بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
3
43 hadith
Narrated by Umayr, the client of AbulLahm
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، وَعُمَرَ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى بَنِي آبِي اللَّحْمِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنَ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي رَافِعًا يَدَيْهِ قِبَلَ وَجْهِهِ لاَ يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهُ ‏.‏
Narrated Umayr, the client of AbulLahm: Umayr saw the Prophet (ﷺ) praying for rain at Ahjar az-Zayt near az-Zawra', standing, making supplication, praying for rain and raising his hands in front of his face, but not lifting them above his head
عمیر مولیٰ آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زوراء کے قریب احجار زیت کے پاس کھڑے ہو کر ( اللہ تعالیٰ سے ) بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ چہرے کی طرف اٹھائے بارش کے لیے دعا کر رہے تھے اور انہیں اپنے سر سے اوپر نہیں ہونے دیتے تھے۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ، - رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضَبَّةَ - قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَزَلَ مَنْزِلاً لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ قَالَ وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah (ﷺ) halted at a certain place (while on a journey), he would not leave that place till he offered the noon prayer. A man said to him: Even if in the middle of the day? He replied: Even if in the middle of the day
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر پڑھ کر ہی کوچ فرماتے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: گرچہ نصف النہار ہوتا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ نصف النہار ہوتا۔
Narrated by Bilal
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْكِنْدِيُّ عَنْ بِلاَلٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُؤْذِنَهُ بِصَلاَةِ الْغَدَاةِ فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - بِلاَلاً بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ فَأَصْبَحَ جِدًّا قَالَ فَقَامَ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ وَتَابَعَ أَذَانَهُ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Bilal: Ziyadah al-Kindi reported on the authority of Bilal that he (Bilal) came to the Messenger of Allah (ﷺ) to inform him about the dawn prayer. Aisha kept Bilal engaged in a matter which she asked him till the day was bright and it became fairly light. Bilal then stood up and called him to prayer and called him repeatedly. The Messenger of Allah (ﷺ) did not yet come out. When he came out, he led the people in prayer and he (Bilal) informed him that Aisha had kept him engaged in a matter which she asked him till it became fairly light; hence he became late in reaching him (in time). He (Bilal) said: Messenger of Allah, the dawn became fairly bright. He said: If the dawn became brighter than it is now, I would pray them (the two rak'ahs of the sunnah prayer), offer them well and in a more beautiful manner
عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی بات میں مشغول کر لیا، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہو گئی، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں نکلے، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہو گئی، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا ، بلال نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو کافی صبح کر دی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی دیر میں نے کی، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہو جاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ قُلْتُ لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، يَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَإِنَّ صَاحِبَنَا سُئِلَ عَنْهَا ‏.‏ فَقَالَ مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا ‏.‏ فَقَالَ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ - زَادَ مُسَدَّدٌ وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا أَوْ أَحَبَّ أَنْ لاَ يَتَّكِلُوا ثُمَّ اتَّفَقَا - وَاللَّهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لاَ يَسْتَثْنِي ‏.‏ قُلْتُ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ قَالَ بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قُلْتُ لِزِرٍّ مَا الآيَةُ قَالَ تُصْبِحُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِثْلَ الطَّسْتِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ ‏.‏
Zirr (b. Hubaish) said:I said to Ubayy b. Ka'b: Tell me about lailat al-qadr, O Abu al-Mundhir, for our companion (Ibn Mas'ud) was questioned about it, and he said: Anyone who gets up for prayer every night all the year round will hit upon it (i.e. lailat al-qadr). He replied: May Allah have mercy on Abu 'Abd al-Rahman. By Allah, he knew that it was in Ramadan, (Musaddad's version goes) but he disliked that the people should content themselves (with that night alone); or he liked that the people should not content themselves (with the night alone). According to the agreed version: By Allah, it is the twenty-seventh night of Ramadan, without any reservation. I said: How did you know that, Abu al-Mundhir? He replied: By the indication (or sign) of which the Messenger of Allah (ﷺ) informed us. I asked Zirr: What is the sign ? He replied: The sun rises like a vessel of water in the morning following that night; it has no rays until it rises high up
زر کہتے ہیں کہ ابومنذر! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے؟ اس لیے کہ ہمارے شیخ یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جو پورے سال قیام کرے اسے پا لے گا، ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے ( مسدد نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے لیکن انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں یا ان کی خواہش تھی کہ لوگ بھروسہ نہ کر لیں، ( آگے سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں کی روایتوں میں اتفاق ہے ) اللہ کی قسم! یہ رات رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے، اس سے باہر نہیں، میں نے پوچھا: اے ابومنذر! آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: اس علامت سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بتائی تھی۔ ( عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا: وہ علامت کیا تھی؟ جواب دیا: اس رات ( کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں ) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے، جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے، اس میں کرنیں نہیں ہوتیں۔
