بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
5
21 hadith
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ - عَنْ رَبَاحِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ‏:‏ ‏"‏ إِذَا ‏"‏ ‏.‏ بِمَعْنَاهُ زَادَ ‏:‏ ‏"‏ ثُمَّ لْيُطَوِّلْ بَعْدُ مَا شَاءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَجَمَاعَةٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ أَوْقَفُوهُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَيُّوبُ وَابْنُ عَوْنٍ أَوْقَفُوهُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ ‏:‏ فِيهِمَا تَجَوَّزْ ‏.‏
This tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:He should then prolong it afterwards as much as he likes. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Hammad b. Salamah, Zuhair b. Mu'awiyah and a group of narrators from Hisham. They transmitted it as a statement of Abu Hurairah himself (mauquf). This tradition has also been transmitted by Ibn 'Awn from Muhammad (b. Sirin). This version has the wordings: These two rak'ahs were short
اس طریق سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر اس کے بعد جتنا چاہے طویل کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ، زہیر بن معاویہ اور ایک جماعت نے ہشام سے انہوں نے محمد سے روایت کیا ہے اور اسے لوگوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے، اور اسی طرح اسے ایوب اور ابن عون نے روایت کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے، نیز اسے ابن عون نے محمد سے روایت کیا ہے اس میں ہے: ان دونوں رکعتوں میں تخفیف کرے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ وَالاِبْتِهَالُ هَكَذَا وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُورَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ ‏.‏
In another version Ibn 'Abbas said:Earnest supplication should be made like this: he raised his hand and made his palms in the direction of his face
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ابتہال اس طرح ہے اور انہوں نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کے قریب کر دی۔
Narrated by Ziyad ibn al-Harith as-Suda'i
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْتُهُ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلاً قَالَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلاَ غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ziyad ibn al-Harith as-Suda'i: I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and swore allegiance to him, and after telling a long story he said: Then a man came to him and said: Give me some of the sadaqah (alms). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah is not pleased with a Prophet's or anyone else's decision about sadaqat till He has given a decision about them Himself. He has divided those entitled to them into eight categories, so if you come within those categories, I shall give you what you desire
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، پھر ایک لمبی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے کہا: آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: مجھے صدقے میں سے دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ تعالیٰ صدقے کے سلسلے میں نہ پیغمبر کے اور نہ کسی اور کے حکم پر راضی ہوا بلکہ خود اس نے اس سلسلے میں حکم دیا اور اسے آٹھ حصوں میں بانٹ دیا اب اگر تم ان آٹھوں ۱؎ میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دوں گا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا يَقُولُ ‏ "‏ لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا ‏"‏ ‏.‏
Anas bin Malik said I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) uttering talbiyah(labbaik) aloud for both Hajj and ‘Umrah. He was saying in a loud voice “Labbaik for ‘Umrah and Hajj, labbaik for ‘Umrah and Hajj”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے انہیں کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے سنا آپ فرما رہے تھے: «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» ۔
Narrated by Isma'il bin Ibrahim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلاَءِ ابْنِ أَخِي، شُعَيْبٍ الرَّازِيِّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ خَطَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُمَامَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَنْكَحَنِي مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَشَهَّدَ ‏.‏
Narrated Isma'il bin Ibrahim:On the authority of a man from Banu Sulaim: I asked the Prophet (ﷺ) to marry Umamah daughter of 'Abd al-Muttalib to me. So he married her to me without reciting the tashahhud (i.e. the sermon for marriage)
بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں میں نے امامہ بنت عبدالمطلب سے نکاح کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا تو آپ نے بغیر خطبہ پڑھے ان سے میرا نکاح کر دیا۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَكَانَ يُدْعَى - يَعْنِي الْوَلَدَ - لأُمِّهِ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Sa’d Al Sa’idi through a different chain of narrators. This version adds the child was attributed to its mother
