بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
5
22 hadith
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ ‏:‏ مَا أَلْفَاهُ السَّحَرُ عِنْدِي إِلاَّ نَائِمًا، تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated 'Aishah:When he was with me he would sleep at dawn. By this she referred to the Prophet (ﷺ)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں صبح ہوتی تو آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سوئے ہوئے ہی ملتے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:"One of you is granted an answer (to his supplication) provided he does not say: 'I prayed but I was not granted an answer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی ۱؎ ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حُجَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ الْعَبَّاسَ، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَرَّةً فَأَذِنَ لَهُ فِي ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَحَدِيثُ هُشَيْمٍ أَصَحُّ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: Al-Abbas asked the Prophet (ﷺ) about paying the sadaqah (his zakat) in advance before it became due, and he gave permission to do that. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Hushaim through a different chain of narrators. The version of Hushaim is more sound
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زکاۃ جلدی ( یعنی سال گزرنے سے پہلے ) دینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو اس کی اجازت دی۔ راوی نے ایک بار «فرخص له في ذلك» کے بجائے «فأذن له في ذلك» روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہشیم نے منصور بن زاذان سے، منصور نے حکم سے حکم نے حسن بن مسلم سے اور حسن بن مسلم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے اور ہشیم کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے، ( یعنی: اس روایت کا مرسل بلکہ معضل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، - يَعْنِي الْمُعَلِّمَ - عَنْ عَطَاءٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْىٌ إِلاَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَطَلْحَةَ وَكَانَ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْىُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً يَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ فَقَالُوا أَنَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذُكُورُنَا تَقْطُرُ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلاَ أَنَّ مَعِيَ الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ ‏"‏ ‏.‏
Jabir bin Abdullah said The Apostle of Allaah(ﷺ) and his companions raised their voices in talbiyah for Hajj. No one of them had brought the sacrificial animals with them except the Prophet(ﷺ) and Talhah. Ali (may Allaah be pleased with him) had returned from Yemen and had brought sacrificial animals with him. He said I raised my voice in talbiyah for which the Apostle of Allaah (ﷺ) raised his voice. The Prophet (ﷺ) commanded his companions to change it into ‘Umrah and clip their hair after running (between Al Safa’ and Al Marwah), and then take off their ihram except those who brought the sacrificial animals with them. They remarked should we go to Mina with our penises dripping with prostatic fluid? These remarks reached the Apostle of Allaah(ﷺ). Thereupon he said “had I known before hand about my affair what I have come to know later, I would not have brought sacrificial animals. Had I not brought sacrificial animals with me, I would have put off my ihram. “
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا ان میں سے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس ہدی کے جانور نہیں تھے اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ ہدی لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج کو عمرہ میں بدل لیں یعنی وہ طواف کر لیں پھر بال کتروا لیں اور پھر احرام کھول دیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو، تو لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم منیٰ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکا رہے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے سے یہ معلوم ہوتا جو اب معلوم ہوا ہے تو میں ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا ۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا الصَّدَاقَ فَقَالَ لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلاً وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ ‏.‏ فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: Masruq said on the authority of Abdullah ibn Mas'ud: Abdullah (ibn Mas'ud ) was asked about a man who had married a woman without cohabiting with her or fixing any dower for her till he died. Ibn Mas'ud said: She should receive the full dower (as given to women of her class), observe the waiting period ('Iddah), and have her share of inheritance. Thereupon Ma'qil ibn Sinan said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) giving the same decision regarding Birwa' daughter of Washiq (as the decision you have given)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور پھر اس سے ہمبستری کرنے سے پہلے اور اس کا مہر متعین کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گیا تو انہوں نے کہا: اس عورت کو پورا مہر ملے گا اور اس پر عدت لازم ہو گی اور اسے میراث سے حصہ ملے گا۔ اس پر معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے بروع بنت واشق کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏
Al-Dahhak b. Firuz reported on the authority of his father:I said: Messenger of Allah, I have embraced Islam and two sisters are my wives. He said: Divorce any one of them you wish
فیروز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو ۔
Narrated by Ma'dan b. Talhah
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاءَ فَأَفْطَرَ فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاءَ فَأَفْطَرَ ‏.‏ قَالَ صَدَقَ وَأَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Ma'dan b. Talhah:That Abu ad-Darda' narrated to him: The Messenger of Allah (ﷺ) vomited and broke his fast. Then I met Thawban, the client of the Messenger of Allah (ﷺ), in the mosque in Damascus, I said (to him): Abu al-Darda has told me that the Messenger of Allah (ﷺ) vomited and broke his fast. He said: He spoke the truth ; and I poured out water for his ablution (ﷺ)
معدان بن طلحہ کا بیان ہے کہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ نے روزہ توڑ ڈالا، اس کے بعد دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ ابوالدرداء نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہو گئی تو آپ نے روزہ توڑ دیا اس پر ثوبان نے کہا: ابوالدرداء نے سچ کہا اور میں نے ہی ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی ڈالا تھا۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏ "‏ يُمْنُ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: The most favoured horses are the sorrel
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے کی برکت سرخ رنگ کے گھوڑے میں ہے۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ثُمَّ صَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Anas bin Malik said “Safiyyah first fell to Dihyat Al Kalbi, the she fell to the Apostle of Allaah(ﷺ)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا پہلے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ گئی تھیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئیں۔
Narrated by Layla daughter of Qa'if ath-Thaqafiyyah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نُوحُ بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ، - وَكَانَ قَارِئًا لِلْقُرْآنِ - عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ قَدْ وَلَّدَتْهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ لَيْلَى بِنْتِ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةِ قَالَتْ كُنْتُ فِيمَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ وَفَاتِهَا فَكَانَ أَوَّلُ مَا أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْحِقَاءَ ثُمَّ الدِّرْعَ ثُمَّ الْخِمَارَ ثُمَّ الْمِلْحَفَةَ ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الآخِرِ قَالَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ عِنْدَ الْبَابِ مَعَهُ كَفَنُهَا يُنَاوِلُنَاهَا ثَوْبًا ثَوْبًا ‏.‏
Narrated Layla daughter of Qa'if ath-Thaqafiyyah: I was one of those who washed Umm Kulthum, daughter of the Prophet (ﷺ), when she died. The Messenger of Allah (ﷺ) first gave us lower garment, then shirt, then head-wear, then cloak (which covers the whole body), and then she was shrouded in another garment. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) was sitting at the door, and he had shroud with him. He gave us the garments one by one
بنی عروہ بن مسعود کے ایک فرد سے روایت ہے (جنہیں داود کہا جاتا تھا، اور جن کی پرورش ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے کی تھی) کہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کے انتقال پر غسل دیا تھا، کفن کے کپڑوں میں سے سب سے پہلے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار دیا، پھر کرتہ دیا، پھر اوڑھنی دی، پھر چادر دی، پھر ایک اور کپڑا دیا، جسے اوپر لپیٹ دیا گیا ۱؎۔ لیلیٰ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کفن کے کپڑے لیے ہوئے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہمیں ان میں سے ایک ایک کپڑا دے رہے تھے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، - الْمَعْنَى - عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏:‏ أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ ‏:‏ إِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:A woman came to the Prophet (ﷺ) and said (to him) that one month's fast was due from her mother who had died. May I fulfill them on her behalf? He asked: Suppose some debt was due from your mother, would you pay it ? She replied: Yes. He said: So the debt due to Allah is the one which most deserves to be paid
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ میری والدہ کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے کیا میں اس کی جانب سے رکھ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اگر تمہاری والدہ کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا قرض تو اور بھی زیادہ ادا کئے جانے کا مستحق ہے ۔
Narrated by Salim bin 'Abdullah b. 'Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي كِرَاءِ الأَرْضِ قَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سَمِعْتُ عَمَّىَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الأَرْضَ تُكْرَى ‏.‏ ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ فَتَرَكَ كِرَاءَ الأَرْضِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ أَيُّوبُ وَعُبَيْدُ اللَّهِ وَكَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَمَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ رَافِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَفْصِ بْنِ عِنَانٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا فَقَالَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ وَكَذَا قَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏.‏ وَرَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو النَّجَاشِيِّ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ ‏.‏