Narrated by Abu Rafi
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ ‏{‏ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ‏}‏ فَسَجَدَ فَقُلْتُ مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ قَالَ سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ ‏.‏
Narrated Abu Rafi':I offered the night prayer behind Abu Hurairah. He recited Surah Inshiqaq ("When the sky is rent asunder") and prostrated himself. I asked him: What is this prostration ? He replied: I prostrated myself on account of this (surah) behind Abu al-Qasim (i.e. the Prophet). I shall continue prostrating on account of this till I meet him
ابورافع نفیع الصائغ بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے «إذا السماء انشقت» کی تلاوت کی اور سجدہ کیا، میں نے کہا: یہ سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( نماز پڑھتے ہوئے ) کیا ہے اور میں برابر اسے کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں۔
Narrated by Ubayy ibn Ka'b
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، وَزُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُوتِرُ بِـ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏}‏ وَ ‏{‏ قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا ‏}‏ وَاللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ ‏.‏
Narrated Ubayy ibn Ka'b: The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe witr with (reciting) "Glorify the name of thy Lord, the most High" (Surah 87), "Say O disbelievers" (Surah 109), and "Say, He is Allah, the One, Allah, the eternally besought of all
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل للذين كفروا» ( یعنی«قل ياأيها الكافرون» ) اور «الله الواحد الصمد» ( یعنی «قل هو الله أحد» ) پڑھا کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، - الْمَعْنَى - أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهَا ‏"‏ أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَخَلَعَتْهُمَا فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَتْ هُمَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ ‏.‏
Amr bin Shu'aib on his father's authority said that his grandfather reported: A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and she was accompanied by her daughter who wore two heavy gold bangles in her hands. He said to her: Do you pay zakat on them? She said: No. He then said: Are you pleased that Allah may put two bangles of fire on your hands? Thereupon she took them off and placed them before the Prophet (ﷺ) saying: They are for Allah and His Apostle
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی، اس بچی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم ان کی زکاۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ اچھا لگے گا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کنگن ان کے بدلے میں پہنائے ۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس عورت نے دونوں کنگن اتار کر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دئیے اور بولی: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ قُتَيْبَةَ وَمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ ‏"‏ فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ الَّتِي زَادَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَرَبِيعَةَ ‏"‏ إِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ ‏"‏ فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ‏"‏ ‏.‏ وَحَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَيْضًا قَالَ ‏"‏ عَرِّفْهَا سَنَةً ‏"‏ ‏.‏ وَحَدِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ عَرِّفْهَا سَنَةً ‏"‏ ‏.‏
The above mentioned tradition has also been transmitted by Yahya bin Sa’id and Rabi’ah through the chain of narrators mentioned by Qutaibah to the same effect. This version adds; if its seeker comes, and recognizes its container and its number, then give it to him. Hammad also narrated it from `Ubaid Allah bin `Umar from `Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, from the Prophet (SWAS) something similar. Abu Dawud said :This addition made by Hammad bin Salamah bin Kuhail, Yahya bin Sa’id, `Ubaid Allah bin `Umar and Rabi’ah; “if its owner comes and recognizes its container, and its string,” is not guarded. The version narrated by Uqbah bin Suwaid on the authority of his father from the Prophet (SWAS) has also the words : “make it known for a year”. The version of `Umar bin al-Khattab has also been transmitted from the Prophet (SWAS). This version has : “Make it known for a year”
یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے قتیبہ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: اگر اس کا ڈھونڈنے والا آ جائے اور تھیلی اور گنتی کی پہچان بتائے تو اسے اس کو دے دو ۔ اور حماد نے بھی عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے عمرو بن شعیب نے «عن ابیہ عن جدہ» عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مرفوعاً روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ زیادتی جو حماد بن سلمہ نے سلمہ بن کہیل، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ اور ربیعہ کی حدیث ( یعنی حدیث نمبر: ۱۷۰۲ -۱۷۰۳ ) میں کی ہے: «إن جاء صاحبها فعرف عفاصها ووكاءها فادفعها إليه» یعنی: اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے تو اس کو دے دو ، اس میں: «فعرف عفاصها ووكاءها» تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے کا جملہ محفوظ نہیں ہے۔ اور عقبہ بن سوید کی حدیث میں بھی جسے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے یعنی «عرفها سنة» ( ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ) موجود ہے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: «عرفها سنة» تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُرْدِفُ مَوْلاَةً لَهُ يُقَالُ لَهَا صَفِيَّةُ تُسَافِرُ مَعَهُ إِلَى مَكَّةَ ‏.‏
Nafi` said :Ibn `Umr used to seat his slave girl called Safiyyah behind him(on the Camel) and thus she travelled to Makkah in his company
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں «صرورة» نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَعْتَقَ جَارِيَتَهُ وَتَزَوَّجَهَا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Dawud reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Anyone who sets his slave girl free and then marries her, will have a double reward.”