اس سند سے بھی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اسے یعنی لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، - يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ - أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَهُ وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ فَنَهَاهُ ‏.‏ فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ وَالَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: A man asked the Prophet (ﷺ) whether one who was fasting could embrace (his wife) and he gave him permission; but when another man came to him, and asked him, he forbade him. The one to whom he gave permission was an old man and the one whom he forbade was a youth
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا إِذَا نَزَلْنَا مَنْزِلاً لاَ نُسَبِّحُ حَتَّى نَحُلَّ الرِّحَالَ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: When we alighted at a station (for stay), we did not pray until we united the saddles of the camels
حمزہ ضبی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم کسی جگہ اترتے تو نماز نہ پڑھتے جب تک کہ ہم کجاؤں کو اونٹوں سے نیچے نہ اتار دیتے۔
Narrated by Muhayyisah
حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مَوْلًى، لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَتْنِي ابْنَةُ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهَا، مُحَيِّصَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ ظَفِرْتُمْ بِهِ مِنْ رِجَالِ يَهُودَ فَاقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَوَثَبَ مُحَيِّصَةُ عَلَى شَبِيبَةَ رَجُلٍ مِنْ تُجَّارِ يَهُودَ كَانَ يُلاَبِسُهُمْ فَقَتَلَهُ وَكَانَ حُوَيِّصَةُ إِذْ ذَاكَ لَمْ يُسْلِمْ وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ مُحَيِّصَةَ فَلَمَّا قَتَلَهُ جَعَلَ حُوَيِّصَةُ يَضْرِبُهُ وَيَقُولُ يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا وَاللَّهِ لَرُبَّ شَحْمٍ فِي بَطْنِكَ مِنْ مَالِهِ ‏.‏
Narrated Muhayyisah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If you gain a victory over the men of Jews, kill them. So Muhayyisah jumped over Shubaybah, a man of the Jewish merchants. He had close relations with them. He then killed him. At that time Huwayyisah (brother of Muhayyisah) had not embraced Islam. He was older than Muhayyisah. When he killed him, Huwayyisah beat him and said: O enemy of Allah, I swear by Allah, you have a good deal of fat in your belly from his property
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں میں سے جس کسی مرد پر بھی تم قابو پاؤ اسے قتل کر دو ، تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہود کے سوداگروں میں سے ایک سوداگر کو جس کا نام شبیبہ تھا حملہ کر کے قتل کر دیا، اور اس وقت تک حویصہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور وہ محیصہ رضی اللہ عنہ سے بڑے تھے، تو جب محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہودی تاجر کو قتل کر دیا تو حویصہ محیصہ کو مارنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے دشمن! قسم اللہ کی تیرے پیٹ میں اس کے مال کی بڑی چربی ہے۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) that he kissed Uthman ibn Maz'un while he was dead, and I saw that tears were flowing (from his eyes)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عثمان بن مظعون ۱؎ رضی اللہ عنہ کو بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے، ان کا انتقال ہو چکا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏:‏ قَالَ كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عَقِيلٍ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ قَالَ ‏:‏ فَأُسِرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي وَثَاقٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَقَالَ ‏:‏ يَا مُحَمَّدُ عَلاَمَ تَأْخُذُنِي وَتَأْخُذُ سَابِقَةَ الْحَاجِّ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ وَكَانَ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ وَقَدْ قَالَ فِيمَا قَالَ ‏:‏ وَأَنَا مُسْلِمٌ أَوْ قَالَ ‏:‏ وَقَدْ أَسْلَمْتُ ‏.‏ فَلَمَّا مَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ فَهِمْتُ هَذَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى - نَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَحِيمًا رَفِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ مَا شَأْنُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ إِنِّي مُسْلِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلاَحِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ قَالَ ‏:‏ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي إِنِّي ظَمْآنٌ فَاسْقِنِي ‏.