a miscarriage. Abu Dawud said: Hammad b. Salamah and Khalid b. 'Abd Allah transmitted this tradition from Muhammad b. 'Amr, but they did not mention "or a horse or a mule
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ کے بچے میں ایک غلام یا ایک لونڈی یا ایک گھوڑے یا ایک خچر کی دیت کا فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ اور خالد بن عبداللہ نے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے البتہ ان دونوں نے «أو فرس أو بغل» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated by AbuUmamah
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ " .
Narrated AbuUmamah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone loves for Allah's sake, hates for Allah's sake, gives for Allah's sake and withholds for Allah's sake, he will have perfect faith
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ ہی کے رضا کے لیے محبت کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دشمنی کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دیا، اللہ ہی کے رضا کے لیے منع کر دیا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ " . فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah(ﷺ) said: Spitting phlegm in the mosque... The narrator then transmitted the rest of the tradition to the same effect
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں حلق سے بلغم نکال کر ڈالنا … ، پھر راوی نے اوپر والی حدیث کے مثل ذکر کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي بِنَحْوِ، ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
A similar tradition has also been transmitted by Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَرِهَ الْوُضُوءَ بِاللَّبَنِ وَالنَّبِيذِ وَقَالَ إِنَّ التَّيَمُّمَ أَعْجَبُ إِلَىَّ مِنْهُ .
It is reported that 'Ata did not approve of performing ablution with milk and nabidh and said:tayammum is more my liking (than performing ablution with milk and nabidh)
عطاء سے روایت ہے کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے: اس سے تو مجھے تیمم ہی زیادہ پسند ہے۔