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اس کے لیے دوہرا ثواب ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ صلى الله عليه وسلم فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَذَلِكَ الطَّلاَقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
‘Abd Allah (bin Umar) said that he divorced his wife while she was menstruating. ‘Umar mentioned the matter to the Messenger of Allah(ﷺ). The Messenger of Allah(ﷺ) became angry and said “Command him, he must take her back and keep her back till she is purified, then has another menstrual period and is purified. Then if he desires he may divorce her during the period of purity before he has intercourse with her. This is the divorce for waiting period as commanded by Allaah, the Exalted
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے پھر فرمایا: اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کر لے پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر حائضہ ہو پھر پاک ہو جائے پھر چاہیئے کہ وہ پاکی کی حالت میں اسے چھوئے بغیر طلاق دے، یہی عدت کا طلاق ہے جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا كَانَ شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نُظِرَ لَهُ فَإِنْ رُؤِيَ فَذَاكَ وَإِنْ لَمْ يُرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ وَلاَ قَتَرَةٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ أَصْبَحَ صَائِمًا ‏.‏ قَالَ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ وَلاَ يَأْخُذُ بِهَذَا الْحِسَابِ ‏.‏
Ibn ‘Umar reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “The month consists of twenty nine days, but do not fast till you sight it (the moon) and do not break your fast till you sight it. If the weather is cloudy, calculate it thirty days. When the twenty-ninth of Sha’ban came, Ibn ‘Umar would send someone (who tried) to sight the moon for him. If it was sighted then well and good, in case it was not sighted and there was no cloud and dust before him (on the horizon) he would not keep fast the next day. If there appeared (on the horizon) before him cloud or dust, he would fast the following day. Ibn ‘Umar would end his fasting alone with the people and did not follow this calculation.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا ( بھی ) ہوتا ہے لہٰذا چاند دیکھے بغیر نہ روزہ رکھو، اور نہ ہی دیکھے بغیر روزے چھوڑو، اگر آسمان پر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو ۔ راوی کا بیان ہے کہ جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما چاند دیکھتے اگر نظر آ جاتا تو ٹھیک اور اگر نظر نہ آتا اور بادل اور کوئی سیاہ ٹکڑا اس کے دیکھنے کی جگہ میں حائل نہ ہوتا تو دوسرے دن روزہ نہ رکھتے اور اگر بادل یا کوئی سیاہ ٹکڑا دیکھنے کی جگہ میں حائل ہو جاتا تو صائم ہو کر صبح کرتے۔ راوی کا یہ بھی بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنا چھوڑتے تھے، اور اپنے حساب کا خیال نہیں کرتے تھے۔
Narrated by Imran ibn Husayn
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet (ﷺ) said: A section of my community will continue to fight for the right and overcome their opponents till the last of them fights with the Antichrist
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ۱؎ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور ان لوگوں پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی کریں گے یہاں تک کہ ان کے آخری لوگ مسیح الدجال سے قتال کریں گے۲؎ ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ذَبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ ‏ "‏ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَبَحَ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) sacrificed two horned rams which were white with black markings and had been castrated. When he made them face the qiblah, he said: I have turned my face towards Him. Who created the heavens and the earth, following Abraham's religion, the true in faith, and I am not one of the polytheists. My prayer, and my service of sacrifice, my life and my death are all for Allah, the Lord of the Universe, Who has no partner. That is what I was commanded to do, and I am one of the Muslims. O Allah it comes from Thee and is given to Thee from Muhammad and his people. In the name of Allah, and Allah is Most Great. He then made sacrifice
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن سینگ دار ابلق خصی کئے ہوئے دو دنبے ذبح کئے، جب انہیں قبلہ رخ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض على ملة إبراهيم حنيفا وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له، وبذلك أمرت وأنا من المسلمين، اللهم منك ولك وعن محمد وأمته باسم الله والله أكبر» میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں ابراہیم کے دین پر ہوں، کامل موحد ہوں، مشرکوں میں سے نہیں ہوں بیشک میری نماز میری تمام عبادتیں، میرا جینا اور میرا مرنا خالص اس اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی عطا ہے، اور خاص تیری رضا کے لیے ہے، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول کر، ( بسم اللہ واللہ اکبر ) اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ بہت بڑا ہے پھر ذبح کیا۔
Narrated by Adi ibn Hatim
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ ثُمَّ أَرْسَلْتَهُ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ ‏"‏ إِذَا قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْبَازُ إِذَا أَكَلَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ وَالْكَلْبُ إِذَا أَكَلَ كُرِهَ وَإِنْ شَرِبَ الدَّمَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏
Narrated Adi ibn Hatim: The Prophet (ﷺ) said: Eat what ever is caught for you by a dog or a hawk you have trained and set off when you have mentioned Allah's name. I said: (Does this apply) if it killed (the animal)? He said: When it kills it without eating any of it, for it caught it only for you. Abu Dawud said: If a hawk eats any of it, there is no harm (in eating it). If a dog eats it, it is disapproved (to eat the meat). If it drinks blood, there is no harm (in eating it)
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کتے یا باز کو تم سدھا رکھو اور اسے اللہ کا نام لے کر یعنی ( بسم اللہ کہہ کر ) شکار کے لیے چھوڑو تو جس شکار کو اس نے تمہارے لیے روک رکھا ہو اسے کھاؤ ۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے مار ڈالا ہو؟ آپ نے فرمایا: جب اس نے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو تو سمجھ لو کہ اس نے شکار کو تمہارے لیے روک رکھا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: باز جب کھا لے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں اور کتا جب کھا لے تو وہ مکروہ ہے اگر خون پی لے تو کوئی حرج نہیں۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏{‏ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ ‏}‏ فَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:The Qur'anic verse goes: "(It is prescribed when death approaches any of you), if he leaves any goods, that he may bequest to parents and next to kin." The bequest was made in this way until the verse of inheritance repealed it
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «إن ترك خيرا الوصية للوالدين والأقربين» اگر مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۰ ) ، وصیت اسی طرح تھی ( جیسے اس آیت میں مذکور ہے ) یہاں تک کہ میراث کی آیت نے اسے منسوخ کر دیا۔
Narrated by Jabir bin ‘Abdullah
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، وَغَيْرُهُ، مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةَ، سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَعْدًا هَلَكَ وَتَرَكَ ابْنَتَيْنِ ‏.‏ وَسَاقَ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا هُوَ الصَّوَابُ ‏.‏
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : The wife of Sa'd b. al-Rabi said: Messenger of Allah, Sa'd died and left two daughters. He then narrated the rest of the tradition in a similar way. Abu Dawud said: This is the most correct tradition
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن ربیع کی عورت نے کہا: اللہ کے رسول! سعد مر گئے اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ السِّجِلُّ كَاتِبٌ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:The Prophet (ﷺ) has a secretary named Sijill
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سجل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب ( منشی یا محرر ) تھے ۱؎۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلاَ بِرْذَوْنٍ ‏.‏
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) would visit me (during my illness) riding neither a mule nor a pony
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی خچر اور گھوڑے پر سوار ہوئے میری عیادت کو تشریف لاتے تھے ۱؎۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَدْرَكَهُ وَهُوَ فِي رَكْبٍ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْكُتْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) found 'Umar al-Khattab in a caravan while he was swearing by his father. So he said: Allah forbids you to swear by forefathers. If anyone swears, he must swear by Allah or keep silence
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک قافلہ میں تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے روکتا ہے اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہے تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) cursed the one who accepted usury, the one who paid it, the witness to it, and the one who recorded it
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کے لیے گواہ بننے والے اور اس کے کاتب ( لکھنے والے ) پر لعنت فرمائی ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَلَوْ عَلِمَهُ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:The Messenger of Allah (ﷺ) got him self cupped and gave the cupper his wages. Had he considered it impure, he would not have given it (wage) to him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی، اور سینگی لگانے والے کو اس کی مزدوری دی، اگر آپ اسے حرام جانتے تو اسے مزدوری نہ دیتے ۱؎۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ بِلاَلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِلَ إِلَيْهِ وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ بِلاَلِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ بِلاَلِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ عَنْ خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: If anyone desires the office of Judge and seeks help for it, he will be left to his own devices; if anyone does not desire it, nor does he seek help for it, Allah will send down an angel who will direct him aright. Waki' said: (This tradition has also been transmitted) by Isra'il, from 'Abd al-A'la, from Bilal bin Abi Musa, from Anas, from the Prophet (ﷺ). Abu 'Awanah said: from 'Abd al-A'la, from Bilal bin Mirdas al-Fazari, from Khaithamah al-Basri from Anas