‏ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ هَذِهِ حَاجَتُكَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ هَذِهِ حَاجَتُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ فَفُودِيَ الرَّجُلُ بَعْدُ بِالرَّجُلَيْنِ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ وَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ - قَالَ - فَأَغَارَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَذَهَبُوا بِالْعَضْبَاءِ - قَالَ - فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهَا وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ - قَالَ - فَكَانُوا إِذَا كَانَ اللَّيْلُ يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ - قَالَ - فَنُوِّمُوا لَيْلَةً وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ فَجَعَلَتْ لاَ تَضَعُ يَدَهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلاَّ رَغَا حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ - قَالَ - فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ - قَالَ - فَرَكِبَتْهَا ثُمَّ جَعَلَتْ لِلَّهِ عَلَيْهَا إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ لَتَنْحَرَنَّهَا - قَالَ - فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ عُرِفَتِ النَّاقَةُ نَاقَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَجِيءَ بِهَا وَأُخْبِرَ بِنَذْرِهَا فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏:‏ ‏"‏ جَزَتْهَا ‏"‏ ‏.‏ ‏:‏ ‏"‏ إِنِ اللَّهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا، لاَ وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ وَالْمَرْأَةُ هَذِهِ امْرَأَةُ أَبِي ذَرٍّ ‏.‏
Imran b. Husain said:'Adba belonged to a man of Banu 'Aqil. It used to go ahead of pligrims. The man was then captivated. He was brought in chains to the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) was riding on a donkey with a blanket on him. He said: Muhammad, why do you arrest me and capture the one (i.e. the she-camel) which goes ahead of the pilgrims. He replied: We are arresting you on account of the crime committed by your allies Thaqid. Thaqif captivated two persons from among the Companions of the Prophet (ﷺ). He said (whatever he said) I am a Muslim, or he said: I have embraced Islam. When the Prophet (ﷺ) went ahead, he called him: O Muhammed, O Muhammed. Abu Dawud said: I learnt it from the version of the narrator Muhammad b. 'Isa. The Prophet (ﷺ) was compassionate and kind hearted. So he returned to him, and asked: What is the matter with you ? He replied: I am a Muslim. He said: Had you said it when the matter was in your hand, you would have succeeded completely. Abu Dawud said: I then returned to the version of the narrator Sulaiman (b. Harb). He said: Muhammad, I am hungry, so feed me. I am thirsty, so give me water. The Prophet (ﷺ) said: This is your need, or he said: This is his need (the narrator is doubtful). Later on the man was taken back (by Thaqif) as a ransom for the two men (of the Companions of the Prophet). The Prophet (ﷺ) retained 'Adba for his journey. The narrator said: The polytheists raided the pasturing animals of Medina and they took away 'Adba. When they took away 'Adba, they also captivated a Muslim woman. They used to leave their camels in the fields for rest at night. One night they slept and the (Muslim) woman stood up. Any camel on which she put her hand brayed until she came to 'Adba. She came to a she-camel which was docile and experienced. She then rode on her and vowed to Allah that if He saved her, she would sacrifice it. When she came to Medina, the people recognized the she-camel of the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) was then informed about it and he sent for her. She was brought to him and she informed him about her vow. He said: It is a bad return that you have given it. Allah has not saved you, on its (back) that you now sacrifice it. A vow to do an act of disobedience must not be fulfilled, or to do something over which one has no control. Abu Dawud said: This woman was the wife of Abu Dharr
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عضباء ۱؎ بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی، حاجیوں کی سواریوں میں آگے چلنے والی تھی، وہ شخص گرفتار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھا ہوا لایا گیا، اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے، اس نے کہا: محمد! آپ نے مجھے اور حاجیوں کی سواریوں میں آگے جانے والی میری اونٹنی ( عضباء ) کو کس بنا پر پکڑ رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تمہارے حلیف ثقیف کے گناہ کے جرم میں پکڑ رکھا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخصوں کو قید کر لیا تھا۔ اس نے جو بات کہی اس میں یہ بات بھی کہی کہ میں مسلمان ہوں، یا یہ کہا کہ میں اسلام لے آیا ہوں، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے ( آپ نے کوئی جواب نہیں دیا ) تو اس نے پکارا: اے محمد! اے محمد! عمران کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحم دل اور نرم مزاج تھے، اس کے پاس لوٹ آئے، اور پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ پہلے کہتے جب تم اپنے معاملے کے مختار تھے تو تم بالکل بچ جاتے اس نے کہا: اے محمد! میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلاؤ، میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: یہی تمہارا مقصد ہے یا: یہی اس کا مقصد ہے ۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ دو آدمیوں کے بدلے فدیہ میں دے دیا گیا ۲؎ اور عضباء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے لیے روک لیا ( یعنی واپس نہیں کیا ) ۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور عضباء کو پکڑ لے گئے، تو جب اسے لے گئے اور ایک مسلمان عورت کو بھی پکڑ لے گئے، جب رات ہوتی تو وہ لوگ اپنے اونٹوں کو اپنے کھلے میدانوں میں سستانے کے لیے چھوڑ دیتے، ایک رات وہ سب سو گئے، تو عورت ( نکل بھاگنے کے ارادہ ) سے اٹھی تو وہ جس اونٹ پر بھی ہاتھ رکھتی وہ بلبلانے لگتا یہاں تک کہ وہ عضباء کے پاس آئی، وہ ایک سیدھی سادی سواری میں مشاق اونٹنی کے پاس آئی اور اس پر سوار ہو گئی اس نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے اسے بچا دیا تو وہ اسے ضرور قربان کر دے گی۔ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی حیثیت سے پہچان لی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی، آپ نے اسے بلوایا، چنانچہ اسے بلا کر لایا گیا، اس نے اپنی نذر کے متعلق بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا برا ہے جو تم نے اسے بدلہ دینا چاہا، اللہ نے اسے اس کی وجہ سے نجات دی ہے تو وہ اسے نحر کر دے، اللہ کی معصیت میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور نہ ہی نذر اس مال میں ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عورت ابوذر کی بیوی تھیں۔
Narrated by Rafi' ibn Khadij
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلاَثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Rafi' ibn Khadij: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade muhaqalah and muzabanah. Those who cultivate land are three: a man who has (his own) land and he tills it: a man who has been lent land and he tills the one lent to him; a man who employs another man to till land against gold (dinars) or silver (dirhams)
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ۱؎ اور فرمایا: زراعت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں ( ۱ ) ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، ( ۲ ) دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً ( بلامعاوضہ ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے، ( ۳ ) تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی ( نقد ) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو ۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتِ الآيَاتُ الأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا وَقَالَ ‏ "‏ حُرِّمَتِ التِّجَارَةُ فِي الْخَمْرِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Aishah:When the last verses of Surat al-Baqarah were revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) came out and recited them to us and siad: Trading in wine has been forbidden
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں: «يسألونك عن الخمر والميسر…» اتریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے یہ آیتیں ہم پر پڑھیں اور فرمایا: شراب کی تجارت حرام کر دی گئی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ، مِنْ مُزَيْنَةَ أَحَدُهُمَا عَنِ الآخَرِ، أَحَدُهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُوَيْمٍ وَالآخَرُ غَالِبُ بْنُ الأَبْجَرِ ‏.‏ قَالَ مِسْعَرٌ أَرَى غَالِبًا الَّذِي أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
Muhammed b. Sulaiman narrated from Abu Nu’aim, from Mis’ar, from Ibn ‘Ubaid, from Ibn Ma’qil, from two men of Muzainah, one from the other, one of them is ‘Abd Allah b. ‘Amr b. ‘Uwaim, and the other is Ghalib b. al-Abjar. Mis’ar said:I think it was Ghalib who had come to the Prophet(ﷺ) with tradition
ابن معقل مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں اور ان میں سے ایک شخص دوسرے سے روایت کرتا ہے ایک کا نام عبداللہ بن عمرو بن عویم اور دوسرے کا نام غالب بن أبجر ہے۔ مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے غالب ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات ( قحط والے معاملے ) کو لے کر آئے تھے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الإِسْبَالُ فِي الإِزَارِ وَالْقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ مَنْ جَرَّ مِنْهَا شَيْئًا خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: Hanging down is in lower garment, shirt and turban. If anyone trails any of them conceitedly, Allah will not look at him on the Day of Resurrection
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسبال: تہ بند ( لنگی ) ، قمیص ( کرتے ) اور عمامہ ( پگڑی ) میں ہے، جو ان میں سے کسی چیز کو تکبر اور گھمنڈ سے گھسیٹے گا اللہ اسے قیامت کے روز رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ‏"‏ أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي قَالَ ‏"‏ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ ‏.‏
Ibn ‘Abbas said:The Messenger of Allah (ﷺ) asked Ma’iz b. Malik : Is what I have heard about you is true? He said: What have you heard about me? He said: I have heard that you have had intercourse with a girl belonging to the family of so and so. He said: Yes. He then testified four times. He (The prophet) then gave order regarding him and he was stoned to death
