Narrated by Uqbah ibn Amir al-Juhani
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ " .
Narrated Uqbah ibn Amir al-Juhani: The Prophet (ﷺ) said: One who recites the Qur'an in a loud voice is like one who gives alms openly; and one who recites the Qur'an quietly is one who gives alms secretly
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا ۔
Narrated by Sa'd ibn AbuWaqqas
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ مَرَّ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَدْعُو بِأُصْبُعَىَّ فَقَالَ " أَحِّدْ أَحِّدْ " . وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ .
Narrated Sa'd ibn AbuWaqqas: The Prophet (ﷺ) passed by me while I was supplicating by pointing with two fingers of mine. He said: Point with one finger; point with one finger. He then himself pointed with the forefinger
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک انگلی سے کرو، ایک انگلی سے کرو اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
Narrated by Samurah ibn Jundub
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلاَّ أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لاَ يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا " .
Narrated Samurah ibn Jundub: The Prophet (ﷺ) said: Acts of begging are lacerations with which a man disfigures his face, so he who wishes may preserve his self-respect, and he who wishes may abandon it; but this does not apply to one who begs from a ruler, or in a situation which makes it necessary
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر ( نشان زخم ) باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے ( مانگنا ) ترک کر دے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَهَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ .
Ibn ‘Abbas said The Prophet(ﷺ) raised his voice in talbiyah for ‘Umrah and his companions for Hajj
مسلم قری سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ " .
Amr b. Shu'aib on his father's authority said that his grandfather reported The Messenger of Allah (ﷺ) said:A woman who marries on a dower or a reward or a promise before the solemnisation of marriage is entitled to it; and whatever is fixed for her after solemnisation of marriage belongs to whom it is given. A man is more entitled to receive a thing given as a gift on account of his daughter or sister (than other kinds of gifts)
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہو گی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا ( انعام وغیرہ ) ، مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ . قَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ وَقَالَ " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ . فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ " . يُرَدِّدُهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا .
Sa’d bin Jubair said I asked Ibn ‘Umar A man accused his wife of adultery? He said “The Apostle of Allaah(ﷺ) separated the brother and the sister of Banu Al ‘Ajilan (i.e., husband and wife). He said Allaah knows that one of you is a liar, will one of you repent? He repeated these words three times, but they refused. So he separated them from each other
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو کہا کہ ایک شخص اپنی عورت کو تہمت لگائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے دونوں بھائی بہنوں ۱؎ کو ( اس صورت میں ) جدا کرا دیا تھا اور فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں ایک ضرور جھوٹا ہے، تو کیا تم دونوں میں کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کو تین بار دہرایا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو آپ نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ مُطَوِّسٍ، عَنْ أَبِيهِ، - قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِيهِ، - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ لَهُ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone breaks his fast one day in Ramadan without a concession granted to him by Allah, a perpetual fast will not atone for it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن کا روزہ توڑ دیا تو اس کی قضاء زمانہ بھر کے روزے بھی نہیں کر سکیں گے ۔
Narrated by Samurah ibn Jundub
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمَّى خَيْلَنَا خَيْلَ اللَّهِ إِذَا فَزِعْنَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا إِذَا فَزِعْنَا بِالْجَمَاعَةِ وَالصَّبْرِ وَالسَّكِينَةِ وَإِذَا قَاتَلْنَا .
Narrated Samurah ibn Jundub: The Prophet (ﷺ) named our cavalry "the Cavalry of Allah," when we were struck with panic, and when panic overtook us, the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to be united, to have patience and perseverance; and to be so when we fought
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حمد و صلاۃ کے بعد کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سواروں کو جب ہمیں دشمن سے گھبراہٹ ہوتی ( تسلی دیتے ہوئے ) «خیل اللہ» کہتے، اور ہمیں جماعت کو لازم پکڑنے اور صبر و سکون سے رہنے کا حکم دیتے، اور جب ہم قتال کر رہے ہوتے ( تو بھی انہیں کلمات کے ذریعہ ہمارا حوصلہ بڑھاتے ) ۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ آدَمَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ نَفَرًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ فَكَانَ النِّصْفُ سِهَامَ الْمُسْلِمِينَ وَسَهْمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَزَلَ النِّصْفَ لِلْمُسْلِمِينَ لِمَا يَنُوبُهُ مِنَ الأُمُورِ وَالنَّوَائِبِ .