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: جو شخص منصب قضاء کا طالب ہوا اور اس ( عہدے ) کے لیے مدد چاہی ۱؎ وہ اس کے سپرد کر دیا گیا ۲؎، جو شخص اس عہدے کا خواستگار نہیں ہوا اور اس کے لیے مدد نہیں چاہی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے راہ صواب پر رکھتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْخُطْبَةَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبُوا لِي ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said :When Mecca was conquered, the Holy Prophet (peace be upon him) stood up. He (Abu Hurairah) then mentioned the sermon of the Holy Prophet (ﷺ). He said: A man of the Yemen, who was called Abu Shah, got up and said: Messenger of Allah! Write it for me. He said: Write it for Abu Shah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب مکہ فتح ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کا ذکر کیا، پھر کہا کہ ایک یمنی شخص کھڑا ہوا جسے ابو شاہ کہا جاتا تھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے ( یہ خطبہ ) لکھ دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔
Narrated by An-Nu'man ibn Bashir
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ مِنَ الْعِنَبِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الْبُرِّ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا ‏"‏ ‏.‏
Narrated An-Nu'man ibn Bashir: The Prophet (ﷺ) said: from grapes wine is made, from dried dates wine is made, from honey wine is made, from wheat wine is made, from barley wine is made
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب انگور کی بھی ہوتی ہے، کھجور کی بھی، شہد کی بھی ہوتی ہے، گیہوں کی بھی ہوتی ہے، اور جو کی بھی ہوتی ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ ذُكِرَ تَزْوِيجُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا أَوْلَمَ بِشَاةٍ ‏.‏
Thabit said:The marriage of Zainab daughter of Jahsh was mentioned before Anas b. Malik. He said: I did not see that the Messenger of Allah (ﷺ) held such a wedding feast for any of his wives as he did for her. He held a wedding feast with a sheep
ثابت کہتے ہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے کسی کے نکاح میں زینب کے نکاح کی طرح ولیمہ کرتے نہیں دیکھا، آپ نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا۔
Narrated by Kabshah daughter of AbuBakrah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ، بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَتْنِي عَمَّتِي، كَبْشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ - وَقَالَ غَيْرُ مُوسَى كَيِّسَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ - أَنَّ أَبَاهَا، كَانَ يَنْهَى أَهْلَهُ عَنِ الْحِجَامَةِ، يَوْمَ الثُّلاَثَاءِ وَيَزْعُمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ يَوْمَ الثُّلاَثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ وَفِيهِ سَاعَةٌ لاَ يَرْقَأُ ‏.‏
Narrated Kabshah daughter of AbuBakrah: (the narrator other than Musa said that Kayyisah daughter of AbuBakrah) She said that her father used to forbid his family to have themselves cupped on a Tuesday, and used to assert on the authority of the Messenger of Allah (ﷺ) that Tuesday is the day of blood in which there is an hour when it does not stop
کبشہ بنت ابی بکرہ نے خبر دی ہے ۱؎ کہ ان کے والد اپنے گھر والوں کو منگل کے دن پچھنا لگوانے سے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے: منگل کا دن خون کا دن ہے اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بہنا بند نہیں ہوتا ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ مَا بَالُ الإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا قَالَ ‏"‏ فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَعْمَرٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَرَاجَعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ حَدَّثْتَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَدْ حَدَّثَ بِهِ وَمَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ نَسِيَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَهُ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying : There is no infection, no evil, omen or serpent, in a hungry belly and no hamah. A nomadic Arab asked: How is it that when camels are in the sand as if they were gazelles and a mangy camel comes among them and it gives them mange ? He replied: Who infected the first one ? Ma'mar, quoting al-Zuhri said: A man told me that Abu Hurairah narrated to him saying that he heard the Prophet (ﷺ) say: A diseased camel should not be brought with a healthy camel to drink water. He said: The man then consulted him and said: Did you not tell us that Prophet (ﷺ) had said: There is no infection, no serpent in a hungry belly and no hamah? He replied: I did not transmit it to you. Al-Zuhri said: Abu Salamah said: He had narrated it and I did not hear that Abu Hurairah had ever forgotten any tradition except this one. Note: The majority of scholars interpret this to mean that these things in and of themselves do not transmit or cause harm through supernatural or hidden means but that Allah is ultimately in control and any fearful superstition around these is false
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی چیز میں نحوست ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ایک بدوی نے عرض کیا: پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے؟ وہ ہرن کے مانند ( بہت ہی تندرست ) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارشتی اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارشتی کر دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارشتی کیا؟ ۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے پھر وہ شخص ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے کہا: کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، اور نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، اور کہا: میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے۔ زہری کا بیان ہے: ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا، اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے۔