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تمہارے متعلق جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے صحیح ہے؟ وہ بولے: میرے متعلق آپ کو کون سی بات معلوم ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے بنی فلاں کی باندی سے زنا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر چار بار اس کی گواہی دی، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیئے گئے۔
Narrated by Al-Mughirah b. Shu'bah
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ كَيْفَ نَدِي مَنْ لاَ صَاحَ وَلاَ أَكَلَ وَلاَ شَرِبَ وَلاَ اسْتَهَلَّ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ ‏.‏
Narrated Al-Mughirah b. Shu'bah:A man of Hudhail has two wives. One of them struck her fellow-wife with a tent-pole and killed her and her unborn child. They brought the dispute to the Prophet (ﷺ). One of two men said: How can we pay bloodwit for the one who did not make a noise, or ate, nor drank, nor raised his voice ? He (the Prophet) asked: Is it rhymed prose like that of bedouin? He gave judgement that a male or female slave of the best quality should be paid in compensation, and he fixed it to be paid by woman's relatives on her father's side
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی چلایا، ( اس نے یہ بات مقفّٰی عبارت میں کہی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفّی و مسجّع عبارت بولتے ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غرہ ( لونڈی یا غلام ) کی دیت کا فیصلہ کیا، اور اسے عورت کے عاقلہ ( وارثین ) کے ذمہ ٹھہرایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ، أَوْ أَبَا أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ فَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Usaid al-Ansari reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:when any of you enters the mosque he should invoke blessing on the prophet (ﷺ) and then he should say: O Allah, open to me the gates of thy mercy. And when he goes out, he should say: O Allah, I ask thee out of Thine abundance
ابوحمید یا ابواسید انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر یہ دعا پڑھے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، پھر جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ‏"‏ ‏.‏
‘Abd Allah b. Ja’far reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:It is not fitting for a prophet to say : I am better than Jonah son of matta
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۔
Narrated by Qaylah daughter of Makhramah
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتَاىَ، صَفِيَّةُ وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ - قَالَ مُوسَى بِنْتُ حَرْمَلَةَ - وَكَانَتَا رَبِيبَتَىْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهِمَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا أَنَّهَا، رَأَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءَ فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُخْتَشِعَ - وَقَالَ مُوسَى الْمُتَخَشِّعَ فِي الْجِلْسَةِ - أُرْعِدْتُ مِنَ الْفَرَقِ ‏.‏
Narrated Qaylah daughter of Makhramah: She saw the Prophet (ﷺ) sitting with his arms round his legs. She said: When I saw the Messenger of Allah (ﷺ) in such humble condition in the sitting position (according to Musa's version), I trembled with fear
قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ دونوں ہاتھ سے احتباء کرنے والے کی طرح بیٹھے ہوئے تھے تو جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھنے میں «مختشع» اور موسیٰ کی روایت میں ہے «متخشع» ۱؎دیکھا تو میں خوف سے لرز گئی ۲؎۔
Narrated by AbuQatadah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، - وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ - أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، دَخَلَ فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuQatadah: Kabshah, daughter of Ka'b ibn Malik and wife of Ibn AbuQatadah, reported: AbuQatadah visited (me) and I poured out water for him for ablution. A cat came and drank some of it and he tilted the vessel for it until it drank some of it. Kabshah said: He saw me looking at him; he asked me: Are you surprised, my niece? I said: Yes. He then reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: It is not unclean; it is one of those (males or females) who go round among you
کبشۃ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے -وہ ابن ابی قتادہ کے عقد میں تھیں- وہ کہتی ہیں: ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے، میں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا، اتنے میں بلی آ کر اس میں سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے پانی کا برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشۃ کہتی ہیں: پھر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو دیکھا کہ میں ان کی طرف ( حیرت سے ) دیکھ رہی ہوں تو آپ نے کہا: میری بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ نجس نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے اردگرد گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے ۱؎۔