Narrated Salim bin 'Abdullah b. 'Umar: Ibn 'Umar used to let out his land till it reached him that Rafi' b. Khadij al-Ansari narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade let out land. So 'Abd Allah (b. 'Umar) said: Ibn Khadij, what do you narrate from the Messenger of Allah (ﷺ) about leasing the land? Rafi' replied to 'Abd Allah b. 'Umar: I heard both of my uncles were present in the battle of Badr say, and they narrated it to the members of the family, that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade leasing land. 'Abd Allah said: I swear by Allah, I knew that land was leased in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). 'Abd Allah then feared that the Messenger of Allah (ﷺ) might have created something new in that matter, so he gave up leasing land. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Ayyub, 'Ubaid Allah, Kathir b. Farqad, Malik from Nafi' on the authority of Rafi' from the Prophet (ﷺ). It has also been transmitted by al-Auzai' from Hafs b. 'Inan al-Hanafi from Nafi' from Rafi' who said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Similarly, it has been transmitted by Zaid b. Abi Unaisah from al-Hakkam from Nafi' from Ibn 'Umar that he went to Rafi' and asked: Have you heard the Messenger of Allah (ﷺ) say? He replied: Yes. Similarly, it has also been transmitted by 'Ikrimah b. 'Ammar from Abu al-Najashi, from Rafi' b. Khadij who said: I heard the Prophet (ﷺ) say. It has also been transmitted by al-Auza'i from Abu al-Najashi from Rafi' b. Khadij from his uncle Zuhair b. Rafi' from the Prophet (ﷺ). Abu Dawud said: The name of Abu al-Najashi is 'Ata b. Suhaib
سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے، عبداللہ بن عمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی تھی، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو، تو انہوں نے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، رافع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ، أَنَّ عُلَىَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ ثَمَنُ الْكَلْبِ وَلاَ حُلْوَانُ الْكَاهِنِ وَلاَ مَهْرُ الْبَغِيِّ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The price paid for a dog, the price given to a soothsayer, and the hire paid to a prostitute are not lawful
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتے کی قیمت حلال نہیں ہے، نہ کاہن کی کمائی حلال ہے اور نہ فاحشہ کی کمائی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي السَّيْلِ الْمَهْزُورِ أَنْ يُمْسَكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسِلُ الأَعْلَى عَلَى الأَسْفَلِ ‏.‏
Amr bin Shu'aib on his father's authority said that his grandfather told that the Messenger of Allah (ﷺ) decided regarding the stream al-Mahzur that its water should be held back till it reached the ankles, and that the upper waters should then be allowed to flow to the lower
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی اس وقت تک روکا جائے جب تک کہ ٹخنے کے برابر نہ پہنچ جائے، پھر اوپر والا نیچے والے کے لیے چھوڑ دے۔
Narrated by Al-Miqdam ibn Ma'dikarib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ لاَ يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَلاَ الْحِمَارُ الأَهْلِيُّ وَلاَ اللُّقَطَةُ مِنْ مَالِ مُعَاهِدٍ إِلاَّ أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Al-Miqdam ibn Ma'dikarib: The Prophet (ﷺ) said: Beware, the fanged beast of prey is not lawful, nor the domestic asses, nor the find from the property of a man with whom treaty has been concluded, except that he did not need it. If anyone is a guest of people who provide no hospitality for him, he is entitled to take from them the equivalent of the hospitality due to him
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا وَالأَوَّلُ أَتَمُّ قَالَ ‏ "‏ الْمَنَّانُ الَّذِي لاَ يُعْطِي شَيْئًا إِلاَّ مَنَّهُ ‏"‏ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Dharr though a different chain of narrators, but the former is more perfect. This version has:Mannan is the one takes account of anything he gives
اس سند سے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے راوی کہتے ہیں: «منان» وہ ہے جو بغیر احسان جتائے کچھ نہ دے ۔
Narrated by Nu'aym ibn Huzzal
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي ‏.‏ فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَىِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبِرْهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجًا فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَىَّ كِتَابَ اللَّهِ ‏.‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَىَّ كِتَابَ اللَّهِ ‏.‏ حَتَّى قَالَهَا أَرْبَعَ مِرَارٍ ‏.‏ قَالَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَبِمَنْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بِفُلاَنَةَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ ضَاجَعْتَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ بَاشَرْتَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ جَامَعْتَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ ‏.