Narrated by AbuQatadah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ - رضى الله عنه - يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ - قَالَ - وَمَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ - قَالَ - فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ " . قَالَ : قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ وَقَالَ لِعُمَرَ : " مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ " . قَالَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ . زَادَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ : فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا " . وَقَالَ لِعُمَرَ : " اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا " .
Narrated AbuQatadah: The Prophet (ﷺ) went out at night and found AbuBakr praying in a low voice, and he passed Umar ibn al-Khattab who was raising his voice while praying. When they both met the Prophet (ﷺ) together, the Prophet (ﷺ) said: I passed by you, AbuBakr, when you were praying in a low voice. He replied: I made Him hear with Whom I was holding intimate converse, Messenger of Allah. He (the Prophet) said to Umar: I passed by you when you were praying in a loud voice. He replied: Messenger of Allah, I was awakening the drowsy and driving away the Devil. Al-Hasan added in his version: The Prophet (ﷺ) said: Raise your voice a little, AbuBakr, and he said to Umar: Lower your voice a little
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات باہر نکلے تو دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے ہیں اور پست آواز سے قرآت کر رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر کے پاس سے گزرے اور وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے، جب دونوں ( ابوبکر و عمر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ تم دھیمی آواز سے نماز پڑھ رہے ہو ، آپ نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اس کو ( یعنی اللہ تعالیٰ کو ) سنا دیا ہے، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ، تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں سوتے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ حسن بن الصباح کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! تم اپنی آواز تھوڑی بلند کر لو ، اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لو ۱؎ ۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَخِي أَنَسٍ - عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا وَرَجُلٌ يُصَلِّي ثُمَّ دَعَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ يَا حَىُّ يَا قَيُّومُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى " .
Narrated Anas ibn Malik: I was sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) and a man was offering prayer. He then made supplication: O Allah, I ask Thee by virtue of the fact that praise is due to Thee, there is no deity but Thou, Who showest favour and beneficence, the Originator of the Heavens and the earth, O Lord of Majesty and Splendour, O Living One, O Eternal One. The Prophet (ﷺ) then said: He has supplicated Allah using His Greatest Name, when supplicated by this name, He answers, and when asked by this name He gives
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا، ( نماز سے فارغ ہو کر ) اس نے دعا مانگی: «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: ساری و حمد تیرے لیے ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے جلال اور عطاء و بخشش والے، اے زندہ جاوید، اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے! یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم ( عظیم نام ) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے ۔
Narrated by Ata ibn Yasar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلاَّ لِخَمْسَةٍ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ لِغَارِمٍ أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتُصُدِّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَاهَا الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ " .
Narrated Ata ibn Yasar: The Prophet (ﷺ) said: Sadaqah may not be given to rich man, with the exception of five classes: One who fights in Allah's path, or who collects it, or a debtor, or a man who buys it with his money, or a man who has a poor neighbour who has been given sadaqah and gives a present to the rich man
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں سوائے پانچ لوگوں کے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا زکاۃ کی وصولی کا کام کرنے والے کے لیے، یا مقروض کے لیے، یا ایسے شخص کے لیے جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا ہو، یا ایسے شخص کے لیے جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو اور اس مسکین پر صدقہ کیا گیا ہو پھر مسکین نے مالدار کو ہدیہ کر دیا ہو ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " . قَالَ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ " وَقَالَ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقَالَ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ " وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ " وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ " .
Umar bin Al Khattab heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say Someone came to me at night from Allaah the Exalted. The narrator said When he was staying at ‘Aqiq said Pray in his blessed valley. Then he said ‘Umrah has been included in Hajj. Abu Dawud said Al Walid bin Musilm and ‘Umar bin Abd Al Wahid narrated in this version from Al Auza’I the words “And say An ‘Umrah included in Hajj”. Abu Dawud said Ali bin Al Mubarak has also narrated similarly from Yahya bin said Abi Kathir in this version “And say An ‘Umrah included in Hajj”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج رات میرے پاس میرے رب عزوجل کی جانب سے ایک آنے والا ( جبرائیل ) آیا ( آپ اس وقت وادی عقیق ۱؎ میں تھے ) اور کہنے لگا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو، اور کہا: عمرہ حج میں شامل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ولید بن مسلم اور عمر بن عبدالواحد نے اس حدیث میں اوزاعی سے یہ جملہ «وقل عمرة في حجة» ( کہو! عمرہ حج میں ہے ) نقل کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اس حدیث میں علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے «وقل عمرة في حجة» کا جملہ نقل ۲؎ کیا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْطِهَا شَيْئًا " . قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ . قَالَ " أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ " .
Narrated Abdullah ibn Abbas: When Ali married Fatimah, the Prophet (ﷺ) said to him: Give her something. He said: I have nothing with me. He said: Where is your Hutamiyyah (coat of mail)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا: اسے کچھ دے دو ، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہاری حطمی زرہ۱؎ کہاں ہے؟ ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَى امْرَأَتِهِ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ فَنَزَلَتْ { وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ } فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ { مِنَ الصَّادِقِينَ } فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَجَاءَا فَقَامَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا مِنْ تَائِبٍ " . ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ وَقَالُوا لَهَا إِنَّهَا مُوجِبَةٌ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ فَقَالَتْ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ . فَمَضَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ " . فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ حَدِيثُ ابْنِ بَشَّارٍ حَدِيثُ هِلاَلٍ .
Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of Prophet (ﷺ) of having committed adultery with Sharik bin Sahma’”. The Prophet (ﷺ) said “Produce evidence or you must receive punishment on your back.” He said “Apostle of Allaah(ﷺ) when one of us sees a man having intercourse with his wife should he go and seek evidence?” But the Prophet (ﷺ) merely said “You must produce evidence or you must receive punishment on your back.” Hilal then said “By Him Who sent you with the Truth, I am speaking Truly. May Allaah send down something which will free my back from punishment. Then the following Qur’anic verses were revealed “And those who make charges against their spouses but have no witnesses except themselves” reciting till he reached “one of those who speak the truth”. The Prophet (ﷺ) then returned and sent for them and they came (to him). Hilal bin Umayyah stood up and testified and the Prophet (ﷺ) was saying “Allaah knows that one of you is lying. Will one of you repent?” Then the woman got up and testified, but when she was about to do it a fifth time saying that Allaah’s anger be upon her if he was one of those who spoke the truth, they said to her “this is the deciding one”. Ibn ‘Abbas said “She then hesitated and drew back so that we thought the she would withdraw(what she said) “Look and see whether she gives birth to a child with eyes looking as if they have antimony in them, wide buttocks and fat legs, if she did. Sharik bin Sahma’ will be its father. She then gave birth to a child of a similar description. The Prophet (ﷺ) thereupon said “If it were not for what has already been stated in Allaah’s book I would have dealt severely with her.” Abu Dawud said “This tradition has been transmitted by the people of Medina alone. They narrated the tradition of Hilal on the authority of Ibn Bashshar.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ ( زنا کی ) تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ پیٹھ پر کوڑے لگیں گے ، تو ہلال نے کہا کہ: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈنے جائے؟ اس پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرمائے جا رہے تھے کہ: گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے پڑیں گے ، تو ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں وحی نازل کر کے میری پیٹھ کو حد سے بری کرے گا، چنانچہ «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» کی آیت نازل ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھا یہاں تک کہ آپ پڑھتے پڑھتے «من الصادقين» ۱؎ تک پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور آپ نے ان دونوں کو بلوایا، وہ دونوں آئے، پہلے ہلال بن امیہ کھڑے ہوئے اور گواہی دینے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ پھر عورت کھڑی ہوئی اور گواہی دینے لگی، پانچویں بار میں جب ان الفاظ کے کہنے کی باری آئی کہ اگر وہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو تو لوگ اس سے کہنے لگے: یہ عذاب کو واجب کر دینے والا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے: تو وہ ہچکچائی اور ہٹ گئی اور ہمیں یہ گمان ہوا کہ وہ باز آ جائے گی، لیکن پھر کہنے لگی: ہمیشہ کے لیے میں اپنی قوم پر رسوائی کا داغ نہ لگاؤں گی ( یہ کہہ کر ) اس نے آخری جملہ کو بھی ادا کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اس کا ہونے والا بچہ اگر سرمگیں آنکھوں، بڑی سرینوں اور موٹی پنڈلیوں والا ہوا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے ، چنانچہ انہیں صفات کا بچہ پیدا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ نہ آ گیا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا ، یعنی میں اس پر حد جاری کرتا۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا . قَالَ لاَ أَجِدُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْلِسْ " . فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ وَقَالَ لَهُ " كُلْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَلَى لَفْظِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلاً أَفْطَرَ وَقَالَ فِيهِ " أَوْ تُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " .
Narrated Abu Hurairah: (A man broke his fast intentionally) during Ramadan. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded him to emancipate a slave, or fast for two months, or feed sixty poor men. He said: I cannot provide. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Sit down. Thereafter a huge basket of dates ('araq) was brought to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: Take this and give it as sadaqah (alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer than I. The Messenger of Allah (ﷺ) thereupon laughed so that his canine teeth became visible and said: Eat it yourself. Abu Dawud said: Ibn Juraij narrated it from al-Zuhri in the wordings of the narrator Malik that a man broke his fast. This version says: You should either free a slave, or fast for two months, or provide food for sixty poor men
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے، یا دو مہینے کا مسلسل روزے رکھنے، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا، وہ شخص کہنے لگا کہ میں تو ( ان میں سے ) کچھ نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے لو اور صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ ضرورت مند تو کوئی ہے ہی نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت نظر آنے لگے اور اس سے فرمایا: تم ہی اسے کھا جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے زہری سے مالک کی روایت کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ دیا، اس میں ہے «أو تعتق رقبة أو تصوم شهرين أو تطعم ستين مسكينا» ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْجَرَسِ " مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ " .
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “The bell is a wooden wind musical instrument of Satan.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹی کے بارے میں فرمایا: وہ شیطان کی بانسری ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّا نُخْرِجُهُمْ إِذَا شِئْنَا فَمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلْيَلْحَقْ بِهِ فَإِنِّي مُخْرِجٌ يَهُودَ . فَأَخْرَجَهُمْ .
Narrated Abdullah ibn Umar: Umar said: The Messenger of Allah (ﷺ) had transaction with the Jews of Khaybar on condition that we should expel them when we wish. If anyone has property (with them), he should take it back, for I am going to expel the Jews. So he expelled them
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے یہ معاملہ کیا تھا کہ ہم جب چاہیں گے انہیں یہاں سے جلا وطن کر دیں گے، تو جس کا کوئی مال ان یہودیوں کے پاس ہو وہ اسے لے لے، کیونکہ میں یہودیوں کو ( اس سر زمین سے ) نکال دینے والا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نکال دیا ۱؎۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْوِيهِ قَالَ مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ .
Narrated Abu Hurairah:If anyone attends the funeral and prays over (the dead), he will get the reward of one qirat, and if anyone attends the funeral until the completion (of the burial), he will get the reward of two qirats, the smaller of them being equivalent of Uhud, or one of them being equivalent to Uhud
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط ( کا ثواب ) ملے گا، اور جو جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے دفنانے تک ٹھہرا رہے تو اسے دو قیراط ( کا ثواب ) ملے گا، ان میں سے چھوٹا قیراط یا ان میں سے ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔
Narrated by Ka'b ibn Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي قِصَّتِهِ قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَدَقَةً . قَالَ : " لاَ " . قُلْتُ : فَنِصْفَهُ . قَالَ : " لاَ " . قُلْتُ : فَثُلُثَهُ . قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : فَإِنِّي سَأُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ .
Narrated Ka'b ibn Malik: I said: Messenger of Allah, to make my atonement complete I should divest myself of my all property as sadaqah (alms) for Allah and His apostle. He said: No. I said: The half of it. He said: No. I said: Then a third of it. He said: Yes. I said: I shall retain the portion I have at Khaybar
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی قصہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں یہ شامل ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: نصف صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: ثلث صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے کہا: تو میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں۔
Narrated by Jabir b. 'Abd Allah
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَعَنِ الثُّنْيَا إِلاَّ أَنْ يُعْلَمَ .
Narrated Jabir b. 'Abd Allah :The Messenger of Allah (ﷺ) forbade muzabanah, muhaqalah and thunya except it is known
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ( درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے ) سے اور محاقلہ ( کھیت میں لگی ہوئی فصل کو غلہ سے اندازہ کر کے بیچنے ) سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء سے روکا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَدِينِيِّ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَبِيعَ أَحَدٌ طَعَامًا اشْتَرَاهُ بِكَيْلٍ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to sell grain which one buys by measurement until one receives it in full
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کو جسے کسی نے ناپ تول کر خریدا ہو، جب تک اسے اپنے قبضہ و تحویل میں پوری طرح نہ لے لے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَلْقَى الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ فَكُلُوهُ وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلاَ تَأْكُلُوهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَيُّوبُ وَحَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَوْقَفُوهُ عَلَى جَابِرٍ وَقَدْ أُسْنِدَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: What the sea throws up and is left by the tide you may eat, but what dies in the sea and floats you must not eat. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Sufyan al-Thawri, Ayyub and Hammad from Abu al-Zubair as the statement of Jabor himself (and not from the Prophet). It has been also transmitted direct from the Prophet (ﷺ) through a weak chain by Abu Dhi'b, from Abu al-Zubair on the authority if Jabir from the Prophet (ﷺ)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر جس مچھلی کو باہر ڈال دے یا جس سے سمندر کا پانی سکڑ جائے تو اسے کھاؤ، اور جو اس میں مر کر اوپر آ جائے تو اسے مت کھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، اور اسے جابر پر موقوف قرار دیا ہے اور یہ حدیث ایک ضعیف سند سے بھی مروی ہے جو اس طرح ہے: «عن ابن أبي ذئب عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، لُوَيْنٌ - وَبَعْضُهُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ - عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ قِيلَ لِعَائِشَةَ رضى الله عنها إِنَّ امْرَأَةً تَلْبَسُ النَّعْلَ . فَقَالَتْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلَةَ مِنَ النِّسَاءِ .
