Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَدْرِ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet's (ﷺ) recitation was loud enough for one who was in the inner chamber to hear it when he was in the house
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اتنی اونچی آواز سے ہوتی کہ آنگن میں رہنے والے کو سنائی دیتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ اپنے گھر میں ( نماز پڑھ رہے ) ہوتے۔
Narrated by Buraydah ibn al-Hasib
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ رَجُلاً يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ . فَقَالَ " لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِالاِسْمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " .
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Messenger of Allah (ﷺ) heard a man saying: O Allah, I ask Thee, I bear witness that there is no god but Thou, the One, He to Whom men repair, Who has not begotten, and has not been begotten, and to Whom no one is equal, and he said: You have supplicated Allah using His Greatest Name, when asked with this name He gives, and when supplicated by this name he answers
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا: «اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد، الصمد، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو تنہا اور ایسا بے نیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے ۔
Narrated by Ubaydullah ibn Adl ibn al-Khiyar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلاَنِ، أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقْسِمُ الصَّدَقَةَ فَسَأَلاَهُ مِنْهَا فَرَفَعَ فِينَا الْبَصَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآنَا جَلْدَيْنِ فَقَالَ " إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا وَلاَ حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلاَ لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ " .
Narrated Ubaydullah ibn Adl ibn al-Khiyar: Two men informed me that they went to the Prophet (ﷺ) when he was at the Farewell Pilgrimage while he was distributing the sadaqah and asked him for some of it. He looked us up and down, and seeing that we were robust, he said: If you wish, I shall give you something, but there is nothing spare in it for a rich man or for one who is strong and able to earn a living
عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے، انہوں نے بھی آپ سے مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور پھر نظر جھکا لی، آپ نے ہمیں موٹا تازہ دیکھ کر فرمایا: اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں دے دوں لیکن اس میں مالدار کا کوئی حصہ نہیں اور نہ طاقتور کا جو مزدوری کر کے کما سکتا ہو ۔
Narrated by Umar ibn al-Khattab
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ الصُّبَىُّ بْنُ مَعْبَدٍ أَهْلَلْتُ بِهِمَا مَعًا . فَقَالَ عُمَرُ هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Umar ibn al-Khattab: As-Subayy ibn Ma'bad said: I raised my voice in talbiyah for both of them (i.e. umrah and hajj). Thereupon Umar said: You were guided to the practice (sunnah) of your Prophet (ﷺ)
ابووائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد سے کہا: میں نے ( حج و عمرہ ) دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں اپنے نبی کی سنت پر عمل کی توفیق ملی۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَفِيَّةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا . زَادَ عُثْمَانُ وَكَانَتْ ثَيِّبًا . وَقَالَ حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ أَخْبَرَنَا أَنَسٌ .
Narrated Anas bin Malik:When the Messenger of Allah (ﷺ) married Safiyyah, he stayed with her three nights. The narrator 'Uthman added: She was non virgin (previously married). He said: This tradition has been narrated to me by Hushaim, reported by Humaid, and transmitted by Anas
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات گزاری، اور وہ ثیبہ تھیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَكَانَتْ حَامِلاً فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثَ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Sa’d through a different chain of narrators. This version has “She was pregnant, he denied pregnancy from him. So her son was attributed to her. In the law of succession the practice (sunnah) was established that the son gets a share in the inheritance of his mother and the mother gets the share in the inheritance of her son according to the shares prescribed by Allaah the Exalted
اس سند سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ: وہ عورت حاملہ تھی اور اس نے اس کے حمل کا انکار کیا، چنانچہ اس عورت کا بیٹا اسی طرف منسوب کر کے پکارا جاتا تھا، اس کے بعد میراث میں بھی یہی طریقہ رہا کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصہ میں ماں لڑکے کی وارث ہوتی اور لڑکا ماں کا وارث ہوتا ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - قَالَ مُسَدَّدٌ - حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلَكْتُ . فَقَالَ " مَا شَأْنُكَ " . قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ . قَالَ " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ لاَ . قَالَ " اجْلِسْ " . فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ " تَصَدَّقْ بِهِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ قَالَ " فَأَطْعِمْهُ إِيَّاهُمْ " . وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ أَنْيَابُهُ .