Narrated by Abu al-Malih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، - الْمَعْنَى - أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، - قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ - عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلاَمٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ فَأَجَازَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِتْقَهُ ‏.‏
Narrated Abu al-Malih: On his father's authority (this is AbulWalid's version): A man emancipated a share in a slave and the matter was mentioned to the Prophet (ﷺ). He said: Allah has no partner. Ibn Kathir added in his version: The Prophet (ﷺ) allowed his emancipation
اسامہ بن عمیر الہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ ‏}‏ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) read the verse: "eye for eye" (al-'aynu bil-'ayn)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «والعين بالعين» ( رفع کے ساتھ ) پڑھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَذْهَبُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَيَرْجِعُ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ الْمَغْرِبَ وَكَانَ لاَ يُبَالِي تَأْخِيرَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ وَمَا يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ الَّذِي كَانَ يَعْرِفُهُ وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ ‏.‏
Abu Barzah reported:The Messenger of Allah (ﷺ) would offer the Zuhr prayer when the sun had passed the meridian; he would offer 'Asr prayer after which one of us would visit the skirts of Medina and return him while the sun was still bright; I forgot what he said about the Maghrib prayer; he did not fear postponing the Isha prayer until a third of night had passed, or he said: until the midnight had passed. He would dislike sleeping before it or talking after it. And he would offer the Fajr prayer when a man could recognize his neighbor whom he recognized well; and he would recite from sixty to a hundred verses during it
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سورج ڈھل جانے پر پڑھتے اور عصر اس وقت پڑھتے کہ ہم میں سے کوئی آدمی مدینہ کے آخری کنارے پر جا کر وہاں سے لوٹ آتا، اور سورج زندہ رہتا ( یعنی صاف اور تیز رہتا ) اور مغرب کو میں بھول گیا، اور عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، پھر انہوں نے کہا: آدھی رات تک مؤخر کرنے میں ( کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ) فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے ۱؎ کو اور عشاء کے بعد بات چیت کو برا جانتے تھے ۲؎، اور فجر پڑھتے اور حال یہ ہوتا کہ ہم میں سے ایک اپنے اس ساتھی کو جسے وہ اچھی طرح جانتا ہوتا، اندھیرے کی وجہ سے پہچان نہیں پاتا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔
Narrated by Al-Miswar b. Makhramah
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ حَمَلْتُ حَجَرًا ثَقِيلاً فَبَيْنَا أَمْشِي فَسَقَطَ عَنِّي ثَوْبِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خُذْ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ وَلاَ تَمْشُوا عُرَاةً ‏"‏ ‏.‏
Narrated Al-Miswar b. Makhramah:I lifted a heavy stone. While I was walking my garment fell down. The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Take you garment upon you, and do not walk naked
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بھاری پتھر اٹھائے ہوئے چل رہا تھا کہ اسی دوران میرا کپڑا ( تہبند میرے جسم سے کھل کر ) گر پڑا تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کپڑا اٹھا کر باندھ لو اور ننگے نہ چلو ۔
Narrated by Asma', daughter of Yazid,
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ كَانَتْ يَدُ كُمِّ قَمِيصِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الرُّصْغِ ‏.‏
Narrated Asma', daughter of Yazid,: The sleeve of the shirt of the Messenger of Allah (ﷺ) came to the wrist
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قمیص ( کرتے ) کی آستین پہنچوں تک تھی۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّورِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَبَضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ بَلِ امْرَأَةٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي بِالْحِنَّاءِ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: A woman made a sign from behind a curtain to indicate that she had a letter for the Messenger of Allah (ﷺ). The Prophet (ﷺ) closed his hand, saying: I do not know this is a man's or a woman's hand. She said: No, a woman. He said: If you were a woman, you would make a difference to your nails, meaning with henna
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا، اور فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا تو اس نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا: اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی یعنی مہندی سے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، لُوَيْنٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا فَصَنَعَ النَّاسُ فَلَبِسُوا وَطَرَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَطَرَحَ النَّاسُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ وَشُعَيْبٌ وَابْنُ مُسَافِرٍ كُلُّهُمْ قَالَ مِنْ وَرِقٍ ‏.‏
Anas b. Malik said that he saw a silver signet-ring on the hand of the Prophet (ﷺ) only for a day. The people then fashioned and wore (rings). The Prophet (ﷺ) then threw it away and the people also threw (them.) Abu Dawud said:Ziyad b. Sa'd, Shu'aib and Ibn Musafir transmitted it from al-Zuhri. 'Ali said in their versions: "of silver