Ibn AbuMulaykah told that when someone remarked to Aisha that a woman was wearing sandals, she replied:The Messenger of Allah (ﷺ) cursed mannish women
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ عورت جوتا پہنتی ہے ( جو مردوں کے لیے مخصوص تھا ) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد بننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَبِكَ جُنُونٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَحْصَنْتَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ فِي الْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ .
Jabir b. ‘Abd Allah said:A man of the tribe of Asalam came to the Messenger of Allah (ﷺ) and made confession of fornication. He (the prophet) turned away from him. When he testified against him four times, the Prophet (ﷺ) said: Are you mad? He said: No. he asked: Are you married? He replied: Yes. The Prophet (ﷺ) then commanded regarding him and he was stoned in the place of prayer. Then when the stones hurt him, he fled, but was overtaken and stoned to death. The Prophet (ﷺ) then spoke well of him and did not pray over him
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا، پھر اس نے آ کر اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اپنا منہ پھیر لیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار بار گواہیاں دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے جنون ہے؟ اس نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے اس نے کہا: ہاں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا، تو انہیں عید گاہ میں رجم کر دیا گیا، جب ان پر پتھروں کی بارش ہونے لگی تو وہ بھاگے، پھر پکڑ لیے گئے، اور پتھروں سے مارے گئے، یہاں تک کہ ان کی موت ہو گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اور ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
Narrated by Tawus
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ قَامَ عُمَرُ رضى الله عنه عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ لَمْ يَذْكُرْ وَأَنْ تُقْتَلَ . زَادَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ . قَالَ فَقَالَ عُمَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا لَقَضَيْنَا بِغَيْرِ هَذَا .
Narrated Tawus: Umar stood on the pulpit. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as mentioned before. He did not mention "that she should be killed". This version adds: "a male or a female slave". Umar then said: Allah is Most Great. Had I not heard it, we would have decided about it something else
طاؤس کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی البتہ اس کا ذکر نہیں کیا کہ وہ قتل کی جائے، اور انہوں نے «بغرة عبد أو أمة» کا اضافہ کیا ہے، راوی کہتے ہیں: اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ حکم نہ سنے ہوتے تو اس کے خلاف فیصلہ دیتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ الأَنْبِيَاءُ أَوْلاَدُ عَلاَّتٍ وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ " .
Abu Hurairah said :I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) say : I am the nearest of kin among the people to (Jesus) son of Mary. The Prophet are brothers, sons of one father by co-wives. There is no Prophet between me and him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میں ابن مریم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ لاَ يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ الصَّلاَةُ " .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; one is considered to be at prayer so long as one is detained by prayer:Nothing prevents one from going home to one’s family except prayer
اسی سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک شخص برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک نماز اس کو روکے رہے یعنی اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے سے اسے نماز کے علاوہ کوئی اور چیز نہ روکے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو صَالِحٍ فَقُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ فَأَرْبَعَةٌ قَالَ لاَ يَضُرُّكَ .
A similar tradition has been transmitted by Ibn `Umar through a different chain of narrators. This version has:Abu Salih said: I asked Ibn `Umar: If they are four? He replied: Then it does not harm you
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مثل فرمایا، ابوصالح کہتے ہیں: میں نے ابن عمر سے کہا: اگر چار آدمی ہوں تو؟ وہ بولے ( تو کوئی حرج نہیں ) اس لیے کہ یہ چیز تم کو ایذاء نہ دے گی۔
Narrated by Abd Allaah b. 'Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نَتَوَضَّأُ نَحْنُ وَالنِّسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نُدْلِي فِيهِ أَيْدِيَنَا .
Narrated 'Abd Allaah b. 'Umar:We (men) and women during the life-time of the Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam) used to perform ablution from one vessel. We all put our hands in it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم اور عورتیں مل کر ایک برتن سے وضو کرتے، اور ہم اپنے ہاتھ اس میں ( باری باری ) ڈالتے تھے۔