Narrated Abu Hurairah:A man came to the Prophet (ﷺ) and said: I am undone. He asked him: What has happened to you ? He said: I had intercourse with my wife in Ramadan (while I was fasting). He asked: Can you set a slave free ? He said: No. He again asked: Can you fast for two consecutive months ? He said: No. He asked: Can you provide food for sixty poor people ? He said: No. He said: Sit down. Then a huge basket containing dates ('araq) was brought to the Prophet (ﷺ). He then said to him: Give it as sadaqah (i.e. alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer family than mine between the two lave plains of it (Medina). The Messenger of Allah (ﷺ) laughed so that his eye-teeth became visible, and said: Give it to your family to eat. Musaddad said in another place: "his canine teeth
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت ہے؟ کہا: نہیں، فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ ، کہا: نہیں، فرمایا: بیٹھو ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، کہنے لگا: اللہ کے رسول! مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ ہے ہی نہیں، اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے اور فرمایا: اچھا تو انہیں ہی کھلا دو ۔ مسدد کی روایت میں ایک دوسری جگہ «ثناياه» کی جگہ «أنيابه» ہے۔
Narrated by Umm Habibah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ، مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَصْحَبُ الْمَلاَئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " .
Narrated Umm Habibah: The Prophet (ﷺ) said: The angels do not go with a travelling company in which there is a bell
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ( رحمت کے ) فرشتے ۱؎ اس جماعت کے ساتھ نہیں ہوتے جس کے ساتھ گھنٹی ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقُرَيْظَةَ، حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلاَدَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلاَّ بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ .
Ibn ‘Umar said “The Jews Al Nadir and Quraizah fought with the Apostle of Allaah(ﷺ), so the Apostle of Allaah(ﷺ) expelled Banu Al Nadir and allowed the Quraizah to stay and favored them. The Quraizah thereafter fought (with the Prophet).” So he killed their men and divided their women, property and children among Muslims except some of them who associated with the Apostle of Allaah(ﷺ). He gave them protection and later on they embraced Islam. The Apostle of Allaah(ﷺ) expelled all the Jews of Madeenah in Toto, Banu Qainuqa, they were the people of ‘Abd Allaah bin Salam, the Jews of Banu Harith and any of Jews who resided in Madeenah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی آپ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا، اور بنو قریظہ کو رہنے دیا اور ان پر احسان فرمایا ( اس لیے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کر لیا تھا ) یہاں تک کہ قریظہ اس کے بعد لڑے ۱؎ تو ان کے مرد مارے گئے، ان کی عورتیں، ان کی اولاد، اور ان کے مال مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے، ان میں کچھ ہی لوگ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امان دی، وہ مسلمان ہو گئے، باقی مدینہ کے سارے یہودیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے نکال بھگایا، بنو قینقاع کے یہودیوں کو بھی جو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم سے تھے اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو بھی اور جو کوئی بھی یہودی تھا سب کو مدینہ سے نکال باہر کیا۔
Narrated by Malik ibn Hubayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدٍ الْيَزَنِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ ثَلاَثَةُ صُفُوفٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلاَّ أَوْجَبَ " . قَالَ فَكَانَ مَالِكٌ إِذَا اسْتَقَلَّ أَهْلَ الْجَنَازَةِ جَزَّأَهُمْ ثَلاَثَةَ صُفُوفٍ لِلْحَدِيثِ .