‏ فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ وَقَدْ عَجَزَ أَصْحَابُهُ فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ هَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Nu'aym ibn Huzzal: Yazid ibn Nu'aym ibn Huzzal, on his father's authority said: Ma'iz ibn Malik was an orphan under the protection of my father. He had illegal sexual intercourse with a slave-girl belonging to a clan. My father said to him: Go to the Messenger of Allah (ﷺ) and inform him of what you have done, for he may perhaps ask Allah for your forgiveness. His purpose in that was simply a hope that it might be a way of escape for him. So he went to him and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah. He (the Prophet) turned away from him, so he came back and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah. He (again) turned away from him, so he came back and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah. When he uttered it four times, the Messenger of Allah (ﷺ) said: You have said it four times. With whom did you commit it? He replied: With so and so. He asked: Did you lie down with her? He replied: Yes. He asked: Had your skin been in contact with hers? He replied. Yes. He asked: Did you have intercourse with her? He said: Yes. So he (the Prophet) gave orders that he should be stoned to death. He was then taken out to the Harrah, and while he was being stoned he felt the effect of the stones and could not bear it and fled. But Abdullah ibn Unays encountered him when those who had been stoning him could not catch up with him. He threw the bone of a camel's foreleg at him, which hit him and killed him. They then went to the Prophet (ﷺ) and reported it to him. He said: Why did you not leave him alone. Perhaps he might have repented and been forgiven by Allah
نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا، ان سے میرے والد نے کہا: جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو، ہو سکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، یہاں تک کہ ایسے ہی چار بار انہوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم چار بار کہہ چکے کہ میں نے زنا کر لیا ہے تو یہ بتاؤ کہ کس سے کیا ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں عورت سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے؟ ماعز نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اس سے چمٹے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اس سے جماع کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم ( سنگسار ) کئے جانے کا حکم دیا، انہیں حرہ ۱؎ میں لے جایا گیا، جب لوگ انہیں پتھر مارنے لگے تو وہ پتھروں کی اذیت سے گھبرا کے بھاگے، تو وہ عبداللہ بن انیس کے سامنے آ گئے، ان کے ساتھی تھک چکے تھے، تو انہوں نے اونٹ کا کھر نکال کر انہیں مارا تو انہیں مار ہی ڈالا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ان سے اسے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ۲؎، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ۔
Narrated by Amr b. Suh'aib
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي خُطْبَتِهِ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ ‏ "‏ فِي الأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather said: The Prophet (ﷺ) said in his address while he was leaning against the Ka'bah: (The blood-wit) for each finger is ten camels
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں جبکہ آپ اپنی پیٹھ کعبہ سے ٹیکے ہوئے تھے فرمایا: انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ كَانَ يُقَالُ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَخْرَجَ الْحَصَى مِنَ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُهُ ‏.‏
Abu Salih said:It was said that when a man removed gravels from the mosque, they adjured him
ابوصالح کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا: جب آدمی کنکریوں کو مسجد سے نکالتا ہے تو وہ اسے قسم دلاتی ہیں ( کہ ہمیں نہ نکالو ) ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ ضُبَيْعَةَ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ فَقَالَ إِنِّي لأَعْرِفُ رَجُلاً لاَ تَضُرُّهُ الْفِتَنُ شَيْئًا ‏.‏ قَالَ فَخَرَجْنَا فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ فَدَخَلْنَا فَإِذَا فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مَا أُرِيدُ أَنْ يَشْتَمِلَ عَلَىَّ شَىْءٌ مِنْ أَمْصَارِكُمْ حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَتْ ‏.‏
Tha’labah b. Dubai’ah said:We entered upon Hudhaifah. He said: I know a man whom the trails will not harm. We came out and found that a tent was pitched. We entered and found in it Muhammad b. Maslamah. We asked him about it. He said : I do not intent that any place of your towns should occupy me until that which is prevailing is removed
ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ نے کہا: میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے، ہم اندر گئے تو اس میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ملے، ہم نے ان سے پوچھا ( کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں؟ ) تو فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے، اس لیے جب تک فتنہ فرو نہ ہو جائے اور معاملہ واضح اور صاف نہ ہو جائے شہر کو نہیں جاؤں گا۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Every sermon which does not contain a tashahhud is like a hand cut off
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں تشہد نہ ہو تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے ( یعنی وہ ناتمام اور ناقص ہے ) یا اس ہاتھ کی طرح ہے جس میں جذام ہو ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، فِي حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah :The Prophet ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) said : None amongst you should urinate in stagnant water , and then wash in it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس سے غسل کرے ۔