Bashir bin Yasar said that he heard a number of the Companions of the Prophet (ﷺ) say. He then narrated the tradition (mentioned above). He said “One half comprised the portions of the Muslims and the portion of the Apostle of Allaah(ﷺ). He separated the other half for the Muslims for any calamity that befalls him and for emergent needs.”
بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے سنا، انہوں نے کہا، پھر راوی نے یہی حدیث ذکر کی اور کہا کہ نصف میں سب مسلمانوں کے حصے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ تھا اور باقی نصف مسلمانوں کی ضروریات اور مصائب و مشکلات کے لیے رکھا جاتا تھا جو انہیں پیش آتے۔
Narrated by Amir b. Rabi'ah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ " .
Narrated 'Amir b. Rabi'ah:The Prophet (ﷺ) as saying: When you see a funeral, stand up for it till it leaves you behind or it is placed (on the ground)
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم جنازے کو دیکھو تو ( اس کے احترام میں ) کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے گزر جائے یا ( زمین پر ) رکھ دیا جائے ۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ لَيْلَةً . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ " .
Narrated Ibn 'Umar:That 'Umar said: Messenger of Allah, I took a vow in pre-Islamic times that I would stay in the sacred mosque (Masjid Haram) as a devotion (i'tikaf). The Prophet (ﷺ) said: Fulfill your vow
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں مسجد الحرام میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو ۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ غَنَجٍ - عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَأَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَطْرَ ثَمَرَتِهَا .
Narrated Ibn 'Umar:The Prophet (ﷺ) handed over the Jews of Khaibar the palm trees and the land of Khaibar on condition that they should employ what belonged to them in working on them, and that he should have half of the fruits
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے کھجور کے درخت اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ ان میں اپنی پونجی لگا کر کام کریں گے اور جو پیداوار ہو گی، اس کا نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو گا۔
Narrated by Ibn Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ فَلَمَّا اسْتَوْجَبْتُهُ لِنَفْسِي لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي بِهِ رِبْحًا حَسَنًا فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي بِذِرَاعِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَقَالَ لاَ تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ .
Narrated Ibn Umar: I bought olive oil in the market. When I became its owner, a man met me and offered good profit for it. I intended to settle the bargain with him, but a man caught hold of my hand from behind. When I turned I found that he was Zayd ibn Thabit. He said: Do not sell it on the spot where you have bought it until you take it to your house, for the Messenger of Allah (ﷺ) forbade to sell the goods where they are bought until the tradesmen take them to their houses
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے بازار میں تیل خریدا، تو جب اس بیع کو میں نے مکمل کر لیا، تو مجھے ایک شخص ملا، وہ مجھے اس کا اچھا نفع دینے لگا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس سے سودا پکا کر لوں اتنے میں ایک شخص نے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: جب تک کہ تم اسے جہاں سے خریدے ہو وہاں سے اٹھا کر اپنے ٹھکانے پر نہ لے آؤ نہ بیچنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان کو اسی جگہ بیچنے سے روکا ہے، جس جگہ خریدا گیا ہے یہاں تک کہ تجار سامان تجارت کو اپنے ٹھکانوں پر لے آئیں۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِجُبْنَةٍ فِي تَبُوكَ فَدَعَا بِسِكِّينٍ فَسَمَّى وَقَطَعَ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) was brought a piece of cheese in Tabuk. He called for a knife, mentioned Allah's name and cut it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پنیر لائی گئی آپ نے چھری منگائی اور بسم الله پڑھ کر اسے کاٹا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ رَأَيْتُ فِي كِتَابِ خَالِي عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ .
Ibn al-Sarh said:I saw (this tradition) in the writing of my maternal uncle from 'Aqil, from Ibn Shihab through a different chain of narrators and to the same effect
ابن سرح کہتے ہیں میں نے اپنے ماموں کی کتاب میں «عقيل عن ابن شهاب» کے طریق سے اسی مفہوم کی روایت دیکھی ہے۔
Narrated by Buraydah ibn al-Hasib
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَهْوَازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ نَتَحَدَّثُ أَنَّ الْغَامِدِيَّةَ وَمَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ لَوْ رَجَعَا بَعْدَ اعْتِرَافِهِمَا أَوْ قَالَ لَوْ لَمْ يَرْجِعَا بَعْدَ اعْتِرَافِهِمَا لَمْ يَطْلُبْهُمَا وَإِنَّمَا رَجَمَهُمَا عِنْدَ الرَّابِعَةِ .
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: We, the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ), used to talk mutually: Would that al-Ghamidiyyah and Ma'iz ibn Malik had withdrawn after their confession; or he said: Had they not withdrawn after their confession, he would not have pursued them (for punishment). He had them stoned after the fourth (confession)
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا ذکر کیا کرتے تھے کہ غامدیہ ۱؎ اور ماعز بن مالک رضی اللہ عنہما دونوں اگر اقرار سے پھر جاتے، یا اقرار کے بعد پھر اقرار نہ کرتے تو آپ ان دونوں کو سزا نہ دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس وقت رجم کیا جب وہ چار چار بار اقرار کر چکے تھے ( اور ان کے اقرار میں کسی طرح کا کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا ) ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا .
Narrated Abu Hurairah:About this story: Then the woman, against whom he decided that a male or female should be paid for her, died. The Messenger of Allah (ﷺ) then gave judgement that her sons will inherit from her, and the bloodwit should be paid by her relatives on the father's side
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں پھر وہ عورت، جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی یا غلام کا فیصلہ کیا تھا، مر گئی، تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی میراث اس کے بیٹوں کی ہے، اور دیت قاتلہ کے عصبہ پر ہو گی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَلاَ دِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ " . قَالَتْ وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ قَالَ " أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ شَهَادَةُ رَجُلٍ وَأَمَّا نُقْصَانُ الدِّينِ فَإِنَّ إِحْدَاكُنَّ تُفْطِرُ رَمَضَانَ وَتُقِيمُ أَيَّامًا لاَ تُصَلِّي " .
Abd Allah b. 'Umar reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:I did not see more defective in respect of reason and religion than the wise of you (women). A woman asked: What is the defect of reason and religion ? He replied: The defect of reason is the testimony of two women for one man, and the defect of faith is that one of you does not fast during Ramadan (when one is menstruating), and keep away from prayer for some days
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقل اور دین میں ناقص ہوتے ہوئے عقل والے پر غلبہ پانے والا میں نے تم عورتوں سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا ( ایک عورت ) نے کہا: عقل اور دین میں کیا نقص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقل کا نقص تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے، اور دین کا نقص یہ ہے کہ ( حیض و نفاس میں ) تم میں کوئی نہ روزے رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، وَأَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهُ أَنْ تُوَارِيَهُ " .
Anas b. Malik reported the Prophet(ﷺ) as saying:Spitting in the mosque is a sin and it is expiated by burying the spittle
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم اسے ( مٹی ) میں چھپا دو ۱؎۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةً وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةً " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone sits at a place where he does not remember Allah, deprivation will descend on him from Allah; and if he lies at a place where he does not remember Allah, deprivation will descend on him from Allah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے، تو یہ بیٹھک اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہو گی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہو گا ۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ " مَا فِي إِدَاوَتِكَ " . قَالَ نَبِيذٌ . قَالَ " تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ أَوْ زَيْدٍ كَذَا قَالَ شَرِيكٌ وَلَمْ يَذْكُرْ هَنَّادٌ لَيْلَةَ الْجِنِّ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: AbuZayd quoted Abdullah ibn Mas'ud as saying that on the night when the jinn listened to the Qur'an the Prophet (ﷺ) said: What is in your skin vessel? He said: I have some nabidh. He (the Holy Prophet) said: It consists of fresh dates and pure water. Sulayman ibn Dawud reported the same version of this tradition on the authority of AbuZayd or Zayd. But Sharik said that Hammad did not mention the words "night of the jinn
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں والی رات میں مجھ سے پوچھا: تمہاری چھاگل میں کیا ہے؟ ، میں نے کہا: نبیذ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے ۔