Narrated Malik ibn Hubayrah: The Prophet (ﷺ) said: If any Muslim dies and three rows of Muslims pray over him, it will assure him (of Paradise). When Malik considered those who accompanied a bier to be a few, he divided them into three rows in accordance with this tradition
مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مسلمان مر جائے اور اس کے جنازے میں مسلمان نمازیوں کی تین صفیں ہوں تو اللہ اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں: نماز ( جنازہ ) میں جب لوگ تھوڑے ہوتے تو مالک اس حدیث کے پیش نظر ان کی تین صفیں بنا دیتے۔
Narrated by Ka'b ibn Malik
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَبُو لُبَابَةَ أَوْ مَنْ شَاءَ اللَّهُ : إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً . قَالَ : " يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ " .
Narrated Ka'b ibn Malik: Ka'b ibn Malik said to AbuLubabah; or someone else whom Allah wished; or to the Prophet (ﷺ): To make my repentance complete I should depart from the house of my people in which I fell into sin, and that I should divest myself of all my property as sadaqah (alms). He said: A third (of your property) will be sufficient for you
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں انہوں نے یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے یا کسی اور نے جسے اللہ نے چاہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری توبہ میں شامل ہے کہ میں اپنے اس گھر سے جہاں مجھ سے گناہ سرزد ہوا ہے ہجرت کر جاؤں اور اپنے سارے مال کو صدقہ کر کے اس سے دستبردار ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ثلث کا صدقہ کر دینا تمہیں کافی ہو گا ۔
Narrated by Rafi' ibn Khadij
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَىْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ " .
Narrated Rafi' ibn Khadij: The Prophet (ﷺ) said: If anyone sows in other people's land without their permission, he has no right to any of the crop, but he may have what it cost him
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں بغیر ان کی اجازت کے کاشت کی تو اسے کاشت میں سے کچھ نہیں ملے گا صرف اس کا خرچ ملے گا ۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ - يَعْنِي - جُزَافًا .
Narrated Ibn 'Umar: During the time of Messenger of Allah (ﷺ) we used to buy grain, and he sent a man to us who ordered us to move it from the spot where we had bought it to some other place, before we sold it without weighing or measuring it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ خریدتے تھے، تو آپ ہمارے پاس ( کسی شخص کو ) بھیجتے وہ ہمیں اس بات کا حکم دیتا کہ غلہ اس جگہ سے اٹھا لیا جائے جہاں سے ہم نے اسے خریدا ہے اس سے پہلے کہ ہم اسے بیچیں یعنی اندازے سے۔
Narrated by Salman al-Farsi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الزِّبْرِقَانِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ " أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ .
Narrated Salman al-Farsi: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about (eating) locusts. He replied: They are the most numerous of Allah's hosts. I neither eat them nor declare them unlawful
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے بہت سے لشکر ہیں، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام کرتا ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معتمر نے اپنے والد سلیمان سے، سلیمان نے ابوعثمان سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، انہوں نے سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے ( یعنی مرسلاً روایت کی ہے ) ۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ لَعَنَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ .
Narrated Ibn 'Abbas:The Prophet (ﷺ) cursed women who imitate men and men who imitate women
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ ابْنَ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ جَاءَ الأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَقَالَ " أَنِكْتَهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَهَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا " . قَالَ نَعَمْ أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ حَلاَلاً . قَالَ " فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ " . قَالَ أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي . فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ . فَسَكَتَ عَنْهُمَا ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ فَقَالَ " أَيْنَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ " . فَقَالاَ نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " انْزِلاَ فَكُلاَ مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ " . فَقَالاَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا قَالَ " فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْقَمِسُ فِيهَا " .