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہننے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زیاد بن سعد، شعیب اور ابن مسافر نے زہری سے روایت کیا ہے، اور سبھوں نے «من ورق» کہا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ صَخْرِ بْنِ بَدْرٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةً فَاهْرَبْ حَتَّى تَمُوتَ فَإِنْ تَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي آخِرِهِ قَالَ قُلْتُ فَمَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ ‏"‏ لَوْ أَنَّ رَجُلاً نَتَجَ فَرَسًا لَمْ تُنْتَجْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ‏"‏ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Hudhaifah through a different chain of narrators from the Prophet (ﷺ). This version says:He said: If you do not find a caliph in those days, then flee away until you die, even of you die holding on (to a stump of a tree). I asked: What will come next ? He replied: If a man wants the mare to bring forth a foal, it will not deliver in till the Last Hour comes
اس سند سے بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ ان دنوں میں اگر مسلمانوں کا کوئی خلیفہ ( حاکم ) تمہیں نہ ملے تو بھاگ کر ( جنگل میں ) چلے جاؤ یہاں تک کہ وہیں مر جاؤ، اگر تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جاؤ ( تو بہتر ہے ایسے بے دینوں میں رہنے سے ) اس روایت کے آخر میں یہ ہے کہ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کی گھوڑی بچہ جننا چاہتی ہو تو وہ نہ جن سکے گی یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی ۱؎ ۔
Narrated by Umm Salamah, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ صَاحِبٍ، لَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَكُونُ اخْتِلاَفٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِنَ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ صلى الله عليه وسلم وَيُلْقِي الإِسْلاَمُ بِجِرَانِهِ إِلَى الأَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ ‏"‏ تِسْعَ سِنِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ ‏"‏ سَبْعَ سِنِينَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) said: Disagreement will occur at the death of a caliph and a man of the people of Medina will come flying forth to Mecca. Some of the people of Mecca will come to him, bring him out against his will and swear allegiance to him between the Corner and the Maqam. An expeditionary force will then be sent against him from Syria but will be swallowed up in the desert between Mecca and Medina. When the people see that, the eminent saints of Syria and the best people of Iraq will come to him and swear allegiance to him between the Corner and the Maqam. Then there will arise a man of Quraysh whose maternal uncles belong to Kalb and send against them an expeditionary force which will be overcome by them, and that is the expedition of Kalb. Disappointed will be the one who does not receive the booty of Kalb. He will divide the property, and will govern the people by the Sunnah of their Prophet (ﷺ) and establish Islam on Earth. He will remain seven years, then die, and the Muslims will pray over him. Abu Dawud said: Some transmitted from Hisham "nine years" and some "seven years
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف ہو گا تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص مکہ کی طرف بھاگتے ہوئے نکلے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو امامت کے لیے پیش کریں گے، اسے یہ پسند نہ ہو گا، پھر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان لوگ اس سے بیعت کریں گے، اور شام کی جانب سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا تو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء میں وہ سب کے سب دھنسا دئیے جائیں گے، جب لوگ اس صورت حال کو دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں اس کے پاس آئیں گی، حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کریں گی، اس کے بعد ایک شخص قریش میں سے اٹھے گا جس کا ننہال بنی کلب میں ہو گا جو ایک لشکر ان کی طرف بھیجے گا، وہ اس پر غالب آئیں گے، یہی کلب کا لشکر ہو گا، اور نامراد رہے گا وہ شخص جو کلب کے مال غنیمت میں حاضر نہ رہے، وہ مال غنیمت تقسیم کرے گا اور لوگوں میں ان کے نبی کی سنت کو جاری کرے گا، اور اسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا، وہ سات سال تک حکمرانی کرے گا، پھر وفات پا جائے گا، اور مسلمان اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض نے ہشام سے نو سال کی روایت کی ہے اور بعض نے سات کی۔
Narrated by Abu al-Darda
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ، قَالَ سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu al-Darda': The Prophet (ﷺ) said: The place of assembly of the Muslims at the time of the war will be in al-Ghutah near a city called Damascus, one of the best cities in Syria
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دجال سے ) جنگ کے روز مسلمانوں کا جماؤ غوطہٰ میں ہو گا، جو اس شہر کے ایک جانب میں ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، جو شام کے بہترین شہروں میں سے ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: Abdullah ibn AbuSarh used to write (the revelation) for the Messenger of Allah (ﷺ). Satan made him slip, and he joined the infidels. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded to kill him on the day of Conquest (of Mecca). Uthman ibn Affan sought protection for him. The Messenger of Allah (ﷺ) gave him protection
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا، پھر شیطان نے اس کو بہکا لیا، اور وہ کافروں سے جا ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اس کے قتل کا حکم دیا، پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان مانگی تو آپ نے اسے امان دی۔