Narrated AbuHurayrah: A man of the tribe of Aslam came to the Prophet (ﷺ) and testified four times against himself that he had had illicit intercourse with a woman, while all the time the Prophet (ﷺ) was turning away from him. Then when he confessed a fifth time, he turned round and asked: Did you have intercourse with her? He replied: Yes. He asked: Have you done it so that your sexual organ penetrated hers? He replied: Yes. He asked: Have you done it like a collyrium stick when enclosed in its case and a rope in a well? He replied: Yes. He asked: Do you know what fornication is? He replied: Yes. I have done with her unlawfully what a man may lawfully do with his wife. He then asked: What do you want from what you have said? He said: I want you to purify me. So he gave orders regarding him and he was stoned to death. Then the Prophet (ﷺ) heard one of his companions saying to another: Look at this man whose fault was concealed by Allah but who would not leave the matter alone, so that he was stoned like a dog. He said nothing to them but walked on for a time till he came to the corpse of an ass with its legs in the air. He asked: Where are so and so? They said: Here we are, Messenger of Allah (ﷺ)! He said: Go down and eat some of this ass's corpse. They replied: Messenger of Allah! Who can eat any of this? He said: The dishonour you have just shown to your brother is more serious than eating some of it. By Him in Whose hand my soul is, he is now among the rivers of Paradise and plunging into them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے ایک عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی زنا کر لیا ہے، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتے تھے، پانچویں بار آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا عضو اس کے عضو میں غائب ہو گیا بولا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے ہی جیسے سلائی سرمہ دانی میں، اور رسی کنویں میں داخل ہو جاتی ہے اس نے کہا: ہاں ایسے ہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے معلوم ہے زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میں نے اس سے حرام طور پر وہ کام کیا ہے، جو آدمی اپنی بیوی سے حلال طور پر کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اچھا، اب تیرا اس سے کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا: میں چاہتا ہوں آپ مجھے گناہ سے پاک کر دیجئیے، پھر آپ نے حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کے ساتھیوں میں سے دو شخصوں کو یہ کہتے سنا کہ اس شخص کو دیکھو، اللہ نے اس کی ستر پوشی کی، لیکن یہ خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکا یہاں تک کہ پتھروں سے اسی طرح مارا گیا جیسے کتا مارا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش رہے، اور تھوڑی دیر چلتے رہے، یہاں تک کہ ایک مرے ہوئے گدھے کی لاش پر سے گزرے جس کے پاؤں اٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟ وہ دونوں بولے: ہم حاضر ہیں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو اور اس گدھے کا گوشت کھاؤ ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا گوشت کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عیب جوئی کی ہے وہ اس کے کھانے سے زیادہ سخت ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے کھا رہا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنَ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُمَرَ، بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Umar through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said:Hammad b. Zaid and Hammad b. Salamah transmitted it from Hisham b. 'Arubah on his father's authority who said that 'Umar said
عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ زبیر سے روایت کیا ہے کہ عمر نے کہا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ " .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :I shall be pre-eminent among the descendants of Adam, the first from whom the earth will be cleft open the first intercessor, and the first whose intercession will be accepted
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہو گی ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ زَادَ " ثُمَّ لْيَقْعُدْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ أَوْ لِيَذْهَبْ لِحَاجَتِهِ " .
This tradition has been narrated by Abu Qatadah through a different chain of transmitters to the same effect from the prophet (ﷺ). This version adds:then he may remain sitting (after praying two RAKAHS) or may go for his work
اس سند سے بھی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر اس کے بعد چاہے تو وہ بیٹھا رہے یا اپنی ضرورت کے لیے چلا جائے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ تَرَبَّعَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسْنَاءَ .
Jabir b. Samurah said:When the Prophet (ﷺ) prayed the dawn prayer, he sat cross-legged where he was till the sun had come well up
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو چارزانو ( آلتی پالتی ) ہو کر بیٹھتے یہاں تک کہ سورج خوب اچھی طرح نکل آتا۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ خَرَّبُوذَ، عَنْ أُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ، قَالَتِ اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: My hands and the hands of the Messenger of Allah (ﷺ) alternated into one vessel while we performed ablution
ام صبیہ جہنیہ (خولہ بنت قیس) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ وضو کرتے وقت ایک ہی برتن میں باری باری پڑتے۔