Narrated by Wa'il (b. Hujr)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِحَبَشِيٍّ فَقَالَ إِنَّ هَذَا قَتَلَ ابْنَ أَخِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ قَتَلْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ضَرَبْتُ رَأْسَهُ بِالْفَأْسِ وَلَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ لَكَ مَالٌ تُؤَدِّي دِيَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَرَأَيْتَ إِنْ أَرْسَلْتُكَ تَسْأَلُ النَّاسَ تَجْمَعُ دِيَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَوَالِيكَ يُعْطُونَكَ دِيَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ لِلرَّجُلِ ‏"‏ خُذْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَخَرَجَ بِهِ لِيَقْتُلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ إِنْ قَتَلَهُ كَانَ مِثْلَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَبَلَغَ بِهِ الرَّجُلُ حَيْثُ يَسْمَعُ قَوْلَهُ فَقَالَ هُوَ ذَا فَمُرْ فِيهِ مَا شِئْتَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْسِلْهُ - وَقَالَ مَرَّةً دَعْهُ - يَبُوءُ بِإِثْمِ صَاحِبِهِ وَإِثْمِهِ فَيَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَرْسَلَهُ ‏.‏
Narrated Wa'il (b. Hujr):A man brought an Abyssinian to the Prophet (ﷺ) and said: This man has killed my nephew. He asked: How did you kill him? He replied: I struck his head with axe but I did not intend to kill him. He asked: Have you some money so that you pay his blood-wit? He said: No. He said: What is your opinion if I send you so that you ask the people (for money) and thus collect your blood-wit? He said: No. He asked : Will your masters give you his blood-wit (to pay his relatives)? He said: No. He said to the man. Take him. So he brought him out to kill him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If he kill him, he will be like him. This (statement) reached the man where he was listening to his statement. He said: He is here, order regarding him as you like. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Leave him alone. And he once said: He will bear the burden of the sin of the slain and that of his own and thus he will become one of the Companions of Hell. So he let him go
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص ایک حبشی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اس نے میرے بھتیجے کو قتل کیا ہے، آپ نے اس سے پوچھا: تم نے اسے کیسے قتل کر دیا؟ وہ بولا: میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری اور وہ مر گیا، میرا ارادہ اس کے قتل کا نہیں تھا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس مال ہے کہ تم اس کی دیت ادا کر سکو اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: بتاؤ اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو کیا تم لوگوں سے مانگ کر اس کی دیت اکٹھی کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے مالکان اس کی دیت ادا کر دیں گے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ نے اس شخص ( مقتول کے وارث ) سے فرمایا: اسے لے جاؤ جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے لے کر چلا تو آپ نے فرمایا: اگر یہ اس کو قتل کر دے گا تو اسی کی طرح ہو جائے گا وہ آپ کی بات سن رہا تھا جب اس کے کان میں یہ بات پہنچی تو اس نے کہا: وہ یہ ہے، آپ جو چاہیں اس کے سلسلے میں حکم فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، وہ اپنا اور تمہارے بھتیجے کا گناہ لے کر لوٹے گا اور جہنمیوں میں سے ہو گا چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Controverting about the Qur'an is disbelief
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کے بارے میں جھگڑنا کفر ہے ۱؎ ۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى خُيِّلَ إِلَىَّ أَنَّ أَنْفَهُ يَتَمَزَّعُ مِنْ شِدَّةِ غَضَبِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُهُ مِنَ الْغَضَبِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَعَلَ مُعَاذٌ يَأْمُرُهُ فَأَبَى وَمَحِكَ وَجَعَلَ يَزْدَادُ غَضَبًا ‏.‏
Narrated Mu'adh ibn Jabal: Two men reviled each other in the presence of the Prophet (ﷺ) and one of them became excessively angry so much so that I thought that his nose will break up on account of excess of anger. The Prophet (ﷺ) said: I know a phrase which, if he repeated, he could get rid of this angry feeling. They asked: What is it, Messenger of Allah? He replied: He should say: I seek refuge in Thee from the accursed devil. Mu'adh then began to ask him to do so, but he refused and persisted in quarrelling, and began to enhance his anger
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کو بہت شدید غصہ آیا یہاں تک کہ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ مارے غصے کے اس کی ناک پھٹ جائے گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا عرض کیا: کیا ہے وہ؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ کہے «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم» اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں تو معاذ اسے اس کا حکم دینے لگے، لیکن اس نے انکار کیا، اور لڑنے لگا، اس کا غصہ مزید شدید ہوتا چلا گیا۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ بِمَنْزِلَةِ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلاَ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ يَسْتَدْبِرْهَا وَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) as saying: I am like father to you. When any of you goes to privy, he should not face or turn his back towards the qiblah. He should not cleanse with his right hand. He (the Prophet, sal Allaahu alayhi wa sallam) also commanded the Muslims to use three stones and forbade them to use dung or decayed bone
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لوگو! ) میں تمہارے لیے والد کے درجے میں ہوں، تم کو ( ہر چیز ) سکھاتا ہوں، تو جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کر کے نہ بیٹھے، اور نہ ( ہی ) داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( استنجاء کے لیے ) تین پتھر لینے کا حکم فرماتے، اور گوبر اور ہڈی کے استعمال سے روکتے تھے۔